30/05/2026
پاکستان میں ایک اور خاموش تباہی چل رہی ہے…
“خود سے دوائیاں کھانا”
سر درد؟. Panadol کھا لو۔
گلا خراب؟. Antibiotic شروع کر دو۔
پیٹ خراب؟. Flagyl لے لو۔
کمزوری؟. Drip لگوا لو۔
اور اگر دو دن میں فرق نہ پڑے… تو نئی دوا شروع۔
ہم نے دوا کو علاج نہیں…
“روزمرہ استعمال کی چیز” بنا دیا ہے۔
ایک ڈاکٹر کے طور پر سب سے خطرناک جملہ جو میں روز سنتا ہوں وہ یہ ہے:
“ڈاکٹر صاحب، یہ دوائی تو ہم خود ہی لے رہے تھے… لیکن گزارہ نہیں ہوا ، مرض اور خراب ہوگیا۔ "
اور پھر سامنے:
خراب معدہ،
تباہ گردے،
جگر متاثر،
بلڈ پریشر uncontrolled،
یا ایسی انفیکشن جس پر اب عام Antibiotics اثر ہی نہیں کرتیں۔
لوگ سمجھتے ہیں دوا جتنی “طاقتور” ہوگی، اتنا جلدی فائدہ ہوگا۔ حالانکہ حقیقت اس کے الٹ ہے۔
ہر دوا کا ایک صحیح وقت، صحیح dose، اور صحیح وجہ ہوتی ہے۔
غلط دوا کبھی کبھی بیماری سے زیادہ نقصان کرتی ہے۔
پاکستان میں Antibiotic Resistance خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
سادہ انفیکشنز بھی ضدی بنتے جا رہے ہیں۔
کیوں؟
کیونکہ ہم نے ہر بخار اور ہر کھانسی پر Antibiotic کھانا معمول بنا لیا ہے۔
اور سب سے افسوسناک بات؟
بہت سے لوگ Prescription تک مکمل نہیں کرتے۔
دو دن بعد طبیعت بہتر ہوئی…
دوائی بند۔
پھر وہی جراثیم واپس آتے ہیں… مگر اس بار زیادہ مضبوط ہو کر۔
یاد رکھیں:
ہر بخار پر Antibiotic نہیں چاہی, ہر درد پر Drip نہیں چاہیے،۔ ہر کمزوری Vitamin deficiency نہیں ہوتی اور ہر دوا “محفوظ” نہیں ہوتی
اصل علاج Google، پڑوسی، یا میڈیکل سٹور والا نہیں…
صحیح diagnosis ہوتا ہے۔
پاکستان میں بیماریوں سے پہلے “غلط علاج” ختم کرنا ضروری ہے۔
کیونکہ بعض اوقات انسان بیماری سے نہیں مرتا…
غلط علاج سے مر جاتا ہے۔
سلسلہ: صحت، ریاست اور معاشرہ