21/06/2026
#نوجوانانِ #کشمیر
نوجوانانِ کشمیر! تم امیدِ سحر ہو،
تاریکیوں کے بیچ روشن ہوتی نظر ہو۔
تمہارے حوصلوں کے آگے پہاڑ جھک جاتے ہیں،
تمہارے عزم سے طوفاں بھی رک جاتے ہیں۔
علم تمہارا زیور، قلم تمہاری پہچان،
تم سے ہی روشن ہے قوم کا ہر ارمان۔
تم ذہانت کی دولت، تم ہنر کی مثال ہو،
تم ہی مستقبلِ کشمیر، تم ہی اس کا کمال ہو۔
وقت کی سختیوں سے کبھی نہ گھبرانا،
اندھیروں کے مقابل چراغ بن کر جگمگانا۔
ستم کی آندھیاں چاہے جتنی بھی چلیں،
حق کے مسافرو! تم اپنے قدم نہ ہلنے دینا۔
ظلم کے ایوانوں کو تمہارے عزم سے ڈر ہے،
کیونکہ تمہارے سینوں میں آزادیٔ فکر کا گھر ہے۔
جہالت، نفرت اور برائی کو مٹا دو،
محبت، علم اور اخوت کے چراغ جلا دو۔
اے وادیٔ کشمیر کے باوقار جوانو!
تم سے وابستہ ہیں قوم کے سب خواب و فسانے۔
نہ ظلم کے آگے کبھی سر جھکنے دینا،
نہ حق کی صدا کو کبھی رکنے دینا۔
یقین رکھو! رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو،
صبحِ امید کا سورج طلوع ہو کر ہی رہتا ہے۔
اگر راستے کانٹوں سے بھر جائیں تو مسکرانا،
اپنے حوصلوں سے ہر مشکل کو ہرانا۔
اٹھو کہ زمانہ تمہاری طرف دیکھ رہا ہے،
ہر دل تمہارے کردار پر فخر کر رہا ہے۔
تم طاقت ہو، تم غیرت ہو، تم وقار ہو،
تم ہی قوم کا مستقبل، تم ہی اس کا افتخار ہو۔
قلم کو ہتھیار بناؤ، کردار کو ڈھال بناؤ،
علم و عمل کی روشنی سے ہر سمت اجال بناؤ۔
نوجوانانِ کشمیر!
تمہارے ہاتھوں میں تقدیرِ وطن کی ڈور ہے،
تم زندہ امید ہو، تم ہی آنے والے کل کا نور ہو۔یہ نسخہ زیادہ شاعرانہ، پرجوش اور نوجوانوں کو تعلیم، کردار، ہمت اور ظلم کے مقابلے میں ثابت قدمی کا پیغام دیتا ہے۔