Sallam ya hussain a s

Sallam ya hussain a s business

Permanently closed.
*⚘َ ⚘َ*⚘َاَلســَّــــــلاَمُ عَلــــــــيكَ یا مَولانا یا صاحِبَ الزَّمان⚘َ⚘َاَلســَّــــــلاَمُ عَلــــــــيكَ یا خَلیف...
22/03/2024

*⚘َ ⚘َ*

⚘َاَلســَّــــــلاَمُ عَلــــــــيكَ یا مَولانا یا صاحِبَ الزَّمان⚘َ
⚘َاَلســَّــــــلاَمُ عَلــــــــيكَ یا خَلیفَةَ الرَّحمنِ⚘َ
⚘َاَلســَّــــــلاَمُ عَلــــــــيكَ یاشَریکَ القُرانِ ⚘َ
⚘َاَلســَّــــــلاَمُ عَلــــــــيكَ یا بقیتہ اللہ.
⚘َاَلســَّــــــلاَمُ عَلــــــــيكَ یَااَبَاالصَالِح القَائِم المُنتظرالمہدی الصَاحِبُ العَصــَــر والزمان عج⚘َ
*⚘َاَللّٰھُمَّ عَجّلِ لِوَليَّكَ فَرَج ⚘*


*۞اَللّٰهُمَّ۞*
*۞کُنْ لِوَلِیِّکَ۞*
*۞الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ۞*
*۞صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَعَلی آبائِهِ۞*
*۞فی هٰذِهِ السّاعَةِ وَفِی کُلِّ سَاعَة۞*
*۞وَلِیّاً وَحَافِظاً وَقائِداً وَناصِراً وَدَلیلاً۞*
*۞وَعَیْناً حَتّی تُسْکِنَهُ أَرْضَکَ۞*
*۞طَوْعاً وَتُمَتِّعَهُ فِیهَا۞*
*۞طَوِیْلَا۞*

•°_________✨🥀

العجل_العجل_یاامام_منتظر_العجل_ادرکنی🙏
🥀اللھم صل علی محمد و آل محمد(ص) و عجل فرجہم

*التماس دعا 🤲*

کتابچہ 6🌴امام زمان عج کی غیبت کےاسبابدوسرا درس : غیبت امام زمانہ عج کی حقیقتاستاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹خلاصہ: ب...
19/02/2024

کتابچہ 6🌴
امام زمان عج کی غیبت کےاسباب
دوسرا درس : غیبت امام زمانہ عج کی حقیقت

استاد محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب🎤🌹

خلاصہ:

بعض محقیقین مثلاً مرحوم علامہ مجلسی (رح) نے کتاب مراۃ العقول اور ملا سالح مازندرانی نے شرح اصول کافی میں دونوں قسم کی روایات میں جمع کرنے کی کوشش کی اور غیبت کا دوسرا معنی انتخاب کیا ۔

اس نظریہ کی وضاحت کچھ یہ ہے: کہ امام زمانہؑ کا بدن اور جسم اس طرح سے مخفی ہے کہ آپ لوگوں کے درمیان ہوں گے لیکن ان کا بدن شریف دیکھا نہ جانا ایک غیر عادی اور معجزانہ امر ہے اور معجزہ بذات خود جہاں طبیعت میں عادی اور جاری قانوں کے خلاف ہے اور الہی ارادہ اس طرح استوار ہے کہ تمام امور عادی اور طبعیی نظام پر جاری ہوں۔

جبکہ اس نطام میں تبدیلی یعنی معجزہ کا انجام دینا نہایت ضروری مورد میں ہوتا ہے۔ جبکہ غیر معروف موارد میں معجزہ کے انجام دینے پر کوئی دلیل نہیں ہے۔

انہوں نے دوسرا معنی نکالا۔ کہ لوگ دیکھیں گے لیکن پہچانیں گے نہیں۔ اب ان سے پوچھا گیا کہ وہ روایات جو کہتی ہیں کہ مولا ؑ کا جسم نہیں دیکھا جائے گا تو یہ کہتے ہیں کہ پھر ہم ان روایات سے معنی لیں گے۔ کہ جن میں یہ الفاظ " لا یری ولا ترون یا لایعرف ولا تعرفون سے کریں گے مثلاً آپ انہیں پہچان نہیں پا رہے۔

