Abbasi goats farm Dhirkot bagh Ak

Abbasi goats farm Dhirkot bagh Ak Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Abbasi goats farm Dhirkot bagh Ak, Business service, sohawa shriff jahala t**a dhirkot bagh Azad kashmir, Bagh.

07/10/2020

بکریوں کی فارمنگ اور بنیادی غلطیوں کا ابتداء سے ہی ازالہ

کچھ سالوں سے بکریوں کا فارم بنانے کا رحجان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ جس کی وجہ سے اکثر ہمارے دوست اس فیلڈ میں آ رہے ہیں۔ اور لائف سٹاک میں یہ اچھا شگون ہے۔ دیار غیر میں یہ کام جا کر کرنا ہے تو کیوں نہ اپنے ملک میں رہ کر کیا جائے جس سے ملک کے زر مبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا اور ملک میں لحمیات کی کمی بھی دور ہوگی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کونسی نسل کا فارم بنایا جائے۔ تو میرا آپ تمام نئے بکریوں کے فارمر کو مشورہ ہے کہ اپنے مخصوص علاقے کی بریڈ پالی جائے۔ بکری بنیادی طور پر ایک نازک جانور ہے۔ تھوڑا سا موسم کا مزاج بدلہ نہیں اور بکری بیمار ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ تو میرے تجربے میں جو پندرا بیس فارم آئے ہیں وہ مکمل ناکامی کا شکار ہوئے ہیں۔ تمام تر حفاضطی تدابیر کے باوجود وہ تمام فارم نقصان کا باعث ہوئے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ دوسرے علاقے کی نسل کو اپنے علاقے میں لے کے آنا ہے۔ اور یہ اصول تمام نسلوں پے لاگو ہوتا ہے۔ مثلاً میرے ایک دو جاننے والوں نے راجن پوری نسل لے آئے تھے اپر پنجاب اور وسطی پنجاب میں ۔ایک بھائی کے ڈیڑھ سو جانور تھے جو اس علاقے کے موسم سے مطابقت نہ رکھنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ اسی طرح دوسرے دوست نے 85 جانور ہلاک کروائے۔ ایک اور گوجرانولا کا فارمر ہے جس نے ہر چیز سائنسی طریقے سے سیٹ کی ہوئی تھی اور حتٰی کہ ویٹنری ڈاکٹر بھی باہر کا رکھا ہوا تھا۔ پرسوں اس کے فارم پے وزٹ کیا ہے تو 200 میں سے پچیس جانور بچے ہوئے تھے۔ اور اسی طرح پندرا بیس اور بھی ہیں جو راجن پوری سفید بکریوں کا نقصان کر چکے ہیں۔ تو میرے سینیئر ڈاکٹرز اور فیصل آباد زرعی یونیورسٹی کے ماہرین کی مشترکہ رائے یہی ہے کہ اس علاقے کی لوکل بریڈ کو زیادہ ترجیح دی جائے اگر نقصان سے بچنا ہے۔ پاکستان کی تمام نسلوں میں راجن پوری بیتل سفید زیادہ خوبصورت مانی جاتی ہے اور سب سے زیادہ نازک بھی یہی بریڈ ہے۔ یہ بریڈ صرف ڈی جی خان راجن پور اور مظفر گڑھ تک کامیاب ہے۔ اس سے آگے یا پیچھے یہ نسل جائے گی تو بکریوں فارمر کا نقصان کرے گی۔ اس نسل کی بیماری کے خلاف قوت مدافعت انتہائی کم ہے۔ اپنی پتلی چمڑی کی وجہ سے یہ نسل بہت جلد موسمی اثرات قبول کرتی ہے۔ اور اگر ملتان اور گھوٹکی تک اس نسل کو مصنوعی ماحول دیکر کچھ عرصہ برقرار بھی رکھتے ہیں تو جانور ویسا قد کاٹھ نہیں بنائے گا جس طرح وہ اپنے آبائی علاقے میں بناتے ہیں۔

