تاریخِ اسلام Tareekh e Islam

تاریخِ اسلام Tareekh e Islam History about islam...!

Watch Now only on -E-Muslim.youtube
14/04/2023

Watch Now only on -E-Muslim.youtube

Episode 2 Of Great Muslim Warrior HAZRAT KHALID BIN WALEED has been posted. If you like it, please subscribe for next partHashtags ...

11/02/2023
https://youtu.be/pstMhmOv2zY
27/05/2021

https://youtu.be/pstMhmOv2zY

ka Iqrar Karny Prr Feroon Ka Apni Khadima pr zulm ka Waqqia| Real Islamic Story 2021Feroon ka WaqqiaKhadima ka sabar krna...

Video
27/05/2021

Video

Umat k Teen Logo ka Ajeeb waqia | Allah ki unky lia Ghaib sy Madad | Sa...

ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےعلامہ اقبال کا یہ شعر مسلم جنرل سلطان صلاح...
14/06/2020

ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے
پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھے

علامہ اقبال کا یہ شعر مسلم جنرل سلطان صلاح الدین ایوبی کی شان میں لکھا گیا ہے جنہوں نے بیت المقدس کو غیر مسلموں کے قبضے سے آزاد کرایا تھا.

شاعر مشرق کی مزید شاعری اور تاریخی تصویروں کیلئے پیج کو لائک کیجئے

سلطان صلاح الدین ایوبی کے تاریخی الفاظ..........جہاں روٹی مزدور کی تنخواہ سے مہنگی ہو جائے۔ وہاں دو چیزیں سستی ہو جاتی ہ...
07/06/2020

سلطان صلاح الدین ایوبی کے تاریخی الفاظ..........

جہاں روٹی مزدور کی تنخواہ سے مہنگی ہو جائے۔
وہاں دو چیزیں سستی ہو جاتی ہیں۔ عورت کی عزت اور مرد کی غیرت....

01/06/2020

امام مہدی کے دوست ودشمن:

راک فیلرز ۔۔۔ بےتاج بادشاہ (حصّہ سوّم)

راک فیلر کا خاندان اور ان کے کارہائے نمایاں:

راک فیلر خاندان کا اصل پہلو وہ ہے جو ان کی مذہبی وابستگی سے تعلق رکھتا ہے، اس میں بڑا کردار اس خاندان کی ماں، جان ڈی راک فیلر جونئیر (john D rocke feller junior) کی بیویAbby Aldrich Rockefeller کا ہے، بچپن سے ہی بچوں کی تربیت خالص مذہبی بنیادوں پر کی گئی، ان کو یہودی ہونے کی حیثیت سے دنیا کی تمام اقوام سے اعلیٰ ہونے کا تصور ذہنوں میں بٹھایا گیا، بچپن سے ہی گھر میں صبح دعائیہ تقریب ہوتی ہے، ہر بچے کا اس میں شریک ہونا ضروری ہے، اگر کوئی بچہ شریک نہ ہو یا تاخیر کر دے تو اس پر جرمانہ ہوتا ہے جو اسے اپنے جیب خرچ سے بھرنا پڑتا ہے، ان بچوں کو اسرائیل کی حفاظت اور وسیع تراسرائیل کے قیام کی اہمیت بچپن سے ہی سمجھا دی جاتی ہے۔

چنانچہ راک فیلر فیملی امریکہ میں ایسی بہت سی تنظیموں کو فنڈ فراہم کرتی ہے جو ان کے مسیح موعود کانے دجال ( Anti - Christ ) کی آمد کے حوالے سے عوام میں کام کر رہی ہیں، شیطان کی پوجا کرنے والی جماعت (Sanatist) کے منصوبہ سازوں میں شامل ہیں، راک فیلر پر لکھنے والے انگریز مصنفین نے صیہونی خفیہ تنظیم، نورانیین (illuminati) کے ساتھ ان کے گہرے تعلقات کا بھی ذکر کیا ہے، درحقیقت یہ خاندان ان پانچ کبالہ خاندانوں سے تعلق رکھتا ہے (جو ان کے خیال کے مطابق) دجال سے براہ راست رابطے میں رہتے ہونگے اور اس کے احکامات کے مطابق دنیا کی سیاسی بساط سے کھیلتے ہو نگے، چنانچہ نورانیین، کبالہ، فریمیسن کی شاخیں اور دیگر خفیہ صیہونی تنظیمیں، ان سب کی سر پرستی راک فیلر وغیرہ کرتے ہیں۔

جان ڈی راک فیلر: راک فیلرز خاندان کا جد امجد جان ڈی راک فیلر ,John D Rockefeller

1839ء میں نیویارک میں پیدا ہوا، سولہ سال کی عمر میں منشی لگ گیا،
1862ء میں اس نے تیل کا کاروبار شروع کیا اور اسٹینڈرڈ آئل (Standard Oil Company) بنائی، دیکھتے ہی دیکھتے ایک منشی، امریکہ بھر کی نوّے فیصد آئل ریفائنری کا مالک بن بیٹھا۔

ظاہر نظر سے دیکھیں تو اس کو جان راک فیلر کی محنت لگن، ذہانت اور قسمت کہا جاسکتا ہے، لیکن اگر حقیقت کی نظر سے دیکھیں تو معاملہ کچھ اور ہی نظر آتا ہے، اس ترقی میں دھونس، دھاندلی، بے ایمانی، رشوت، ناجائز کمیشن، حکومت میں یہودی اثر ورسوخ اور سب سے بڑھ کر یہودی سازشی عناصر (جو کہ یہ خود سب سے بڑے ہیں) کا بہت بڑا کردار ہے، ان میں سے بدعنوانی اور ناجائز کمیشن کے معاملات عوام کے سامنے بھی آئے، لیکن راک فیلر آئے دن ترقی ہی کرتا چلا گیا۔

جان ڈی راک فیلر مستقبل میں جن دجالی منصوبوں کو پروان چڑھانا چاہتا تھا، اس کے لئے اس نے چار خیراتی ( در حقیقت ڈکیتی کے) ادارے قائم کئے، جن میں سے راک فیلر فاؤنڈیشن اور راک فیلر انسٹی ٹیوٹ برائے میڈیکل ریسرچ ( موجودہ راک فیلر یونیورسٹی) مشہور ہیں۔