اور اکثر علمائے کرام یہی معنی لیتے ہیں لیکن بعض علمائے کرام کہتے ہیں کہ یہ درست نہیں ہے۔ چونکہ بعض روایات یہ کہہ رہی ہیں کہ آپ کا جسم دیکھا نہیں جائے گا۔
مثلا ؑ امام جعفر صادق ؑ سے نقل ہوا ہے کہ " یفقد الناس امامھم میسھد الموسم فیراھم ھم ولا یرونہ

" لوگ اپنے امام کو نہیں ڈھونڈ پائیں گے وہ حج کے زمانہ میں حاضر ہوں گے اور لوگوں کو دیکھیں گے لوگ انہیں نہیں دیکھیں گے۔

" ایک اور روایت میں امام موسیٰ کاظم ؑ سے نقل ہوا ہے " اذا فقد الخامس من ولد السابع
" جب ساتویں امام کی نسل سے پانچواں امام غائب ہو۔ قرآن مجید میں نیز یہ تعبیر آئی ہے "قالو تفقد صواع الملک ہم نے بادشاہ کا پیمانہ گم کر دیا ہے۔ یدنی پیمانہ دیکھا نہیں جاتا تھا ، لہذٰا دیکھا نہ جانا پہچانے نہ جانے سے مختلف ہے۔

جیسے قرآن مجید میں بھی یہ تعبیر آئی ہے۔

" حضرت یوسف کے بھائیوں کے پاس جو پیمانہ تھا انہوں نے کہا کہ ہم نے پیمانہ گم کردیا کیا۔

کچھ علمائے کرام نے دونوں روایات کو خوبصورتی سے اکھٹا کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ بسا اوقات مولاؑ جسم کے اعتبار سے نہیں دیکھے جاتے اور بسا اوقات جسم کے اعتبار سے دیکھے جاتے ہیں لیکن پہچانے نہیں جاتے۔

یعنی لوگ دو مقام پر ہیں
کچھ لوگ روحانی طور پر اپنے مولا کے جسم کو دیکھ پاتے ہے لیکن پہچان نہیں پاتے۔
لیکن کچھ ایسے ہیں کہ وہ یہ قابلیت بھی نہیں رکھتے کہ مولا ان کے سامنے آئیں۔

کچھ علماء نے روایات کو کچھ اس طرح سے اکھٹا کیا یعنی غیبت صغریٰ میں امام جسم کے ساتھ غائب تھے۔ جنگلوں اور صحراؤں میں رہتے تھے۔ لیکن 70 سال بعد جب غیبت کبریٰ کا زمانہ آیا تو وہ نسل ختم ہو چکی تھی جس نے آپ کو دیکھا تھا۔ اور پھر وہ لوگ آئے جنہوں نے آپ کو دیکھا نہ تھا۔

یعنی جسمانی غیبت غیبت صغریٰ میں تھی اور بعد میں شخصی غیبت کا آغاز ہوا۔ جو ابھی تک چلی آرہی ہے۔
امام زمانہؑ شخصی اعتبار سے غائب ہیں۔

والسلام۔

WhatsApp Group Invite

پیر کے دن کی دعا🤲دعائے روز دو شنبہ ﴿سوموار﴾بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمعظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سےالْحَ...
19/02/2024

