02/08/2025
*برسوں پہلے کسی نے*
*طویل عمر کی دُعا دی تھی*
*اور ساتھ یہ بھی کہا تھا*
*کہ تُم ہنستے اچھے لگتے ہو*
*شاید اسی لیئے ہی*
*زندہ بھی ہوں اور خوش بھی*
*کہ جینے کا تو شوق نہیں*
*مگر یہ حوصلہ بھی نہیں*
*کہ اُس کی بات ٹال سکوں*