انعام الحق کنسٹرکشن سلوشن پوائنٹ

  • Home
  • Pakistan
  • Dir
  • انعام الحق کنسٹرکشن سلوشن پوائنٹ

انعام الحق کنسٹرکشن سلوشن پوائنٹ انعام الحق کنسٹرکشن سلوشن پوائنٹ میں آپ کو خوش آمدید۔
آپ کنسٹرکشن کے حوالے سے ساری معلومات یہاں سے حاصل کرسکتے ہیں

السلام وعلیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
انعام الحق کنسٹرکشن سلوشن پوائنٹ میں آپ کو خوش آمدید۔
آپ کنسٹرکشن کے حوالے سے ساری معلومات یہاں سے حاصل کرسکتے ہیں

10/04/2024
آج مختلف انڈین سٹارٹ اپس کو دیکھ رہا تھا۔ بھارت میں سب سے کم عمر ارب پتی لوگوں میں ایڈ ٹیک یا پھر ایجوکیشن انڈسٹری سے وا...
08/01/2024

آج مختلف انڈین سٹارٹ اپس کو دیکھ رہا تھا۔ بھارت میں سب سے کم عمر ارب پتی لوگوں میں ایڈ ٹیک یا پھر ایجوکیشن انڈسٹری سے وابستہ لوگ شامل ہیں اس کے ساتھ فن ٹیک یا پھر ڈیجیٹل فنانس والے آتے ہیں۔

یہ لوگ بھارت میں فقط چھوٹے سے مسائل کے حل سوچنے کے بعد ارب پتی بن گئے اور چونکہ یہاں پہ نوجوان آبادی کا تناسب کافی زیادہ ہے اس لئے ان کے بزنس کی گروتھ بہت تیز رہی تھی۔

پاکستان میں سٹارٹ اپ کلچر کبھی بن ہی نہیں پایا ہے۔ خدا خدا کر کے ہمارا دراز برینڈ بنا تھا مگر وہ بھی علی بابا کو فروخت کر دیا گیا اور یوں اب وہ بھی پاکستانی کی بجائے چینی برینڈ ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان میں دو سال پہلے تک شپمنٹ سے منسلک بزنس جیسا کہ فوڈ ڈیلیوری، گروسری شاپنگ اور ڈیجیٹل رائیڈ جیسے بزنس اوپر آ رہے تھے مگر اب پٹرول کی وجہ سے ڈیلیوری کی قیمت بڑھنے کے سبب سب سے پہلے ائیر لفٹ نامی برینڈ دیوالیہ ہوا اور اس کے بعد کچھ ایسے ہی سٹارٹ اپ دیوالیہ ہوئے اور اب وہ منظر نامے سے غائب ہو چکے ہیں۔

اس وقت پاکستان میں بڑے سٹارٹ اپس میں فوڈ پانڈا، پرائس اوے یا پھر دوائی ڈاٹ کام جیسے سٹارٹ اپ بچے ہوئے ہیں لیکن ان کے منافع کے لئے بھی سستے پٹرول کی ضرورت ہے۔

گو انڈیا اتنی بڑی مارکیٹ ہے لیکن وہاں لوگ پیسہ خرچ کرنے سے گھبراتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کا زمیٹو کا برینڈ فقط سو سے دو سو ملین ڈالر کی مالیت کا ہے جبکہ پاکستانی فوڈ پانڈا ان حالات میں بھی چالیس سے پچاس ملین ڈالر کی ویلیوایشن رکھتا ہے۔

یورپئین مارکیٹ کو دیکھنے کے بعد مجھے جس چیز کا سب سے بری طرح سے احساس ہوا وہ یہاں ان ممالک کے اپنے لوکل سٹارٹ اپس کا ہونا ہے۔ پولینڈ ، بیلجئیم اور جرمنی یہ تین ممالک بالکل ساتھ ساتھ ہیں مگر ان تینوں ممالک میں گروسری سے لیکر پیٹرول ڈلوانے تک ہر ملک میں الگ برینڈ موجود ہیں۔