راک فیلر فاؤنڈیشن صرف ایسے مقاصد کے لئے فنڈ فراہم کرتی ہے جو دجالی منصوبوں سے متعلق ہوتے ہیں، اسی طرح راک فیلر یو نیورسٹی میں انہی شعبوں میں تحقیق کی جاتی ہے جو آئندہ چل کر دجال کے کام آسکے، اس طرح خیراتی اداروں کی آڑ میں اس خاندان نے دنیا بھر میں اپنے پنجوں کو مضبوط کیا، نیز اپنی بے شمار کالی دولت کوٹیکس سے مستثنیٰ بھی کرلیا، ان کی دولت کا اندازہ آپ اس سے کرسکتے ہیں کہ تمام دنیا کا سونا اس وقت آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے قبضے میں ہے اور جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ یہ دونوں ادارے انہی کے ہیں۔چنانچہ 1981 میں امریکی صدر رونالڈ ریگن نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ حکومتِ امریکہ کے خزانے میں کتنا سونا پڑا ہے تو اسے یہ جان کر بڑی حیرت ہوئی اور آپ کو بھی ہونی چاہئے کہ امریکی خزانہ سونے سےخالی تھا، امریکہ کا اگر یہ حال ہے تو دیگر ممالک کا آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں۔

جان ڈی راک فیلر 23 مئی 1937ء کو فلوریڈا (امریکہ) میں موت کے منہ میں چلا گیا۔

جان ڈی راک فیلر جونئیر :

(John D Rockefeller junior-1960-1874)

یہ جان ڈی راک فیلر کا بیٹا تھا، اس نے نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے لئے زمین چندے میں دی، اس کے پانچ بیٹے تھے:

1۔ جان ڈی راک فیلر سوم (1906-1978)

2۔ نیلسن راک فیلر (1908-1979)

3۔ لارنس یس راک فیلر (1910)

4۔ وِن تھراپ راک فیلر (1912-1973)

5۔ ڈیوڈ راک فیلر (1915)

ان پانچوں نے الگ الگ شعبوں میں یہودیت کی خدمت کی، جان ڈی راک فیلر سوم نے آرٹ کا میدان سنبھالا، اس آرٹ نے مسلمان معاشرے میں جو تباہی مچائی ہے اس کے اثرات آپ زندگی کے ہر شعبے میں دیکھ سکتے ہیں۔کس طرح مسلم معاشرہ غیر اسلامی رنگ میں رنگتا جارہا ہے، آرٹس کی دنیا کے بارے میں مزید معلومات درکار ہوں تو نیشنل کالج آف آرٹس سے مل سکتی ہیں، یا وہ این جی اوز جو آرٹ کے شعبوں میں کام کر رہی ہیں، بظاہر معصوم سے نام والا یہ میدان در حقیقت کسی بھی معاشرے کی چولیں ہلا دینے کے لئے یہودی ماہرین نے اختیار کیا ہے۔

نیلسن راک فیلر ۔۔۔ اقوامِ متحدہ کا بانی:

نیلسن راک فیلر نے سیاست کا میدان چنا، اس میدان میں ایسے کارنامے انجام دے گیا کہ امریکی اور بین الاقوامی سیاست کو یہودیوں کی لونڈی بنا گیا، یہ کام اس نے 1921ء میں سی ایف آر (C.F.R)قائم کر کے کیا، اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے دفاتر کے لئے نیو یارک میں جگہ دی۔

نیلسن راک فیلر نے امریکی حکومت میں مختلف شعبوں میں سیکریٹری اور مشیر کے طور پر کام کیا۔جہاں بیٹھ کر حکومتوں سے کھیلنا آسان ہوتا ہے۔اس نے اپنے لئے اہم شعبوں کو چنا، آرٹ کی سر پرستی کی، اسقاطِ حمل (Abortion) کابِل لانے والوں میں اس کا دماغ شامل تھا، ڈاکٹر ہنری کیسنجر نے جس میٹنگ میں دنیا کی آبادی کم کرنے کے منصوبے بنائے، نیلسن ایسے تمام منصوبوں کا روح رواں تھا۔

1966ء میں ریپبلکن پارٹی کے ٹکٹ پر ریاست نیو یارک کا گورنر بنا، 1974ء میں اس کو امریکہ کے نائب صدر کے طور پر منتخب کر لیا گیا۔1979ء میں نیو یارک میں اس کا انتقال ہوا-

لارنس راک فیلر:

لارنس ایس راک فیلر 1910ء میں نیو یارک میں پیدا ہوا، اس نے قدرتی وسائل اور میڈیکل ریسرچ کے شعبے کو اختیار کیا، ایسے نئے تجارتی میدانوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جن کی بنیاد جدید ٹیکنا لوجی پر تھی، اس نے "جزیرہ سینٹ جان" میں امریکی حکومت کو پانچ ہزار ایکڑ زمین چندے میں دی۔

جب ہم نیشنل پارک، نیشنل میوزیم، آرٹ اینڈ کلچرل سینٹر جیسے نام سنتے ہیں تو اکثریت کوان کے نام سے ہی اکتاہٹ ہوتی ہے، لوگوں کی اکثریت ان شعبوں میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی، فریمیسن اور دیگر صیہونی تنظیمیں، ایسی ہی جگہوں سے دجالی حکومت کے خاکوں میں حقیقت کا رنگ بھر رہی ہوتی ہیں، یہ جگہیں وہ نیوکلئیر رئیکٹر ہیں جہاں ثقافتی یلغار کے ایٹم بم تیار کئے جاتے ہیں، اور پھر ساری دنیا کے ذہنوں اور جسموں پر دجال کے کارندے حکومت کرتے ہیں، مثلاً میوزیم کو لے لیجئے، ثقافتی ورثے کے نام پر کہیں فراعنہ کی تہذیب کا تقدس ذہنوں میں بٹھایا جارہا ہوگا تو کہیں ہڑپا اور موہنجوداڑو کی جابلی تہذیب سے لوگوں کو متاثر کیا جارہا ہوگا۔

وِن تھراپ راک فیلر: یہ 1967تا 1971ء ریاست ارکنساس کا گورنر رہا، لیکن بعض خودسر عادتوں کی بدولت یا پھر یوں کہہ لیجئے خفیہ منصوبوں میں کچھ رکاوٹ پیدا کرتا، وِن تھراپ اس خاندان کو ایک آنکھ نہیں بھایا۔

