UAE Insider Guide

UAE Insider Guide Your ultimate insider guide to exploring the UAE. Discover local culture, insights, and opportunities.

Copyright Disclaimer

Thank you for visiting our website, which is dedicated to providing movie updates and news. We respect the intellectual property rights of others, and we are committed to complying with all applicable copyright laws. Content

All content on this website, including articles, images, and videos, is either original content created by our team or used with permission or under fai

r use principles. We make every effort to ensure that we have the necessary rights to use all content on our website. If you believe that any content on our website infringes your copyright, please contact us immediately with the following information:

Your name and contact information

A description of the copyrighted work that you claim has been infringed

A description of the content on our website that you claim infringes your copyright

A statement that you have a good faith belief that the use of the content is not authorized by the copyright owner, its agent, or the law

A statement that the information in your notice is accurate and that you are the copyright owner or authorized to act on behalf of the copyright owner

Once we receive a notice of claimed infringement, we will review it and take appropriate action, which may include removing the content or disabling access to it. Links

We may link to third-party websites that contain copyrighted material. We make every effort to ensure that we link only to websites that have obtained the necessary permissions to use such material. However, we are not responsible for the content of these websites or any copyright infringement that may occur on them. If you believe that we have linked to a website that infringes your copyright, please contact us immediately with the following information:

Your name and contact information

A description of the copyrighted work that you claim has been infringed

A description of the website that you claim infringes your copyright

A statement that you have a good faith belief that the use of the content is not authorized by the copyright owner, its agent, or the law

A statement that the information in your notice is accurate and that you are the copyright owner or authorized to act on behalf of the copyright owner

Once we receive a notice of claimed infringement, we will review it and take appropriate action, which may include removing the link or disabling access to it. Contact Us

If you have any questions or concerns about our copyright policy, please contact us at [email protected].

ہالینڈ اور وینزویلا سے آئی 2 لڑکیوں کے ساتھ ڈیفنس لاہور میں یون شو شن، سُرین اور پستانوں کو شیشے سے چھلنی چھلنی کر دیا، ...
03/07/2026

ہالینڈ اور وینزویلا سے آئی 2 لڑکیوں کے ساتھ ڈیفنس لاہور میں یون شو شن، سُرین اور پستانوں کو شیشے سے چھلنی چھلنی کر دیا، 42 کروڑ روپوں کا مطالبہ، کون لوگ ملوث نکلے؟
تحریر: ظاہر محمود

پنجاب پولیس کو ہالینڈ سے اپنی ہیلپ لائن 15 پر ایک پریشان باپ کی کال موصول ہوئی، جس میں پولیس کو بتایا گیا کہ اُن کی بیٹی 29 جون کو پاکستان گئی مگر اُن سے تاحال کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو پا رہا، اُنھیں اپنی بیٹی کے حوالے سے کافی فکر لاحق تھی-

پنجاب پولیس نے سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں سے مدد لیتے ہوئے 2 گھنٹوں کے اندر اندر ہالینڈ کی اس لڑکی کو برآمد کیا تو ایک المناک واقعہ نے پولیس کو بھی ششدر کر دیا-

معلوم ہوا کہ ہالینڈ کی لڑکی اکیلی نہیں بلکہ اس کے ساتھ وینزویلا سے آئی اس کی دوست بھی موجود ہے اور ان دونوں نوجوان لڑکیوں کو لاہور کے علاقہ ڈیفنس کے ایک گھر میں رکھا گیا تھا-

لڑکیوں کی برآمدگی کے فوراً بعد تھانہ ڈیفنس سی میں قانونی عمل مکمل کیا گیا اور فرسٹ انفارمیشن رپورٹ میں مدعیہ نے مزید چونکا دینے والے انکشافات کر دیے-

مدعیہ نے بتایا کہ اکتوبر 2025ء میں سنگاپور میں اُس کی ملاقات محمد رضا ڈار سے ہوئی اور وہیں سے دوستی کا آغاز ہوا- بعد ازاں ڈار صاحب نے مدعیہ اور اس کی ساتھی کو پاکستان گھمانے کی دعوت دے کر پاکستان بلایا اور یہ دونوں معصوم لڑکیاں ان کے چھلاوے میں آ گئیں-

29 جون کو جب یہ لڑکیاں لاہور پہنچیں تو محمد رضا ڈار صاحب انھیں لے کر ڈیفنس میں واقع ایک گھر میں پہنچ گئے جہاں اِن کے "باس" کے علاوہ 3 دیگر افراد بھی موجود تھے اور انھیں تب جا کر معلوم ہوا کہ یہ تو غلط ہاتھوں میں آ گئی ہیں-

