Malik Shabbir Awan

Malik Shabbir Awan Kindness

31/12/2025

⚖️ خوف نہیں انصاف


جرائم کے خاتمے کے لیے پاکستان کو ماورائے عدالت قتل کو کیوں مسترد کرنا ہوگا

✍️ تحریر:
ملک محمد اسحاق
صدر، پاکستان پیپلز پارٹی (پالیسز اینڈ پلاننگ)
خلیج / مشرقِ وسطیٰ



کوئی قوم محض اس وجہ سے تباہ نہیں ہوتی کہ اس میں جرائم موجود ہوں۔
قوم اس دن زوال کا شکار ہوتی ہے جب انصاف کی جگہ خوف لے لیتا ہے۔

ہماری معاشرتی تاریخ اس تلخ حقیقت کی گواہ ہے کہ لوگ ظلم سہتے ہیں، اپنے حقوق چھنتے دیکھتے ہیں، ناانصافی کو پہچانتے ہیں—مگر پھر بھی خاموش رہتے ہیں۔
یہ خاموشی جہالت کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس خوف کی پیداوار ہے جو آہستہ آہستہ انسان کے ضمیر پر غالب آ جاتا ہے۔
یوں خاموشی، نادانستہ طور پر ظلم کے ساتھ شراکت بن جاتی ہے۔

انسان جانور نہیں کہ لاٹھی کھا کر بھی سوال نہ کرے۔
جانور بوجھ اٹھاتے ہیں اور حکم مانتے ہیں، مگر انسان ناانصافی کو یاد رکھتا ہے۔
جب عزت پامال ہوتی ہے تو دل میں کدورت جنم لیتی ہے،
اور جب انصاف چھینا جائے تو غصہ اندر ہی اندر پکنے لگتا ہے۔
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جبر کبھی پائیدار امن نہیں لاتا—وہ صرف احتساب کے دن کو مؤخر کرتا ہے۔



🚔 قانون نافذ کرنے والے ادارے: کردار اور حدود

ہر مہذب ریاست میں قانون نافذ کرنے والے ادارے نہایت اہم، محترم اور ناگزیر کردار ادا کرتے ہیں۔
وہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرتے ہیں، جرائم کی روک تھام کرتے ہیں اور ریاستی نظم کو برقرار رکھتے ہیں۔
وہ اہلکار جو اپنی جان خطرے میں ڈال کر معاشرے کا دفاع کرتے ہیں، بلاشبہ احترام کے مستحق ہیں۔

لیکن کوئی ادارہ، کوئی عہدہ، کوئی طاقت قانون سے بالاتر نہیں۔

جب ریاست کا کوئی بازو امن و امان کے نام پر:
• عدالتوں کو نظرانداز کرے،
• منصفانہ ٹرائل کا حق چھین لے،
• یا ماورائے عدالت قتل کو معمول بنا دے،

تو وہ ریاست کو مضبوط نہیں کرتا، بلکہ اس کی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر دیتا ہے۔

پاکستان، بالخصوص پنجاب میں، سول سوسائٹی، وکلاء، صحافیوں اور متاثرہ خاندانوں نے مبینہ پولیس “مقابلوں” پر سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں، جن میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) سے منسوب واقعات بھی شامل ہیں۔
ایسے خدشات کا جواب انکار یا خاموشی نہیں، بلکہ آزاد، شفاف اور غیر جانبدار عدالتی جانچ ہے۔

یہ بات دو ٹوک ہونی چاہیے:
ماورائے عدالت قتل کی مخالفت کرنا مجرموں کا دفاع نہیں۔



❌ وہ جرائم جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں

پاکستان کو درج ذیل سنگین جرائم کے خلاف غیر متزلزل مؤقف اختیار کرنا ہوگا:

* مسلح ڈکیتی اور راہزنی
* اغوا برائے تاوان
* اجتماعی زیادتی اور جنسی تشدد
* دہشت گردی اور فرقہ وارانہ قتل
* لینڈ مافیا اور قبضہ گروہ
* منظم منشیات اسمگلنگ
* انسانی اسمگلنگ

یہ جرائم نہ صرف انفرادی زندگیاں برباد کرتے ہیں بلکہ معاشرتی ڈھانچے کو بھی کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
ان کے لیے سخت، فوری اور آئینی سزا ناگزیر ہے—مگر عدالتوں کے ذریعے، نہ کہ بندوق کے ذریعے۔



