SYM tech

SYM tech Builds fast, secure software for modern businesses. Services
• Custom software development
• Web applications
• Computer networking solutions
• CCTV systems

پاکستان میں غربت کیوں؟ آنکھیں کھول دینے والی تحقیق 15 خوفناک وجوہاتہمارے معاشرے کے گریبان میں جھانکتی ہوئی ۱۵ بے رحم وجو...
18/05/2026

پاکستان میں غربت کیوں؟
آنکھیں کھول دینے والی تحقیق
15 خوفناک وجوہات
ہمارے معاشرے کے گریبان میں جھانکتی ہوئی ۱۵ بے رحم وجوہات، جو بتاتی ہیں کہ یہاں کا عام آدمی غربت کے دلدل سے کیوں نہیں نکل پاتا۔ یہ میٹھی باتیں نہیں، کڑوی گولیاں ہیں۔اس کو پڑھنے سے پہلے دل پر ہاتھ رکھ لیں۔
۱۔ "سرکاری نوکری" کا نشہ
پاکستانی نوجوان کی جوانی کے بہترین ۱۰ سال "سرکاری نوکری" کے انتظار میں گل سڑ جاتے ہیں۔ وہ پچیس ہزار کی پرائیویٹ نوکری یا چھوٹا کاروبار کرنے کو توہین سمجھتے ہیں اور ۳۰ سال کی عمر تک والدین کے ٹکڑوں پر پلتے ہیں۔ نتیجہ؟ جب ہوش آتا ہے تب تک وقت اور عمر دونوں ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔
۲۔ دکھاوے کی شادیاں (امیروں کی نقل)
جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں، مگر شادی پر ۱۰ لاکھ کا کھانا اور ۵ لاکھ کا جہیز دینا "ناک" کا مسئلہ ہے۔ یہ قوم اپنی زندگی کی کل جمع پونجی صرف ۴ گھنٹے کی تقریب میں لوگوں کو کھانا کھلا کر برباد کر دیتی ہے، اور پھر اگلے ۵ سال قرضہ اتارتی رہتی ہے۔
۳۔ ڈگری زدہ جاہل
ہاتھ میں ماسٹرز کی ڈگری ہے مگر ایک پروفیشنل ای میل لکھنی نہیں آتی۔ ہمارے تعلیمی نظام نے صرف "نوکر" پیدا کیے ہیں، ہنر مند نہیں۔ ڈگری کو قابلیت سمجھنا سب سے بڑی بیوقوفی ہے، کیونکہ مارکیٹ ڈگری کو نہیں، "سکل" (Skill) کو پیسے دیتی ہے۔
۴۔ ایک کمائے، دس کھائیں
مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family) کی یہ کڑوی سچائی ہے کہ اگر ایک بھائی کمانے لگ جائے تو باقی سب "پیر پسار" کر لیٹ جاتے ہیں۔ یہاں "Parasite" (مفت خورے) بننے کا رواج ہے، جس کی وجہ سے کمانے والا بھی کبھی امیر نہیں ہو پاتا کیونکہ اس کا پیسہ سرمایہ کاری میں نہیں، دوسروں کا پیٹ بھرنے میں لگ جاتا ہے۔
۵۔ کمیٹی کلچر (مردہ پیسہ)
پاکستانیوں کو انویسٹمنٹ سے ڈر لگتا ہے مگر "کمیٹی" ڈالنے کا شوق ہے۔ کمیٹی "مردہ پیسہ" (Dead Money) ہے۔ دو سال بعد جو ایک لاکھ ملے گا، مہنگائی کی وجہ سے اس کی قدر ۶۰ ہزار رہ چکی ہوگی۔ یہ بچت نہیں، اپنے پیسے کی قدر گرانے کا طریقہ ہے۔
۶۔ انا کا بت (میں یہ کام کروں گا؟)
"میں چوہدری کا بیٹا ہوں، میں ریڑھی لگاؤں گا؟"
اس جھوٹی انا نے لاکھوں گھر اجاڑ دیے۔ یہاں لوگ بھوکے مر جائیں گے لیکن کوئی چھوٹا کام شروع کرنے میں شرم محسوس کریں گے۔ یاد رکھیں، کام چھوٹا نہیں ہوتا، بندے کی سوچ چھوٹی ہوتی ہے۔
۷۔ صحت کی تباہی (خودکشی)
