Business Ideas

Business Ideas اسلام و علیکم۔

16/05/2026

ایک بار حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بازار سے گزر رہے تھے، تو آپ کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو یہ دعا مانگ رہا تھا:

*اللهم اجعلني من القليل، اللهم اجعلني من القليل*

*"اے اللہ! مجھے (اپنے) ان تھوڑے سے بندوں میں شامل فرما! اے اللہ! مجھے ان تھوڑے سے بندوں میں شامل فرما!"*

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: "تم نے یہ دعا کہاں سے لی ہے؟" اس شخص نے جواب دیا:
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے:
*"اور میرے بندوں میں سے شکر گزار تھوڑے ہی ہیں۔" (سورہ سبا: 13)*

یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور خود کو ملامت کرتے ہوئے فرمایا: "اے عمر! لوگ تم سے زیادہ علم رکھنے والے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں اپنے ان تھوڑے سے (شکر گزار) بندوں میں شامل فرما۔"

کبھی کبھی جب آپ کسی کو کوئی غلط عمل چھوڑنے کی نصیحت کرتے ہیں، تو وہ جواب دیتے ہیں: "لیکن...
"سب لوگ ہی تو ایسا کرتے ہیں، صرف میں ہی تو ایسا نہیں کر رہا!"

لیکن اگر آپ قرآنِ کریم میں لفظ *"اکثر الناس"* (اکثر لوگ) تلاش کریں، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ:

*"اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔" (الاعراف: 187)*

*"اور اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔" (البقرہ: 243)*

*"اور اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔" (الرعد: 1)*

اور اگر آپ *"اکثرہم"* (ان میں سے اکثر) کے الفاظ تلاش کریں تو آپ کو ملے گا کہ:
ان میں سے اکثر"، تو آپ قرآن میں پائیں گے کہ ان میں سے اکثر:

*"یقیناً نافرمان ہیں۔"*

*"جاہل (ناواقف) ہیں۔"*

*"منہ پھیرنے والے ہیں۔"*

چنانچہ ان *"تھوڑے"* لوگوں میں شامل ہونے کی دعا اور فکر کریں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

*وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ*

*"اور میرے بندوں میں سے شکر گزار تھوڑے ہی ہیں۔"*

*وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ*

*"اور ان کے ساتھ ایمان نہیں لائے مگر بہت تھوڑے لوگ۔"*

*"مگر بہت ہی کم لوگ۔"*

*فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ*

*"وہ نعمتوں والی جنتوں میں ہوں گے۔ اگلوں میں سے ایک بڑی جماعت، اور پچھلوں میں سے چند لوگ۔"*

ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

*"دین کے راستے پر چلو اور اس پر چلنے والوں کی کم تعداد دیکھ کر تنہائی یا وحشت محسوس نہ کرو۔"*

*"اس راستے پر ثابت قدم رہو اور دین پر چلنے والوں کی قلت کی وجہ سے پریشان نہ ہو، اور باطل کے راستے سے بچو اور ہلاک ہونے والوں کی کثرت سے دھوکہ نہ کھانا۔"*

[یہ روایت امام احمد بن حنبل کی 'کتاب الزہد' اور ابن ابی شیبہ کی 'المصنف' میں ملتی ہے]

اس لیے جب بھی آپ دیکھیں کہ اکثریت جن چیزوں پر عمل کر رہی ہے، جو ان کی چاہت ہے، جس طرح وہ زندگی گزار رہی ہے، جس طرح کی وہ باتیں کر رہے ہیں، جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔۔

تو اندھا دھند ان کے پیچھے چلنا شروع نہ کردیں، ان کی طرح بننے کی کوشش نہ کریں، ان کے کاموں کو بغیر سوچے سمجھے اختیار کرنے کی فکر نہ کریں۔

بلکہ اگر اکثریت آپ کو کسی ایک سمت میں چلتی نظر آئے تو بہت غور سے، اچھی طرح اس اکثریت کا جائزہ لیجیے۔ آپ قرآن کو بالکل درست پائیں گے۔

خود اپنی زندگی، ترجیحات اور اعمال کا جائزہ لیجیے کہ کہیں ہم بھی وہی رستہ تو اختیار نہیں کیے ہوئے جو اکثریت نے اختیار کیا ہوا ہے۔

