29/05/2026
سات ماہ کا سکون بھرا سفر
گزشتہ سال پندرہ اکتوبر کو خیر پور ڈاہا ہائی سکول میں بطور سینئر ہیڈ ماسٹر میرا تبادلہ ہوا ۔ اپنے گھر کوٹلہ موسیٰ خان سے سکول کا یہ سفر اور دَور بہت پُر سکون اور پُر مسرت لگتا رہا ہے ۔
چودہ پندرہ کلومیٹر کے اس سفر میں بیٹے وقاص کے ساتھ بائیک پر میں سکون سے بیٹھا ماحول کی رعنائیوں اور جمالِ فطرت سے اپنی آنکھوں کو طراوت دیتا رہتا ۔ کھلی فضا ، ارد گرد لہلہاتی مختلف فصلیں، راستے میں موجود باغات ، دور و نزدیک ، چھوٹے بڑے اشجار ، مشرق کی جانب نوزائیدہ ، معصوم ، گول مٹول ، سرخ سورج ۔۔جو درختوں کے پیچھے چھپتا ، شرماتا ، لیکن سارا راستہ اپنی جھلکیاں دکھلاتا ۔۔۔ اسی سرخ سورج کی شعاعیں مسجدوں کے کلس پر پڑتی اور چمکتی دکھائی دیتیں تو مسجد کے مینار اور کلس مینارۂ نور نظر آتے ۔ اس سفر میں شاید ہی کوئی جگہ ایسی ہو جہاں مسجد نظر نہ آتی ہو۔ دور و نزدیک ۔۔کہیں نہ کہیں چھوٹی بڑی مسجد اس سارے سفر میں ضرور نظر آ جاتی ہے ۔
کوٹلہ سے ڈاہا روڈ پر عموماً اور بالخصوص صبح صبح ٹریفک بہت کم ہوتی ہے۔ اس روڈ کے اطراف و جوانب میں زیادہ تر لوگ غریب اور دیہاتی ہیں ۔ چہرے ، حلیے اور رویے سے یہ لوگ مجھے صدیوں پرانے لگتے ہیں ۔تاریخ کا طالب علم اور کم حوصلہ ہونے کی وجہ سے مجھے جدت ، تصنع ، تکلف اور ریاکاری سے زیادہ قدامت ،سادگی اور سچائی میں کشش زیادہ محسوس ہوتی ہے ۔ کچے پکے مکانات ، سادہ مزاج ، سادہ لباس ، حرص و ہوس سے بے نیاز لوگ اس راستے میں بہت ملتے ہیں ۔ اب کہیں کہیں بڑی اور اونچی کوٹھیاں بننا شروع ہو گئی ہیں لیکن ان کی قیمت یہاں سے سعودی عرب ، دبئی وغیرہ جانے والے نوجوان ادا کر رہے ہیں جو پردیس میں اپنوں سے دور ہیں۔ اپنے جذبات دل میں دبا کر ، آنکھوں میں آنسو چھپا کر اپنے پیاروں کو سہولیاتِ زندگی فراہم کرنے کے لئے کئی کئی سال سے وہاں مقیم ہیں۔ کاش کہ میرے پاکستان میں روزگار ہوتا تو یہ لوگ دیارِ غیر کے اجنبی ماحول میں دوسرے درجے کے شہری نہ بنتے ، اپنے ملک میں اعتماد اور احترام سے رہتے ۔۔ اپنوں میں بستے ۔۔۔
میں بہت کمزور دل ہوں ۔ گھر سے دور جانے کا سوچ کر دل ڈوبنے لگتا ہے ۔ میں اس بات سے متفق ہوں کہ زندگی اپنوں میں گزرے وقت کا نام ہے ۔ باقی محض ماہ و سال کی گنتی ہے ۔ سر پر چھت ، سادہ سی خوراک ، تن ڈھانپنے کے لئے لباس ، چھوٹا موٹا روزگار ، صحت کی دولت ، اپنوں کی قربت ۔۔۔۔ تو پھر کیسی غربت ۔۔۔ مزید کس چیز کی حاجت؟
سات ماہ کے سفر میں سڑک کنارے ایک چھوٹی سی کوٹھڑی، ساتھ ایک درخت ، ایک چارپائی پر بیٹھے یا کبھی لیٹے ایک بوڑھے کو میں ضرور دیکھتا جاتا ہوں جو سڑک سے گزرنے والی ہر سواری کو دیکھتا رہتا ہے ۔ اس کے چہرے پر مجھے سکون نظر اتا ہے جیسے اسے زندگی کے فلسفے کی سمجھ آ گئی ہو کہ بہت زیادہ بھاگ دوڑ اور ہوس کا کوئی فائدہ نہیں ، بالآخر انسان تھک جاتا ہے ۔ یا شاید وہ اپنی جوانی ، توانائی ، خواہشات کے عروج کو یاد کر رہا ہوتا ہے لیکن مجھے اس کے جھریوں بھرے چہرے اور بوڑھی آنکھوں میں مزید کوئی خواہش یا رمق نظر نہیں آتی ۔۔