ماخوذ از: امام مہدی کے دوست و دشمن

==================> جاری ہے ۔۔۔

31/05/2020

امام مہدی کے دوست ودشمن:

راک فیلرز ۔۔۔ بےتاج بادشاہ (حصّہ دَوم):

دنیا کی بڑی اسلحہ ساز فیکٹری کے مالک راک فیلرز ہیں، جنگ عظیم اوّل (1918- 1914) اور جنگ عظیم دّوم (1939- 1945) دونوں میں اتحادیوں کو تیل اور اسلحہ اسی خاندان کی کمپنیوں نے فراہم کیا، ویت نام کی جنگ میں امریکہ کو لڑوانے والا یہی خاندان تھا، حالانکہ اس کے بعد ہونے والی رپورٹوں کے نتائج تقریباً ایسے ہی تھے جیسے عراق کی جنگ کے بعد خفیہ رپورٹوں کے نتائج تھے، دنیا پریشان ہے کہ آخر وہ کونسی اتنی بڑی قوت ہے جس نے سی آئی اے کو غلط اطلاعات فراہم کردیں اور پھر تمام دنیا کو ان جھوٹی معلومات کی بنیاد پر عراق پر حملہ کے لئے تیار بھی کرلیا، حالانکہ ان کا اپنے بارے میں دعویٰ ہے کہ اپنے سیٹلائٹ کے ذریعے سب کچھ دیکھ لیا کرتے ہیں، لوگ بش کو لعن طعن کرتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ امریکی صدر دنیا کا کمزور ترین صدر ہوتا ہے جس کے اپنے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہوتا، بلکہ اس کا تو اپنے بیڈروم پر بھی مکمل حق نہیں ہوتا، کیونکہ وہ بھی یہودیوں کی آنکھوں (خفیہ کیمروں) کے سامنے ہوتا ہے۔

وسط ایشیائی ریاستوں کے غیور مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کے لئے، روس کے اندر کمیونسٹ انقلاب کے لئے رقم فراہم کرنے والا ڈیوڈ راک فیلر تھا۔ (اس کا ذکر بعد میں آئے گا)۔

ماڈرن دنیا کی پسند وناپسند، رہن سہن، اٹھنا بیٹھنا، کھانے پینے کا انداز، غرض، مکمل طرز زندگی (life style ) کیسی ہوگی اس کا فیصلہ، اس خاندان کی لڑکیاں کرتی ہیں، جی ہاں! ہالی وڈ کو چلانے والی اسی خاندان کی لڑکیاں۔ (مذکورہ تمام حوالے فرڈیننڈ لنڈ برگ کی کتاب The Rockfeller'' syndrome" سے لئے گئے ہیں)۔

اس خاندان کی خاصیت یہ ہے کہ یہ پردے کے پیچھے رہ کر امریکہ کو استعمال کرتا ہے، یہاں تک کہ اس خاندان کی لڑکیوں کی بھی ایسی تربیت کی جاتی ہے کہ وہ کہتی ہیں: " ہم عام زندگی گزارتی ہیں تاکہ میڈیا کی نظروں سے بچ سکیں اور اگر ہمیں کالج وغیرہ سے واپسی میں کبھی اپنی کار کا انتظار کرنا پڑ جائے تو کسی آڑ میں کھڑی ہوتی ہیں۔

دجال کی میڈیا کا کمال دیکھئے کہ ٹیکس چوروں کو انسان دوست اور فلاحی کام کرنے والا بتایا جاتا ہے، پاکستان کی درآمد شدہ (Philanthropist) وزیر اعظم شوکت عزیز پچیس سال اس خاندان کے (imported) ملازم رہے ہیں۔

افغانستان پر امریکی حملہ آور قبضہ اس تمام آپریشن کی نگرانی اسی خاندان کا ایک بائس سالہ نوجوان کر رہا تھا، طالبان کی پسپائی کے بعد سب سے پہلے کابل آنے والا یہی نوجوان تھا جو اپنی ذاتی طیارے سے وہاں پہنچا- اس نے مشرقی زبانوں میں ماسٹر کیا ہوا ہے، لیکن ایک بات پھر یاد رہے کہ راک فیلر کا یہ عروج ان کی ذاتی محنت سے زیادہ ان کو الومیناتی، شیطانی فرقے اور فریمیسن کی تمام شاخوں کے تعاون کی وجہ سے حاصل ہوا ہے، سرکردہ یہودیوں کا مشن ایک ہے جبکہ میدان کار آپس میں تقسیم ہیں، چنانچہ ہر میدان والے اپنی جگہ کام کرتے ہوئے دوسروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں، مثال کے طور پر اگر کوئی فلم ایکٹر، مصنف، شاعر یا ادیب دجالی مشن کے لئے مخلص ہے تو دنیا بھر کی یہودی خفیہ شاخیں ان کے ساتھ تعاون کریں گی اور دیکھتے ہی دیکھتے کوئی مصنف یا ادیب دنیا کی افق پر چھا جائے گا۔

اس بات کو آپ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جس طرح خیر کی قوتوں کے ساتھ خیر کی قوتیں ہوتی ہیں، یعنی اللہ تعالٰی جب کسی بندے کو پسند فرماتے ہیں تو اس کا اعلان فرشتوں میں کرتے ہیں، تمام فرشتے اس شخص سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر یہ فرشتے دنیا میں اعلان کرتے ہیں کہ آسمان والے فلاں شخص سے محبت کرتے ہیں دنیا والو تم بھی اس سے محبت کرو، اس طرح اہل حق کے دلوں میں اس بندے کی محبت پیدا ہوجاتی ہے، تمام رحمانی قوتیں اس کی حمایت و مدد کے لئے یکجا ہوجاتی ہیں، اسی طرح ابلیس جس سے راضی ہو جاتا ہے تو اس سے محبت کا اعلان اپنے خاص چیلوں میں کرتا ہے، وہ اس اعلان کو آگے بڑھاتے ہیں اور پھر تمام شیاطین جن و انس آدمی کی حمایت میں ہوجاتے ہیں، یہ باتیں ہمیں شاید بہت عجیب لگ رہی ہوں، کیونکہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ پے در پے یلغاروں کے باوجود ہم یہ بات ہی ماننے کے لئے تیار نہیں کہ دنیا میں ہمارا کوئی دشمن بھی ہے، ہمارا عقیدہ ایسا ہوگیا ہے کہ یہود وہنود اور عیسائی سب ہمارے بھائی، ہمیں احساس نہیں کہ ہمارا مقابلہ ایسے دشمن سے ہے جو دن رات اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ ہمیں ہمارے دین سے پھیر دے۔