یہ آپ کی زندگی کا ایک آسان سا لٹمس ٹیسٹ ہے جو آپ خود کرسکتے ہیں۔

کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ *"اکثر لوگ عقل نہیں رکھتے۔"*

اللہ تعالیٰ ہمیں اکثریت کی طرح ہونے سے محفوظ رکھے اور اپنے چند (چنیدہ اور شکر گزار) بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین

13/02/2025

میں سمجھتا تھا کہ انسان کو زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر اپنی غلطیوں کا احساس ضرور ہوتا ہوگا، وہ غلط فیصلے، وہ رویے جو انا کی زد میں آکر اپنائے جاتے ہیں، وہ لمحے جب آدمی اپنی ناک اونچی رکھنے کے خمار میں دوسروں کے جذبات کو روند دیتا ہے… مگر میں غلط تھا۔ میں واقعی غلط تھا۔

میں نے لوگوں کو پرکھا، میں نے رویوں کو سمجھا، اور پھر جانا کہ اس دنیا میں کچھ لوگ اتنے بے حس ہوتے ہیں کہ اگر تم ان کے لیے اپنا سب کچھ بھی قربان کر دو، وہ پھر بھی پلٹ کر ایک نئی طلب لے آئیں گے— جیسے قربانی ان کا حق ہو، جیسے تمہارے خلوص کا کوئی مول نہ ہو۔

میں نے انہیں غلط پایا۔ کوئی بھی باشعور انسان انہیں غلط کہے گا، مگر شاید ان کی انا کا جھنڈا اتنا بلند ہوتا ہے کہ یا تو وہ سمجھنا نہیں چاہتے، یا ان کے اندر سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی۔ وہ اپنی غلطی پر اکڑتے ہیں، ایسے جیسے— جیسے کوئی خستہ مکان کی چھت پر کھڑا ہو اور اس زعم میں مبتلا ہو کہ وہ آسمان کو چھو رہا ہے۔

میں نے فرعونوں کو ٹوٹتے دیکھا ہے، مگر ان کے ماتھے کی شکن بھی سیدھی نہ ہوئی۔ میں نے سنگ دلوں کو نرم ہاتھوں سے تھامنے کی کوشش کی، مگر وہ میری انگلیاں چبا گئے۔ میں نے انہیں ہار ماننے کے بعد بھی جیت کے ترانے گاتے سنا۔

سوچتا ہوں کہ معافی کا خیال آنا بھی اللہ کی ایک بڑی رحمت ہے، اور اپنی غلطی کا احساس ہونا ایک عظیم نعمت۔ لیکن وہ اس خیال سے بے نیاز رہتے ہیں ۔۔لیکن شاید وجہ یہ ہے کہ ان کی انا میں دراڑ پڑ جائے گی، ان کی عزت دفن ہو جائے گی… مگر کس چیز سے؟ بس اتنا کہنے سے کہ "ہاں، میں غلط تھا"؟

مگر میں نے ایسے لوگوں کو بھی دیکھا ہے جو اپنے یقین دلانے کے وعدے کرتے ہیں، جو قسمیں اٹھاتے ہیں کہ وہ کبھی اعتبار نہیں توڑیں گے، مگر ان کے الفاظ مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ نازک نکلتے ہیں۔ کیوں؟ کیا انہیں خدا کا خوف نہیں؟ یا ان میں سچ کو نبھانے کی ہمت نہیں؟ یا پھر سامنے والے کے جذبات ان کے لیے ایک کھیل ہیں؟

میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو تمہیں توڑ کر بھی اکڑ کر کھڑے رہتے ہیں، کیونکہ ان کے سینے میں "میں معصوم ہوں" کا آئینہ ہمیشہ چمکتا رہتا ہے۔ وہ آئینہ جو انہیں اپنی حقیقت کبھی دکھنے نہیں دیتا۔

اور میں نے انہیں بھی دیکھا ہے، جو تمہارے ہر درد سے واقف ہونے کے باوجود تمہیں چھوڑ جاتے ہیں… وہ جو وعدہ کرتے ہیں کہ ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے، مگر ہوا کے ایک جھونکے کے ساتھ اپنی بات کو اڑا دیتے ہیں۔ میں نے پھر انسانوں کی باتوں پر یقین رکھنا چھوڑ دیا۔ میں نے وعدوں سے اعتبار اٹھا لیا۔