ہم وہ قوم ہیں جو ۴۰ سال کی عمر تک تیل اور چینی ٹھونس کر اپنا جسم برباد کرتے ہیں اور پھر ۵۰ سال کی عمر کے بعد اپنی ساری کمائی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو دے دیتے ہیں۔ صحت کو نظر انداز کرنا غربت کا سیدھا راستہ ہے۔
۸۔ شارٹ کٹ کی تلاش
ہمیں امیر بننا ہے، لیکن محنت کے بغیر۔ کبھی ڈبل شاہ، کبھی کرپٹو کے فراڈ اور کبھی لاٹری۔ پاکستانی قوم پروسیس (Process) پر یقین نہیں رکھتی، اسے "معجزہ" چاہیے۔ اور معجزے کے انتظار میں نسلیں غریب رہ جاتی ہیں۔
۹۔ الزام تراشی (Victim Mentality)
"حکومت خراب ہے، نواز شریف کھا گیا، عمران خان نے کیا کر لیا، فوج نہیں چھوڑتی۔۔۔"
یہ وہ چُورن ہے جو ناکام لوگ روز بیچتے ہیں۔ یہ ماننے کے بجائے کہ "میں نالائق ہوں"، وہ اپنی ناکامی کا ملبہ سسٹم پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔
۱۰۔ ادھار پر عیاشی
ہم وہ لوگ ہیں جو "آئی فون" قسطوں پر لیتے ہیں تاکہ ان لوگوں کو متاثر کر سکیں جو ہمیں پسند بھی نہیں کرتے۔ غیر ضروری چیزوں (Liabilities) کے لیے قرض لینا مالی خودکشی ہے، جو یہاں کا ہر دوسرا بندہ کر رہا ہے۔
۱۱۔ سیکھنا بند (The Know-it-all)
ڈگری ملتے ہی کتاب بند۔ پاکستانی اوسطاً سال میں ایک کتاب بھی نہیں پڑھتا۔ جب آپ اپنے دماغ پر انویسٹ کرنا بند کر دیتے ہیں، تو آپ کی جیب خود بخود خالی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
۱۲۔ اولاد بطور انشورنس پالیسی
غربت کی ایک بڑی وجہ "بے تحاشا بچے" ہیں۔ غریب آدمی بچے اس لیے پیدا کرتا ہے کہ "یہ بڑے ہو کر کمائیں گے"۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ وسائل کے بغیر پلنے والے بچے "سرمایہ" نہیں، معاشرے اور والدین پر "بوجھ" بنتے ہیں۔
۱۳۔ رسک فوبیا (Risk Aversion)
"پیسہ ڈوب نہ جائے"۔ اس ڈر سے لوگ پیسہ بینک میں سڑنے دیتے ہیں یا پلاٹ لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ کاروبار کرنے کا، رسک لینے کا حوصلہ ہی نہیں ہے۔ اور جو رسک نہیں لیتا، وہ کبھی ترقی نہیں کرتا۔
۱۴۔ حاسدانہ رویہ
امیر آدمی کو دیکھ کر یہ سیکھنے کے بجائے کہ "یہ کیسے امیر ہوا؟"، ہم کہتے ہیں "ضرور حرام کا کمایا ہوگا۔" امیروں سے نفرت کر کے آپ کبھی امیر نہیں بن سکتے، کیونکہ لاشعوری طور پر آپ وہ بننا ہی نہیں چاہتے جسے آپ برا سمجھتے ہیں۔
۱۵۔ وقت کا قتلِ عام
چائے کے ڈھابوں پر گھنٹوں سیاست پر بحث، ٹک ٹاک پر اسکرولنگ اور فضول محفلیں۔ غریب آدمی کے پاس پیسے کے علاوہ سب سے قیمتی چیز "وقت" ہوتی ہے، اور وہ اسی کو سب سے زیادہ بے دردی سے ضائع کرتا ہے۔
اپنی بدحالی کا ملبہ حکومت یا تقدیر پر ڈالنا بند کریں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی جیب خالی نہیں بلکہ آپ کا دماغ بنجر ہے۔ جب تک آپ اپنی ”جھوٹی انا“ اور ”سستی“ کا جنازہ نہیں نکالیں گے، غربت آپ کی نسلوں کو اسی طرح چاٹتی رہے گی۔