ان کے پاس ایک سوئی سے لیکر ٹماٹر مرچ تک ہر چیز کا اپنا لوکل برینڈ موجود ہے گو ان ممالک میں ایلیٹ ہماری ایلیٹ کی طرح غیرملکی برینڈ پہ جانا پسند کرتی ہے لیکن یہاں ایک چھوٹے سے چھوٹے پراڈکٹ کو بھی بہت اچھے اور منفرد طریقے سے کمرشلائز کرکے بیچا جاتا ہے اور زیادہ تر آبادی لوکل سستے برینڈز پہ جانا پسند کرتی ہے۔

پاکستان اکنامک ڈائنامکس کے حساب سے امریکہ سے ملتا جلتا ایک ملک ہے۔ یہاں کے لوگ غریب ہو کر بھی پیسہ لگانے سے نہیں گھبراتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ یہاں پہ لوگوں کو شادیوں سے لے کر شام کے کھابوں تک ہر جگہ بے تحاشہ پیسہ لگاتے ہوئے دیکھیں گے۔

مگر

ٹیکس نیٹ کے پراپر نفاذ اور مستحکم پالیسیز کے نا ہونے کی وجہ سے یہاں پہ لوگ اپنے بزنس کو ٹھیک طرح سے بڑھانے کی طرف نہیں جاتے ہیں اور اسی لئے آپ یہاں برینڈ بہت کم دیکھیں گے۔ کیونکہ لوگوں کو اس بات پر یقین ہے کہ ایک دوکان رکھ کر وہ ٹیکس نہیں دے رہے تو اس دوکان کو بڑا کرکے وہ ٹیکس کیوں بھریں؟ اسی طرح لوگوں میں یہ سوچ بھی کافی حد تک موجود ہے کہ اگر وہ ایک چیز ملاوٹ کرکے اچھے نفع کے ساتھ بیچ رہے ہیں تو اس چیز پر محنت کیوں کریں؟

یہی وجہ ہے کہ یہاں سٹارٹ اپ کلچر سے لے کر برینڈ کلچر تک سب پنپ نہیں رہا ہے لیکن تین سو ملین لوگوں کی مارکیٹ میں بڑے سٹارٹ اپس کا نا ہونا ایک مایوسی کی خبر اور سرمایہ کار کی مارکیٹ میں دلچسپی نا لینے کی نشانی ہے۔

اتنی بڑی مارکیٹ کو فقط گورمے، فوجی فاؤنڈیشن اور چند ایک دیگر برینڈز کے سہارے چھوڑنا انکی ایک مناپلی قائم کرنے کے مترادف ہے اور اس بات کے ہمارے سماج کو کافی نقصانات ہو رہے ہیں جن میں سے سب سے بڑا نقصان کثیر سرمائے کا وجود میں نا آنا ہے۔

ورنہ جتنی فضول خرچی کا رواج ہمارے کلچر میں ہے یہاں تھوڑی سی بھی معاشی بہتری آجائے تو یہ کلچر بہت پروان چڑھ سکتا ہے اور اس ضمن میں مزید محنت کرنے کی بہت ضرورت ہے۔

اس کے لئے سٹارٹ اپس کو دوبارہ سے سبسڈیز دینے کے ساتھ ساتھ ان کو آسانیاں فراہم کرنا ضروری ہے۔ تین سو ملین کی مارکیٹ میں آپ کو ایک بھی بڑا گروسری کا برینڈ نظر نہیں آئے گا۔ جبکہ چھوٹے کریانہ سٹور اپنی اشیا کا معیار کم اور قیمت زیادہ رکھ کر انہیں بیچ رہے ہیں وہیں پر اگر ان چیزوں کی ویلیو ایڈیشن کی جائے اچھی پیکنگ کے ساتھ بڑے سکیل پر بیچا جائے تو جہاں یہ چیزیں سستی بکیں گی وہیں پر ان چیزوں کو بنانے والے مطلب کسان حضرات کے منافع میں بھی بہتری آئے گی اور ان کے دن بھی پھریں گے۔