مدعیہ نے مزید ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے رپورٹ لکھوائی کہ جملہ احباب نے اِن کے ساتھ باری باری یون شو شن کیا اور یہ سب اس قدر تکلیف دہ امر تھا کہ وہ رپورٹ لکھواتے لکھواتے رونے لگیں-

مدعیہ نے پورا قصہ بیان کرتے ہوئے بتلایا کہ ایک ساتھی نے جب اُنھیں خاص ایام کا بتایا تو ایک صاحب نے سُرین کا رستہ اختیار کر لیا- دوسری لڑکی نے زبردستی پر اپنے کنوار پن کا بتایا تو شیشے سے اُس کے پستانوں کو چھلنی چھلنی کر دیا-

اس سارے قضیے کے دوران محمد رضا ڈار و کمپنی نے ان معصوم لڑکیوں سے 1.5 ملین ڈالرز جو کہ 42 کروڑ پاکستانی روپے بنتے ہیں، کا تقاضا کیا اور کہا کہ اگر یہ رقم ادا نہ کی گئی تو اُن کی گوری چمڑی اور دیگر اعضا بیچ کر یہ رقم پوری کر لی جائے گی-

اتفاقاً ہالینڈ والی لڑکی کے والد نے جب کئی بار اپنی صاحبزادی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی اور کامیاب نہ ہوئے تو فوراً 15 پہ کال کر کے پنجاب پولیس کو اپنی خفگی سے آگاہ کیا-

اس کال اور واقعے کے سامنے آتے ہی وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ نے فوری ایکشن لیا اور پولیس کو دونوں لڑکیوں کو جلد از جلد رہا کروانے کا حکم دیا تو پولیس نے اگلے ہی 2 گھنٹوں میں سب بھیڑیوں کا سراغ لگا لیا-

دونوں لڑکیوں میں سے ایک کی مدعیت میں پرچہ ہوا اور محمد رضا ڈار اور باقی 4 افراد پر اغ وا اور اجتماعی یون شو شن کی دفعات لگا دی گئیں- لڑکیوں کو میڈیکل کے لیے بھجوا دیا گیا ہے جبکہ وزیراعلی نے اس قضیے میں فوری انصاف کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے ہیں-

مگر سوال یہ ہے کہ جہاں ملک بھر میں غیر ملکی سیاحوں کے لیے رجسٹریشن اور ہوسٹ یا سپانسر کا پورا نظام موجود ہے تو اُنھیں تلاش کرنے میں 2 گھنٹے کیوں لگے؟

نیز محمد رضا ڈار نے محض ڈیڑھ ملین ڈالرز کے لیے ملکی سالمیت اور عکس کو تار تار کر دیا تو کیا اس پر صرف اغ وا اور یون شوشن کی دفعات کا لگنا کافی ہے؟

آپ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں؟ کمنٹ باکس میں ضرور بتائیے---

Sweden Just Drew a Hard Line — One Law for EveryoneSweden’s parliament has passed a new law banning marriages between co...
31/05/2026

Sweden Just Drew a Hard Line — One Law for Everyone

Sweden’s parliament has passed a new law banning marriages between cousins and other close relatives, set to take effect July 1, 2026.  The move comes after years of debate over forced marriages and honor-based violence tied to tightly controlled family structures.

The ban is unconditional — and foreign cousin marriages will, as a general rule, no longer be recognized in Sweden either, closing a major legal loophole  that allowed couples to simply marry abroad and return.

The law passed with unanimous support across the Riksdag, with both conservative and liberal parties agreeing that protecting individual freedom — especially for young women — outweighed cultural considerations. 

Think other countries should follow Sweden’s lead? SHARE THIS POST and let people decide. 👇

☢️ NO COUNTRY ON EARTH IS IN A MORE DANGEROUS POSITION THAN PAKISTAN RIGHT NOW.Most people don’t realize this — Pakistan...
28/05/2026

☢️ NO COUNTRY ON EARTH IS IN A MORE DANGEROUS POSITION THAN PAKISTAN RIGHT NOW.

Most people don’t realize this — Pakistan already sits between China and India, two nuclear-armed rivals who have fought wars with each other. But if Iran crosses the nuclear threshold, Pakistan becomes the only nation on Earth surrounded by THREE nuclear powers on its borders.