کثیر القومی کمپنیوں (multi national) کے بارے میں ایک اور بات دیکھنے میں آتی ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے مشہور یہودی خاندانوں کی کمپنیاں ایک دوسرے میں ضم ہوتی جارہی ہیں، تجارتی دنیا میں اگرچہ یہ ایک (merge) کاروباری مسئلہ ہے، لیکن جو چیز قابل توجہ ہے وہ یہ کہ یہ لوگ بے تاج بادشاہ ہونے کے باوجود آپس کے تعلقات میں ضابطے کے پابند ہیں، نیز دجال کے لئے راہ ہموار کرنے کی مشن میں تسلسل کے ساتھ ہر ایک لگا ہوا ہے۔

مثلاً روتھ شیلڈ خاندان کو آپ لے لیجئے:
یہ لوگ یورپ، آسٹریلیا پر قبضہ کئے ہوئے ہیں، جے پی مارگن بھی عالمی بینکاروں میں کسی سے کم نہیں لیکن مشن کے حوالے سے ان سب میں اتفاق اور یکسوئی پائی جاتی ہے، حالانکہ پیسہ کمانے کی یہودی فطرت اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ یہ آپس میں دست و گریباں ہونے چاہیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایک کمپنی دوسری کمپنی کو خریدنا چاہتی ہے اور وہ کمپنی بیچنے کی خواہش نہیں رکھتی پھر بھی کوئی تیسری قوت درمیان میں آتی ہے اور بڑے بڑے معاملات اتفاق رائے سے حل ہوجاتے ہیں، شاید اسی بات سے بعض محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان سب کے پیچھے ان کا گرینڈ ماسٹر (دجال) موجود ہے جو تمام صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے اور ان کو اپنے منصوبے کے مطابق چلا رہا ہے۔

==================> جاری ہے ۔۔۔

ماخوذ: ''امام مہدی کے دوست و دشمن''

تألیف: مولانا عاصم عمر شہید رحمہ اللہ

31/05/2020

راک فیلرز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے تاج بادشاہ
(حصّہ اول)

راک فیلرز (Rocke Fellers) خاندان ظاہراََ بیپٹسٹ جبکہ اصلاً یہودی اور مسلکاََ شیطان کے پجاری( Satanists) ہیں۔یہ خاندان ان پانچ کبالہ خاندانوں میں سے ہے جو یہود کے مطابق دجال کی آمد کے وقت اسکے مشیرِ خاص ہونگے۔راک فیلرز ہماری اس معلومات سے بھری دنیا میں ہونے کے باوجود، انتہائی پُر اسرار،اور پردے کے پیچھے رہ کر اس دنیا کی سیاسی، اقتصادی، عسکری ، فلاحى اور مذہبی دنیا کی ڈوریں ہلا رہاہے۔ان کی زندگی کا ایک حصہ وہ ہے جس کو لوگ تھوڑا بہت جانتے ہیں، یہ تجارت ، بینکاری ، فلاحی ، ثقافتی تعلیم وصحت اور سائنسی تحقیق سے متعلق ہے،جبکہ ان سب کاموں کی آڑ میں یہودی روحانی (شیطانی)منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ،دنیا سے اسلام کا خاتمہ کرکے شیطان کے نئے مذہب
"نیو ورلڈ آرڈر" کو دنیا میں نافذ کرنا اور "مسیح موعود"( کانے دجال) کی آمد کے لئے راہ ہموار کرنا ہے۔نیز باطنی علوم (mysticism) سے یہود مخالف قوتوں کو تباہ کرنا ، ہالی وُڈ ، عالمی میڈیا اور جادو کے ذریعے دنیا کو اپنی سوچ میں رنگنا۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے راستے سے دنیا کی دولت کو اپنے قبضے میں کرنا۔
مختصر الفاظ میں یہ کہاجاسکتا ہے کہ یہ خاندان کٹّر صیہونی اور دجالی مشن کے لئے خود کو وقف کئے ہوئے ہے۔دنیا کے سیاسی اسٹیج پر جو ڈرامے آپ مختلف ملکوں میں ہوتے دیکھ رہے ہیں۔اسکے پیچھے امریکی حکومت کا ہاتھ دکھائی دیتا۔لیکن راک فیلرز وہ نام ہے جنکے اشارہ ابرو پر امریکہ کی حکومتیں بنتی اور بگڑتی ہیں۔کوئی بھی صدر اسوقت تک عزت سے وائٹ ہاؤس میں رہ سکتا ہے جب تک انکے لکھے ڈرامے میں،انکی ہدایت کے مطابق اداکاری کرتا رہے۔لیکن اگر کسی نے ذراپنی مرضی سے ڈرامے میں تبدیلی کرنی چاہی؛تو پھر ایسے لوگوں کے انجام سے امریکی تاریخ کے اوراق، سرخ و سیاہ نظر آتے ہیں۔اسکی بڑی واضح مثال سابق امریکی صدر ابراہم لنکن(قتل ١٥ اپریل ١٨٦٥ء) اور صدر جان ایف کینیڈی
(قتل ٢٢نومبر١٩٦٣ء) کا قتل ہے۔جان ایف کینیڈی کے بھائی اور اسکے بیٹے کو بھی قتل کر دیا گیا۔اسکا کچھ احساس سابق صدر بل کلنٹن کو بھی ہے کہ کس طرح وائٹ ہاؤس کے مالکوں نے کلنٹن کی رنگ رلیوں کو دنیا کے سامنے کھول کر رکھد یا تھا۔
اس خاندان کو آپ اس دنیا کا بے تاج بادشاہ کہہ سکتے ہیں۔آپ کو شاید یہ مبالغہ لگے کیونکہ انکے بارے میں لوگوں کو زیادہ معلومات نہیں ہیں۔لیکن جو عالمی ادارے اس وقت دنیا کو کنٹرول کئے ہوئے ہیں،یہ ان سب اداروں کے مالک ہیں۔جی ہاں ! یہ لفظ بندے نے درست استعمال کیا ہے۔سربراہ ؛ چیئر مین؛ ڈائریکٹر ، یا‌ اس جیسے اور الفاظ انکی بے تاج بادشاہت کا مفہوم نہیں اداکر سکتے۔یہ خاندان ایی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے مالکوں میں سے ہیں،اقوامِ متحدہ انکے گھر میں بنائی گئی۔امریکہ اور ساری دنیا کو کنٹرول کرنے والی
" کاؤنسل آن فارن ریلیشن (C.F.R.)" کے بانی یہ ہیں۔امریکی خفیہ ادارے، سی آئی اے ، میڈیا بشمول ہالی ووڈ سے لیکر تمام امریکی اداروں پر سی ایف آر (C.F.R) یعنی کاؤنسل برائے خارجہ تعلقات کا کنٹرول ہوتا ہے ، نام کے اعتبار سے یہ اگرچہ خارجہ تعلقات سے متعلق ہے لیکن یہی وہ ادارہ ہے جو تمام امریکہ کو چلاتا ہے۔
امریکی صدر سے لیکر خفیہ اداروں تک میں اسکے ممبران جاتے ہیں۔صدر کسی بھی پارٹی کا ہو سی ایف آر کا ممبر ہونا ضروری ہے۔
اسی طرح جدید ٹیکنالوجی کے مالک راک فیلرز ہیں۔جانوروں پر تحقیقات ، جراثیمی اور وبائی امراض(خصوصاً ایڈز) پھیلانے کے طریقے ، خاندانی منصوبہ بندی ، نیشنل جغرافک ‌، عالمی ادارہ صحت (W. H .O) اور خلائی تحقیقاتی ادارے"ناسا" وغیرہ میں راک فیلرز انتہائی مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔

ان اداروں کو انکی جانب سے بڑی رقوم فراہم کی جاتی ہیں۔خلائی، عسکری اور جینیاتی ( Genetic) میدانوں میں جدید ٹیکنالوجی انہی کی تجربہ گاہوں سے نکل کر ،انہی کی فیکٹریوں میں تیار ہو کر امریکی حکومت کو بیچی جاتی ہے۔
یہاں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جب ہم کسی ٹیکنالوجی ، مثلاً ڈرون طیارے ، یا بینک وغیرہ کے بارے میں یہ سنتے ہیں کہ یہ امریکی ہیں تو اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ حکومتِ امریکہ کی ملکیت ہیں۔بلکہ یہ ان یہودیوں کی ملکیت ہیں جو وہاں کے چپے چپے کے مالک ہیں۔حتیٰ کہ راک فیلر پر لکھنے والوں نے یہاں تک لکھا ہے کہ پورا جنوبی امریکہ انکی ملکیت ہے۔جبکہ امریکی حکومت وعوام انکے قرضوں میں گردن تک دھنسی ہوئی ہے۔اسی طرح اگر کسی بینک کا نام نیشنل بینک، یا فیڈرل ریزرو بینک دیکھیں تو ضروری نہیں کہ وہ اس ملک کا ہی ہو،یا وفاق کا ہو۔یہودی اسی طرح ناموں کے ذریعے دھوکہ دیتے رہے ہیں۔حتیٰ کہ اپنے خفیہ دفاتر کے نام مسجدوں کے نام تک پے رکھ لیتے ہیں۔

سلسلہ جاری ہے ۔۔۔۔۔

نوٹ : ان چشم کشا حقائق کو خوب شئر کیجئے۔مسلمانوں میں ہر خاص و عام کو ان حقائق اور رموز واسرار کا جاننا بے حد ضروری ہے۔

ماخوذ : امام مہدی کے دوست و دشمن

ناشر : میڈیا اسکین گروپ

15/05/2020

... توبۃ النصوح ...

نصوح ایک عورت نما آدمی تھا، باریک آواز، بغیر داڑھی اور نازک اندام مرد.
وہ اپنے ظاہری شکل وصورت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زنانہ حمام میں عورتوں کا مساج کرتا اور میل اتارتا تھا، کوئی بھی اسکی حقیقت نہیں جانتا سبھی اس کو عورت سمجھتے تھے
یہ طریقہ اسکے لئے ذریعہ معاش بھی تھا اور عورتوں کے جسم سے لذت بھی لیتا رہا
کئی بار وجدان کے ملامت کرنے پر اس نے اس کام سے توبہ بھی کی لیکن ہمیشہ توبہ توڑتا رہا.

ایک دن بادشاہ کی بیٹی حمام گئی حمام اور مساج کرنے کے بعد پتہ چلا کہ اسکا گرانبھا گوھر (موتی یا ہیرا) کھوگیا ہے
بادشاہ کی بیٹی نے حکم دیا کہ سب کی تلاشی لی جائے۔
سب کی تلاشی لی گئی ہیرا نہیں ملا
نصوح رسوائی کے ڈر کی وجہ سے ایک جگہ چھپ گیا
جب اس نے دیکھا کہ شہزادی کی کنیزیں اسے ڈھونڈ رہی ہیں
تو اس نے سچے دل سے خدا کو پکارا اور خدا کی درگاہ میں دل سے توبہ کی اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی بھی یہ کام نہیں کرے گا میری لاج رکھ لے ۔

اچانک باہر سے آواز آئی کہ نصوح کو چھوڑ دو ہیرا مل گیا ہے،

نصوح نم آنکھوں سے شہزادی سے رخصتی لے کر گھر آگیا
نصوح نے قدرت کا کرشمہ دیکھ لیا تھا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کام سے توبہ کر لی ۔

کئی دنوں سے حمام نہ جانے پر ایک دن شہزادی نے بلاوا بھیجا کہ حمام آکر میرا مساج کرو لیکن نصوح نے بہانہ بنایا کہ میرے ہاتھ میں درد ہے میں مساج نہیں کرسکتا
اس کے بعد کبھی حمام نہیں گیا۔

نصوح نے دیکھا کہ اس شہر میں رہنا اس کے لئے مناسب نہیں ہے سبھی عورتیں اس کو چاہتی ہے اور اس کے ہاتھ سے مساج کروانا پسند کرتی ہے۔

