MM K law associates & legal Aid Centre

MM K law associates & legal Aid Centre legal service provider .legal advise, legal notice ,litigation in courts

our law firm provide legal services in kpk Rawalpindi & Islamabad courts.we are expertise in civil.family .consumer and criminal law

13/06/2026

Whether a decree holder who fails to file the firstex*****on petition within the statutory period ofthreeyears as required by Article 181 of the LimitationAct, 1908, loses the statutory right to seek ex*****onand consequently cannot file any subsequentpetition by invoking the provisions of Section 48 ofthe CPC.

It is by now settled that the right to execute a decree iscircumscribed by statutory limitation and must be exercisedstrictly within the framework provided by the Limitation Act, 1908(“the AcVf The decree-holder is required to file the first petitionfor ex*****on of a decree within a period of three years from thedate when the right to apply accrues. This is the mandatoryrequirement. The law is equally settled that Section 48 CPC doesnot enlarge or override the period provided for the first ex*****onpetition, rather it provides an outer limit for ex*****on proceedingsonce properly initiated in accordance with law.

i. If the first ex*****on petition was not instituted within three years as stipulated under Article 181 of the Act,the decree-holder loses the statutory right to seek ex*****on, and no subsequent petition can be sustained by invoking the provisions of Section 48 CPC.

ii. If the first ex*****on petition was filed within the stipulated period of three years, the subsequent ex*****on petition may be maintained, provided it falls within the outer limit contemplated under Section 48CPC and the decree remained unsatisfied.

iii. Dismissal of the first ex*****on petition on technical grounds does not ipso facto extinguish the decreeholder’s right, provided the initial invocation of jurisdiction was within the stipulated period. If the first ex*****on petition itself was time-barred, the defect is fatal and cannot be cured by filing a second petition by invoking the provisions of Section 48 CPC.
Civil Petition No. 4530 of 2024

Rasheed (deceased) through LRs and others VersusMuhammad Azam Khan and others
12-03-2026M
*M FAROOQ KHILJI ADVOCATE 03336287215*

07/06/2026

سیکشن 19 پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کے تحت افغان کارڈ (ACC/POR) رکھنے والے پاکستانی شہریوں کے لیے رہنمائی

اگر کوئی شخص پیدائشی طور پر پاکستانی شہری ہے لیکن اس نے کسی مرحلے پر افغان سٹیزن کارڈ (ACC) یا پروف آف رجسٹریشن (POR) حاصل کر لیا ہو، اور اس بنیاد پر اس کا قومی شناختی کارڈ معطل، ضبط یا منسوخ کر دیا گیا ہو، تو وہ اپنی پاکستانی شہریت کے ثبوت کے لیے متعلقہ قانونی طریقہ کار اختیار کر سکتا ہے۔

پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ، 1951 کے سیکشن 19 کے تحت وفاقی حکومت نے رجسٹرار جنرل پاکستان (چیئرمین نادرا) کو اختیار دیا ہے کہ وہ ایسے معاملات کی جانچ کرے جہاں کسی فرد کی شہریت کے بارے میں شبہ یا تنازع موجود ہو۔ اگر درخواست گزار اپنی پاکستانی شہریت کے حق میں قابلِ اعتماد دستاویزات پیش کر سکے تو اس کا معاملہ نادرا کے ذریعے زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔

مطلوبہ دستاویزات

درخواست گزار کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے دستیاب ریکارڈ اور معاون دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی، جن میں حسبِ ضرورت درج ذیل شامل ہو سکتے ہیں:

- اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ بیانِ حلفی۔
- 1979 سے قبل کے سرکاری ریکارڈ، مثلاً زمین یا جائیداد سے متعلق دستاویزات۔
- پرانے ڈومیسائل یا لوکل سرٹیفکیٹس۔
- تعلیمی اسناد، پاسپورٹ، پرانے شناختی دستاویزات یا ڈرائیونگ لائسنس۔
- 1990 سے قبل کی سرکاری ملازمت سے متعلق تصدیق شدہ ریکارڈ (درخواست گزار یا قریبی خونی رشتہ دار کا)۔
- متعلقہ محکمہ مال سے تصدیق شدہ شجرۂ نسب یا خاندانی ریکارڈ۔