Think about that for a second. 🌍

🔴 China — nuclear since 1964, with growing regional dominance
🟡 India — nuclear since 1998, in an ongoing rivalry with Pakistan
☢️ Iran — potentially weeks or months away from weapons-grade capability

Pakistan itself is a nuclear state — making this region arguably the most volatile nuclear neighborhood on the planet. Four nuclear nations in one corner of the world, with active border tensions, religious divisions, and competing superpowers fueling every conflict.

This isn’t a movie. This is the reality of 2025. 😳

The world is focused on Ukraine and Gaza — but THIS region could reshape global security forever.

👇 Did you know this fact? SHARE THIS POST with someone who needs to see it!

پاکستان ابراہیمی معاہدے پر کب دستخط کرے گا؟ آج معروف برطانوی اخبار 'انڈیپنڈنٹ' کی یہ کہانی اور ہیڈ لائن پڑھ کر میرے ہونٹ...
28/05/2026

پاکستان ابراہیمی معاہدے پر کب دستخط کرے گا؟

آج معروف برطانوی اخبار 'انڈیپنڈنٹ' کی یہ کہانی اور ہیڈ لائن پڑھ کر میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ خبر کی سرخی یہ تھی کہ اگر پاکستان نے وہ کر دیا جو صدر ٹرمپ کہہ رہے ہیں، تو پاکستان کو اپنے تمام پاسپورٹ دوبارہ چھاپنے پڑیں گے۔ وجہ سادہ ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ کے ایک صفحے پر، انگریزی اور اردو دونوں میں، ایک جملہ درج ہے۔ "یہ پاسپورٹ اسرائیل کے سوا دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے"۔ یہ جملہ کوئی نیا نہیں۔ یہ جملہ ریاستِ پاکستان کی پیدائش کے ساتھ کا ہے۔ اور نومبر دو ہزار پچیس میں، جب نئے بائیومیٹرک پاسپورٹ کے ڈیزائن پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں سوال اٹھا، تو ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ نے واضح کیا کہ یہ جملہ بدستور موجود ہے، صرف سکیورٹی فیچر بدلے گئے ہیں۔

ایک سفارتی پیغام، جو ایک چھوٹے سے کاغذی پرزے پر ستتر سال سے چھپا چلا آ رہا ہے۔ اور آج، دو ہزار چھبیس میں، وہی پرزہ ایک شہ سرخی بن گیا ہے۔

مگر میری دلچسپی پاسپورٹ میں نہیں۔ میری دلچسپی اُس کھیل میں ہے جو اِس پاسپورٹ کے اوپر، بہت اونچی میزوں پر، کھیلا جا رہا ہے۔ اور وہ کھیل سمجھنے کے لیے ہمیں ایک قدم پیچھے ہٹنا ہوگا۔

پہلے حقائق۔ گزشتہ ہفتے کے روز امریکی صدر نے آٹھ مسلمان ملکوں کے سربراہوں سے ٹیلیفون پر بات کی۔ پیر کو اپنی پوسٹ میں اعلان کیا کہ اب اِن ممالک کے لیے ابراہام معاہدے پر دستخط "لازمی" ہیں۔ سب سے پہلے سعودی عرب اور قطر، باقی پیچھے پیچھے۔ ساتھ سینیٹر لنڈسی گراہم کی دھمکی، کہ انکار کے "سنگین نتائج" نکلیں گے۔ یہ منظر، اوپر سے، طاقت کا منظر لگتا ہے۔ ایک سپر پاور اپنے اتحادیوں کو حکم دے رہی ہے۔

مگر سفارت کاری میں جو چیز اوپر سے نظر آتی ہے، وہ ش*ذ و نادر ہی اصل چیز ہوتی ہے۔ اصل چیز ہمیشہ نیچے، خاموشی میں، دبی ہوتی ہے۔

اب آئیے اُس بنیادی شرط کی طرف، جس پر سارا کھیل ٹکا ہے۔ سعودی عرب نے، اکتوبر سات کے بعد سے، ایک ہی بات دہرائی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات اُس وقت تک نہیں، جب تک "فلسطینی ریاست کا قابلِ اعتبار راستہ" نہ بنے۔ نومبر دو ہزار پچیس میں محمد بن سلمان نے وائٹ ہاؤس میں، خود ٹرمپ کے سامنے، یہی بات کہی۔ یہ سعودی موقف کا مرکزی ستون ہے، اور اِس کے بغیر ریاض کوئی کاغذ نہیں چھوئے گا۔