❓ ماورائے عدالت قتل کیوں ناکام ہوتے ہیں؟

دنیا کی تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی جہاں پولیس فائرنگ کے ذریعے جرائم کا مستقل خاتمہ ہوا ہو۔

🌍 وہ مسلم ممالک جہاں امن قانون کے ذریعے قائم ہوا

چند مسلم اکثریتی ممالک نے جرائم پر قابو پایا، مگر بغیر ماورائے عدالت اقدامات کے:

🇦🇪 متحدہ عرب امارات
🇶🇦 قطر
🇸🇦 سعودی عرب
🇲🇾 ملائیشیا
🇴🇲 عمان

ان ممالک کی کامیابی کا راز یہ رہا:

* تیز اور منصفانہ عدالتی نظام
* آزاد اور بااختیار استغاثہ
* مضبوط فرانزک و انٹیلی جنس ڈھانچہ
* پولیس پر عدالتی و پارلیمانی نگرانی
* سزا کے ساتھ اصلاح اور بحالی

انہوں نے قانون کو طاقت دی، طاقت کو قانون نہیں بنایا۔

ماورائے عدالت قتل تین مہلک نتائج پیدا کرتے ہیں:

1️⃣ بے گناہ جانوں کا بغیر ٹرائل ضیاع
2️⃣ پولیس اختیارات کا ذاتی دشمنیوں میں استعمال
3️⃣ بااثر طبقات کا ریاستی طاقت کو ہتھیار بنانا

پولیس اسٹیٹ بظاہر مؤثر دکھائی دیتی ہے،
مگر حقیقت میں وہ انصاف سے خالی اور خطرناک ہوتی ہے۔



🕌 اسلامی تصورِ انصاف: طاقت نہیں، عدل

اسلام میں انصاف محض قانونی اصول نہیں، بلکہ دینی فریضہ ہے۔

📖 “اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، چاہے وہ تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو”
(سورۃ النساء: 135)

اسلام واضح طور پر:
• عدالتی طریقۂ کار
• ثبوت اور گواہی
• منصفانہ سماعت

کو لازم قرار دیتا ہے۔
شدید ترین جرم میں بھی بغیر عدالتی فیصلے سزا دینا حرام ہے۔
کوئی حکمران، کوئی افسر، کوئی ادارہ قاضی، منصف اور جلاد بننے کا مجاز نہیں۔

انصاف میں تاخیر — غلطی ہے۔
انصاف سے انکار — ظلم ہے۔
اور انصاف کی جگہ مقابلہ — جبر ہے۔



⚖️ قانونی و انسانی حقوق کا تناظر

ماورائے عدالت قتل درج ذیل قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں:

* 📜 عالمی منشورِ حقوقِ انسان — آرٹیکل 10
* 📜 بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق — آرٹیکل 6، 14
* 📜 آئینِ پاکستان
* آرٹیکل 4 — قانون کے مطابق برتاؤ کا حق
* آرٹیکل 9 — حقِ زندگی و آزادی
* آرٹیکل 10-A — منصفانہ ٹرائل کا حق

یہ اقدامات نہ صرف قانون کی حکمرانی کو مجروح کرتے ہیں بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنقید اور دباؤ کا شکار بناتے ہیں۔



🔧 پاکستان کے لیے قابلِ عمل راستہ

اگر پاکستان واقعی انصاف کو پامال کیے بغیر جرائم کا خاتمہ چاہتا ہے تو راستہ واضح ہے:

1️⃣ تیز رفتار عدالتیں

* زیادتی، ڈکیتی، لینڈ مافیا اور منظم جرائم کے لیے خصوصی عدالتیں
* مقررہ مدت میں فیصلے، اپیل کے مکمل حق کے ساتھ

2️⃣ پولیس کا مؤثر احتساب

* آزاد سول نگرانی کمیشن
* باڈی کیمرے اور ہر مقابلے کا آڈٹ
* ہر حراستی موت پر لازمی عدالتی انکوائری

3️⃣ انٹیلی جنس پر مبنی پولیسنگ

* جدید کرمنل ڈیٹا بیس
* منظم جرائم کی مالی نگرانی
* عدالتی اجازت سے ٹیکنالوجیکل نگرانی