ایسے ہی فن ٹیک اور ایڈ ٹیک میں بھی بہتری کی گنجائش باقی ہے۔ سب ٹرانزیکشنز کو ڈیجٹلائز کرنے اور ایجوکیشن کو ایپلی کیشنز کی طرف لانے کی کوشش کرنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ اگر آج کے پاکستان کو دو گھنٹے کی مسافت پہ موجود عرب ممالک سے موازنہ کرکے دیکھیں تو یہ بہت پیچھے نظر آتا ہے۔

ضیغم قدیر

مالک مکان اور لیبر کے جھگڑے کیوںلیبر ریٹ پر کام کروانے والے اکثر مالکان   کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوتی ہے کہ کنٹریکٹر یا...
11/08/2023

مالک مکان اور لیبر کے جھگڑے کیوں

لیبر ریٹ پر کام کروانے والے اکثر مالکان کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوتی ہے کہ کنٹریکٹر یا اس کی ٹیم سامان ضرورت سے زیادہ منگوا لیتی ہے اور پھر فالتو چیزیں چوری کرلی جاتی ہیں۔ اس بنا پر وہ اپنی طرف سے چیک اینڈ بیلنس سخت رکھنے کو ایک ایک چیز کا حساب مانگتے ہیں اور اس معاملے میں‌وہ اپنے ذہن میں‌پہلے سے موجود تصورات کے مطابق سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں۔

انہیں‌کام کی چال کے بارے میں‌مناسب علم نہیں‌ہوتا اور اس کی وجہ سے کام میں‌بے جا رکاوٹیں پیدا ہو جاتی ہیں ۔اگر سیمنٹ‌کے بیس بیگ منگوانے کا کہا جائے تو دس منگوائیں گے کہ پہلے یہ ختم کرو پھر اور ملیں‌گے۔ کبھی یہ کہیں‌گے کہ ابھی کل تو منگوائے تھے کہاں کہاں‌لگائے ہیں‌پہلے یہ چیک کرواؤ۔ دوسری طرف انہیں‌شکوہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارا کام بہت سلو چل رہا ہے۔

یہاں‌نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ جب آپ کسی سے کام کرواتے ہیں‌تو کچھ نہ کچھ اس پر اعتماد آپ کو کرنا ہی پڑے گا۔ ایسا ممکن ہی نہیں‌کہ آپ ہر وقت ہر بندے کے سر پر سوار ہو کر اس کی نگرانی کرتے رہیں۔
اگر آپ سب کو ایک ہی لائن میں‌لگا کر چور سمجھنے لگ جائیں گے تو پھر جواب میں‌لیبر آپ سے تعاون نہیں کرے گی بلکہ ہو سکتا ہے کہ جان بوجھ کر آپ کا نقصان ہی کر دے اور آپ کو پتہ بھی نہ چلے۔

اگر لیبر ریٹ پر کام کروانے بندے کا بالکل بھی پہلے کنسٹرکشن کا کوئی تجربہ نہ ہو تو ایسا بندہ کام کے دوران زیادہ مسائل کھڑے کرتا ہے۔ وہ اپنے ہر ملنے والے کے مشورے سے روز نئی تبدیلیاں کرواتا رہتا ہے اور اپنی طرف سے کام کی کوالٹی اور سپیڈ بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن دراصل وہ اس طرح کے مشیروں کی وجہ سے کام کو خراب کروا بیٹھتا ہے۔

بعض مالکان مستری مزدور یا پلمبر اور الیکٹریشن کو اپنی ڈکٹیشن کے مطابق چلانا چاہتے ہیں اور تھوڑی سی بھی غلطی ہو جانے پر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ یہ نہایت غیر مناسب طرزعمل ہوتا ہے۔ آپ نے جس لیبر ٹھیکیدار کے ساتھ ایگریمنٹ کیا ہے اس کے ساتھ ساری چیزیں ڈسکس کریں کیونکہ اصل ذمہ دار تو وہ بندہ ہے لیبر کے ساتھ ڈائریکٹ بحث مباحثہ یا ان پر رعب جمانا معاملات کو خراب کر دیتا ہے۔