اب دوسری طرف دیکھیے۔ اُسی نومبر دو ہزار پچیس میں، اُسی ہفتے، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک انٹرویو میں صاف کہا۔ "فلسطینی ریاست نہیں بنے گی، چاہے سعودیوں کے ساتھ تعلقات کی قیمت پر ہی کیوں نہ ہو"۔ یہ جملہ غور سے پڑھنے کا ہے۔ نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کو سعودی تعلقات سے زیادہ مہنگا قرار دے دیا۔

اور یہاں اصل بات ہے۔ یہ صرف نیتن یاہو کی ضد نہیں ہے۔ اٹلانٹک کونسل اور چیتھم ہاؤس، دونوں کے تجزیے بتاتے ہیں کہ اسرائیل کی پوری سیاسی صف، نیتن یاہو سے لے کر اُس کے مخالف نیفتالی بینیٹ اور یائر لاپید تک، فلسطینی ریاست کو ناقابلِ قبول سمجھتی ہے۔ یہ کسی ایک جماعت کا موقف نہیں، یہ آج کے اسرائیل کا قومی اجماع ہے۔

تو منظر یہ بنا۔ سعودی عرب کہتا ہے، فلسطینی ریاست کا راستہ دکھاؤ تو دستخط کریں۔ اسرائیل کہتا ہے، فلسطینی ریاست کسی قیمت پر نہیں۔ یعنی وہ واحد چابی جو اِس تالے کو کھول سکتی ہے، وہی چابی اسرائیل بنانے سے انکاری ہے۔

یہ تالا کسی چابی سے نہیں کھلتا، کیونکہ چابی بنانے والے نے چابی توڑ دی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ کو یہ معلوم نہیں؟ کیا واشنگٹن کے اُس کمرے میں، جہاں یہ پالیسی بنی، کوئی ایسا نہیں جسے یہ سادہ سی بات سمجھ آتی؟ کشنر، جنہوں نے دو ہزار بیس میں اصل ابراہام معاہدہ ترتیب دیا تھا، کیا اُس سے یہ منطق چھپی ہوئی ہے؟ نہیں۔ ہرگز نہیں۔ یہ لوگ سب جانتے ہیں۔ اور یہی اِس کھیل کا اصل نکتہ ہے۔

میری رائے میں ٹرمپ یہ دباؤ عربوں اور پاکستان پر نہیں ڈال رہے۔ وہ یہ دباؤ، اِس عوامی شور کے ذریعے، ایک اور شخص پر ڈال رہے ہیں۔ اور وہ شخص تل ابیب میں بیٹھا ہے۔

ذرا سوچیے۔ ٹرمپ جانتا ہے کہ سعودی عرب دستخط نہیں کرے گا۔ پاکستان دستخط نہیں کرے گا۔ کیونکہ وہ شرط، جو دونوں مانگتے ہیں، نیتن یاہو دینے سے انکاری ہے۔ تو جب یہ سارا منصوبہ ناکام ہوگا، تو انگلی کس پر اٹھے گی؟ عربوں پر نہیں، جنہوں نے ایک معقول شرط رکھی۔ بلکہ اُس پر، جس نے وہ معقول شرط ماننے سے انکار کیا۔ ٹرمپ نے بڑی مہارت سے ناکامی کا ملبہ پہلے ہی نیتن یاہو کے دروازے پر رکھ دیا ہے۔

یہ وہی پرانی چال ہے جو میں نے کئی بار، کئی کمروں میں، چھوٹے پیمانے پر دیکھی ہے۔ ایک فریق دوسرے فریق سے وہ کام نکلوانا چاہتا ہے جو وہ کھل کر نہیں کہہ سکتا۔ تو وہ ایک تیسری جگہ شور مچاتا ہے، تاکہ اصل ہدف خود سمجھ جائے کہ کھیل کس کے گرد گھوم رہا ہے۔