پیر کے دن کی دعا🤲

دعائے روز دو شنبہ ﴿سوموار﴾

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے
الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یُشْھِدْ ٲَحَدًا
حمد اس خدا کے لیے ہے جس نے کسی کو اپنے ساتھ نہیں ملایا
حِیْنَ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ
آسمانوں اور زمین کو پیدا کرتے وقت
وَلَا اتَّخَذَ مُعِیْنًا حِیْنَ بَرَٲَ النَّسَمَات
اور جانداروں کو پیدا کرنے میں کسی سے مدد نہیں لی
لَمْ یُشَارَكْ فِی الْاِلٰھِیَّۃِ
اس کے معبود ہونے میں کوئی شریک نہیں
وَلَمْ یُظَاھِرْ فِی الْوَحْدَانِیَّۃِ
اور نہ اس کی یکتائی میں کوئی معاون ہے
كَلَّتِ الْاَلْسُنُ عَنْ غَایَۃِ صِفَتِہٖ
زبانیں اس کی تعریف کرنے سے قاصر ہیں
وَالْعُقُوْلُ عَنْ كُنْہِ مَعْرِفَتِہٖ
اور عقلیں اس کی ذات کو سمجھنے سے عاجز ہیں
وَتَوَاضَعَتِ الْجَبَابِرَۃُ لِھَیْبَتِہٖ
اور بڑے بڑے سرکش اس کی ہیبت سے سرنگوں ہیں
وَعَنَتِ الْوُجُوْہُ لِخَشْیَتِہٖ
اور چہرے اس کے خوف سے جھکے ہوئے ہیں
وَانْقَادَ كُلُّ عَظِیْمٍ لِعَظَمَتِہٖ
اور اس کی عظمت کے سامنے ہر عظیم مطیع ہے
فَلَكَ الْحَمْدُ مُتَوَاتِرًا مُتَّسِقًا وَمُتَوَالِیًا مُسْتَوْسِقًا
پس تیرے لیے حمد ہے لگاتار اور سلسلہ وار اور بار بار استوار
وَصَلَوَاتُہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ ٲَبَدًا، وَسَلَامُہٗ دَائِمًا سَرْمَدًا
اور اس کے رسولؐ پر دائمی رحمت اور سرمدی سلام ہو
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ ٲَوَّلَ یَوْمِیْ ھٰذَا صَلَاحًا
اے معبود! میرے لیے آج کے دن کے پہلے حصے کو بھلائی،
وَٲَوْسَطَہٗ فَلَاحًا، وَاٰخِرَہٗ نَجَاحًا
درمیانی حصے کو فائدہ بخش اور آخری حصے کو کامیابی کا حامل بنا دے
وَٲَعُوْذُ بِكَ مِنْ یَوْمٍ ٲَوَّلُہٗ فَزَعٌ
اور اس دن سے تیری پناہ لیتا ہوں جس کا اول فریاد،
وَٲَوْسَطُہٗ جَزَعٌ، وَاٰخِرُہٗ وَجَعٌ
اوسط بے تابی اور آخر تکلیف دہ ہو
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ٲَسْتَغْفِرُكَ لِكُلِّ نَذْرٍ نَذَرْتُہٗ
اے اللہ تجھ سے بخشش کا طالب ہوں ان نذروں پر جو میں نے کیں،
وَكُلِّ وَعْدٍ وَعَدْتُہٗ، وَكُلِّ عَھْدِ عَاھَدْتُہٗ ثُمَّ لَمْ ٲَفِ بِہٖ
وہ تمام وعدے جو میں نے کیے اور وہ ذمہ داریاں جو میں نے قبول کیں اور انہیں پورا نہیں کر سکا
وَٲَسْٲَلُكَ فِیْ مَظَالِمِ عِبَادِكَ عِنْدِیْ
اور تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تیرے بندوں کے جو حقوق مجھ پر رہ گئے
فَٲَیُّمَا عَبْدٍ مِنْ عَبِیْدِكَ ٲَوْ ٲَمَۃٍ مِنْ اِمَائِكَ
کہ تیرے بندوں میں سے کسی بندہ یا تیری کنزوں میں سے کسی کنیز سے
كَانَتْ لَہٗ قِبَلِیْ مَظْلِمَۃٌ ظَلَمْتُھَا اِیَّاہُ
میں نے ناانصافی و زیادتی کی ہو
فِیْ نَفْسِہٖ، ٲَوْ فِیْ عِرْضِہٖ، ٲَوْ فِیْ مَالِہٖ، ٲَوْ فِیْ ٲَھْلِہٖ وَوَلَدِہٖ
چاہے وہ اس کی جان یا اس کی عزت یا اس کے مال یا اس کے اعزّہ اور اولاد کے بارے میں ہے
ٲَوْ غَیبَۃٌ اغْتَبْتُہٗ بِھَا، ٲَوْ تَحَامُلٌ عَلَیْہِ بِمَیْلٍ
یا میں نے اس کی غیبت کی یا اپنی خواہش کے تحت ان پر دباؤ ڈالا
ٲَوْ ھَوًى ٲَوْ ٲَنَفَۃٍ ٲَوْ حَمِیَّۃٍ ٲَوْ رِیَاءٍ ٲَوْ عَصَبِیَّۃٍ
یا خودپسندی یا بیزاری یا خودنمائی یا تعصب کا برتاؤ کیا
غَائِبًا كَانَ ٲَوْ شَاھِدًا، وَحَیًّا كَانَ ٲَوْ مَیِّتًا
وہ غائب ہے یا حاضر ہے، زندہ ہے یا مردہ ہے
فَقَصُرَتْ یَدِیْ وَضَاقَ وُسْعِیْ عَنْ رَدِّھَا اِلَیْہِ وَالتَّحَلُّلِ مِنْہُ
تو اب اس کا حق دینا یا معاف کرانا میری طاقت سے بالاتر اور دسترس سے باہر ہے
فَٲَسْٲَلُكَ یَا مَنْ یَمْلِكُ الْحَاجَاتِ
پس میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے حاجات کے مالک،
وَھِیَ مُسْتَجِیْبَۃٌ لِمَشِیَّتِہٖ وَمُسْرِعَۃٌ اِلٰی اِرَادَتِہٖ
کہ وہ حاجات تیری مشیت میں قبول ہیں اور جلد تیرے ارادے میں آنے والی ہیں،
ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ
کہ محمدؐ وآل محمدؑ پر رحمت فرما
وَٲَنْ تُرْضِیَہٗ عَنِّیْ بِمَا شِئْتَ
اور ان لوگوں کو جیسے تو چاہے مجھ سے راضی فرما
وَتَھَبَ لِیْ مِنْ عِنْدِكَ رَحْمَۃً
اور مجھ پر مہربانی فرما
اِنَّہٗ لَا تَنْقُصُكَ الْمَغْفِرَۃُ
بے شک بخش دینے سے تیرا کوئی نقصان نہیں
وَلَا تَضُرُّكَ الْمَوْھِبَۃُ، یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ
اور عطا کرنے میں تجھے کوئی ضرر نہیں ہوتا، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
اَللّٰھُمَّ ٲَوْلِنِیْ فِیْ كُلِّ یَوْمِ اثْنَیْنِ نِعْمَتَیْنِ مِنْكَ ثِنْتَیْن
اے معبود! ہر سوموار کو مجھے دو نعمتیں اکٹھی عطا فرما
سَعَادَۃً فِیْ ٲَوَّلِہٖ بِطَاعَتِكَ
کہ اس دن کے پہلے حصے میں مجھے اپنی اطاعت کی سعادت عنایت فرما
وَنِعْمَۃً فِیْ اٰخِرِہٖ بِمَغْفِرَتِكَ
اور اس کے دوسرے حصے میں مغفرت کی نعمت دے
یَا مَنْ ھُوَ لَہُ الْاِلٰہُ، وَلَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ سِوَاہُ
اے وہ جو معبود ہے اور جس کے سوا کوئی گناہ معاف کرنے والا نہیں