لیبر طبقہ کوئی پڑھا لکھا یا ڈگری یافتہ نہیں‌ہوتا کہ وہ کسی ایس او پی یا پڑھے لکھے سسٹم کے عین مطابق کام کرے۔ ان کے ساتھ بہت الگ طریقے سے چلنا پڑتا ہے۔ پیار محبت سے اور اعتماد کے ساتھ کام کروانا پڑتا ہے کبھی ان کو مٹھائی کھلا دی کبھی کولڈ ڈرنک پلا دی کبھی کسی کام پر خوش ہو کر کچھ انعام دے دیا۔۔ لیکن اگر انہیں یہ احساس ہو جائے کہ مالک انہیں‌چور سمجھ رہا ہے تو پھر وہ الٹا آپ کا کام سست کر دیں گے اور ضد میں جہاں‌جہاں ممکن ہوا وہاں‌سے نقصان پہنچائیں گے۔ کوئی چیز منگوانی ہو گی تو آپ کو عین وقت پر بتائیں گے اور آپ کہیں‌مصروف ہیں وہ چیز فوری نہیں‌پہنچا سکتے تو دیر ہونے کی ذمہ داری آپ پر ڈال دیں‌گے۔

ہم اپنی فیلڈ میں وہم کی حد تک‌ایسی باریک بینی اور مشکوک نظر آنے والے معاملے سے بچنے کے لیے ود میٹیریل ہی کام کرتے ہیں تاکہ ساری ذمہ داری ہم اپنے سر لے سکیں اور مالک کو یہ ٹینشن ہی نہ رہے کہ کوئی میرا فالتو سامان چوری کر رہا ہے۔ ود میٹیریل کام کرنے میں ہمیں‌ایک تو کھل کر اپنے حساب سے کام کی روٹین سیٹ کرنے کا موقع میسر رہتا ہے اور دوسرا یہ کہ لیبر اور مالک کے بیچ کوئی ڈائریکٹ کنکشن نہیں‌رہتا جس وجہ سے اوپر بیان کردہ مسائل کھڑے نہیں ہوتے۔

ہم ود میٹیریل کام کرتے ہیں‌اور اپنے کام کی مکمل ذمہ داری لیتے ہیں۔ جو میٹیریل طے کیا ہو وہ اسی کوالٹی کا ہو یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ بعض اوقات کسی بھی وجہ سے طے شدہ چیز مارکیٹ میں‌میسر نہ ہونے کی صورت میں‌ اس چیز کا اسی کوالٹی میں‌متبادل استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ کام میں‌رکاوٹ نہ آئے۔
بہت سے دوست اپنے گھر کی تعمیر ہم سے کروانا چاہتے ہیں لیکن لیبر ریٹ پر۔۔ اوپر بیان کردہ وجوہات کی بنا پر ہم لیبر ریٹ‌پر کام کرنے سے معذرت کر لیتے ہیں کیونکہ ہم نے پراجیکٹ کی ذمہ داری اپنے سر لینی ہے تو پوری لینی ہے اور اسے مکمل کرکے مالک کے ہینڈ اوور کرنا ہے جبکہ لیبر ریٹ‌پر بیچ میں‌آنے والی ایسی رکاوٹیں نہ صرف وقت ضائع کرواتی ہیں بلکہ مالک مکان اور کنٹریکٹر کے بیچ بداعتمادی بھی بڑھا دیتی ہیں۔

(تعمیر مسکن سے اقتباس)
تحریر بشارت حمید

کیس نمبر 1کل ایک بھائی کا میسج آیا کہ سال ڈیڑھ سال قبل مکان بنایا اور چھت کی سلیب کے اوپر فرش نہیں لگایا تھا۔۔ اب ایک دی...
11/08/2023