18/05/2026

# # **🌹 اَلسَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُه 🌹**
**" صَلُّوا عَلَیہِ وَآلِهٖ "**
# # # **🇵🇰 پاکستان کا مطلب کیا؟**
✨ **لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُو٘لُ اللّٰه** ✨
# # # **📜 حدیثِ مبارکہ**
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ **رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:**
> ’’کوئی دن ایسے نہیں جن میں کیا ہوا عمل اللہ کو ان دنوں (میں کیے ہوئے اسی عمل) سے زیادہ محبوب ہو۔‘‘ یعنی ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں۔
>
صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں؟
فرمایا:
> ’’اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں! مگر جو شخص اپنی جان اور اپنا مال لے کر (جہاد میں) نکلا، پھر کچھ بھی لے کر واپس نہ آیا‘‘۔
>
*(اَو٘ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰه ﷺ)*
📚 **(سُنن ابن ماجہ: 1727)**
# # # **📅 آج کا کیلینڈر**
* **🌙 ہجری تاریخ:** 01 ذوالحجہ 1447ھ
* **📅 عیسوی تاریخ:** 18 مئی 2026ء
* **🌾 دیسی تاریخ:** 05 جیٹھ 2083ب
* **🗓️ دن:** پیر (Yom-ul-Ithnayn / Monday)

پاکستان میں ذی الحج کا چاند نظر آگیا، ذی الحج کا دیکھنے کے لیے مرکزی  رویت  ہلال کمیٹی کا  اجلاس کراچی  میں ہوا جس کی ص...
17/05/2026

پاکستان میں ذی الحج کا چاند نظر آگیا، ذی الحج کا دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں ہوا جس کی صدارت چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد نے کی، اجلاس میں مرکزی و زونل رویت ہلال کمیٹی کےارکان، محکمہ موسمیات اور سپارکو کے ماہرین بھی شریک ہوئے۔
خیبر پختونخوا سے چاند دیکھنے کی 3 شہادتیں موصول ہوئیں،

نیکی کا چسکا :حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ دروازہ رسول اللہ ﷺ پر کلمہ پڑھنے آئے مسلمان ہونے کے بعد نبی کریم علیہ السلام کی بارگ...
16/05/2026