4️⃣ شہری و کمیونٹی سیکیورٹی

* رہائشی علاقوں اور شاہراہوں پر مؤثر گشت
* قانونی دائرے میں CCTV نظام
* کمیونٹی پولیسنگ اور مقامی معلوماتی نیٹ ورک

5️⃣ تعلیم، روزگار اور روک تھام

جرائم وہاں پنپتے ہیں جہاں:
* تعلیم کم ہو
* روزگار نہ ہو
* امید ختم ہو

ریاست کو چاہیے:
* نصاب میں شہری اخلاقیات اور قانون شامل کرے
* نوجوانوں کے لیے روزگار و ہنر مندی پروگرام شروع کرے
* پہلی بار جرم کرنے والوں کی اصلاح و بحالی کرے

جرم کا مستقل خاتمہ بندوق سے نہیں،
بلکہ ذہن، نظام اور مواقع بدلنے سے ہوتا ہے۔



📣 ضمیر سے اپیل

میں پُرخلوص اپیل کرتا ہوں:

* انسانی حقوق کی تنظیموں سے — کہ حقائق کی آزادانہ تحقیقات کریں اور خاموشی توڑیں
* بار کونسلز اور وکلاء تنظیموں سے — کہ آئین اور قانون کی پاسبانی کریں

* وزیرِاعظمِ پاکستان سے — کہ پنجاب میں گزشتہ دو برس کے مبینہ پولیس مقابلوں پر آزاد عدالتی تحقیقات کا حکم دیں

* 🛡️ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے — کہ جہاں انصاف کو خطرہ لاحق ہو وہاں ادارہ جاتی سطح پر آواز بلند کریں

* جن جن کو اللہ نے عطا کیا زبان دی طاقت دی ہمت دی — کہ انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے نمائندہ کے طور پر ان بے آواز شہریوں کے ساتھ کھڑے ہوں جن کی آواز خوف میں دب چکی ہے



🕊️ آخری بات

زیادتی ناقابلِ برداشت ہے۔
ڈکیتی ناقابلِ قبول ہے۔
دہشت گردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔

لیکن بغیر ٹرائل کسی بے گناہ کا قتل کبھی جائز نہیں ہو سکتا۔

قوم انصاف سے زندہ رہتی ہے — فسطائیت سے نہیں۔
عدالتوں سے — مقابلوں سے نہیں۔
قانون سے — خوف سے نہیں۔

میں یہ تحریر ریاست کو کمزور کرنے کے لیے نہیں لکھ رہا،
بلکہ اسے اخلاقی طور پر مضبوط بنانے کے لیے۔
یہ مجرموں کے دفاع میں نہیں،
بلکہ بے گناہوں کے تحفظ میں ہے۔

میں بولتا ہوں،
کیونکہ اب خاموشی بہت مہنگی پڑ چکی ہے۔



👍 پسند کریں | 🔁 شیئر کریں | 💬 رائے دیں | 💾 محفوظ کریں












#پاکستان




20/05/2025

فلموں کا دھوم تھری تو سب نے دیکھا ہے لیکن اب حقیقت کا دھوم تھری دیکھو

19/05/2025
وطن جب جیت جاتا ہے تو مائیں ہار جاتی ہیں۔۔۔وطن کو جیت کا تحفہ دینے اور بہادر سپوتوں کو جنم دینے والی ان تمام مائوں کو می...
11/05/2025

وطن جب جیت جاتا ہے تو مائیں ہار جاتی ہیں۔۔۔
وطن کو جیت کا تحفہ دینے اور بہادر سپوتوں کو جنم دینے والی ان تمام مائوں کو میرا سلام 🇵🇰♥️

07/04/2025

اے فلسطین
میں آپ کے ساتھ تو نہیں ہوں لیکن میرا ایمان اتنا بھی کمزور نہیں ہے کہ میں آپکی آواز بھی نہ بن سکوں ✅
فلسطین آزاد ہو انشآءاللہ
🤲😢یااللہ مسجد اقصیٰ کی حفاظت فرما فلسطین شام جموں کشمیر اور تمام مظلوم مسلمانوں کی مدد فرما 🤲😢یاللہ فلسطین کے معصوم بچوں پر رحمت فرما 🤲آمین ثم آمین 🤲