کیس نمبر 1

کل ایک بھائی کا میسج آیا کہ سال ڈیڑھ سال قبل مکان بنایا اور چھت کی سلیب کے اوپر فرش نہیں لگایا تھا۔۔ اب ایک دیوار میں دراڑ آ گئی ہے۔ مستری صاحب کہتے ہیں کہ چھت کے پھیلنے اور سکڑنے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔
میں نے انہیں پوچھا کہ بنیاد کتنی گہری اور کس طرح تیار کی تھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ بس ہلکی سی کھدائی کرکے دوم اینٹ کے ساتھ بنائی تھی۔

کیس نمبر 2

آج ایک بھائی کی کال آئی کہ گھر کی تعمیر شروع کرنے لگے ہیں ایک تو تعمیر مسکن بھیج دیں دوسرے ایک مشورہ بھی دیں کہ مستری کہتے ہیں بنیاد میں ہلکی کوالٹی کی اینٹ لگا لیں بچت ہو جائے گی یہ اینٹیں تو مٹی کے اندر ہی رہنی ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

الجواب

بھائی لوگو۔۔ جس بنیاد پر ساری ڈبل ٹرپل سٹوری بلڈنگ کا وزن پڑے گا اگر وہی کمزور ہوئی اور کسی جگہ سے بیٹھ گئی۔۔اس کی وجہ سے دیواریں پھٹ گئیں تو ایسی بچت کو پھر سر میں مارنا ہے۔۔۔۔۔
پتہ نہیں کہاں سے جاہل مستری لوگ ایسی بچتوں کے مشورے دیتے ہیں جو بعد میں لگائی گئی ساری رقم کو ہی رسک پر لگا دیں۔۔
میری مانیں اگر بچت کرنی ہے تو ایسے مستری سے فوری جان چھڑوا لینی چاہیئے۔۔ وہ آپکو پھنسانے اور اپنی دیہاڑی کھری کرنے کے چکر میں آپکو دوم اینٹوں کے ساتھ کم اسٹیمیٹ بتا کر شروع کروانا چاہتا ہے بعد میں وہ اس کی کوئی ذمہ داری نہیں لے گا اور کوئی کہانی سنا کر خود سائیڈ پر ہو جائے گا۔ پھر اس کے کرتوت ساری زندگی آپ نے بھگتنے ہیں۔

ہم تو تجویز کرتے ہیں کہ اگر گنجائش ہو تو بنیاد میں سریا باندھ کر بیم ڈالیں تاکہ بنیاد مضبوط بنے اور وزن اٹھانے کے قابل ہو جائے۔ کہاں یہ جاہل لوگ جو دوم سوم اینٹ یہ کہہ کر لگوا رہے ہیں کہ زمین کے اندر ہی تو رہنی ہے لگا لیں اور پیسے بچا لیں۔

ذرا سوچیں کہ چند ہزار کی بچت کرکے آپ اوپر لگے لاکھوں روپے رسک پر لگائیں گے۔۔ تو پھر عقلمندی کا تقاضا کیا بنتا ہے۔۔۔۔

بشارت حمید

ایک پرانی تحریر بطور نشر مکرر

جہاں شہر ختم ہوتا ہےمنگول قوم جو تاریخ میں ایک وحشت کی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے ان کی منصوبہ بندی اور ٹاؤن پلاننگ پر دنیا ...
22/05/2023