نیکی کا چسکا :
حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ دروازہ رسول اللہ ﷺ پر کلمہ پڑھنے آئے مسلمان ہونے کے بعد نبی کریم علیہ السلام کی بارگاہ میں عرض کرنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بات پوچھنی ہے حضور نے فرمایا پوچھو کہنے لگے یا رسول اللہ دور جاہلیت میں ہم نے جونیکیاں کی ہیں، ان کا بھی اللہ ہمیں آجر عطا کرے گا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اسکا بھی آجر ملے گا تو نبی کریمﷺ نے فرمایا تو بتا تو نے کیا نیکی کی تو کہنے لگے یا رسول اللہﷺ میرے دو اونٹ گم ہوگئے میں اپنے تیسرے اونٹ پر بیٹھ کراپنے دو اونٹوں کو ڈھونڈنے نکلا میں اپنے اونٹوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جنگل کے اس پار نکل گیا جہاں پرانی آبادی تھی وہاں میں نے اپنے دو اونٹوں کو پا لیا ایک بوڑھا آدمی جانوروں کی نگرانی پر بیٹھا تھا اس کو جا کر میں نے بتایا کہ یہ دو اونٹ میرے ہیں، وہ کہنے لگا یہ تو چرتے چرتے یہاں آگئے تھے تمہارے ہیں تولے جاؤ انہی باتوں میں اس نے پانی بھی منگوا لیا چند کھجوریں بھی آ گئی میں پانی پی رہا تھا کھجوریں بھی کھا رہا تھا کہ ایک بچے کی رونے کی آواز آئی تو بوڑھا پوچھنے لگا بتاؤ بیٹی آئی کہ بیٹا۔ میں نے پوچھا بیٹی ہوئی تو کیا کرو گے کہنے لگا اگربیٹا ہوا تو قبیلے کی شان بڑھائے گا اگر بیٹی ہوئی تو ابھی یہاں اسے زندہ دفن کرا دوں گا اس لیے کہ میں اپنی گردن اپنے داماد کے سامنے جھکا نہیں سکتا میں بیٹی کی پیدائش پر آنے والی مصیبت برداشت نہیں کر سکتا میں ابھی دفن کرا دوں گا حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات سن کے میرا دل نرم ہوگیا میں نے اسے کہا پھر پتہ کرو بیٹی ہے کہ بیٹا ہے اس نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ بیٹی آئی ہے میں نے کہا کیا واقعی تو دفن کرے گا کہنے لگا ہاں ! میں نے کہا دفن نہ کر مجھے دے دے میں لے جاتا ہوں یا رسول اللہ صلی علیہ وسلم وہ مجھے کہنے لگا اگر بچی تمہیں دے دوں تو تم کیا کرو گے میں نے کہاتم میرے دو اونٹ رکھ لو بچی دے دو کہنے لگا نہیں دو نہیں یہ جس اونٹ پہ تو بیٹھ کے آیا ہے یہ بھی لے لیں گے حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ عرض کرنے لگے ایک آدمی میرے ساتھ گھر بھیجو یہ مجھے گھر چھوڑ آئے میں یہ اونٹ اسے واپس دےدیتا ہوں ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے تین اونٹ دےکے ایک بچی لی اس بچی کو لاکے میں نے اپنی کنیز کو دیا نوکرانی اسے دودھ پلاتی یا رسول اللہ وہ بچی میرے داڑھی کے بالوں سے کھیلتی وہ میرے سینے سے لگتی حضور پھر مجھے نیکی کا چسکا لگ گیا پھر میں ڈھونڈنے لگا کہ کون کون سا قبیلہ بچیاں دفن کرتا ہے یا رسول اللہ میں ڈھونڈنے لگا میں تین اونٹ دے کے بچی لایا کرتا یا رسول اللہ میں نے 360 بچیوں کی جان بچائی ہے میری حویلی میں تین سو ساٹھ بچیاں پلتی ہیں حضور مجھے بتائیں میرا مالک مجھے اس کا اجر دے گا؟ کہتے ہیں حضور کا رنگ بدل گیا داڑھی مبارک پر آنسو گرنے لگے مجھے سینے سے لگایا میرا ماتھا چوم کے فرمانے لگے یہ تو تجھے اجر ہی تو ملا ہے رب نے تجھے دولت ایمان عطا کر دی ہے نبیﷺ فرمانے لگے یہ تیرا دنیا کا اجر ہے اور تیرے رسولﷺ کا وعدہ ہے قیامت کے دن رب کریم تمہیں خزانے کھول کے دے گا۔
امام طبرانی نے اس حدیث کو طبرانی میں لکھا ہے۔