درخواست کا طریقۂ کار

1. نادرا میں درخواست جمع کرانا
درخواست گزار اصل دستاویزات اور بیانِ حلفی کے ساتھ نامزد نادرا مرکز میں حاضر ہو کر درخواست جمع کرائے گا۔ مقررہ فیس کی ادائیگی اور بائیومیٹرک تصدیق بھی درکار ہوگی۔

2. جانچ پڑتال اور انٹرویو
نادرا کی جانب سے مقررہ تاریخ پر درخواست گزار کا انٹرویو لیا جا سکتا ہے تاکہ فراہم کردہ معلومات اور دستاویزات کا جائزہ لیا جا سکے۔

3. ریکارڈ کی تصدیق
نادرا متعلقہ سرکاری اداروں سے فراہم کردہ ریکارڈ اور دستاویزات کی تصدیق حاصل کرے گا۔

4. حتمی فیصلہ
ضروری کلیئرنس اور تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد معاملہ مجاز اتھارٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اگر شہریت کا دعویٰ درست ثابت ہو جائے تو افغان کارڈ منسوخ کرنے اور پاکستانی شہریت و شناختی دستاویزات کی بحالی یا اجرا کے لیے قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اہم قانونی نکات

- افغان کارڈ کی منسوخی یا پاکستانی شناختی کارڈ کی بحالی خود بخود ماضی میں ہونے والی کسی ممکنہ قانونی خلاف ورزی یا کارروائی کو ختم نہیں کرتی۔
- اگر بعد میں یہ ثابت ہو جائے کہ درخواست گزار نے جعلی دستاویزات استعمال کیں یا اہم حقائق مخفی رکھے، تو متعلقہ اتھارٹی شہریت سے متعلق جاری کردہ فیصلے یا سرٹیفکیٹ کو قانون کے مطابق واپس لینے یا منسوخ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
- ہر درخواست کا فیصلہ اس کے اپنے حقائق، دستیاب شواہد اور
قانونی تقاضوں کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔

🚨ایک سال سزا کاٹنے کے بعد بھی ڈگری ختم نہیں ہوتی❗📌فیملی کورٹ کی ڈگری کی عدم ادائیگی پر ایک سال تک قید ہو سکتی ہے، لیکن ق...
04/06/2026

🚨ایک سال سزا کاٹنے کے بعد بھی ڈگری ختم نہیں ہوتی❗
📌فیملی کورٹ کی ڈگری کی عدم ادائیگی پر ایک سال تک قید ہو سکتی ہے، لیکن قید کاٹ لینے سے ڈگری ختم نہیں ہوتی۔
✅ڈگری بدستور واجب الادا رہتی ہے۔ مدیون کے نام موجود جائیداد، گاڑی یا دیگر اثاثے قرق اور نیلام کیے جا سکتے ہیں۔
✅ اگر مقدمہ دائر ہونے کے بعد جائیداد کسی رشتہ دار یا دوسرے شخص کو منتقل کی گئی ہو تو ایسی منتقلی بھی کالعدم قرار دی جا سکتی ہے۔

30/05/2026

بیگم صاحبہ کے چودہ نکات ۔۔۔۔
(نہایت اہم تحریر گھر میں خواتین کو پڑھ کر سنا دیں۔۔۔)

جب بیگم ساس بن جائے تو گھر کا ماحول خوشگوار رکھنے کے لئے 14 ہدایات پر عمل کرے ۔

1 : میرا بولنا اور میرا چپ رہنا ، سب گھر کے خوشگوار ماحول کے لئے ہوگا ۔

2 : بہو کی ہر اچھی بات اور اچھے کام پہ اس کی تعریف کروں گی ، اور اسے دعائیں دوں گی ۔

3 : شادی شدہ بیٹیوں کو اپنے گھر میں مداخلت کی اجازت نہیں دوں گی ۔

4 : اپنے کسی رشتہ دار ، بہو کے رشتہ دار ، کسی پڑوسی ، اور کسی بھی جاننے والے کے سامنے ، اپنی بہو کی برائی نہیں کروں گی ۔