جہاں شہر ختم ہوتا ہے
منگول قوم جو تاریخ میں ایک وحشت کی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے ان کی منصوبہ بندی اور ٹاؤن پلاننگ پر دنیا حیران ہے۔
ارویکھیر منگولیا کا ایک قصبہ ہے جس میں 30,000 رہائشی ہیں۔ یہ صوبہ Övörkhangai کے دارالحکومت ہے اور منگولیا کی 1.5 ملین مربع کلومیٹر زمین کے وسط میں واقع ہے۔ سب سے اہم، یہ قصبہ اپنے روایتی فن، جانور پالنے اور گھڑ سواری کے کھیلوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ سالانہ علاقائی گھوڑوں کے تہوار مشہور ریسنگ گھوڑوں کی اس کی طویل تاریخ کو منانے کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں (18ویں صدی سے پہلے کی تاریخ)۔ منگولیا میں، ہمیں تین سطحوں پر زمین کے استعمال کے منصوبے ملتے ہیں۔ قومی، صوبائی اور مقامی۔ سب سے پہلے، نیشنل لینڈ مینجمنٹ پلان منگولیا کے پورے ملک کا احاطہ کرتا ہے اور 20 سال آگے کی اسٹریٹجک منصوبہ بندی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کا مشن ملک کی ترقی، پائیدار تحفظ اور تحفظ کے لیے ایک معقول منصوبہ تیار کرنا ہے۔ یہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گا کہ وہ اپنے شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور قومی معیشت کو بڑھانے کے لیے کام کرے۔ دوم، صوبائی اور کیپیٹل سٹی کے زمینی استعمال کے منصوبے صوبائی دارالحکومت پر فوکس کرتے ہوئے صوبے کا احاطہ کرتے ہیں۔ منصوبوں کو نیشنل لینڈ مینجمنٹ پلان کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے اور ان میں ماحولیاتی مسائل اور زمین کے تحفظ سے متعلق معاملات کی عکاسی ہونی چاہیے۔ یہ منصوبہ 12 - 15 سال آگے کی حکمت عملی کی مناسبت سے منصوبہ بندی کو ظاہر کرتا ہے۔ آخر میں، ذیلی کاؤنٹی کے زمینی استعمال کے منصوبے ایک تفصیلی منصوبہ ہے جو ذیلی کاؤنٹی کے اندر فوری زمین کے انتظام اور ترقیاتی امور سے نمٹتا ہے۔ منصوبہ قومی اور صوبائی منصوبوں پر عمل کرنے کی ضرورت کے پیش نظر اسےہر سال ترتیب دیا جاتا ہے۔
لطیف الرحمان
پشاور، 22 مئی، 2023ء

انعام الحق کنسٹرکشن سلوشن پوائنٹ کے زیر اہتمام  Natural Stone Walkway  کے ڈیزائن وال پر 🥰🥰🥰
13/05/2023

انعام الحق کنسٹرکشن سلوشن پوائنٹ کے زیر اہتمام Natural Stone Walkway کے ڈیزائن وال پر 🥰🥰🥰

21/04/2023

انعام الحق کنسٹرکشن سلوشن پوائنٹ کے طرف سے تمام اہل وطن کو عید مبارک ہو

Layout:)
21/02/2023

Layout:)

تبرک کیلئے
15/02/2023

تبرک کیلئے

گھر کی سستی تعمیر اور انسانی نفسیاتلیبر ریٹ پر کنسٹرکشن کروانا کلائنٹ کو بظاہر سستا لگتا ہے کیونکہ وہ لیبر ٹھیکیدار سے م...
09/02/2023

گھر کی سستی تعمیر اور انسانی نفسیات

لیبر ریٹ پر کنسٹرکشن کروانا کلائنٹ کو بظاہر سستا لگتا ہے کیونکہ وہ لیبر ٹھیکیدار سے مشورہ کرکے اپنے ذہن میں ایک اسٹیمیٹ بنا لیتاہے۔ لیبر ٹھیکیدار کا کیونکہ میٹیریل کی قیمتوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا تو وہ اکثر اصل خرچے سے کم اندازہ ہی بتاتا ہے تاکہ کلائنٹ گھیرا جا سکے چاہے بعد میں اخراجات لاکھوں روپے بڑھ ہی جائیں۔

