03/07/2026
ہالینڈ اور وینزویلا سے آئی 2 لڑکیوں کے ساتھ ڈیفنس لاہور میں یون شو شن، سُرین اور پستانوں کو شیشے سے چھلنی چھلنی کر دیا، 42 کروڑ روپوں کا مطالبہ، کون لوگ ملوث نکلے؟
تحریر: ظاہر محمود
پنجاب پولیس کو ہالینڈ سے اپنی ہیلپ لائن 15 پر ایک پریشان باپ کی کال موصول ہوئی، جس میں پولیس کو بتایا گیا کہ اُن کی بیٹی 29 جون کو پاکستان گئی مگر اُن سے تاحال کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو پا رہا، اُنھیں اپنی بیٹی کے حوالے سے کافی فکر لاحق تھی-
پنجاب پولیس نے سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں سے مدد لیتے ہوئے 2 گھنٹوں کے اندر اندر ہالینڈ کی اس لڑکی کو برآمد کیا تو ایک المناک واقعہ نے پولیس کو بھی ششدر کر دیا-
معلوم ہوا کہ ہالینڈ کی لڑکی اکیلی نہیں بلکہ اس کے ساتھ وینزویلا سے آئی اس کی دوست بھی موجود ہے اور ان دونوں نوجوان لڑکیوں کو لاہور کے علاقہ ڈیفنس کے ایک گھر میں رکھا گیا تھا-
لڑکیوں کی برآمدگی کے فوراً بعد تھانہ ڈیفنس سی میں قانونی عمل مکمل کیا گیا اور فرسٹ انفارمیشن رپورٹ میں مدعیہ نے مزید چونکا دینے والے انکشافات کر دیے-
مدعیہ نے بتایا کہ اکتوبر 2025ء میں سنگاپور میں اُس کی ملاقات محمد رضا ڈار سے ہوئی اور وہیں سے دوستی کا آغاز ہوا- بعد ازاں ڈار صاحب نے مدعیہ اور اس کی ساتھی کو پاکستان گھمانے کی دعوت دے کر پاکستان بلایا اور یہ دونوں معصوم لڑکیاں ان کے چھلاوے میں آ گئیں-
29 جون کو جب یہ لڑکیاں لاہور پہنچیں تو محمد رضا ڈار صاحب انھیں لے کر ڈیفنس میں واقع ایک گھر میں پہنچ گئے جہاں اِن کے "باس" کے علاوہ 3 دیگر افراد بھی موجود تھے اور انھیں تب جا کر معلوم ہوا کہ یہ تو غلط ہاتھوں میں آ گئی ہیں-
مدعیہ نے مزید ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے رپورٹ لکھوائی کہ جملہ احباب نے اِن کے ساتھ باری باری یون شو شن کیا اور یہ سب اس قدر تکلیف دہ امر تھا کہ وہ رپورٹ لکھواتے لکھواتے رونے لگیں-
مدعیہ نے پورا قصہ بیان کرتے ہوئے بتلایا کہ ایک ساتھی نے جب اُنھیں خاص ایام کا بتایا تو ایک صاحب نے سُرین کا رستہ اختیار کر لیا- دوسری لڑکی نے زبردستی پر اپنے کنوار پن کا بتایا تو شیشے سے اُس کے پستانوں کو چھلنی چھلنی کر دیا-
اس سارے قضیے کے دوران محمد رضا ڈار و کمپنی نے ان معصوم لڑکیوں سے 1.5 ملین ڈالرز جو کہ 42 کروڑ پاکستانی روپے بنتے ہیں، کا تقاضا کیا اور کہا کہ اگر یہ رقم ادا نہ کی گئی تو اُن کی گوری چمڑی اور دیگر اعضا بیچ کر یہ رقم پوری کر لی جائے گی-
اتفاقاً ہالینڈ والی لڑکی کے والد نے جب کئی بار اپنی صاحبزادی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی اور کامیاب نہ ہوئے تو فوراً 15 پہ کال کر کے پنجاب پولیس کو اپنی خفگی سے آگاہ کیا-
اس کال اور واقعے کے سامنے آتے ہی وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ نے فوری ایکشن لیا اور پولیس کو دونوں لڑکیوں کو جلد از جلد رہا کروانے کا حکم دیا تو پولیس نے اگلے ہی 2 گھنٹوں میں سب بھیڑیوں کا سراغ لگا لیا-
دونوں لڑکیوں میں سے ایک کی مدعیت میں پرچہ ہوا اور محمد رضا ڈار اور باقی 4 افراد پر اغ وا اور اجتماعی یون شو شن کی دفعات لگا دی گئیں- لڑکیوں کو میڈیکل کے لیے بھجوا دیا گیا ہے جبکہ وزیراعلی نے اس قضیے میں فوری انصاف کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے ہیں-
مگر سوال یہ ہے کہ جہاں ملک بھر میں غیر ملکی سیاحوں کے لیے رجسٹریشن اور ہوسٹ یا سپانسر کا پورا نظام موجود ہے تو اُنھیں تلاش کرنے میں 2 گھنٹے کیوں لگے؟
نیز محمد رضا ڈار نے محض ڈیڑھ ملین ڈالرز کے لیے ملکی سالمیت اور عکس کو تار تار کر دیا تو کیا اس پر صرف اغ وا اور یون شوشن کی دفعات کا لگنا کافی ہے؟
آپ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں؟ کمنٹ باکس میں ضرور بتائیے---