16/05/2026

اگر حکومت نے تیل کی قیمتیں بڑھائی ہیں لیوی لگا کر یا چالیس پچاس فیصد یا 60 فیصد تیل پر ٹیکس بڑھا دیا تو کیا مسئلہ ہے کونسا یہ پیسہ کسی کی جیب میں جا رہا ہے یہ پیسہ قوم پر ہی خرچ ہو گا،قمرزمان کائرہ

آج کے نوجوان کا سب سے بڑا دشمن: "کنفیوژن"​آج کل ہر طرف ایک ہی شور ہے— "بزنس آئیڈیا"۔ لیکن اس شور میں جو چیز سب سے زیادہ ...
15/05/2026

آج کے نوجوان کا سب سے بڑا دشمن: "کنفیوژن"
​آج کل ہر طرف ایک ہی شور ہے— "بزنس آئیڈیا"۔ لیکن اس شور میں جو چیز سب سے زیادہ دب گئی ہے، وہ ہے ہمارے نوجوانوں کی ذہنی الجھن۔
​سچ تو یہ ہے کہ آج مواقع کی کمی نہیں، بلکہ انتخاب کی کثرت (Overload) مسئلہ بن چکی ہے۔ روز ایک نئی ویڈیو سامنے آتی ہے: کبھی ای کامرس کا جادو دکھایا جاتا ہے، کبھی کرپٹو کے خواب، تو کبھی فری لانسنگ اور رئیل اسٹیٹ کے سبز باغ۔ نتیجہ؟ ہمارا نوجوان ہر کشتی میں پاؤں رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور آخر میں وہیں کھڑا رہ جاتا ہے جہاں سے شروع کیا تھا۔
​یاد رکھیں: فوکس کا بکھر جانا ہی ناکامی کا پہلا قدم ہے۔
​کامیابی کا راز "سب کچھ کرنے" میں نہیں، بلکہ "ایک چیز کو ڈھنگ سے کرنے" میں ہے۔ دنیا کے کامیاب ترین لوگوں نے پہلے خود کو سمجھا، اپنی مہارت کو پہچانا اور پھر ایک سمت پکڑ لی۔ وہ تب تک نہیں رکے جب تک اس ایک کام میں ماہر نہیں ہو گئے۔
​بزنس صرف پیسہ کمانے کی مشین نہیں ہے، بلکہ کسی "مسئلے کا حل" ہے۔ اگر آپ مارکیٹ میں کسی کی مشکل آسان کر رہے ہیں، تو یقین مانیں پیسہ آپ کے پیچھے خود آئے گا۔
​دو بڑی غلطیاں جو ہم کر رہے ہیں:
​پرفیکٹ وقت کا انتظار: ہم سوچتے ہیں کہ جب سب کچھ ٹھیک ہوگا تب شروع کریں گے۔ بھائی! پرفیکٹ وقت کبھی نہیں آتا، اسے چھیننا پڑتا ہے۔ جو ہے، جیسا ہے، وہیں سے آغاز کریں۔
​سوشل میڈیا کا موازنہ: کسی کی "فائنل منزل" کو دیکھ کر اپنے "پہلے قدم" کا موازنہ کرنا چھوڑ دیں۔ اس چمک دھمک کے پیچھے سالوں کی محنت اور سینکڑوں ناکامیاں ہوتی ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتیں۔
​اگر آپ واقعی آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو یہ تین لفظ پلے باندھ لیں:
✅ وضاحت (Clarity): پہلے یہ طے کریں کہ کرنا کیا ہے۔
✅ مستقل مزاجی (Consistency): چاہے کچھ بھی ہو، کام نہیں چھوڑنا۔
✅ صبر (Patience): بیج آج بویا ہے تو پھل کل نہیں ملے گا۔
​کنفیوژن کے دائروں سے نکلیں اور محض سوچنے کے بجائے "عمل" شروع کریں۔ ایک چھوٹا سا قدم، جو صحیح سمت میں اٹھایا جائے، آپ کی زندگی بدلنے کے لیے کافی ہے۔
​آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا واقعی معلومات کی زیادتی نے ہمیں کنفیوز کر دیا ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