🛠️Custom Perfect for home, office, or warehousehl 🚀🛠️Heavy-Duty Racks: Ideal for industrial and commercial useSpace Opti...
12/12/2024

🛠️Custom Perfect for home, office, or warehousehl 🚀🛠️
Heavy-Duty Racks: Ideal for industrial and commercial use
Space Optimization: Maximize your storage capacity with our innovative designs.
Professional Installation: Quick and efficient setup by our skilled technicians.
🌟 Client Success Stories:
Join the many satisfied customers who have transformed their spaces with our shelves and racks. Experience the difference in organization and efficiency!
🔔 Special Offer:
For a limited time, enjoy 20% OFF your first order of custom shelves and racks! Don’t miss out on this incredible deal.
📞 Contact Us Today!
📞 Phone: 0509857951
📧 Email: [[email protected]

تصویر میں یہ بچہ ایک فیملی عدالت کے باہر بنچ پر پڑا ہے اور اس کے ساتھ فیڈر اور بوتل میں دودھ پڑا ہے یہ وہی بچے ہیں جو گھ...
27/07/2024

تصویر میں یہ بچہ ایک فیملی عدالت کے باہر بنچ پر پڑا ہے اور اس کے ساتھ فیڈر اور بوتل میں دودھ پڑا ہے
یہ وہی بچے ہیں جو گھرو میں بیڈ پر بڑے ناز سے اور بڑے لاڈ سے رهتے ہیں
خود دیکھ لو وہ فیملی جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر عدالت میں آجاتی ہیں اور طلاق لے لیتی ہیں اس ماں اور باپ کا تو کچھ نہیں جاتا وہ تو دوسری شادی کر لیتے ہیں لیکن ذلیل بچے ہوتے ہیں
بچے پھر ایسے عدالتوں کے رحم و کرم پر پڑے رہتے ہیں
تھوڑا سا اپنے اندر صبر پیدا کریں اپنے لیے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے

11/07/2024

خوشخبری خوشخبری خوشخبری شوقین کرکٹ کے لیے بڑی خوشخبری

ماشاءاللہ سپر فکس گروپ آپکے لیے لایا آل پاکستان کرکٹ چمپین شپ سیزن 1
امارت کی سر زمین پر دو ورلڈ کپ ٹیپ بال کے کامیاب ہوئے جو کہ آٹھ مملالک پر مشتمل تھے اس کامیابی کے بعد اب پاکستان میں سیزن ون ہونے جا رہا ہے بہت سارے کرکٹر مانسہرہ کی سر زمین پر جلوہ گر ہوں گئے اس ٹورنامنٹ کو سپانسر کر رہے ہیں سپر فکس گروپ کے چئیرمین جناب نوید احمد صاحب اور اس کے منج کر رہے ہیں المعروف کمنٹٹر شارجہ سیڈیم کے جناب محمد ندیم صاحب اور مسٹر رفاقت علی صاحب اور آپکو بتاتا چلو کہ پاکستانی مشہور کمنٹٹر داود بہوچھ صاحب بھی اپنی کمنٹری سے عوام کے خون گرمائیں گے داؤد بہوچھ صاحب آپ سب جانتے ہیں کہ شارجہ سیٹڈئم کے گروانڈ میں بھی عوام انکی دیوانی ہے آپ جینے بھی جاننے والے سننے والے دوست ہیں وہ مانسہرہ میں گروانڈ میں ضرور جائیں اور جو نہیں جا سکتے ہیں وہ سپرفکس سپورٹس چینل میں بھی لیب دیکھ سکتے ہیں رندھاوا کبڈی کلب 328 ٹوبہ ٹیک سنگھ کی طرف جناب نوید صاحب اور انکی ٹیم کو مکلمل سپورٹ کرتے ہیں اور انکے کے لیے نیک تمنا ہے ہماری ٹیم کا مکمل تعاون انکے ساتھ ہے اور ویسٹ وشش سپر فکس گروپ کے لے شکریہ تمام دیکھنے اور سننے والو کا میں آپکا بہت مشکور ہوں دعاوں میں یاد رکھیں 🤲✌️

Address

Dubai
00000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malik Shabbir Awan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share