اور اس سب کی وجہ صرف ایک شخص ہے۔

انسان کسی کا ہو نہ ہو، مگر زبان کا ضرور ایک ہونا چاہیے۔

نامعلوم

27/11/2024

ہم اتنا ڈرتے کیوں ہیں؟
نیا ڈنر سیٹ خریدا ہے تو کھانا پرانے میں کیوں کھایا جائے؟
نئے کپڑے سلوائے ہیں تو اُنہیں عام حالات میں بھی پہننے میں کیا مضائقہ ہے؟
گھر میں ڈیڑھ لٹر والے کولڈ ڈرنک کی خالی بوتلوں کے انبار لگتے جارہے ہیں لیکن پھینکنے کا حوصلہ نہیں پڑ رہا۔
نیا بلب خرید لیا ہے تو پرانے کو سٹور میں کیوں سنبھال کے رکھ دیا ہے؟
باتھ رو م میں نیا شیونگ ریزر موجود ہے تو پرانے پندرہ ریزر کا انبار کیوں لگا رکھا ہے؟
پانچ سو روپے والا لائٹر خرید ہی لیا ہے تو اُسے استعمال کیوں نہیں کرتے؟
نئی بیڈ شیٹ کیوں سوٹ کیس میں پڑی پڑی پرانی ہوجاتی ہے؟
جہیز میں ملی نئی رضائیاں کیوں بیس سال سے استعمال میں نہیں آئیں؟
باہر سے آیا ہوا لوشن کیوں پڑا پڑا ایکسپائر ہوگیا ہے؟؟؟
دل چاہیے۔۔۔! نئی چیز استعمال کرنے کے لیے پہاڑ جتنا دل چاہیے ‘جو لوگ اس جھنجٹ سے نکل جاتے ہیں ان کی زندگیوں میں عجیب طرح کی طمانیت آجاتی ہے۔ یہ شرٹ خریدیں تو اگلے دن پورے اہتمام سے پہن لیتے ہیں۔
یہ ہر اوریجنل چیز کو اُس کی اوریجنل شکل میں استعمال کرتے ہیں اور ہم جیسے دیکھنے والوں کو لگتاہے جیسے یہ بہت امیر ہیں حالانکہ یہ سب چیزیں ہمارے پاس بھی ہوتی ہیں لیکن ہماری ازلی بزدلی ہمیں ا ن کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتی۔
دن پہ دن گذرتے جاتے ہیں لیکن ہم نقل کی محبت میں اصل سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
کسی کے گھر سے کیک آجائے تو خود کھانے کی بجائے سوچنے لگتے ہیں کہ آگے کہاں دیا جاسکتا ہے۔
ہر وہ کیک جس پر لگی ٹیپ تھوڑی سی اکھڑی ہوئی ہو‘اس بات کا ثبوت ہے کہ اہل خانہ نے ڈبہ کھول کر چیک کیا ہے اور پھر اپنے تئیں کمال مہارت سے اسے دوبارہ پہلے والی حالت میں جوڑنے کی ناکام کوشش کی ہے۔پتانہیں کیوں ہم میں سے اکثر کو ایسا کیوں لگتاہے کہ اچھی چیز ہمارے لیے نہیں ہوسکتی۔
اور تو اور ہم بچے سے جوان ھو گئے مگر اپنے ناپ کے کپڑے اور جوتے نصیب نہ ھوئے ، جوتا احتیاطاً ایک دو نمبر بڑا لیا جاتا، لاکھ پہن کر رو کر بھی دکھایا کہ دیکھو اماں میری ایڑھی تو اس جوتے کی کمر تک جا رھی ھے مگر ایک ہی جواب کہ پاؤں بڑھ رھا ھے اگلے سال پورا ھو جائے گا اور قسم سے اگلا سال آیا بھی نہ ھوتا اور جوتا لیرو لیر ھو جاتا ، کپڑے ہمیشہ ایک بالشت بڑے رکھوانے ہیں تا کہ اگلے سال چھوٹے بھائی کو بھی پورے ھو جائیں ـ ،،
ہم ساری زندگی اچھے لباس کے میلا ہونے کے ڈر سے جیتے ہیں اور پھر ایک دن دودھ کی طرح اجلا لباس پہن کر مٹی میں اتر جاتے ہیں۔۔۔
'خوش رھیے اور خوشیاں بانٹیے .....!!!
اپنی چیزوں کو وقت پر استعمال کریں زندگی کا ایک پل بھروسہ نہیں ہے. سب کچھ ادھر ہی چھوڑ جانا ہے......!!!