ہالینڈ کا کل رقبہ صرف 41,865 مربع کلومیٹر ہے، یعنی ہمارے خیبر پختونخوا سے بھی کم ، پاکستان سے 21 گنا چھوٹا ملک ہے۔مگر حی...
15/05/2026

ہالینڈ کا کل رقبہ صرف 41,865 مربع کلومیٹر ہے، یعنی ہمارے خیبر پختونخوا سے بھی کم ، پاکستان سے 21 گنا چھوٹا ملک ہے۔
مگر حیران کن حقیقت یہ ہے کہ ہالینڈ دنیا میں امریکہ کے بعد دوسرا سب سے بڑا زرعی چیزیں ایکسپورٹ کرنےوالا ملک ہے، اور امریکی ڈالر میں اس کا مقابلہ صرف امریکہ کرتا ہے۔ وہ جدید زراعت، بہتر بیج، اور سمارٹ واٹر مینجمنٹ سے پوری دنیا کو کھلاتے ہیں۔
دوسری طرف ہمارے پاس 21 گنا زیادہ زمین اور دریاؤں کا نیٹ ورک، کے باوجود ہم آج بھی خوراک کا تیل، کپاس اور گندم باہر سے منگوا رہے ہیں۔
فرق زمین کا نہیں، سوچ اور منصوبہ بندی کا ہے۔
اگر ہالینڈ اتنی چھوٹی زمین پر زراعت کا بادشاہ بن سکتا ہے، تو پاکستان کے پاس تو اللہ نے ہر نعمت دے رکھی ہے۔
آؤ ان چیزوں میں مقابلہ کریں۔

15/05/2026

"کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہم آج بھی ماضی کی یادوں میں قید ہیں؟"
ہم اکثر ماضی کے قصوں میں جی کر اپنے حال سے غافل ہو جاتے ہیں۔ میں ملک میں راجہ میں سید تو میں خان جب تک "خاندانی فخر" کے خ*ل سے باہر نہیں نکلیں گے، عملی زندگی میں کچھ بڑا نہیں کر سکیں گے۔
پدرم سلطان بود، ترا چہ؟(میرا باپ سلطان تھا، تم کیا ہو؟)سلطانوں کی اولاد ہونے کے سحر سے نکلیں شاید تقدیر بدل جائے۔

15/05/2026

یا اللہ
میں تیری پناہ مانگتا ہوں..!!

زبان، بیان، کلام اور قلم کے جھوٹ سے.
منافقت سے کہ باطن کچھ ہو اور دکھاؤں کچھ اور. پارسائی کے نام نہاد لبادے سے کہ پس پردہ دھوکے اور خیانت کو جائز جانوں. اور مذہب کے بے جا دنیاوی استعمال سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں....

بخل، بزدلی اور مردانگی کے زوال سے.....

15/05/2026

بکرمی کیلنڈر برصغیر کا سب سے پرانا شمسی کیلنڈر ہے، جسے پنجابی، دیسی یا جنتری کیلنڈر بھی کہتے ہیں۔ 1873

*1. آغاز اور پس منظر*
- یہ کیلنڈر 100 قبل مسیح میں ہندوستان کے راجہ *بِکرَم اجیت* کے دور میں شروع ہوا۔
- اسی وجہ سے اسے *بکرمی سال* کہتے ہیں۔
- یہ شمسی کیلنڈر ہے، یعنی مہینے سورج کی گردش کے حساب سے طے ہوتے ہیں، اس لیے ہر سال تقریباً ایک ہی عیسوی تاریخ پر آتے ہیں۔

