14/06/2026
" ماربل انڈسٹری ایک بارپھر اپنے پرانے ڈگر پر"
یہ ان دنوں کی بات ہے ،
جب کچھ عرصہ پہلے انڈسٹری کے ہر سیکٹر میں ایک بحرانی کیفیت تھی،
اور دنوں کے حساب سے ہر انڈسٹریل سیکٹر میں کارخانوں کی تالا بندی جاری تھی۔
اس بحران کی بنیادی وجوہات میں ،ملک میں ایک عرصے سے جاری سیاسی و معاشی بحران تھا ،
ساتھ بجلی کے بلوں میں بے تحاشا اضافہ،اور ملک میں کاروباری مندی ،اور پروڈکشن کاسٹ زیادہ ہونے اور قمیتں نہ ہونے سے آئے روز کارخانے بند ہورہے تھے۔
دیگر سیکٹر کے صحیح اعداد شمار تو میرے علم میں نہیں،لیکن ہمارے ماربل سیکٹر بالخصوص خیبر پختون خواہ کے حدتک ہمارے پاس جو صحیح اعداد شمار تھے ۔
ان کے مطابق ماربل سیکٹر کی 50٪ انڈسٹری بحران کا شکار ہوکر بند ہوگئ تھی۔
چوٹی کے لوگ کا حصہ ہونے کیوجہ سے ہم صوبے سطح پر انڈسٹری کو بحران نکالنے کیلئے آئے روز مٹینگز کیا کرتے تھے۔
جس میں مختلف آپشنز پر غور و خوض ہوا کرتا تھا۔
تین مہینے تک مسلسل میٹنگز کے بعد ہم ایک ممکن حل پر جاپہنچے ،جن میں مختلف اقدامات جیسے ،مال کے ریٹ میں اضافہ،سنگل شفٹ،
اور انڈسٹری کو تین چار پروڈکٹ میں مساوی طور پر تقسیم کرنا تھا۔ جس میں ماربل ٹائلز ،پٹی،اور گرینائٹ میں ایک توازن برقرار رکھنا تھا۔تاکہ لوکل مارکیٹ میں پروڈکشن کا ایک توازن برقرار رہے ،اور قیمتوں میں استحکام ہو۔
اس دوران انڈسٹریل سولرائزیش بھی ساتھ چل پڑی ،جس نے انڈسٹری کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں کافی حد تک مدد کی۔
اور یوں صوبے کی ساری انڈسٹری ملک میں ناسازگار کاروباری ماحول ہونے کے باوجود چل پڑی۔
ان حالات میں صوبے کے سرمایہ کاروں نے سکھ کا سانس لیا ،اور انڈسٹری مکمل دیوالیہ ہونے سےبچ گئ۔
انڈسٹری کی سولرائیزیش جس پر انڈسٹری کے بنیادی انفرسچکٹر کے قریب لاگت آرہی تھی۔
میں نے مختلف میٹنگز میں اپنے لوگوں کوبتایا ۔
کہ اگر ہمارا کاروباری طریقہ کار ٹھیک نہیں ہوگا
تو مجھے ڈر ہے ،کہ یہ انڈسٹری سولرائیزیش کے باوجود بھی بحران کا شکار ہو جائے گی۔
جمعرات کے دن میں ذاتی کام سے صوبے کےایک بڑے انڈسٹریل اسٹیٹ گیا ،
جہاں کارخانہ دار زیادہ تر ماربل ٹائلز تیار کررہے ہیں،اور وہ سب سے سستے ائیٹمز سنی گرے اور بادل کاٹ رہے ہیں۔
تو انہوں نے مجھے بتایا ،کہ ہمارا خام مال اتنا مہنگا ہوگیاہے،کہ جو بجلی کی بچت ہمیں سولر پلانٹ دے رہا تھا ۔ وہ خام مال کی قیمتوں اور گاڑیوں کے کرایوں میں چلاگیا ہے ۔
اور ہمیں واضح نظر آرہا ہے ،کہ انڈسٹری سولرائزیش سمیت بحران کا شکار ہورہی ہے۔
اس بات پر مزید تحقیق کیلئے میں نےچوٹی کے کچھ کارخانہ داروں سے بھی رابط کیا۔
جنہوں نے بھی اس بات اور بحران کی تصدیق کردی۔
کہ انڈسٹری ایک بار پھر زوال پذیر ہونے کی جانب گامزن ہے ۔
جب اس سارے صورت حال کا باغور جائزہ لیا۔
تو انڈسٹری کا بڑا ہونے کے ناطے یہ ضرور سمجھا ،کہ اپنے کارخانہ دار بھائیوں کو بروقت اس خطرے سے آگاہ کیا جائے ۔
تاکہ بحران کا شکار ہونے سے پہلے سدباب ممکن ہوسکے ۔
مجھے یہ بھی بتایا گیا ،کہ ایک آدھے مہینے میں کئ کارخانے جن پر سولر نصب ہیں ،اس بحران کی وجہ سے بند ہوگئے ہیں۔
اعجاز الحق