دوسری بھائیوں کی بھلائی کے واسطے آگے شیئر کریں تاکہ کوئی دوسرا بھائی لا علمی کی وجہ سے عمر بھر کی کمائی کا نقصان نہ کر بیٹھے۔ ہو سکتا ہے وہ پتا نہیں کیا کیا چیز گھر کا بیچ کر یا گھر کے ضروری فرائض کو کچھ وقت کے لیے پینڈنگ کر کے یہ شوق کر رہا ہو اور نہ سمجھی میں نہ اِدھر کا رہے اور نہ اُدھر کا رہے۔ چالاک بیوپاری جو آجکل سوشل میڈیا پے چھائے ہوئے ہیں ، کبھی بھی یہ نہیں بتائیں گے کہ کون سی نسل کس علاقے کے لیے مخصوص ہے۔ ان کو اپنے نفع سے غرض ہے ۔ باقی ان کی بلا سے کسی کی منجی ٹُھک جائے۔ بکریوں کی فارمنگ ضرور کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسمیں منافع کافی ہے بشرطیکہ لوکل بریڈ کا فارم ہو۔ یہ پیغمبری پیشہ ہے ۔منافع کی تو یقیناً گارنٹی ہے۔ لیکن جو تحفظات اوپر بیان کیے ہیں ان کو مدِنظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ شیِر کریں۔ آپ کی یہ چھوٹی سی کوشش کسی کا گھر برباد ہونے سے بچا سکتی ہے۔

وطن عزیز پاکستان میں دن بدن کھلی جگہوں کی کمی ہورہی ہے، اور بکریوں فارمنگ جو کبھی فری آف کاسٹ چرائی کا نظام تھا وہ ختم ہورہا ہے۔ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ گوشت کی طلب میں بھی دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ روایتی طریقےسے گوشت کی پیداوار خاطر خواہ نہیں بڑھائی جاسکتی ۔

ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان گوشت برآمد کرنے والے ممالک میں 19 نمبر پر آتے ہیں۔ لیکن بکریوں کی تعداد کے حوالے سے چین، انڈیا کے بعد تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں بھیڑ بکری کے گوشت کی بہت زیادہ طلب ہے، جس کو پورا کرنے میں بکریوں فارمنگ بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

بکریوں فارمنگ کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے، جس کے لیے کسی یونیورسٹی کی ڈگری کی ضرورت ہو، رات کو جاگ جاگ کر پڑھنا پڑھتا ہو، بکریوں فارمنگ ہر وہ انسان کر سکتا ہے ، جو اپنے اور اپنے خاندان کے لیے حلال کی روزی کمانا چاہتا ہو

یہ درست یہ کہ بکریوں فارمنگ دیہاتی پیشہ ہے۔ اور دیہات میں رہنے والے بکریوں پروڈکشن سے اپنے لیے مناسب آمدن حاصل کرسکتے ہیں۔ اور شہروں میں رہنے والے حضرات بکریوں مارکیٹنگ سے اپنے لیے مناسب آمدن حاصل کرسکتے ہیںِ ۔



اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ بکریوں کی فارمنگ کن لوگوں کے لیے باعث منافع ہے؟



بکریوں فارمنگ ان لوگوں کے بہت منافع کا باعث ہے جو دیہات میں رہائش پذیر ہیں۔

ان کے پاس فارمنگ کے لیے تین سے پانچ ایکڑ زمین موجود ہے، یا ابتدائی طور ایک سے دو ایکڑ زمین مناسب سالانہ کرائے یا ٹھیکہ پر حاصل کرسکتے ہیں۔

ابتدائی پر دس سے پندرہ ٹیڈی بکریاں خرید سکتے ہیں۔ ایک سال تک ان کو چارہ اور بوقت ضرورت ونڈا کھلا سکتے ہیں۔ وقت ڈی ورمنگ اور حفاظتی ٹیکہ جات لگوا سکتے ہیں۔

جانوروں کی جگہ کو صآف اور خشک رکھھ سکتے ہیں۔ دن میں دو سے تین گھنٹے کے لیے چرائی یا چہل قدمی کروا سکتے ہیں۔ دو سے تین کنال گوارہ اور جنتر لگا سکتے ہیں۔ ہر چھ ماہ کے بعد نر جانوروں کو مناسب قیمت پر لوکل سطح پر فروخت کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔



اگر مندرجہ بالا نکات کو ایک منصوبہ کے تحت اختیار کیا جائے تو بکریوں فارمنگ منافع بخش ہے۔

وہ دوست جو لائیوسٹاک فارمنگ کے شعبہ میں آنے چاہتے ہیں۔ اور ایک اچھا فارمر بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اور ساتھ نقصان سے ڈرتے بھی ہیں تو بکریوں فارمنگ ان کو بہترین تربیت حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے۔ کہ ایسے دوست جو دیہات کی سطح پر فارمنگ کرنا چاہتے ہیں اور ان کے پاس دو سے تین لاکھ روپے سرمایہ اور دو سے تین ایکڑ زمین اور وقت اور شوق ہے تو وہ بکریوں فارمنگ سے اپنے کام کی ابتداء کریں۔ اور ابتداء میں ایسی دس سے بیس بکریاں خرید لیں جو سال میں دو دفعہ بچے دیتی ہوں۔ ان کے بچے ہر چھ ماہ فروخت کرتے جائیں۔