(٤٢٥) وَ قَالَ عَلَیْهِ السَّلَامُاِنَّ لِلّٰهِ عِبَادًا یَّخْتَصُّهُمُ اللهُ بِالنِّعَمِ لِمَنَافِعِ الْعِبَادِ، فَیُقِ...
19/02/2024

(٤٢٥) وَ قَالَ عَلَیْهِ السَّلَامُ
اِنَّ لِلّٰهِ عِبَادًا یَّخْتَصُّهُمُ اللهُ بِالنِّعَمِ لِمَنَافِعِ الْعِبَادِ، فَیُقِرُّهَافِیْۤ اَیْدِیْهِمْ مَا بَذَلُوْهَا، فَاِذَا مَنَعُوْهَا نَزَعَهَا مِنْهُمْ، ثُمَّ حَوَّلَهَا اِلٰى غَیْرِهِمْ.
بندوں کی منفعت رسائی کیلئے
اللہ کچھ بندگانِ خدا کو نعمتوں سے مخصوص کر لیتا ہے۔
لہٰذا جب تک وہ دیتے دلاتے رہتے ہیں
اللہ ان نعمتوں کو ان کے ہاتھوں میں برقرار رکھتا ہے،
اور جب ان نعمتوں کو روک لیتے ہیں تو اللہ ان سے چھین کر دوسروں کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔📚

18/02/2024
جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی نظر میں :حضرت عباس س کا مقام ومرتبہ روایت میں آیا ہے کہ جب قیامت آئے گی تو رسول اللہ صلی ال...
14/02/2024

جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی نظر میں :
حضرت عباس س کا مقام ومرتبہ
روایت میں آیا ہے کہ جب قیامت آئے گی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مولا علی علیہ السلام سے فرمائیں گے،
زہرا سے کہو، تمہارے پاس امت کی شفاعت اور نجات کے لیے کیا ہے؟
مولا علی علیہ السلام نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام پہنچایا
تو جواب میں جنابِ سیدہ نےفرمایا:
یا امیر المؤمنین ! کفانا لاجل ِ هذا المقام ِ الیدان ِ المَقطوعتان ِ مـِـن ابنی العباس "
اے وفاداروں کے سردار! میرے بیٹے عباس کے کٹے ہوئے دونوں ہاتھ ہمارے لیے شفاعت کے لیے کافی ہیں۔

معلی السباطین، جلد 1، صفحہ 452

https://chat.whatsapp.com/Dg9cwvgZY8tCcq8wqC0mdF

*بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ*❤️❤️ *با مطابق ایران 3 شعبان ولادت باسعادت حضرت امام حسین علیہ السلام تمام مومنی...
13/02/2024

*بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ*
❤️❤️ *با مطابق ایران 3 شعبان ولادت باسعادت حضرت امام حسین علیہ السلام تمام مومنین کو مبارک ھو*

*☀بسمِﺍﻟﻠَّﻪِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰنِﺍﻟﺮَّﺣِﻴﻢ☀*
*السَّلام ُ عَلیکَ یَا صَاحِبَ الْعَصْرِ وَالزَّمَانِ السَّلامُ عَلیکَ یَا خَلِیْفَةَ الرَّحْمٰنِ السَّلامُ عَلیکَ یَا امامَ الاِنْسِ وَالجَانِّ السَّلامُ عَلیکَ یَامَظْھَرَ الْاِیْمٰانِ السَّلامُ عَلیکَ یَا شَرِیْکَ الْقُرْآنِ السَّلامُ عَلیک یَا اِمامَ زَمَانِنَا ھٰذا عَجَّلَ اللّہُ تَعٰالیٰ فَرَجَکَ وَسَھَّلَ اللّہُ مَخْرَجَکَ اَلسَّلامُ عَلیکَ وَ رَحْمَةُ اللّہِ وَبَرکَاتُہ۔*آج کا دن : *منگل*
*2شعبان المعظم۔ پاکستان*
*3 شعبان المعظم ایران1445ھ*
*13فروری 2024 ء*
*یا ارحم الراحمین* 💯مرتبہ۔
*یا قابض* 903 مرتبہ۔
مناسبت روز: منگل کا دن *امام زین العابدین امام محمد باقر امام جعفر صادق علیھم السلام* سے منسوب ۔
*ســـــورہ البقــــــرہ*
*ترجـــــــمہ*
*آیــــــ115ــــت*
اور مشرق ہو یا مغرب، دونوں اللہ ہی کے ہیں، پس جدھر بھی رخ کرو ادھر اللہ کی ذات ہے، بے شک اللہ (سب چیزوں کا) احاطہ رکھنے والا، بڑا علم والا ہے۔
*ترجـــمہ از بـــلاغ القرآن*
*مرحوم مغفور مفسر قرآن علامہ شیخ محـســن عـــــلی نجــــفی*

https://chat.whatsapp.com/Dg9cwvgZY8tCcq8wqC0mdF...........................................
https://chat.whatsapp.com/IwvyVWt3vG57E1721eEuXx

💠حدیث💠 *موضوع حدیث:-* مہمان کے آثار🔻پيامبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:🌹*الضَّیفُ یَنزِلُ بِرِزقِهِ وَ یَرتَحِلُ بِذُنوبِ أهلِ ال...
12/02/2024

💠حدیث💠

*موضوع حدیث:-*
مہمان کے آثار

🔻پيامبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:🌹
*الضَّیفُ یَنزِلُ بِرِزقِهِ وَ یَرتَحِلُ بِذُنوبِ أهلِ البَیتِ*

مہمان اپنی روزی کے ساتھ گھر میں داخل ہوتا ہے اور اھل خانہ کے گناہوں کو ساتھ لے جاتا ہے۔

📚 مستدرک، ج ١٦، ص ٢٥٨🌹
https://chat.whatsapp.com/Dg9cwvgZY8tCcq8wqC0mdF............................................
https://chat.whatsapp.com/IwvyVWt3vG57E1721eEuXx

