السیف الدیوبندی علی اعناق التیمی

السیف الدیوبندی علی اعناق التیمی Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from السیف الدیوبندی علی اعناق التیمی, Business Center, NO ADREES, Hong Kong.

شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور حضرت مولانا صوفی سرور صاحب رحمہ اللہ ابن تیمیہ کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ ساتویں صدی کے عا...
04/08/2026

شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور حضرت مولانا صوفی سرور صاحب رحمہ اللہ ابن تیمیہ کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ ساتویں صدی کے عالم ہیں انہوں نے اور ان کے شاگرد ابن قیم نے اس مقام پر بہت بڑی لغزش کی ہے اور تفرد اختیار کیا ہے کہ حوادث ازل میں نعوذ بالله موجود تھے۔اور اللہ تعالی کی ذات کے ساتھ قائم تھے۔

02/08/2026
[اللہ تعالیٰ کی چھ اطراف میں حد کا مسئلہ]ابن تیمیہ کے نزدیک اللہ کے لیے حد ماننا ائمہ اور سلف کا عقیدہ ہے۔ اب سوال یہ پی...
13/07/2026

[اللہ تعالیٰ کی چھ اطراف میں حد کا مسئلہ]
ابن تیمیہ کے نزدیک اللہ کے لیے حد ماننا ائمہ اور سلف کا عقیدہ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس حد کی تشریح و تفصیل کیا ہے ؟ اس سلسلے میں قاضی ابو یعلی اور حافظ ابن تیمیہ کے مابین ایک علمی اختلاف نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف ایک جہت سے محدود ہے یا تمام چھ اطراف سے۔
قاضی ابو یعلی کا موقف یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا صرف نچلا حصہ (جو عرش کے سامنے ہے) محدود ہے، کیونکہ اس کے سامنے عرش کی مادی آڑ موجود ہے؛ جبکہ باقی پانچ اطراف میں چونکہ سامنے کوئی مخلوق نہیں، اس لیے وہاں کوئی حد نہیں۔ اس کے برعکس، ابن تیمیہ اس نظریے رد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو تمام اطراف میں محدود و متناہی مانتے ہیں۔
ابن تیمیہ اس بحث کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:فالموضع الذي قال إنه على العرش بحد معناه أن ما حاذى العرش من ذاته هو حد له وجھة له والموضع الذي قال هو على العرش بغير حد معناه ما عدا الجهة المحاذية للعرش وهي الفوق والخلف والأمام واليمنة واليسرة [ بيان تلبيس الجھمية، 24/3]
ترجمہ : پس (امام احمد کے کلام میں ) جہاں یہ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالی عرش پر حد کے ساتھ ' ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ذات باری تعالیٰ کا جو حصہ عرش کے محاذات ( سامنے ) ہے ، وہ اس کی حد اور جہت ہے۔ اور جہاں انہوں نے فرمایا کہ اللہ عرش پر'بغیر حد کے' ہے ، تو اس سے مراد ذات کا وہ حصہ ہے جو عرش کے سامنے والی جہت کے علاوہ ہے ، یعنی اوپر ، پیچھے ، آگے، دائیں اور بائیں کی اطراف۔

اس تفریق کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ نچلی جہت عرش کے بالمقابل ہے اور عرش چونکہ محدود ہے ، اس لیے خدا کی ذات کا جو حصہ اس کے سامنے ہے وہ بھی محدود ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں : وكان الفرق بين جهة التحت المحاذية للعرش وبين غيرها ما ذكرنا أن جهة التحت تحاذي العرش بما قد ثبت من الدليل والعرش محدود فجاز أن يوصف ما حاذاه من الذات أنه حد وجهة [ ايضاء24/3]
ترجمہ : اور نیچے کی جہت ( جو عرش کے سامنے ہے) اور دیگر حصوں میں فرق وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا کہ نیچے کی جہت دلیل سے ثابت شدہ بات کے مطابق عرش کے سامنے ہے ، اور عرش چونکہ محدود ہے، اس لیے یہ جائز ہوا کہ ذات الہی کا جو حصہ اس کے سامنے ہے اسے حد اور جہت سے موصوف کیا جائے۔

آگے مزید لکھتے ہیں : وليس كذلك فيما عداه لأنه لا يحاذي ما هو محدود بل هو مار في اليمنة واليسرة والفوق والامام و الخلف الى غير غاية فلهذا لم يوصف واحد من ذلك بالحد والجهة [ ايضا، 25/3]
ترجمہ : اور نچلے حصے کے علاوہ باقی اطراف اس طرح نہیں ہیں، کیونکہ ان کے سامنے کوئی محدود چیز نہیں ہے، بلکہ وہ دائیں، بائیں، اوپر ، آگے اور پیچھے کی جہتوں میں بغیر کسی انتہاء کے (پھیلا ہوا) ہے، اسی لیے ان میں سے کسی حصے کو حد اور جہت سے موصوف نہیں کیا گیا۔
قاضی ابو یعلی کے اس قول کے مطابق عرش خدا کی پوری ذات کے سامنے نہیں ہے: وجهة العرش تحاذي ما قابله من جهة الذات ولم تحاذ جميع الذات لأنه لا نهاية لها [ ايضا، 25/3]
ترجمہ : اور عرش کی جہت ذات الہی کے اس حصے کے سامنے ہے جو اس کے بالمقابل ہو ، وہ تمام ذات کے سامنے نہیں ہے کیونکہ تمام ذات کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔
حضرت مولانا ارشد علی صاحب حفظہ اللہ۔۔۔۔۔✍️

[اللہ تعالیٰ کے لیے حد اور انتہاء کا اثبات]حافظ ابن تیمیہ اپنی تصنیف میں لکھتے ہیں:واما وصفه بالحد والنهاية، الذي تقول أ...
12/07/2026

[اللہ تعالیٰ کے لیے حد اور انتہاء کا اثبات]
حافظ ابن تیمیہ اپنی تصنیف میں لکھتے ہیں:واما وصفه بالحد والنهاية، الذي تقول أنت أنه معنى الجسم، فهم فيه كسائر أهل الإثبات على ثلاثة أقوال: منهم من يثبت ذلك، كما هو المنقول عن السلف والأئمة[بيان تلبيس الجھمية، 287/1]
ترجمہ : اور رہا اللہ تعالیٰ کو حد اور انتہاء(اختتام) سے موصوف کرنا، جس کے بارے میں تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ یہ جسم کا معنی ہے ؟ تو صفات کا اثبات کرنے والے(علماء) اس بارے میں دیگر صفات کی طرح تین اقوال رکھتے ہیں: ان میں سے بعض وہ ہیں جو اس(حد اور انتہاء) کو ثابت مانتے ہیں، جیسا کہ یہ بات سلف اور ائمہ سے منقول ہے۔
ابن تیمیہ نے یہاں صراحت کے ساتھ انتہاء کا لفظ استعمال کیا ہے، جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان کے نزدیک احد' سے مراد جائے اختتام ہی ہے۔ اس کی تائید سلفی محققین کی حاشیہ آرائی سے بھی ہوتی ہے، جہاں وہ لغت کے حوالے سے لکھتے ہیں: حد الشئ منتهی الشی (کسی چیز کی حد سے مراد اس کی انتہاء اور جائے اختتام ہے جہاں وہ ختم ہو جاتی ہے )۔
حضرت مولانا ارشد علی صاحب حفظہ اللہ۔۔۔۔۔۔✍️

Address

NO ADREES
Hong Kong

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when السیف الدیوبندی علی اعناق التیمی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share