ٹیڈی بکریوں کی عمر عام طور پر چھ سے سات سال ہوتی ہے۔ اور اپنی زندگی میں اوسط چودہ بچے جنم دیتی ہے۔ چھ سال کے بعد بکری بوڑھی ہوجاتی ہے۔ اس کی جگہ نئی جوان بکری لے آنی چاہیے ۔ اگر ہر چھ ماہ نر بکرے فروخت کرتے جائیں اور مادہ کو اپنے پاس رکھتے جائیں تو دوسرے چھ ماہ میں پہلے چھ ماہ میں جنم لینے والی مادہ بھی ماں بن جائے گی، اور فارم میں جانوروں کا اضافہ ہوگا۔

مارکیٹ میں ٹیڈی نسل کے جانور عام گوشت کی مارکیٹ میں فروخت کئے جاتے ہیں۔ اور عام گوشت کی مارکیٹ میں جانور پندرہ کلو وزن تک فروخت ہوتا ہے۔ اور سودا بازی سے مناسب قمیت پر فروخت کیا جاسکتا ہے۔ عام طور پندرہ کلو کا جانور تین سو ساڑھے تین سو روپے فی کلو زندہ فروخت ہوتا ہے۔ اگر جانور کو وافر مقدار میں چارہ ، وقت پر ڈی وارمنگ ، حفاظتی ٹیکہ جات اور اچھی مینجمنٹ کی جائے تو پندرہ کلو وزن چار ماہ کے اندر باآسانی کرلیتے ہیںِ اور چھ ماہ کے اندر بیس سے پچیس کلو وزن ہوجاتا ہے۔ جو کہ اچھی قیمت دیتا ہے۔

ٹیدی نسل کے جانور پالنے میں کم محنت ، کم سرمایہ لگتا ہے۔ اگر بکریوں سے بچے حاصل کرکے فروخت کئے جائیں تو پھر بھی منافع ہوتا ہے۔

عام طور پر ہمارے ذہنوں میں تیس ہزار ، چالیس ہزار بکرے کی قیمت ہوتی ہے۔ کہ اس قمیت پر بکے تو منافع ہے اور ہم سوچتے ہیں کہ جی اگر دس بکرے بھی فروخت کئے تو چار لاکھ تو بن جائیں گئے۔ تیس چالیس ہزار خالص نسل کے بکروں کی قیمت لگتی ہے جن کا قد، رنگ، وزن زیادہ ہوتا ہے۔ اور ان کو پالنے کے اخراجات کافی زیادہ ہوتے ہیں

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ خالص نسل کے جانور بہت نخریلے ہوتے ہیں۔ اگر چارہ، ونڈا ان کی مرضی کے مطابق نہ ہو تو یہ کھانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اگر ان کی ڈی ورمنگ ، حفاظتی ٹیکہ جات اور موسم کی شدت سے بچاو کا انتظام نہ کیاجائے تو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیںِ ۔ اس لیے اگر بکریوں فارمنگ کے کم از کم دو سال بعد نسلی بکروں کو پالا جائے تو پھر مناسب منافع ملتا ہے۔

اس کے برعکس ٹیڈی بکری کے بچے بہت تعاون کرنے والے ہوتے ہیںِ ۔ ان کو جو بھی ملے وہ کھا لیتے ہیں۔ اور ٹیڈی نسل کے بکروں کو اچھے چارے پر بھی پالا جاسکتا ہے۔ اور ونڈے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ اگر گھر میں بچی ہوئی روٹیوں کو گیلی کرکے باریک توڑی میں مکس کرکے کھلا دی جائیں تو پھر بھی ونڈے کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ کہ جو دوست بکریوں فارمنگ کرنا چاہتے ہیں تو وہ ابتداء ٹیڈی بکریوں سے کریں۔ اس سے کم محنت ، کم سرمایہ سے ایک سے دو سال میں اچھا خاصا جانوروں کی تعداد میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ جس سے اچھی نسل کے کم عمر بکرے ہر سال اچھی منڈی سے خرید کر ان کی پرورش کرکے عید قربان پر فروخت کرسکتے ہیں۔