جتنا بھی غلط طریقے سے مال کمایا تھا سب غریبوں میں بانٹ دیا اور شہر سے نکل کر کئی میل دور ایک
پہاڑی پر ڈیرہ ڈال کر عبادت خدا میں مشغول ہوگیا۔
ایک دن اس نظر ایک بھینس پر پڑی جو اس کے قریب گھاس
چر رہی تھی
اس نے سوچا کہ یہ کسی چرواہے سے بھاگ کر یہاں آگئی ہے تب تک میں اس کی دیکھ بھال کر لیتا ہوں جب تک اس کا مالک نہ آئے،
لہذا اس کی دیکھ بھال کرنے لگا کچھ دن بعد بھینس نے بچہ دیا اور نصوح اس کا دودھ استعمال کرنے لگا۔

کچھ دن بعد ایک تجارتی قافلہ کے افراد راستہ بھول کر ادھر آگئے جو سارے پیاس کی شدت سے نڈھال تھے
انہوں نے نصوح سے پانی مانگا
نصوح نے سب کو دودھ پلایا اور سب کو سیراب کردیا،
قافلے والوں نے نصوح سے شہر جانے کا راستہ پوچھا
نصوح نے انکو آسان اور نزدیکی راستہ دیکھایا
جانے سے پہلے تاجروں نے نصوح کو بہت سارا مال دیا۔

نصوح نے ان پیسوں سے وہاں کنواں کھودوایا آہستہ آہستہ وہاں لوگ بسنے لگے اور عمارتیں بننے لگے
وہاں کے لوگ نصوح کو بڑی عزت اور احترام سے دیکھتے تھے۔

رفته رفته نصوح کا شہرہ پادشاه تک پہنچا وہی بادشاہ جو اس شہزادی کے باپ تھے،
بادشاہ کے دل میں نصوح سے ملنے کا بڑا اشتیاق پیدا ہوگیا
انہوں نے نصوح کو پیغام بھیجا کہ بادشاہ اس سے ملنا چاہتے ہیں مہربانی کرکے دربار تشریف لے آئیں ۔

جب نصوح کو بادشاہ کا پیغام ملا انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا اور معذرت چاہی کہ مجھے بہت سارے کام ہیں میں نہیں آسکتا،
بادشاہ کو بہت تعجب ہوا انہوں نے کہا کہ اگر نصوح نہیں آسکتے ہم خود اس کے پاس جائیں گے۔

جب بادشاہ نصوح کے علاقے میں داخل ہوئے خدا کی طرف سے ملک الموت کو حکم ہوا کہ بادشاہ کی روح قبض کرلے۔

اس زمانے کی رسم و رواج کے مطابق اور بادشاہ کو نصوح سے ملنے کی وجہ سے، لوگوں نے نصوح کو تخت پر بیٹھایا۔

نصوح نے اپنے ملک میں عدل اور انصاف کا نظام قائم کیا اور اسی شہزادی سے شادی کرلی۔

ایک دن نصوح تخت پر بیٹھ کر لوگوں کی داد رسی کررہے تھے
ایک شخص وارد ہوا اور کہنے لگے کہ کچھ سال پہلے میری بھینس گم ہوگئی تھی
آپ کی عدالت سے اپنی بھینس کا طلب گار ہوں
نصوح نے کہا کہ تمہاری بھینس میرے پاس ہے
آج جو کچھ میرے پاس ہے وہ تمہارے بھینس کی وجہ سے ہے
نصوح نے حکم دیا کہ اس کے سارے مال اور دولت کا آدھا حصہ بھینس کے مالک کو دیا جائے۔

وہ شخص خدا کے حکم سے کہنے لگا:
اے نصوح جان لو، نہ میں انسان ہوں اور نہ ہی وہ جانور بھینس ہے
بلکہ ہم دو فرشتے ہیں تمہیں امتحان کرنے کے لئے آئے تھے
یہ سارا مال اور دولت تمہارے سچے دل سے توبہ کرنے کا نتیجہ ہے
یہ سب کچھ تمہیں مبارک ہو،
وہ دونوں فرشتے نظروں سے غائب ہوگئے۔

اسی وجہ سے سچے دل سے توبہ کرنے کو (توبه نصوح) کہتے ہیں.
کتاب: مثنوی معنوی، دفتر پنجم
:انوار المجالس صفحہ 432۔

باری تعالیٰ رمضان المبارک کے مہینے میں آپکے رحمت کے سارے دروازے کھلے ہوئے ہیں
ہمیں بھی توبۃ النصوح کرنے کی توفیق عطا فرما۔

آمین ثم آمین

دو نوجوان عمر رضی اللہ عنہ کی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسکی طرف ...
13/05/2020

دو نوجوان عمر رضی اللہ عنہ کی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسکی طرف انگلی کر کے کہتے ہیں “یا عمر یہ ہے وہ شخص”

عمر رضی اللہ عنہ ان سے پوچھتے ہیں ” کیا کیا ہے اس شخص نے ؟”

“یا امیر المؤمنین ۔ اس نے ہمارے باپ کو قتل کیا ہے”

عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں “کیا کہہ رہے ہو ۔ اس نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے ؟”

عمر رضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں ” کیا تو نے ان کے باپ کو قتل کیا ہے ؟”

وہ شخص کہتا ہے “ہاں امیر المؤمنین ۔ مجھ سے قتل ہو گیا ہے انکا باپ”

عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں ” کس طرح قتل ہوا ہے ؟”

وہ شخص کہتا ہے “یا عمر ۔ انکا باپ اپنے اُونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہو گیا تھا ۔ میں نے منع کیا ۔ باز نہیں آیا تو میں نے ایک پتھر دے مارا۔ جو سیدھا اس کے سر میں لگا اور وہ موقع پر مر گیا ”

عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ” پھر تو قصاص دینا پڑے گا ۔ موت ہے اسکی سزا ”

نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت اور فیصلہ بھی ایسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہیں ۔ نہ ہی اس شخص سے اسکے کنبے کے بارے میں کوئی سوال کیا گیا ہے، نہ ہی یہ پوچھا گیا ہے کہ تعلق کس قدر شریف خاندان سے ہے، نہ ہی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ تعلق کسی معزز قبیلے سے تو نہیں، معاشرے میں کیا رتبہ یا مقام ہے ؟ ان سب باتوں سے بھلا عمر رضی اللہ عنہ کو مطلب ہی کیا ۔ کیونکہ معاملہ اللہ کے دین کا ہو تو عمر رضی اللہ عنہ پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمر رضی اللہ عنہ کو روک سکتا ہے۔ حتٰی کہ سامنے عمر کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ قاتل کی حیثیت سے آ کھڑا ہو ۔ قصاص تو اس سے بھی لیا جائے گا۔

وہ شخص کہتا ہے ”ا ے امیر المؤمنین ۔ اُس کے نام پر جس کے حُکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں مجھے صحرا میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس جانے دیجئے تاکہ میں ان کو بتا آؤں کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے ۔ میں اسکے بعد واپس آ جاؤں گا”

عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ”کون تیری ضمانت دے گا کہ تو صحرا میں جا کر واپس بھی آ جائے گا؟”

مجمع پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو اسکا نام تک بھی جانتا ہو۔ اسکے قبیلے ۔ خیمے یا گھر وغیرہ کے بارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے ۔ کون ضمانت دے اسکی ؟ کیا یہ دس درہم کے ادھار یا زمین کے ٹکڑے یا کسی اونٹ کے سودے کی ضمانت کا معاملہ ہے ؟ ادھر تو ایک گردن کی ضمانت دینے کی بات ہے جسے تلوار سے اڑا دیا جانا ہے۔ اور کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمر رضی اللہ عنہ سے اعتراض کرے یا پھر اس شخص کی سفارش کیلئے ہی کھڑا ہو جائے اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے۔

محفل میں موجود صحابہ پر ایک خاموشی سی چھا گئی ہے۔ اس صورتحال سے خود عمر رضی اللہ عنہ بھی متأثر ہیں۔ کیونکہ اس شخص کی حالت نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔ کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کیلئے چھوڑ دیئے جائیں ؟ یا پھر اسکو بغیر ضمانتی کے واپس جانے دیا جائے؟ واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا،

خود عمر رضی اللہ عنہ بھی سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں ”معاف کر دو اس شخص کو ”

نوجوان اپنا آخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتے ہیں ”نہیں امیر المؤمنین ۔ جو ہمارے باپ کو قتل کرے اسکو چھوڑ دیں ۔ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا ”

عمر رضی اللہ عنہ ایک بار پھر مجمع کی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہیں ”اے لوگو ۔ ہے کوئی تم میں سے جو اس کی ضمانت دے؟”

ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہیں ”میں ضمانت دیتا ہوں اس شخص کی”

عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں “ابوذر ۔ اس نے قتل کیا ہے”

ابوذر رضی اللہ عنہ اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہیں “چاہے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو”

عمر رضی اللہ عنہ “جانتے ہو اسے ؟”

ابوذر رضی اللہ عنہ ” نہیں جانتا ”

عمر رضی اللہ عنہ ” تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو ؟”

ابوذر رضی اللہ عنہ ”میں نے اس کے چہرے پر مومنوں کی صفات دیکھی ہیں اور مجھے ایسا لگتا ہے یہ جھوٹ نہیں بول رہا ۔ انشاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا ”

عمر رضی اللہ عنہ ”ابوذر دیکھ لو اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تیری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا ”

ابوذر رضی اللہ عنہ اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں ” امیر المؤمنین ۔ پھر اللہ مالک ہے”

عمر رضی اللہ عنہ سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے ۔ کچھ ضروری تیاریوں کیلئے ۔ بیوی بچوں کو الوداع کہنے ۔ اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے اور پھر اس کے بعد قصاص کی ادائیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سے لوٹ کر واپس آنے کیلئے۔

اور پھر تین راتوں کے بعد عمر رضی اللہ عنہ بھلا کیسے اس امر کو بھلا پاتے ۔ انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا۔ عصر کے وقت شہر میں (الصلاۃ جامعہ) کی منادی پھر جاتی ہے ۔ نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے ۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لاتے ہیں اور آ کر عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔

عمر رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں ” کدھر ہے وہ آدمی ؟”

ابوذر رضی اللہ عنہ مختصر جواب دیتے ہیں “مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین”

ابوذر رضی اللہ عنہ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں معمول سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ محفل میں ہُو کا عالم ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے ؟

یہ سچ ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں بستے ہیں، عمرؓ رضی اللہ عنہ سے ان کے جسم کا ٹکڑا مانگیں تو عمر رضی اللہ عنہ دیر نہ کریں کاٹ کر ابوذر رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیں ۔ لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے ۔ اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے ۔ کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا ۔ نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے ۔ حالات و واقعات کے مطابق نہیں اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔

مغرب سے چند لحظات پہلے وہ شخص آ جاتا ہے ۔ بے ساختہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے۔ ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے

عمر رضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں ” اے شخص ۔ اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتا تو ہم نے تیرا کیا کر لینا تھا۔ نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا ”

وہ بولا ” امیر المؤمنین ۔ اللہ کی قسم ۔ بات آپکی نہیں ہے بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے ۔ دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں ۔ اپنے بچوں کو پرندوں کے چوزوں کی طرح صحرا میں تنہا چھوڑ کر ۔ جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان ۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں ۔ مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے”

عمر رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کر کے پوچھا ” ابوذر ۔ تو نے کس بنا پر اسکی ضمانت دے دی تھی ؟”

ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا ” اے عمر ۔ مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے”

سید عمرؓ نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دو نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا کہتے ہو اب؟

نوجوانوں نے جن کا باپ مرا تھا روتے ہوئے کہا ” اے امیر المؤمنین ۔ ہم اس کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں ۔ ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے”

عمر رضی اللہ عنہ اللہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو ان کی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گر نے لگے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرمايا ۔۔۔

” اے نوجوانو ۔ تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہیں جزائے خیر دے”

” اے ابو ذر ۔ اللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے”

” اور اے شخص ۔ اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خیر دے”

مجمع نے کہا:
”اے امیر المؤمنین! اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے”