*2. سال کا آغاز اور دن*
- سال کا آغاز *چیت* کے مہینے سے ہوتا ہے۔
- کل *365 دن* کا سال ہوتا ہے۔
- 9 مہینے 30 دن کے، 1 مہینہ 31 دن کا، اور 2 مہینے 32 دن کے ہوتے ہیں:
- *31 دن*: وساکھ
- *32 دن*: جیٹھ، ہاڑ
- *باقی 9 مہینے*: 30 دن کے

*3. 12 مہینے اور ان کا عیسوی سے تعلق*
نمبر مہینہ عیسوی تاریخ سے آغاز موسم
1 **چیت / چیتر** 14 مارچ بہار کا موسم
2 **وساکھ / بیساکھ** 14 اپریل گرم سرد، ملا جلا
3 **جیٹھ** 14 مئی گرم، لُو چلنے کا مہینہ
4 **ہاڑ / اساڑھ** 15 جون گرم مرطوب، مون سون کا آغاز
5 **ساون / ساؤن** 17 جولائی حبس زدہ، مکمل مون سون
6 **بھادوں / بھادروں** 16 اگست معتدل، ہلکی مون سون بارشیں
7 **اسو / اسوج** 16 ستمبر معتدل
8 **کاتک / کتا** 17 اکتوبر ہلکی سردی
9 **مگھر** 16 نومبر سرد موسم
10 **پوہ** 16 دسمبر سخت سردی
11 **ماگھ** 14 جنوری سخت سردی، دھند
12 **پھاگن** 13 فروری کم سردی، بہار کی آمد

*4. دن کی تقسیم - 8 پہر*
بکرمی کیلنڈر کی خاص بات یہ ہے کہ ایک دن کو 8 پہروں میں بانٹا جاتا ہے۔ ہر پہر تقریباً 3 گھنٹے کا ہوتا ہے۔ انھیں "ویلا" بھی کہتے ہیں:

1. *دھمی دا ویلا*: صبح 6 بجے سے 9 بجے تک
2. *ڈوپاراں دا ویلا*: صبح 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک
3. *پیشی دا ویلا*: دوپہر 12 سے سہ پہر 3 بجے تک
4. *دیگر دا ویلا*: سہ پہر 3 بجے سے شام 6 بجے تک
5. *نماشاں دا ویلا*: شام 6 بجے سے رات 9 بجے تک
6. *کفتاں دا ویلا*: رات 9 بجے سے رات 12 بجے تک
7. *ادھ رات دا ویلا*: رات 12 بجے سے صبح 3 بجے تک
8. *اسور دا ویلا*: صبح 3 بجے سے صبح 6 بجے تک a85d

*5. بکرمی اور عیسوی سال کا فرق*
بکرمی سال عیسوی سال سے *57 سال آگے* ہوتا ہے۔
مثال: 2026 عیسوی = 2083 بکرمی

*6. استعمال*
پہلے یہ کسانوں، تاجروں اور عام لوگوں کا بنیادی کیلنڈر تھا، کیونکہ موسم اور فصلوں کا حساب اس سے بہتر ملتا ہے۔ اب بھی پنجاب، سرائیکی اور دیہی علاقوں میں بڑے بوڑھے اسی سے تاریخ یاد رکھتے ہیں۔

‏اللہ “کے ساتھ یقین کا تعلق رکھیں کیونکہ ہر مشکل کے پیچھے اسکی کوئ حکمت ہوتی ہے۔۔“ آپکا صبر آپکے معجزے کو اور بھی خوبصور...
15/05/2026

‏اللہ “کے ساتھ یقین کا تعلق رکھیں کیونکہ ہر مشکل کے پیچھے اسکی کوئ حکمت ہوتی ہے۔۔

“ آپکا صبر آپکے معجزے کو اور بھی خوبصورت بنا دیتا ہے"

Address

2 Km Faisalabad Road
Chiniot

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SYM tech posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to SYM tech:

Share