قربانی کے جانور اپنے علاقے کی معاشی صورتحال کے مطابق قیمت دیتے ہیں۔ پنجاب کے دیہی علاقوں میں زیادہ تر بیس سے پچیس ہزار تک ہی کے جانور خریدے جاتے ہیںِ ۔شاذونادر ہی چالیس سے پچاس ہزار تک کا جانور خریدا جاتا ہے۔ چھوٹے شہروں میں پچیس سے تیس ہزار تک کا جانور خریدا جاتا ہے۔ جبکہ بڑے شہروں میں پنتیس سے چالیس تک کا جانور خرید جاسکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ایک اچھی نسل کو وی آئی پی طریقے سے پالنے پر دس ہزار سے بارہ ہزار روپے خرچہ ایک سال کے اندر آتا ہے۔

اس لیے بکریوں فارمنگ شروع کرنے سے پہلے فروخت کے لیے علاقے کی معاشی صورتحال کا جائزہ لینا بھی بہت ضروری ہے۔ کہ لوگ مہنگا جانور خرید سکتے بھی ہیں یا نہیں۔ عام طور بکریوں فارمنگ میں ٹیڈی بکری کا کراس بتیل بکرے سے کروا لیا جاتا ہے ۔ اور اس سے حاصل ہونے والا جانور ٹیڈی جانور سے قد میں تھوڑا بڑا لیکن بتیل سے کم ہوگا۔ اور ایسا جانور دوغلا کہلاتا ہے۔ یہ جانور مناسب قیمت پر فروخت ہوجاتا ہے۔ اور ایسے جانور کو پالنے پر زیادہ اخراجات بھی نہیں آتے

اگر آپ کے پاس اپنی ذاتی زمین ہے اور مناسب سرمایہ ہے اور وقت ہے تو پھر یہ کام شوق سے کریں۔ اگر زمین اور سرمایہ تو ہے لیکن خود کوئی نوکری یا کاروبار کرتے ہیں تو پھر ایسے ملازم کا انتخاب کریں جو کام چھوڑ کر نہ بھاگے۔ زمینداری کے کاموں میں ورکر کا ہر وقت موجود ہونا بہت ضروری ہے، ورکر آپ کے فارم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتا ہے۔ اگر کسی وقت ورکر بھاگ جائے اور آپ خود فارم پر کام نہ کرسکیں تو پھر سمجھیں کام ختم ، سرمایہ خلاص

اگر آپ اپنے فارم پر خود کام کریں تو اس سے اچھی بات اور کوئی نہیں۔ جس آپ کا تجربہ بھی بڑھے گا، اور ذہنی سکون بھی رہے گا ، اور اچھا منافع بھی حاصل ہوگا۔

بکریوں فارمنگ پارٹ ٹائم فارمنگ نہیں یہ فل ٹائم فارمنگ ہے۔ جو دوست بکریوں فارمنگ کی طرف آنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے بکریوں فارمنگ کی روٹین کو سمجھیں ، بکریوں فارمنگ کی ضروریات کو سمجھیں پھر اس پر خوب خوب سوچیں۔ سیانے کہتے ہیں کہ جو بھی کام کیا جاتا ہے اس کی کامیابی نسلوں کو سنوار دیتی ہے۔ اگر آپ فارمنگ میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس کوپندرہ سے بیس سالوں میں زیادہ سے زیادہ بڑھا لیتے ہیں۔ آج آپ نے دس سے بیس جانوروں سے آغاز کیا ، اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ، اور اس کاروبار میں اضافے کے ساتھ ہی آپ کو زیادہ ورکروں کی ضرورت ہوگی۔

تو اگر اچھے طریقے سے اس کو چلایا گیا ہوگا تو اسی فارم کو گورنمنٹ سے بطور سنگل پرسن کمپنی رجسٹرڈ کرویا جاسکتا ہے۔ اگر آپ پانچ سے دس سال کامیاب فارمنگ کرلیتے ہیں اور مناسب تجربہ ہوجاتا ہے ، مناسب بنک بیلنس کے مالک ہوجاتے ہیں تو آپ بطور وزیٹر کسی بھی ملک کا ویزہ باآسانی حاصل کرسکتے ہیں۔

بکریوں فارمنگ ایک ایسا بزنس بن سکتا ہے جو آپ کو پوری دنیا کی سیر کروا سکتا ہے۔ آپ کا فارم آپ کو دنیا کے ہرکونے میں لے جاسکتا ہے۔ یہ کوئی ناممکن کام نہیں۔ بس ضرورت کس بات کی ہے، ضرورت اس بات کی کہ آپ درست وقت پر درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کریں۔