بحوالہ، کتاب امیر المومنین
از دارالسلام۔

ارتغرل غازی میں دِکھائے جانے والے ابنِ عربیؒ حقیقت میں کون تھے؟مختصر تعارف:ابنِ عربیؒ کا پورا نام محمد ابن العربی ہے. آپ...
10/05/2020

ارتغرل غازی میں دِکھائے جانے والے ابنِ عربیؒ حقیقت میں کون تھے؟
مختصر تعارف:
ابنِ عربیؒ کا پورا نام محمد ابن العربی ہے.
آپ رمضان المبارک 560ھ (اگست 1165ء) کو اندلس ( Spain 🇪🇸) کے شہر مرسیہ میں میں پیدا ہوئے۔
ان کا خاندان عزت وجلالت ، علم وتقویٰ میں ممتاز حیثیت رکھتا تھا۔ ان کے جدِ اعلیٰ*حاتم طائی،وفات578ء سارے عرب میں اپنی سخاوت اور بزرگی کی وجہ سے نمایاں اور محترم رہے۔
اسلامی تصوف میں آپ كو شیخ اکبر کے نام سے یاد كیا جاتا ہے اور تمام صوفیاء و مشائخ آپ كے اس مقام كے قائل ہیں۔
آپ کا قول تھا کہ باطنی نور خود رہبری کرتا ہے‫‫-
آپ کے دادا محمد اندلس (Spain)کے علما میں سے تھے جن کی دولت و ثروت کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا ۔ والد علی بن محمد فقہ اور حدیث کے آئمہ اور تصوف کے بزرگوں میں سے تھے۔ اس کے علاوہ وہ عظیم فلسفی ابنِ رشد کے دوست اور سلطان اشبیلیہ کے وزیر بھی رہے۔
والدہ انصار سے تعلق رکھتی تھیں جبکہ شیخ کی چھوٹی بیٹی زینب تو کم عمری ہی میں مقام ِ الہام سے سرفراز ہو گئی تھیں۔
ابنِ عربی نے اپنے سوانح میں اپنے خاندان کا تفصیل سے ذکر کیا ہے اور والد ، چچا دونوں ماموں ، زوجہ اور کم سن بیٹی کے ایسے دل کھینچ لینے والے واقعات بیان کیے ہیں جو پاکیزگی و ایمان اور زہد و معرفت میں ان کے بے حد بلند مقامات کی نشاندہی کرتے ہیں ۔
آٹھ سال کی عمر میں ابنِ عربی اپنے خاندان کے ساتھ مرسیہ سےاندلس (Spain) کے دار الحکومت اشبیلیہ آ گئے۔ 598ھ تک وہیں رہےاور دین و ادب ی کامل درجے کی تربیت پائی۔
پہلے ابو بکر محمد بن خلف لخمی اور ابو القاسم عبدالرحمن الشرائط القرطبی سے قرآت کی تعلیم حاصل کی۔
اس زمانے میں ابھی تصوف میں داخل نہیں ہوئے تھے، اپنا بیشتر وقت یا تو نغمہ و شعر میں گزارتے یا پھر جانوروں کے شکار میں مصروف رہتے ۔ وہ اس دور کو زمانہ جاہلیت کا نام دیتے تھے۔
پھر جوانی میں ہی جبکہ ابنِ عربی کے والد بھی حیات تھے ان میں ایک عظیم روحانی اور باطنی تبدیلی پیدا ہوئی اور یہ کشف و شہود کے اعلیٰ مقامات تک پہنچ گئے۔ اشبیلیہ ہی میں ابنِ عربی نے باقاعدہ قصد کرکے مروج طریقے سے21 سال کی عمر میں 580 ھ کے دوران جادہ سلوک میں قدم رکھا۔اس کے بعد وہ مجاہدہ و ریاضت اور عرفا کے معارف کی تحصیل اور صوفیا کے احوال وآثار کے مطالعے میں مشغول رہے۔
ابنِ عربی نے مصر ، قاہرہ ، ایران، بغداد اور دمشق کے سفر کیے اور بہت سے بزرگوں سے ملاقات کی ۔
محرم 627 ھ کے آخری عشرے میں حضرت رسول اللہ ﷺکی زیارت سےخواب میں مشرف ہوئے۔ آپ ﷺ کے ہاتھ مبارک میں کتاب "فصوص الحکم" تھی اور آپ ﷺ نے ابنِ عربی کو اسے لکھنے کا حکم دیا تاکہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں ۔ ابنِ عربی نے دل وجان سے فرمانِ نبوی ﷺ کی تعمیل کی اور پورے خلوص ِ نیت سے تحریر میں مشغول ہو گئے۔ یہ کتاب تصوف و عرفانِ اسلامی میں نہایت مؤثر ہے اور ان کی دوسری کتابوں پر فوقیت رکھتی ہے۔
620ھ کے دوران جب وہ دمشق میں مقیم تھے، انہوں نے اپنا دیوان مرتب کرنا شروع کیا اور یہ کام 631ھ تک جاری رہا۔ انہوں نے برسوں کی محنت سے اپنی بڑی کتاب "فتوحاتِ مکیہ"کی تکمیل کی۔ وہ اس کتاب کی تحریر میں 35 سال مصروف رہے۔
انہوں نے 599ھ میں فتوحات کی تالیف شروع کی اور 24 ربیع الاول636ھ یعنی اپنی وفات سے دو سال پہلےچہار شنبے( بدھ )کے دن صبح کے وقت مکمل کی۔
ابنِ عربی نے لکھا ہے کہ میرے بعض دوستوں نے مجھے بتایا کہ وہ میری چار ہزار تحریروں کو معرضِ ضبط میں لائے۔
بعض کتب میں ان کی کتابوں کی تعداد بتائی گئی ہے۔ جبکہ کچھ کتب میں ان کے کتب اور رسائل کی تعداد 848 بھی لکھی ہے
شیخ اکبر محی الدین محمد ابن العربی الحاتمی الطائی الاندلسی کا انتقال 1240ء کو شام کے شہر دمشق میں ہوا‫. آپ کا مزار شریف بھی دمشق میں ہی موجود ہے.

Address

Attock City

Telephone

+923147989498

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تاریخِ اسلام Tareekh e Islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to تاریخِ اسلام Tareekh e Islam:

Share