قال علی ع۔۔:🌹 مَن أرادَ البَقاءَ و لا بَقاءَ ـ فَليُخَفِّفِ الرِّداءَ، و ليُباكِرِ الغَداءَ ، و ليُقِلَّ مُجامَعَةَ النّ...
11/02/2024

قال علی ع۔۔:🌹
مَن أرادَ البَقاءَ و لا بَقاءَ ـ فَليُخَفِّفِ الرِّداءَ، و ليُباكِرِ الغَداءَ ، و ليُقِلَّ مُجامَعَةَ النِّساءِ .
*امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا*:
جو اپنی اور دوسروں کی بقا چاہتا ہے
اسے کم سونا،
سویرے اٹھنا
اور عورتوں سے کم میل ملاپ کرنا چاہئے۔
*بحار الانوار، جلد # ۶۲ صفحہ # ۲۶۲*
https://chat.whatsapp.com/Dg9cwvgZY8tCcq8wqC0mdF

*سلسلہ دروس"آفتاب امامت"* *درس نمبر:* 4غیبت صغری اور کبرٰی کا فلسفہ اور غیبت میں امام کا فیض نیز ہماری ذمہ داری *خلاصہ* ...
10/02/2024

*سلسلہ دروس"آفتاب امامت"*
*درس نمبر:* 4
غیبت صغری اور کبرٰی کا فلسفہ اور غیبت میں امام کا فیض نیز ہماری ذمہ داری

*خلاصہ* :
*فلسفہء غیبت صغرٰی:*
تاریخی اعتبار سے 260ھ سے غیبت کا آغاز ہوا۔ اور غیبت دو مراحل میں داخل ہوئی۔ غبیت صغریٰ 260ھ سے لیکر 70 سال تک رہی ۔ اور پھر غیبت کبرٰی کا زمانہ شروع ہو گیا۔

علمائے کرام اپنی ابحاث میں بیان کرتے ہیں کہ غیبت کبرٰی جو اصل ہدف تھا اس سے قبل غیبت صغرٰی کی کیا ضرورت تھی۔ اور نائبین کی کیا ضرورت تھی۔ اگر غیبت صغریٰ نہ ہوتی تو امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے بعد غیبت کبرٰی شروع ہو جاتی ۔ اور امت امام مہدیؑ کا وجود مبارک بلکل فراموش کر دیتی۔ امام مہدیؑ جو امام حسن عسکریؑ کے دور میں بھی پنہاں تھے چند خاص افراد ہی آپؑ کے وجود سے آگاہ تھے۔

غیبت صغریٰ کے دور میں لوگ امام زمانہؑ کی جانب متوجہ ہوئے اپنے مسائل کے حل کے لیے آپ ؑ کو خط لکھتے اور آپؑ کے نائبین کو دیتے اور پھر جواب کے منتظر ہوتے۔ نائبین خاص ان کو ان کے خطوط کے جواب لا کر دیتے اور کچھ لوگوں کو آپؑ کے حکم سے ملاقات کا شرف ملتا۔ ۔ یہ سب غیبت کبرٰی میں ممکن نہ تھاکیونکہ غیبت کبرٰی میں امامؑ کا لوگوں سے ظاہری رابطہ نہیں ہوتا۔

اگر غیبت صغری نہ ہوتی تو لوگ آخری حجت کو فراموش کردیتے۔

غیبت صغری کا ایک اہم مقصد یہ تھا کہ دور غیبت میں بہت سے فتنوں نے سر اٹھایا جیسے جھوٹے امامت کے دعویدار (جعفر کذاب اور دیگر)، جھوٹے نائبین، غالی فرقہ، ان فتنوں نے شیعہ اثنا عشری میں اختلافات پیدا کردیے اور لوگ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔
نائبین خاص نے غیبت صغریٰ میں اپنے امام ؑ کی ہدایت پر چلتے ہوئے ان فتنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان فتنوں کو ختم کیا نتیجۃً شیعہ دوبارہ سے متحد ہونے لگے۔