مجھے دو ہزار بارہ کا ایک منظر یاد آتا ہے، جب لندن میں ایک سفارتی دعوت میں، تب کے برطانوی چیف آف ڈیفنس نے مجھ سے کہا تھا کہ سفارت کاری میں سب سے بڑا فن یہ ہے کہ آپ کسی کو وہ بات منوا لیں جو آپ نے کبھی کہی ہی نہ ہو۔ "اگر آپ براہِ راست دباؤ ڈالیں گے، تو مزاحمت آئے گی۔ اگر آپ ماحول بنا دیں، تو دوسرا فریق خود وہ فیصلہ کرے گا جو آپ چاہتے تھے، اور سمجھے گا کہ یہ اُس کا اپنا فیصلہ ہے"۔ یہ بات تب مجھے ایک دلچسپ سفارتی نکتہ لگی تھی۔ آج، اِس پورے منظر کو دیکھتے ہوئے، یہ ایک پیشین گوئی لگتی ہے۔

نیتن یاہو کے لیے یہ کھیل خطرناک ہے۔ اُس کا ملک اِسی سال، اکتوبر تک، انتخابات کی طرف جا رہا ہے۔ اُس کی حکومت اکتوبر سات کے بعد کے سب سے دائیں بازو کے اتحاد پر کھڑی ہے۔ اگر وہ فلسطینی ریاست کی طرف ایک قدم بھی بڑھائے، تو اُس کا اتحاد ٹوٹ جائے گا، اور اُس کی سیاسی موت ہو جائے گی۔ مگر اگر وہ یہ قدم نہ بڑھائے، تو ٹرمپ صاحب کا "تاریخی امن منصوبہ" ناکام ہوگا، اور دنیا کے سامنے وہ شخص نظر آئے گا جس نے امن کا دروازہ بند کیا۔ یعنی نیتن یاہو دونوں طرف سے پھنسا ہوا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ٹرمپ اُسے دیکھنا چاہتا ہے۔

اب آئیے پاکستان کی طرف۔ کیونکہ اصل میں ہماری دلچسپی یہیں ہونی چاہیے۔

پاکستان اِس کھیل میں ایک غیر معمولی ایکٹر ہے، مگر اِس مہرے کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ جنوری دو ہزار چھبیس میں، جب پاکستان غزہ کے "بورڈ آف پیس" میں شامل ہوا، تو دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ پاکستان ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا، اور یہ دونوں چیزیں آپس میں جوڑنا غلط ہے۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اِس سے بھی صاف بات کی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ "بنیادی نظریات کا ٹکراؤ" ہے، اور یہ بھی یاد دلایا کہ پاکستانی پاسپورٹ میں اسرائیل کا نام تک شامل نہیں۔

یہ بیانات سفارتی زبان میں ایک واضح "نہ" ہیں۔ مگر سفارت کاری میں "نہ" کو کبھی اونچی آواز میں نہیں کہا جاتا۔ اِسے ایسے لہجے میں کہا جاتا ہے جو اپنے پیچھے گنجائش چھوڑ جائے۔ پاکستان نے یہی کیا۔ اُس نے انکار بھی کیا، اور دروازہ مکمل بند بھی نہیں کیا۔

مگر سچ پوچھیں تو پاکستان کے لیے یہ معاملہ نظریے سے زیادہ گھر کی سیاست کا ہے۔ پاکستان وہ ملک ہے جہاں فلسطین کا سوال کسی خارجہ پالیسی کی فائل میں نہیں، عوام کے دل میں دھڑکتا ہے۔ کوئی حکومت، خواہ سویلین ہو یا غیر سویلین، اِس سوال پر عوام کے سامنے کھڑی نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنا صرف ایک سفارتی فیصلہ نہیں ہوگا، یہ ایک ایسی چنگاری ہوگی جو پورے ملک کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اور اِس کے اوپر کشمیر کا پہلو ہے۔ جس دن پاکستان نے کہا کہ ایک مقبوضہ علاقے کو تسلیم کرنا جائز ہے، اُسی دن اُس کا اپنا کشمیری مقدمہ کمزور ہو جائے گا۔ یہ بات اسلام آباد کا ہر سفارت کار جانتا ہے۔ سو جو یہ رولا یوٹیوبرز اور باخبر لوگوں نے ڈال دیا ہے کہ بس پاکستان معاہدہ ابراہیمی ہر دستخط کرنے لگا ہے، سراسر فریب ہے.

پاکستان کا جواب پہلے سے لکھا ہوا ہے۔ وہ "نہ" کہ رہا ہے اور کہے گا، مگر زرا سٹائلتسے۔ وہ ٹرمپ کو ناراض نہیں کرے گا، کیونکہ پچھلے ایک سال میں اُس نے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بڑی محنت سے سنوارے ہیں۔ وہ امن کا ثالث بنا رہے گا، مگر اِس مخصوص کاغذ سے دور رہے گا۔ یہ پاکستان کی کلاسیکی حکمتِ عملی ہے۔ نہ ہاں، نہ نہ، بس وقت گزاری، جب تک ٹرمپ کی باری ختم اور اگلی باری شروع!!