بکریوں پروڈکشن کرنے والے فارمر کے لیے دنیا کے دروازے کھلے ہیں۔ اگر وہ ان کی شرائط پر پورے اُترتے ہوں تو۔ میں آپ کو خواب نہیں دکھلا رہا بلکہ ایک خواب کی تعبیر پانے کے رستے کی نشان دھی کررہا ہوں۔ کہ گاؤں دیہات میں رہنے والے پڑھے لکھے دوست اگر کم از کم پانچ سال تک کامیاب بکریوں فارمنگ کرلیتے ہیں اور فارم بنانے کے دو سال کے بعد گورنمنٹ سے فارم بطور ایک پروڈکشن کمپنی رجسٹرڈ کروالیتے ہیں۔ تو پھر دنیا کی سیر ان کے لیے ناممکن نہیں۔

دوستو! حلال گوشت کی دنیا میں بہت ہی زیادہ ڈیمانڈ ہے۔ حلال گوشت کی دنیا کو بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ایسے فارمر جن کے پاس مناسب مقدار میں زمین ہے اگر نہ ہوتو ٹھیکے پر بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اور ابتدائی طور مناسب سرمایہ موجود ہے ، تو پھر بکریوں فارمنگ سے منافع حاصل کرنے سے آپ کو کوئی نہیں روک سکتا ۔

اگر آپ بکریوں فارمنگ کے کاروبار کو سنجیدگی کے ساتھ شروع کرنے کا ارادہ کر چکے ہیں اور آپ کے پا س کم ازکم ایک سے دو ایکڑ اراضی موجود ہے، اور چار سے پانچ لاکھ کا سرمایہ موجود ہے ، تو پھر یہ تحریر آپ کے لیےہے، دنیا کے دروازے آپ پر کھلنے کے لیے تیار ہیں۔