ہر معصوم کے دور میں لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے امامؑ سے رجوع کرتے تھے ۔ غیبت صغریٰ جس کا دورانیہ تقریباً 70 سال ہے اس میں امام ؑ نے فقہا اور علما کی تربیت کی۔ ان کے ذمہ فقہی مسائل کے حل کی ذمہ داری سونپی۔ امامؑ لوگوں کو عادت ڈال رہے تھے کہ جب غیبت کبرٰی کا دور شروع ہوگا تو فقہی مسائل کے حل کے ایسے فقہاء اور علماء کی جانب رجوع کریں جو عالم ہوں اور عادل ہوں۔ امامؑ فقہاء کی حوصلہ افزائی فرما رہے تھے کہ آپ کے اندر یہ صلاحیت ہے آپ کے پاس ہماری احادیث ہیں تحقیق کریں اور فقہی مسائل کا حل بتائیں۔۔
آخری نائب علی بن سمری کو امام ؑ نے ان کی وفات سے 6 دن قبل آخری توقیع لکھی۔ جس کا ایک حصہ درج ذیل ہے۔
"اے علی بن محمد سمری اللہ تعالیٰ آپ کی وفات پر آپ کے دینی بھائیوں کو اجر جمیل عطا فرمائے ، کیونکہ آپ 6 دن بعد عالم بقا کی جانب کوچ کر جائیں گے ۔ لہذا اپنے کاموں کی خوب دیکھ بھال کر لو۔ او ر اپنے بعد کسی کو اپنی جانشینی کی دعوت نہ کرو۔ کیونکہ مکمل اور طولانی غیبت کا وقت آن پہنچا ہے۔ اس کے بعد مجھے نہیں دیکھو گے۔ جب تک خدا کا حکم ہوگا دل سخت ہو جائیں گے اور زمین ظلم و جور سے بھر جائے گی۔ وہ حکم خدا ایک طویل مدت تک ہوگا جس میں دین و دنیا کے تمام امور ایسے شخص یا اشخاص کے سپرد کرنا جو اس عظیم ذمہ داری کو نبھا سکیں۔"

غیبت صغریٰ ایک مخصوص مدت کے لیے تھی اور یہ منشاء الہی تھی۔ اگر غیبت صغریٰ کا دور ہی رہتا تو لوگ امامؑ کی جانب سے بے فکر رہتے اور فقط اپنے مسائل کا حل پوچھتے۔ جبکہ غیبت کبریٰ کا دور اس لیے منشاء الہی ہے کہ جب مولاؑ نگاہوں سے دور ہونگے تو لوگ بے چین رہیں گے کہ ظہور جلد ہو۔ اور وہ اس جدائی کے فلسفہ کو سمجھیں گے اور کوشش کریں گے کہ جان سکیں کہ ظہور کی راہ کو کیسے ہموار کیا جائے ۔ وہ اپنے اند ر تبدیلی لائیں گے۔ اور پھر امامؑ کے ظہور کے لیے پوری دنیا میں تحریک چلائیں گے۔

اور غیبت کبریٰ میں فقہا کی نیابت کا سلسلہ شروع ہوا یعنی نائب عامہ جو خصوصیات میں نائبین خاص کے درجے پر ہو۔ امام ؑ نے فقط ایک فریضہ علماء اور فقہاء کے سپرد کیا باقی تمام وظائف کو امام ؑ خود انجام دیتے ہیں ۔ امام ؑ فرماتے ہیں " اے میرے شیعو اگر ہم تم سے پل بھر کے لیے بھی نظر ہٹا لیں تو تمھارا دشمن تمھیں برباد کر دے"۔ ہفتہ میں دو بار ہمارے اعمال امامؑ کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں۔ امامؑ ہمارے درمیان موجود ہیں ۔ ہمیں دیکھتے ہیں ۔ لیکن ہماری آنکھوں پر پڑھے گناہ آلود حجابوں کی وجہ سے ہم ان کو نہیں پہچان سکتے۔ امامؑ کو دیکھنا ضروری نہیں ۔ پہلے زمانہ میں بھی ہر کوئی اپنے امامؑ کی زیارت نہیں کرتا تھا لیکن امامؑ کا فیض ہر ایک تک پہنچتا تھا۔

امام مہدیؑ فرماتے ہیں" غیبت کے زمانے میں مجھ سے فائدہ حاصل کرنا ایسا ہی ہے جیسے بادلوں کے پیچھے چھپے ہوئے سورج سے نفع حاصل کرنا۔ جس طرح رو ئے زمین کی بقا کے لیے سورج کی حرارت اور روشنی کافی ہے اسی طرح نوع بشر کے لیے امامؑ کا وجود غیبت کے پردے میں بھی فیض بخش ہے۔