اور یہی اِس پورے کھیل کا انجام ہے۔ کشنر اور وٹکوف ریاض جائیں گے۔ تصویریں بنیں گی۔ اعلامیے جاری ہوں گے۔ مگر کوئی دستخط نہیں ہوگا۔ سعودی انتظار کرے گا۔ پاکستان انتظار کرے گا۔ اور نیتن یاہو، تل ابیب میں، اُس دباؤ کو محسوس کرتا رہے گا جو بظاہر اُس پر ڈالا ہی نہیں گیا۔

یہ "لازمی امن" دراصل ایک تھیٹر ہے، جس میں اداکار اپنے کردار جانتے ہیں، اور ہدایت کار جانتا ہے کہ ڈرامہ کہاں ختم ہوگا۔ عرب اپنا انکار جانتے ہیں۔ پاکستان اپنی مجبوری جانتا ہے۔ اور امریکی صدر، سب سے زیادہ، یہ جانتا ہے کہ یہ کاغذ اِس وقت دستخط نہیں ہوگا۔ مگر وہ یہ شور اِس لیے مچا رہا ہے کہ ایک شخص کو، جو اِس ڈرامے کا اصل ہدف ہے، یاد دلا دے کہ تالے کی چابی اُس کی جیب میں ہے، اور دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ وہ چابی نکالتا ہے یا نہیں۔

اور وہ شخص چابی نہیں نکالے گا۔ کیونکہ چابی نکالنے کی قیمت اُس کی اپنی کرسی اور جان ہے۔

پاکستان یہ گیم سمجھتا ہے۔ ایٹم بم بنانے سے لے کر طالبان، طالبان کھیلنے تک اسی میں مہارت حاصل کی گئی. جب بڑے کھلاڑی ایک دوسرے کے ساتھ کھیل رہے ہوں، تو چھوٹے کھلاڑی کی سب سے بڑی دانش یہ ہے کہ نہ شور میں شامل ہو، نہ دباؤ میں آئے، نہ کسی کے ڈرامے کا حصہ بنے۔ اپنا پاسپورٹ، اپنے ستتر سال پرانے جملے سمیت، ویسے کا ویسا رکھے۔ کیونکہ بعض اوقات سب سے بڑا سفارتی بیان، خاموشی سے کھڑے رہنا ہوتا ہے یا خواجہ آصف کو مٹی جھاڑ کر آگے کردینا ہے.

عارف انیس

ہفتے کی شام کو ایسا کیا ہوا کہ  آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی شاک میں ہے؟اس 22 سالہ نوجوان کے ہمسفر برتھ ڈے بوائے ک...
27/05/2026

ہفتے کی شام کو ایسا کیا ہوا کہ آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی شاک میں ہے؟
اس 22 سالہ نوجوان کے ہمسفر برتھ ڈے بوائے کیساتھ آخرمیں کیا دیکھا تھا؟

شعیب کا تعلق پاکستان سے تھا۔ وہ صرف 18 سال کی عمر میں آسٹریلیا پہنچا۔
گذشتہ چار سال سے آسٹریلیا میں رہتے ہوئے روزمرہ کی زندگی کچھ یوں تھی:

1۔ وہ معذور افراد کے مددگار کے طور پر مین جاب کرتا تھا۔
2۔ ایک تعلیمی ادارے سے ساتھ ساتھ پڑھائی بھی کررہا تھا۔
3۔ ویک اینڈ پر وہ اوبر پر بھی کام کیا کرتا تھا۔

پھر اس نے اپنی آخری کال اپنے ایک قریبی دوست کو بھی کی۔
باتوں میں یہ بتایا کہ وہ بس آخری رائیڈ مکمل کر کے گھر جائے گا۔

ممکن ہے کہ اسے اپنا پاکستانی گھر یاد آرہا ہوگا۔
جہاں وہ گذشتہ چار سال سے نہیں جا پایا تھا۔
چار بہن بھائیوں کے پردیسی بھائی نے کیا کیا خواب سوچے ہوں گے۔

شاید وہ عید پر اپنی فیملی کو پاکستان آنے کا سرپرائز سوچ رہا تھا۔
بہن بھائیوں اور کسی اسپیشل کے لئے خاص گفٹ لیے ہوں گے۔