5 : گھر میں جو چاہے ہو جائے ، اس کے میکے کے کسی بھی فرد سے اس کی شکایت نہیں کروں گی ۔

6 : اسے ، اس کی کسی ایسی بات پہ نہیں ٹوکوں گی ، جس سے میرے گھر یا میری ذات کا کوئی نقصان نہ ہو ۔

7 : وہ میرے بیٹے کے ساتھ جہاں بھی جائے ، اور رات کو جب بھی واپس آئے ، اسے کچھ نہیں کہوں گی ۔

8 : اس کے لباس ، اس کے پکوان اور اس کے اخلاق کی تعریف کرتے رہنے کو اپنی روٹین بنا لوں گی ۔

9 : اپنے بیٹے کے آرام ، سکون ، سہولت ، لباس اور خوراک کا خیال رکھنے پر ، وقتاً فوقتاً اپنی بہو کا شکریہ ادا کرتی رہوں گی ۔

10 : اس کے میکے والوں کے سامنے ، اس کے اچھے کاموں اور اچھی باتوں کو سراہتی رہوں گی ۔

11 : وقتاً فوقتاً بہو کی موجودگی میں ، اس کے ماں باپ کا شکریہ ادا کیا کروں گی ، کہ انہوں نے اپنے جگر کا ٹکڑا کاٹ کر ، ہمیں گفٹ کر دیا ہے ۔

12 : اس کے صبح لیٹ اٹھنے کو گھر کا مسئلہ نہیں بناؤں گی ۔ کیونکہ اس کے پاس چند ہی سال ایسے ہوں گے ۔ جب بچے سکول جانے لگے ، خود ہی جلد اٹھنا شروع ہو جائے گی ۔

13 : اس کے تجربے اور فہم کا ، اپنے تجربے اور فہم سے مقابلہ نہیں کروں گی ۔ اور جنریشن گیپ کے مسائل کو بہو کی کمزوریاں تصور نہیں کروں گی ۔

14 : میں پہلے ہی دن سے ان سب باتوں کا دھیان رکھوں گی تاکہ بعد میں کوئی جھجک ، میرے وعدوں کی تعمیل میں حائل نہ ہو ۔

اللہ میرا حامی و ناصر ہو ۔ اور مجھے ان میں سے زیادہ سے زیادہ نقاط پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے ۔ تاکہ میں خود بھی خوش رہ سکوں اور بہو کو بھی اک پرسکون ماحول دے سکوں ۔ آمین ۔

27/05/2026

عدالتی احکامات اور حکومت کی مجرمانہ غفلت: پشاور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ اور جامع قانونی اصلاحات کا ناگزیر روڈ میپ

تحریر: سلیم شاہ ہوتی (ایڈووکیٹ سپریم کورٹ)