18/09/2020

گوٹ فارمنگ کی ناکامی کی وجوہات
1۔ موبائل 10 ہزار روپے کا خریدتے ہیں تو اس کے نا معلوم فنکش لوگوں کے پاس جا کر سیکھتے ہیں ۔ 10 لاکھ روپے کی بکریاں لیتے ہیں تو کسی کے پاس سیکھنے کے لئے نہیں جاتے۔ جب تک نقصان نہ ہو جائے اس وقت تک کسی سے کچھ نہیں پوچھتے۔
2۔ مذہب اور دنیا کے بارے غیر متوازی خیالات ۔۔۔ مثال کے طور پر جب گوٹ فارمنگ شروع کرتے ہیں تو کہتے ہیں یہ پیغمبری پیشہ ہے۔ ہم سنت سمجھ کر کر رہے ہیں ۔ اصل میں یہ ہمارا جھوٹ ہوتا ہے ۔ ہم صرف دنیاوی منفعت کےلئے کرتے ہیں ، رنگ چڑھاتے ہیں سنت کا ۔ تو پھر نہ ادھر کے رہتے ہیں اور نہ ادھر کے ۔ حلانکہ قرآن مجید کی روشنی میں واضح پیغام ہمیں دیا گیا ہے کہ پہلے اس دنیا کی بھلائی اور پھر آخرت کی بھلائی ۔
3۔ بوقت خرید بیمار جانور کو لوگ بیماری چھپانے کے لئے فوری طاقت کا ٹیکہ لگا کر جانور سیل کر دیتے ہیں ۔ آگے کیا ہو گا خود اندازہ کر سکتے ہیں
4۔ فخر ۔۔۔ طاقت و حوصلہ کی علامت ہوتی ہے ۔ مصر کے نوجوان بطور فخر اپنے آپ کو فرعون سے منسوب کرتے ہیں ۔ ابو جہل کو جب جہنم واصل کیا جا رہا تھا تو وہ کہہ رہا تھا میری گردن یہاں سے کاٹیں تاکہ پتہ چلے کہ یہ کسی سردار کا سر ہے ۔ اب ہم گوٹ فارمنگ شروع کریں تو اس پر فخر نہیں کر سکتے ۔ حوصلہ ٹوٹنے لگتے ہیں جب ہمارے لوگ ہمیں کہتے ہیں تجھے اور کام نہیں ملا ، اس سے بہتر تھا پٹرول پمپ لگاتے، شو روم بناتے ، پراپرٹی کے بزنس میں چلے جاتے ، یہ کام کرنا تھا تو والدین کے پیسے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے کیوں خرچ کرا دیئے ۔ بہر حال آپ کو فخر کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ لڑکی پی ایچ ڈی ہو لڑکا گوٹ فارمر ہو تو ان کی شادی ہماری سوسائٹی میں نہیں ہو سکتی ۔ پھر فخر کرنے کا کیا فائدہ ؟؟؟؟؟
5۔ اگر ہم 30 بکریاں خریدیں تو 10 بکریاں ہیٹ میں نہیں آتیں یا کراس ہو کر پھر جاتی ہیں ۔ 10 بکریوں کے ناکارہ ہونے سے ہمارے حوصلے زمین بوس جاتے ہیں ۔ مزید 10 بکریاں ابارشن، تھنوں کے مسائل یا بچوں کو اڈاپٹ نہ کرنا جیسے مسائل کا شکار ہوتی ہیں ۔ جو تھوڑا بہت حوصلہ بچا ہوا تھا اب وہ بھی زیرو پر آ جاتا ہے ۔
اب آخری 10 بکریاں ٹھیک ہوتی ہیں مگر حوصلہ ندارد ۔
6۔ گوٹ فارمنگ کی ناکامی میں قصابوں کا کردار بھی ہے ۔ قابل افزائش بکریوں کو دھڑا دھڑ میٹ شاپ پر ذبح کرنا۔
7۔ اگست اور ستمبر کے مہینے میں نر بکرے کا بکریوں کے ساتھ رہنا بھی گوٹ فارمنگ کی ناکامی کا بہت بڑا سبب ہے۔
8۔ دولت جمع کرنے اور بینک بیلنس بڑھانے کی خواہش بھی گوٹ فارمنگ کی ناکامی کا بہت بڑا سبب ہے ۔
9۔ بعض اوقات جب جانور کسی گھر سے خریدتے ہیں تو بیچنے والے کو مارکیٹ ریٹ معلوم نہیں ہوتا ۔ اس کی لا علمی کی وجہ سے وہ جانور ہم سستا خرید لیتے ہیں باوجود اس کے کہ ہمیں تو مارکیٹ ریٹ معلوم تھا۔ بعد میں جب اسے سستا جانور بکنے کا علم ہو جائے گا تو غالب امکان ہے وہ ہمیں گالی اور بد دعا دے گا۔ اسی طرح جب ہم جانور بیچتے ہیں تو خریدار کو کہتے ہیں یہ نسلی جانور ہے ، بننے والا جانور ہے ، قربانی پر 50 ہزار کا بن جائے گا ۔ پھر جب قربانی آتی ہے تو وہ جانور 25 ہزار روپے کا بمشکل سیل ہوتا ہے۔ غالب امکان ہے وہ ہمیں گالی اور بد دعا دے گا ۔
جسے طرفین سے بد دعا اور گالیاں ملیں وہ گوٹ فارمر بھلا کامیاب ہو سکتا ہے ۔
10۔ دنیا بھر میں جن کے پاس بڑے ریوڑ ہیں وہ ان سے سکون حاصل کرتے ہیں ۔ وہ جانوروں کے پاس قرآن مجید یا بائبل یا وظائف پڑھتے ہیں ۔ ہمارا معاملہ مختلف ہے ریوڑ اور جانوروں سے کوئی سکون نہیں ملتا۔ جب ریوڑ سے جانور بیچتے ہیں تب ہمیں سکون ملتا ہے ۔ یہ بھی گوٹ فارمنگ کی ناکامی کی وجہ ہے۔
11۔ محکمہ امور حیوانات، مویشی ہسپتال اور مویشی ڈسپنسریاں گوٹ فارمنگ کی ناکامی میں برابر کے شریک ہیں ۔
(باتیں اور وجوہات اور بھی بہت ہیں ۔۔۔

15/09/2020

الحمدللہ عباسی گوٹ فارم کی پہلی آن لائن ڈیل کامیاب رہی محمّد عابد سے فرام کوہیٹہ

08/09/2020

اسلام علیکم آزاد کشمیر میں گوٹ فارمینگ سٹارٹ کی ہے آل آزاد کشمیر پنڈی اسلام آباد انشاللہ کارگو کی سہولت موجود ہوگا طالب دعا

Address

Sohawa Shriff Jahala T**a Dhirkot Bagh Azad Kashmir
Bagh
00923028918575

Telephone

+923354222175

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abbasi goats farm Dhirkot bagh Ak posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share