ڈیلی میل کی آن لائن رپورٹ کے مطابق :
"یہ لگ بگ رات 12 بجے کا وقت ہوگا۔ جب شعیب نے ایک نوجوان کو رائیڈ دی تھی۔ سوار کا نام شیمس تھا جس نے سالگرہ منائی تھی۔ اور ممکن ہے کہ وہ بھی تھک ہار کر واپس گھر جارہا تھا۔"

شعیب بڑے خوابوں کو دل میں بسائے سڈنی کی سڑکوں پر اپنی آخری رائیڈ شروع کر چکا تھا۔ اور جب وہ سانس سوئی کے قریب پہنچا تو کچھ ایسا ہوا۔

جس کی کسی کو بھی توقع نہیں تھی۔

کیونکہ 12:25 پولیس نے گلبرٹ کو روکا۔
جب اسے ویلفیئر چیک کے لیے روکا گیا تھا۔
مگر اوڈی میں گلبرٹ کا پیر ایکسلیٹر پر تھا۔
پولیس سے بات کیے بغیر ہی گاڑی کو بھگا دیا۔
تقریبا 12:35 پر اسی سڑک پر پہنچا جہاں سے شعیب آرہا تھا۔
(ریفرنس: دی آسٹریلین ڈاٹ کام)

وائرل ویڈیو سے لگتا ہے کہ گلبرٹ اوڈی نہیں ہوا کے گھوڑے پر سوار تھا۔
اور کار ہوا میں اڑتی ہوئی کنکریٹ کے کناروں کو توڑتی ہوئی اچھل پڑی۔
اور سیدھا شعیب کی کار کے اوپر دھڑام سے جاگری۔
(ماخذ: سڈنی مارننگ ہیرالڈ: 24 مئی 2026ء)

یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ کسی کو بھی سوچنے کا وقت نہیں ملا۔
اور رات کے اس پہر زور دار دھماکے سے لوگ جمع ہوئے۔
اور 40 کے آس پاس موجود لوگوں نے مدد کرنے کی کوشش کی۔
کچھ نے آگ بجھانے کی تدبیریں بھی لگائیں۔

مگر شعیب، شیمس اور گلبرٹ تینوں فوت ہوگئے۔

شعیب کی ماں اپنے چھوٹے بیٹے کا انتظار کرتی رہ گئی۔
ان کو پاکستان میں سب سے پہلی اطلاع کیسے ملی گئی؟

حلال کی مزدوری کرنے والے کے دوستوں کی عید اتنی اداس ہوگی!!

وہ بہن بھائی جنہوں نے بچپن میں کتنی ہی یادیں ساتھ گزاری ہوں گی۔
کیا پتہ اس کی لاڈلی بہن کتنی دیر خاموش کونے میں چپ سادھےہوگی۔
اور آخری واٹس ایپ میسجز اب "ان سین" ہی جارہے ہوں گے۔
"شعیب بھائی آسٹریلیا" والا نمبر اب چپ ہوگیا ہے۔

جس سینے پر ماں نے گرم غلاف رکھے ہوں گے کہ بیٹے کو سردی نہ لگے۔
جن ہاتھوں کے اس کے بابا نے چوما ہوگا کہ کتنے نازک ہاتھ ہیں۔
اب اس سینے میں دھڑکنے والا دل خاموش ہوگیا۔

ان کے دوست ملک کے مطابق تحقیقات جب مکمل ہوجائیں گی۔
وہ اوربن میں ان کی آخری نماز یعنی نمازِ جنازہ کا اہتمام کریں گے۔
(ریفرنس: ڈیلی سٹار: 24 مئی 2026ء)

عزیزان من!
کوشش کریں کہ اپنے پردیسی بہن بھائیوں کا حال احوال پوچھتے رہیں۔
اور ان سے ہر ممکنہ طور پر محبت و اپنائیت سے بات کریں۔
کیا خبر وہ تھکے بازوں سے بمشکل آپ کو رپلائے دیتا ہوگا!

پیارے شعیب حسین کے لیے بہترین دعا کیجیے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔

کیا آپ نے آج اپنے پردیسی فیملی ممبر سے بات کی ہے؟
اور آپ کا اپنا کون کون پردیس میں عید گزار رہا ہے؟

شکریہ
بلال مختار
آسٹریلیا



— at Sydney.