​خیبر پختونخوا کا کریمینل جسٹس سسٹم (Criminal Justice System) اور عدالتی ڈھانچہ طویل عرصے سے ڈھانچہ جاتی جمود، انتظامی نااہلی، اور نوآبادیاتی دور کے فرسودہ طریقوں کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ اس سنگین آئینی و قانونی بحران کا ادراک کرتے ہوئے، پشاور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے 15 جنوری 2026 کو ایک تاریخی اور مفصل 149 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا تھا، جس کا مقصد صوبے میں پولیس، پراسیکیوشن، بار اور عدالتی عملے کی کارکردگی کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور مجرموں کو سزا دلوانے کی شرح میں اضافہ کرنا تھا ۔ لیکن افسوس کہ صوبائی ایگزیکٹو اور متعلقہ انتظامیہ نے اس اسٹریٹجک جوڈیشل مینڈیٹ کو روایتی سرخ فیتا شاہی( red tapism) کی نذر کر دیا، جس پر عدالتِ عالیہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
​گزشتہ دنوں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس محمد اعجاز خان پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے اس تاریخی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف دائر توہینِ عدالت (Contempt of Court) کی درخواست پر سماعت کی ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق عدالت نے خیبر پختونخوا حکومت اور چیف سیکرٹری کو آخری انتباہ جاری کرتے ہوئے ایک ماہ کے اندر تعمیل کی حتمی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے، جس کے بعد بصورتِ دیگر آرٹیکل 204 کے تحت سخت ترین تادیبی اقدامات اٹھائے جائیں گے
​نظامِ عدل کے بنیادی ناسور اور عدالتی مشاہدات کا قانونی تجزیہ انتہائی کرب ناک ہے۔
​سماعت کے دوران پشاور ہائی کورٹ نے جن تلخ حقائق سے پردہ اٹھایا، وہ فوجداری نظام میں موجود گہرے سقم کو ظاہر کرتے ہیں، جن کی وجہ سے مجرموں کو سزا دلوانے کی شرح (Conviction Rate) تشویشناک حد تک کم ہے:
​سائنسی اور فارنزک شواہد کا فقدان ایک بہت بڑا المیہ جو کہ انصاف کی راہ میں بڑی روکاوٹ ہے۔ عدالتِ عالیہ نے ریمارکس دیے کہ اس جدید سائنسی دور میں بھی خیبر پختونخوا کے پاس اپنی کوئی خود مختار ڈی این اے (DNA) ٹیسٹنگ لیبارٹری موجود نہیں ہے ۔ صوبے بھر سے حساس نمونے پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی (PFSA) لاہور بھیجے جاتے ہیں، جس سے "حلقہ بندیِ شہادت" (Chain of Custody) متاثر ہوتی ہے اور رپورٹس میں مہینوں کی تاخیر ملزمان کو فائدہ پہنچاتی ہے۔
​بیوروکریٹک لا پرواہی اور انتظامی مفلوجیت نے نظام عدل کو انتہائی بوسیدہ بنایا ہے۔ چیف جسٹس نے شدید برہمی کا اظہار کیا کہ پراسیکیوشن اور تفتیشی محکموں کے مرد افسران سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر حساس اضلاع (جیسے کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع یا جنوبی اضلاع) میں فرائض کی انجام دہی سے کتراتے ہیں ۔ یہ طرزِ عمل 1973 ائین کے آرٹیکل 9 اور 25 کے تحت شہریوں کو یکساں قانونی تحفظ دینے کے آئینی حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
​اندرونی احتساب اور عدالتی تطہیر انتہائی ضروری امر ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ نظام کی صفائی اندرونِ خانہ شروع ہو چکی ہے۔ چیف جسٹس کے مطابق، حال ہی میں کرپشن اور نااہلی پر 21 ججز کو ملازمت سے برخاست کیا گیا ہے ۔ اب گیند صوبائی حکومت کے کورٹ میں ہے کہ وہ انتظامی مداخلت کو ختم کرے اور تفتیشی و پراسیکیوشن افسران کا کڑا احتساب کرے۔
​جامع قانونی و عدالتی اصلاحات (Legal Reforms Agenda) کا ناگزیر روڈ میپ ہی ایک بہتر نظام عدل کی فراہمی کا وسیلہ ہے۔
​پشاور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ پورے کرمنل اور سول جسٹس سسٹم کو جڑ سے تبدیل کرنے کا ایک جامع قانونی و سماجی منشور ہے۔ نظام کو جدید اور موثر بنانے کے لیے درج ذیل قانونی اصلاحات کا نفاذ ناگزیر ہو چکا ہے:
​1. تفتیش اور پراسیکیوشن کی اصلاح (Police & Prosecution Reforms):
​تفتیش اور امن و امان کی ایک دوسرے علیحدگی تفتیش کو موثر اور بامعنی بنانے کے لئے ضروری ہے۔: پولیس آرڈر 2002 اور خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2017 کے تحت واچ اینڈ وارڈ (Watch & Ward) اور انویسٹی گیشن ونگ کو مکمل طور پر الگ کیا جائے۔ تفتیشی افسران کو روزمرہ کے وی آئی پی پروٹوکول اور لا اینڈ آرڈر ڈیوٹیوں سے آزاد کر کے صرف کرائم سین انویسٹی گیشن تک محدود کیا جائے۔