پھر ایک اور کام یہ بھی ہوتا ہے کہ لیبر پر کام کرواتے وقت کلائنٹ بڑے بڑے اخراجات نوٹ کر لیتا ہے لیکن کئی ایسے اخراجات جو چھوٹے ہوتے ہیں وہ نظرانداز کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کلائنٹ کا گھر کی تعمیر کے حوالے سے کوئی تجربہ نہ ہو یا اسے اس بارے علم نہ ہو تو اردگرد کے مشوروں سےکئی کام خراب بھی کروا بیٹھتا ہے۔
جبکہ ود میٹیریل کام کرنے والے لوگ ایک ایک پیسے کا حساب رکھتے ہیں کیونکہ سارے اخراجات نکال کر ہی انہیں کچھ بچت ہونی ہوتی ہے۔اگر انہوں نے اپنا سپرویژن سٹاف رکھا ہوا ہے تو اسی بچت سے ان کی تنخواہیں بھی دینا ہوتی ہیں جبکہ لیبر ٹھیکیدار کا ان معاملات سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہوتا۔ اس لئے جب ود میٹیریل کام کرنے والے کسی پراجیکٹ کا اسٹیمیٹ بناتے ہیں تو اس میں ہر چیز شامل کرکے ریٹ نکالتے ہیں جو کہ عام طور پر کلائنٹ کو زیادہ ہی لگتا ہے۔

کئی بار یہ بھی ہوتا ہے کہ لیبر ریٹ پر کام کروانے والا کلائنٹ ناتجربہ کاری کی وجہ سے زیادہ رقم خرچ کر لیتا ہے لیکن چونکہ اب وہ اس سٹیج پر ہوتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی تو چاروناچار یہ اخراجات اسے کرنا ہی پڑتے ہیں۔ دو تین کروڑ کے پراجیکٹ پر اگر کوئی بندہ خود سردردی لے کر پانچ سات لاکھ کی بچت کر لیتا ہے تو اس کے ساتھ وہ اپنے کاروبار یا جاب کا کتنا حرج کرتا ہے اسے بھی شمار کر لینا چاہیئے۔ پھر اگر کسی کمپنی سے کام کرواتے ہیں تو تجربہ کار لوگ جس طرح نقشے کے مطابق اور درست طریقے سے کام کریں گے وہ کام بندہ خود تو نہیں کروا سکتا۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ میں یہاں ایمانداری سے کام کرنے والے بندے کی بات کر رہا ہوں۔ ود میٹیریل کام میں دھوکے بازوں کی بھی کمی نہیں ہے۔

کئی کلائنٹس نے ہم سے ریٹ لیا پھر انہیں مہنگا لگا اور لیبر ریٹ پر کروا لیا۔۔ لیکن بعد میں گھر میں آنے والے مسئلوں کا حل بھی ہم سے ہی پوچھتے رہے۔

ایک کلائنٹ نے نقشہ ہم سے بنوایا اور تعمیر کے لئے اپنے پرانے تعلق دار سے کنٹریکٹ کر لیا۔۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد مجھے کہنے لگے کہ ہم سے غلطی ہو گئی ہمیں تعمیر آپ ہی سے کروانی چاہیئے تھی۔ لیکن اس وقت اس غلطی کے اعتراف سے کیا فائدہ جب کام ہو چکا۔

اسی طرح ایک کلائنٹ نے ہم سے بات کی کہ آپ سے ہی بنوانا ہے لیکن پھر چپ چاپ اپنے گاؤں کے لیبر ٹھیکیدار سے بنوانا شروع کر لیا۔ ابھی گرے سٹرکچر مکمل ہوا ہی تھا کہ پورچ کی لوڈ وال بیٹھ گئی اور فرنٹ ایلیویشن پر دراڑیں پڑ گئیں۔ اوپن ایریا کے فرش بھی بیٹھ گئے۔۔ دو سال بعد ابھی تک ویسے ہی ادھورا چھوڑا ہوا ہے۔

اس لئے اگر آپ زندگی میں پہلا گھر بنوانے جا رہے ہیں تو تھوڑی سے بچت کے لئے ساری جمع پونجی داؤ پر نہ لگائیں۔ کسی اچھی شہرت والے اور تجربہ کار بندے یا کمپنی کی خدمات حاصل کریں ورنہ بعد میں پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
تحریر مشہور لکھاری مصنف تعمیر مسکن محترم بشارت حمید صاحب

Address

Ali Market
Dir
18000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when انعام الحق کنسٹرکشن سلوشن پوائنٹ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share