راستے میں ایک چھابڑی نما دکان پر بیٹھا ادھیڑ عمر بندہ دیکھ کر میں اکثر سوچنے لگ جاتا ہوں کہ یہ گھر کی ضروریات کیسے پوری کرتا ہو گا لیکن وہ توکل کی تصویر بنا بیٹھا ہوتا ہے ۔ شاید وہ خواہشات کی بجائے صرف ضروریات کو ضروری اور کافی سمجھتا ہو گا ۔
اسی راستے میں سی پیک بھی آتا ہے ۔ سی پیک کے نیچے کی دنیا میں آہستگی اور سادگی غالب ہے جبکہ اوپر سی پیک پر بڑی بڑی ، خوب صورت اور بیش قیمت گاڑیاں تیزی سے آتی جاتی نظر آتی ہیں ۔ یہاں مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں دو مختلف زمانوں اور دنیاؤں کو دیکھ رہا ہوں ۔۔ سوچتا ہوں کہ یہ دونوں مختلف جہان ہیں ۔ شاید دونوں طرف کے لوگ ایک دوسرے کو رشک سے دیکھتے ہوں گے ۔ دونوں کی محرومیاں اور مزے الگ الگ ہیں ۔۔ اور انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا ۔
اس راستے میں بس کا انتظار کرتے میرے سکول کے اٹھکھیلیاں کرتے ، ہنستے مسکراتے بچے بھی جا بجا ہوتے ہیں۔ کاش کہ وقت ٹھہر جائے اور یہ معصوم ہمیشہ یونہی خوش باش رہیں ۔ لیکن وقت رکتا نہیں ۔ کچھ سالوں بعد یہ عملی زندگی میں آ جائیں گے ۔ ان کی معصومیت اور مسکراہٹ غائب ہو جائے گی کیونکہ نئی نسل کے مستقبل کا سوچ کر میرا دل کانپ اٹھتا ہے۔ جب ہماری بائیک ان بچوں کے قریب پہنچتی ہے تو وہ اپنے ہیڈ ماسٹر کو دیکھ کر بڑے مؤدب ہو جاتے ہیں ۔ ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے ہیں ۔ میں اپنا ہاتھ ہلا کر ان کی محبتوں اور سلام کا جواب دیتا ہوں ۔ یہ وقت اور منظر مجھے بہت سکون اور اطمینان دیتا ہے کہ ہمارے دیہاتی طلباء میں ابھی تک پرانی اقدار کسی حد تک باقی اور برقرار ہیں ورنہ استاد شاگرد (پیر مرید ) کا رشتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے ۔
اسی راستے میں حضرت حافظ کمال صاحب کا مزارِ پُر انوار ہے جن سے مجھے دلی انسیت اور عقیدت ہے ۔ آتے جاتے سڑک سے انہیں سلام کرنا ، جہاں تک ہو سکے اس مزار کو دیکھتے جانا میرے دل کو سکون بخشتا ہے ۔
میں خیر پور ڈاہا خزاں کے موسم میں گیا ، سردی اور دھند میں لپٹے سفر کئے ، بہار میں نئی کونپلیں اور غنچے نکلتے دیکھے ، اب حرارت کی حدت اور شدت کی وجہ سے تعطیلات ہیں ۔۔ یعنی چاروں موسموں کے رنگ دیکھ لئے ہیں لیکن اس سفر کے آتے جاتے اوقات میں دل کا موسم ہمیشہ قوسِ قزح جیسا لگتا ہے ۔ کیونکہ سفر بھی بہت پُرکیف و پُرلطف ہے ۔ منزل بھی بہت پُرامن اور پُرسکون ہے ۔ خیر پور ڈاہا سکول میں خیر ہی خیر ہے ۔ ٹیچر دوست بہت پیارے ہیں اور طالب علم معصوم ۔۔۔ جن کے چہرے ،ظاہری حالات ان کے لئے ہم سب کو پُرجوش اور متحرک بنا دیتے ہیں کہ انہیں مستقبل میں ملازمتیں دینا ہمارے بس میں نہیں ، انہیں امید ، حوصلہ ، تعلیم ، تربیت ، اچھائی کی طرف رغبت دینا تو ہمارے بس میں ہے ۔