کل بروز اتوار جہلم گئے.اٹک سے جہلم  براستہ جی ٹی روڈ  سفر کیا برہان سے راولپنڈی  موٹروے استعمال کی صبح 4 بجے گھر سے نکلے...
23/10/2023

کل بروز اتوار جہلم گئے.
اٹک سے جہلم براستہ جی ٹی روڈ سفر کیا برہان سے راولپنڈی موٹروے استعمال کی
صبح 4 بجے گھر سے نکلے اور 8 بجے اکیڈمی پہنچے
یک طرفہ 200 کلو میٹر بنتے ہیں
جاتے وقت کافی دشواری ہوئ کیوں کے بارش تھی اور ہمارے پاکستانی ڈرائیور اپنا فرض سمجھتے ہیں کی ہیڈلائیٹس ہای بیم رکھی جائیں سامنے والے کو اندھا کرنا واجب ہوتا ہے۔
خیر اکیڈمی پہنچے تو سکیورٹی چیکنگ کا مرحلہ تہہ کیا پھر انتظامیہ نے سب کو ناشتہ کروایا
کچھ لوگ سوال لکھنے میں بھی مگن تھے دیکھا دیکھی ایک سوال میں نے بھی لکھ دیا۔
کچھ انتظار کے بعد #انجینئر محمد علی مرزا صاحب تشریف لاے۔
تقریباً 5 سال سے لیکچرز سن راہا تھا(پچھلے 2 سالوں سے میں جب بھی پاکستان آتا تو جہلم جانے کا ارادہ کرتا بِل آخر اس بار یہ سعادت حاصل ہوئی) جب اپنی آنکھوں سے دیکھ راہا تھامجھے تب بھی یہی محسوس ہو راہا تھا جیسے ویڈیو دیکھ راہا ہوں۔
انتہائی خوشگفتار اور فُل آف انرجی سے درس دیا۔
الیڈمی کے انتظامی معملات میں بہت پروفیشنلزم نظر آیا۔
5 بار قاتلانہ حملہ کے باوجود سب کے ساتھ فوٹو سیشن کرتےہیں
ا للہ کریم انکی جان و مال کی حفاظت فرمائے۔
آپ تمام لوگ بھی ضرور جائیں اور Lover بنیں۔

16/10/2023

*سہارے مت تلاش کریں*

ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ھو رھا تھا تو ایک بوڑھے دربان کو دیکھا جو محل کے صدر دروازے پر پُرانی اور باریک وردی میں پہرہ دے رھا تھا۔
بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور اُس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا:
"سردی نہیں لگ رھی؟"
دربان نے جواب دیا: "بہت لگتی ھے حضور۔ مگر کیا کروں، گرم وردی ھے نہیں میرے پاس، اِس لئے برداشت کرنا پڑتا ھے۔"
"میں ابھی محل کے اندر جا کر اپنا ھی کوئی گرم جوڑا بھیجتا ھوں تمہیں۔"
دربان نے خوش ھو کر بادشاہ کو فرشی سلام کہے اور بہت تشکّر کا اظہار کیا،
لیکن بادشاہ جیسے ھی گرم محل میں داخل ھوا، دربان کے ساتھ کیا ھوا وعدہ بھول گیا۔
صبح دروازے پر اُس بوڑے دربان کی اکڑی ھوئی لاش ملی اور قریب ھی مٹّی پر اُس کی یخ بستہ انگلیوں سے لکھی گئی یہ تحریر بھی:
"بادشاہ سلامت،
میں کئی سالوں سے سردیوں میں اِسی نازک وردی میں دربانی کر رھا تھا
مگر کل رات آپ کے گرم لباس کے وعدے نے میری جان نکال دی۔"
*سہارے انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں اسی طرح امیدیں کمزور کر دیتی ہیں اپنی طاقت کے بل بوتے جینا شروع کیجیے۔* *۔خدا را سہاروں کی بساکھیاں پھینک کر اپنی طاقت آزماٸیں ۔اللہ پاک نظر بد سے بچائے آمین ثم آمین
*