Can you really move to the UAE if your company is based in the US, Europe, or Asia? 🤔 Yes, you absolutely can.The UAE's ...
26/05/2026

Can you really move to the UAE if your company is based in the US, Europe, or Asia? 🤔 Yes, you absolutely can.

The UAE's Remote Work Visa (Virtual Work Residence Permit) is designed specifically for professionals who want to experience the expat life in Dubai or Abu Dhabi while maintaining their global career.

But what are the exact rules, and how much does it cost? We have completely simplified the process for you in our latest guide.

💻 Inside this comprehensive guide, you’ll discover:

The exact monthly income requirements ($3,500 USD rule).

How to gather and submit your 3-month bank statements.

Step-by-step online application instructions via GDRFA or ICP.

Total visa fees and hidden processing costs.

How to open a local UAE bank account and rent an apartment using this visa.

Don't let confusing paperwork hold you back from your next big adventure. Get all the authentic details here 👇
🔗 https://uaeinsiderguide.com/visa/uae-remote-work-visa-requirements-complete-eligibility-guide/

🚨 New Guide Alert: UAE Work Visa Requirements! 🚨Are you fully prepared for your move to the UAE? Knowing the legal visa ...
25/05/2026

🚨 New Guide Alert: UAE Work Visa Requirements! 🚨

Are you fully prepared for your move to the UAE? Knowing the legal visa requirements beforehand can save you weeks of delays and unexpected costs.

Our complete 2026 guide covers:
✅ Standard Employment Visa Eligibility
✅ Step-by-step document attestation pipeline
✅ Specialized work permits (Freelance & Green Visas)
✅ Post-arrival medical and residency steps

Read the full breakdown on UAE Insider Guide now 👇
🔗 https://uaeinsiderguide.com/visa/uae-work-visa-requirements-complete-eligibility-guide/

24/05/2026

🚨 IMPORTANT THAILAND TRAVEL UPDATE FOR INDIANS! 🚨
If you’re planning a trip to Thailand in 2026, DO NOT rely on old Instagram reels or outdated travel posts! ❌
Thailand has officially revised its entry rules for Indian passport holders. The previous visa-free entry policy has been withdrawn, and Indians are now back to the Visa on Arrival (VoA) category.
Before you book those flights, make sure you have this checklist ready:
🔹 Passport (with at least 6 months validity)
🔹 Passport-size photos 📸
🔹 Confirmed return/onward tickets ✈️
🔹 Hotel/accommodation bookings 🏨
🔹 Proof of sufficient funds (carrying cash is safer!) 💵
🔹 Thailand Digital Arrival Card (TDAC), if applicable 📲
⚠️ Immigration rules can change overnight. Always verify with official Thai immigration or embassy sources before traveling.
📌 Save & Share this post with anyone planning a Thailand getaway this year!
TravelAlert BangkokDiaries PhuketTrip TravelTips

24/05/2026

Don’t just sit at the airport during your next UAE layover! ✈️ Did you know you can step out and explore Dubai or Abu Dhabi with a Transit Visa?
Whether you need the FREE 48-hour visa or the 96-hour option for just AED 50, we have broken down the entire online application process for you.
Click the link in our bio to read the complete guide on UAE Insider Guide! 🌐👇
👉 [Link in Bio: uaeinsiderguide.com]
AbuDhabiTourism TravelTips2026 VisaRequirements TransitVisa

✈️ Got a layover in the UAE? Don’t just sit at the airport—go explore Dubai or Abu Dhabi! 🌍If you are transiting through...
24/05/2026

✈️ Got a layover in the UAE? Don’t just sit at the airport—go explore Dubai or Abu Dhabi! 🌍

If you are transiting through the UAE to your next destination, you can easily step out of the airport and explore the city with a UAE Transit Visa.

Here is what you need to know before you travel:

📌 2 Types of UAE Transit Visas:
1️⃣ 48-Hour Transit Visa: Completely FREE and perfect for short layovers (Requires a minimum passport validity of 6 months).
2️⃣ 96-Hour Transit Visa: Costs just AED 50 and is ideal if you want to experience the UAE for up to 4 days.

⚠️ Important Note: Both of these visas are non-extendable. To apply, you must have a valid passport and a confirmed onward flight ticket to a third country.

Want to know how to apply step-by-step and what documents you need? Read our complete guide below 👇
🔗 https://uaeinsiderguide.com/visa/uae-transit-visa-requirements-complete-guide/

Address

Al Barsha 1
Islamabad
00000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when UAE Insider Guide posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share