جب ایک انسان فلسفہ غیبت کو سمجھتے ہوئے راہ معرفت پر چلتا ہے تو وہ کوشش کرتا ہے کہ خود کو امام ؑ کے ناصر بننے کے قابل بنائے وہ جہاد کرتا ہے۔ خود کو راہ خدا میں وقف کرتا ہے۔ آج کے دور میں بھی ایسی ہستیاں موجود ہیں جو امامؑ کے ناصر بننے کے لیے مسلسل جدوجہد میں ہیںَ جیسے حسب اللہ، جناب حسن نصراللہ، رہبر معظم آیت اللہ خامنائی، اور دیگر علمائے حقہ بلخصوص آیت اللہ زکزاکی اور ان کے ساتھی جنہوں نے راہ ظہور میں عظیم قربانیاں دی۔

*استاد محترم علی اصغر سیفی صاحب* 🎤🌹

(والسلام)
https://chat.whatsapp.com/Dg9cwvgZY8tCcq8wqC0mdF.....................
https://chat.whatsapp.com/IwvyVWt3vG57E1721eEuXx

*بسمِْ ﺍﻟﻠَّﻪِﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰنِ ﺍﻟﺮَّﺣِﻴم*    *أَللّهُمَّ ارْزُقْنی شَفاعَةَ الْحُسَیْنِ یَومَ الْوُرُودِ**  آج کا دن : ہفتہ**...
10/02/2024

*بسمِْ ﺍﻟﻠَّﻪِﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰنِ ﺍﻟﺮَّﺣِﻴم*
*أَللّهُمَّ ارْزُقْنی شَفاعَةَ الْحُسَیْنِ یَومَ الْوُرُودِ*
* آج کا دن : ہفتہ*
*29رجب المرجب 1445ھ*
*10فروری 2024 ء*
* نسبت روز : آج کا دن رسول خدا صلی الله علیه و آله و سلّم سے منسوب ھے*
*❤️ آج کے اذکار*
* یا رَبَّ العالَمین 💯مرتبہ*
* یا حی یا قیوم 1000 مرتبہ*
* يا غني 1060 مرتبہ*
*الـّلـهـم صـَل ِّ عـَلـَی مـُحـَمـَّدٍ وَآل ِ مـُحـَمـَّدٍ وَعـَجــِ
*بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ*
*ســـــورہ البقــــــرہ*
*ترجـــــــمہ*
*آیــــــ112ــــت*
ہاں! جس نے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دیا اور وہ نیکی کرنے والا ہے تو اس کے لیے اس کے رب کے پاس اس کا اجر ہے اور انہیں نہ تو کوئی خوف ہو گا اور نہ کوئی حزن ۔
*ترجـــمہ از بـــلاغ القرآن*
*مفسر قرآن مرحوم مغفور علامہ شیخ محـســن علی نجفی

https://chat.whatsapp.com/Dg9cwvgZY8tCcq8wqC0mdF
....
https://chat.whatsapp.com/IwvyVWt3vG57E1721eEuXx

WhatsApp Group Invite

08/02/2024

*🏴 میں نے امت کی اصلاح کے لئے خروج کیا ہے 🏴*

*🔷️ امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں:*🌹

*وَإنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الاِصْلاَحِ فِي أُمَّه جَدِّي مُحَمَّدٍ صَلَّي اللَهُ عَلَيْهِ وَءَالِهِ؛ أُرِيدُ أَنْ ءَامُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهَي عَنِ الْمُنْكَرِ، وَأَسِيرَ بِسِيرَہ جَدِّي وَسِيرَہ أَبِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليه السلام.*🌹

*📜 میں اپنے نانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی اصلاح اور نیکی کی طرف دعوت و برائی سے روکنے کے ارادہ سے، اپنے نانا اور اپنے بابا علی ابن ابی طالب علیہم السلام کی سیرت پر عمل کرنے کے لئے نکلا ہوں۔*

*•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈┈•*
*📚 نفس المهموم، ص، 45*
*•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈┈•*

Address

Tehran

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sallam ya hussain a s posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share