​کوڈ آف کرمنل پروسیجر (CrPC) میں ترامیم: ضابطہ فوجداری کی دفعہ 173 کے تحت 14 دنوں کے اندر چالان کی پیشی کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی جائے اور ناقص تفتیش کرنے والے انوسٹی گیشن افسران (IOs) کے خلاف قید اور جرمانے کی سزائیں متعارف کروائی جائیں۔
​ڈی سنٹرلائزڈ فارنزک نیٹ ورک (The DNA Bottleneck): قانون سازی کے ذریعے "کے پی فارنزک سائنس ایجنسی" کا قیام عمل میں لایا جائے اور سوات، ایبٹ آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں خود مختار فارنزک لیبارٹریز قائم کی جائیں تاکہ شواہد کو سائنسی طریقے سے موقع پر ہی محفوظ کیا جا سکے ۔
​2. عدالتی عملے اور کلرکوں کا ڈیجیٹل احتساب (Ministerial Staff Reforms) کے عمل سے نظام میں بہتری ہوگی۔
​ڈیجیٹل فائل والٹ (Ahlmad کا متبادل): روایتی طور پر جج کے ریڈر اور "اہلمد" (Ahlmad/کیس فائل کا کسٹوڈین) کی سطح پر موجود کرپشن، فائلیں غائب کرنے کے رجحان اور بلاجواز التوا (Adjournments) کے کلچر کو ختم کرنے کا واحد حل پیپر لیس کورٹ (Paperless Court) کا قیام ہے۔ ایک بار دستاویز اسکین ہو کر کلاؤڈ پر ٹائم اسٹیمپ ہو جائے تو کسی کلرک کو اس میں ہیر پھیر کی اجازت نہ ہو گی۔
​سمن اور نوٹسز کی الیکٹرانک تعمیل (Electronic Process Serving) سے مستعدی اور شفافیت میں بہتری ائے گی۔روا یتی تعمیل کنندگان کو رشوت دے کر رپورٹ لکھوانے کا راستہ بند کرنے کے لیے واٹس ایپ (WhatsApp)، رجسٹرڈ ای میل اور بائیومیٹرک ایس ایم ایس کے نوٹسز کو الیکٹرانک ٹرانزیکشنز آرڈیننس کے تحت قانونی طور پر موثر تسلیم کیا جائے۔
​3. بار، وکلاء اور متبادل نظامِ انصاف (Bar & ADR Reforms) اور
​سرکاری سطح پر قانونی امداد کا نیٹ ورک (State-Funded Legal Aid): آئین کے آرٹیکل 10-A (منصفانہ ٹرائل کا حق) کے تحت صوبائی سطح پر ایک خود مختار "لیگل ایڈ اتھارٹی" قائم کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی، سینیئر وکلاء کے لیے سال میں کم از کم دو فوجداری کیسز مفت (Pro Bono) لڑنا لائسنس کی تجدید کے لیے لازمی قرار دیا جائے تاکہ غریب سائلین بھی بہترین قانونی نمائندگی سے محروم نہ رہیں۔
​متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کا نفاذ: متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) ایکٹ کے تحت کمرشل، فیملی اور معمولی نوعیت کے دیوانی مقدمات کو باقاعدہ ٹرائل سے پہلے لازمی طور پر ثالثی (Mediation) کے عمل سے گزارا جائے تاکہ ماتحت عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہو۔
​4. بنچ فکسنگ کا خاتمہ اور پروفیشنل کورٹ مینجمنٹ
​آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور خودکار کیس اسائنمنٹ: اعلیٰ اور ماتحت عدلیہ میں من پسند ججوں کے سامنے کیسز لگوانے (Bench Fixing) کے تاثر کو ختم کرنے کے لیے ایک محفوظ، کمپیوٹرائزڈ الگورتھم متعارف کرایا جائے۔ کسی بھی انسانی دخل اندازی کے بغیر، سسٹم خودکار طریقے سے ججوں کو کیسز الاٹ کرے۔
​کورٹ مینجمنٹ کیڈر (Professional Court Managers) کا قیام: ججوں کا کام صرف اور صرف انصاف کی فراہمی ہونا چاہیے۔ عدالتوں کے انتظامی امور، بجٹ، اور عملے کی نگرانی کے لیے پبلک ایڈمنسٹریشن یا آپریشنز مینجمنٹ کے ماہرین پر مشتمل ایک الگ "کورٹ مینیجرز" کا کیڈر بنایا جائے تاکہ ججوں کا قیمتی وقت کلرکوں کے مینیجریل کاموں میں ضائع نہ ہو۔
​حکومتِ وقت کے لیے لمحہ فکریہ اور آئینی بحران
​صوبائی انتظامیہ کا یہ عذر کہ 55 کروڑ روپے کا پی سی ون (PC-I) تیار ہے اور ترامیم کا بل اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، محض ایک روایتی ٹال مٹول ہے (Dawn, 2026)۔ جب تک فنڈز کا عملی اجرا اور قوانین کا نفاذ نہیں ہوتا، یہ کاغذی گھوڑے انصاف کی فراہمی میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے۔
​پشاور ہائی کورٹ نے 1 جولائی 2026 کو توہینِ عدالت کی درخواست پر اگلی سماعت مقرر کر رکھی ہے ۔ یہ مقررہ ایک ماہ کا وقت خیبر پختونخوا کے ایگزیکٹو کے لیے ایک بڑا الٹی میٹم ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 190 تمام انتظامی اداروں کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے احکامات کی معاونت کا پابند بناتا ہے۔ اگر اب بھی بیوروکریسی اور سیاسی قیادت نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا، تو یہ نہ صرف توہینِ عدالت ہوگی بلکہ صوبے میں ایک بڑا آئینی بحران جنم لے گا، جس کا خمیازہ براہِ راست عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ اب وقت محض اعلانات کا نہیں، بلکہ
عملی اور انقلابی اصلاحات کے نفاذ کا ہے۔
Copied