15/10/2023

صبح بخیر

پیپر صوپ کاروبار
14/10/2023

پیپر صوپ کاروبار

14/10/2023


آج_نوکری_اور_کاروبار_پر_موازنہ _ہو_جائے
۔
#نوکری جیسی بھی ہو۔ جتنی بھی اچھی ہو۔ لاکھوں کا پیکج ہو۔ پبلک سیکٹر کی ہو۔ اٹھارہویں انیسویں سکیل کی ہو۔ کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی ہو۔ ایک متعین کردہ رقم ہی ہوتی ہے۔

آپ صرف اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہوتے ہیں۔
لگی بندھی آمدنی ہوتی ہے۔ مہینے کے شروع میں تنخواہ ملی اور ماہانہ مستقل اخراجات پہ لگ گئی۔ چاہے جتنی مرضی محنت کر لیں۔ تنخواہ وہی کی وہی۔
انکریمنٹ بھی اپنے ٹائم پہ۔ اور ریٹائرمنٹ تک یہی معمول۔ اور ریٹائرمنٹ کے بعد بلآخر پھر سے اپنے کام کی ابتدا۔ وہ بھی تب۔ جب زندگی کی اصل توانائی اور جان کی کھپت نوکری میں لگ گئی۔

جبکہ

#کاروبار میں چاہے جتنی مرضی مشقت ہو۔ محنت ہو۔ شروعات میں مہینے بعد بنیادی اخراجات کے سوا کچھ نہ بچتا ہو۔ بھاگ دوڑ چاہے حد درجہ ذیادہ ہو۔ کاروبار کاروبار ہوتا ہے۔
آپ صرف اپنے خاندان کی کفالت نہیں کرتے۔ اپنے تمام ملازمین کی خاندانوں کی کفالت کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ کتنے ہی نصیب آپ کے کاروبار سے منسلک ہو جاتے ہیں۔
جیسے جیسے تسلسل۔ محنت۔ وقت۔ نیک نیت۔ دیانتداری بڑھتی جاتی ہے۔ کاروبار میں بڑھوتری ہوتی جاتی ہے۔ آپ لینے کی بجائے دینے والے بنتے جاتے ہیں۔
ہوتے ہوتے جب ریٹائرمنٹ کی عمر آتی ہے تو آپ کا ایک نام بن چکا ہوتا ہے۔ آپ کو دوبارہ صفر سے شروعات نہیں کرنا پڑتی۔آپ کے بچوں کو بنا بنایا ایک پلیٹ فارم مل جاتا ہے۔ آپ نوکری لینے کی بجائے نوکریاں دینے والے بن جاتے ہیں۔
اگر آپ کے پاس موقع ہے۔ چاہے ذرا سا بھی سرمایہ ہے۔ اچھا آئیڈیا ہے۔ اچھا منصوبہ ہے۔ تو اللہ پہ بھروسہ کر کے آج ہی شروعات کیجئے۔
اس پاک سرزمین میں اچھے منصوبے اور اچھی نیت والے لوگوں کا دھن اور من کبھی نہیں ڈوبتا۔ جتنے مرضی طوفان۔ مسئلے۔ پتھر راہ میں آئیں۔ آپ انہیں عبور کر کے معاشرے کی ایک عزت دار اکائی بن سکتے ہیں۔

13/10/2023

یاد رکھیں تین کاروبار جو کبھی بند نہیں ہوں گے( پنجابی) اک کھاون دا دوجا پاون دا تیجا دھون تے نہاون دا
جو جاندار اس دنیا پہ ہے اس نے کچھ نہ کچھ تو کھانا ہے اس لیے کھانے کا کاروبار کبھی بند نہیں ہوگا
جو انسان بھی اس دنیا میں ہے اس نے جسم ڈھانپنا ہے اس لیے پہننے اوڑھنے کا کاروبار کبھی بند نہیں ہوگا
دنیامیں جو بھی انسان ہے اس نے خود کو صاف ستھرا رکھنا ہے اس لیے نہانے دھونے کا کاروبار کبھی بند نہیں ہوگا
1 کھاون یعنی فوڈز/ فاسٹ فوڈز یہ ہوم میڈ
2 پاون مطلب کپڑے چاہے بچوں کے ہوں یا بڑوں کے/آن لائن یا آف لائن
3 نہاون دھوون مطلب صابن وغیرہ/ چاہے کپڑے دھونے کا ہو یا ہاتھ منہ یعنی ہاؤس کلینگ یا پرسنل کیئر پراڈکٹس ہو (کاسمیٹکس)

Address

Attock City
55555

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Business Ideas posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share