24/05/2026

ان میں سے کون زیادہ ایماندار ہے؟
🛑پولیس
🛑وکیل
🛑پٹواری

پشاور ہائی کورٹ پشاور کا اہم فیصلہ — شہریت اور بلاک CNIC کیسزپشاور ہائی کورٹ پشاور کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس ڈاکٹر خورش...
24/05/2026

پشاور ہائی کورٹ پشاور کا اہم فیصلہ — شہریت اور بلاک CNIC کیسز

پشاور ہائی کورٹ پشاور کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل بینچ نے قرار دیا کہ صرف افغان پاسپورٹ 🇦🇫 رکھنے کی بنیاد پر کسی شخص کی پاکستانی شہریت 🇵🇰 خودکار طور پر ختم نہیں کی جاسکتی۔

عدالت نے واضح کیا کہ NADRA اور متعلقہ ادارے ہر کیس میں مکمل تحقیق، ثبوت اور متاثرہ شخص کو سُننے کا موقع فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ عدالت کے مطابق دوہری شہریت کا الزام ثابت کیے بغیر کسی شہری کو پاکستانی شہریت سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ خواتین، نابالغ افراد اور دیگر خصوصی حالات میں قانونی استثنائی دفعات کو بھی لازماً مدِنظر رکھا جائے۔

ایک کیس میں عدالت نے حکومتی فیصلہ کالعدم قرار دے کر دوبارہ سماعت کا حکم دیا جبکہ دیگر درخواست گزاروں کو ویریفیکیشن بورڈ کے سامنے پیش ہو کر اپنے ثبوت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اگر آپ کو بھی CNIC بلاک، شہریت، نادرا ویریفیکیشن یا اس نوعیت کے دیگر قانونی مسائل کا سامنا ہے تو قانونی معاونت حاصل کرنا آپ کا آئینی حق ہے۔

ذوالجہ میں ان اعمال کو زیادہ سے زیادہ  انجام دیں ۔
22/05/2026

ذوالجہ میں ان اعمال کو زیادہ سے زیادہ انجام دیں ۔

21/05/2026

Address

Abbottabad
22020

Telephone

+923135932030

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MM K law associates & legal Aid Centre posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to MM K law associates & legal Aid Centre:

Share