11/01/2026
Faisalabad Railway Station
السلام علیکم
زیر نظر تصویر ریلوے اسٹیشن فیصل آباد کے پارکنگ پلازہ کی ہے۔
مؤرخہ 8-1-2026 کو کراچی کیلئے ایک پارسل بھیجنا تھا تو گجرات کارگو ریلوے سٹیشن فیصل آباد جانے کا اتفاق ہوا
ریلوے اسٹیشن انٹری کے دوران پارکنگ والے نے ایک کارڈ تھمایا جو کہ میں نے پکڑ کر گاڑی میں رکھ لیا
بلٹی کروانے کے لیے مجھے 10 سے 15 منٹ لگ گئے ہوں گے۔
جب میں نے واپسی کے لیے گاڑی میں بیٹھ کر ریلوے اسٹیشن سے نکلنا چاہا تو پارکنگ والے بھائی کو کارڈ تھمایا میں امید کر رہا تھا کہ میرے اگے بائیک والے سے 30 روپے طلب کیے گئے ہیں تو مجھ سے 50 60 یا 100 روپے مانگ لے گا لیکن میری انکھیں تب کھلی جب اس نے 150 روپے کی ڈیمانڈ کر دی میں نے اس بھائی سے درخواست کی کہ یار 10 سے 15 منٹ کے لیے گیا ہوں تو اس کے لیے یہ چارجز زیادہ ہیں کوئی اس کی پرچی وغیرہ ہے تو وہ مجھے ثبوت کے طور پر عنایت فرما دیں لیکن انہوں نے انکار کیا اور بولے اب سارا کچھ آن لائن ہے لہذا آپ کو صرف کمپیوٹر سکرین سے تصویر مل سکتی ہے لہذا میں نے اپنا موبائل ان کو تھمایا اور عرض کی کہ میری پارکنگ کے پیسے جہاں نظر آرہے ہیں وہاں کی ایک تصویر دے دیں ۔
آپ دوستوں سے شئیر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر حکومتی ادارے اس طرح عوام کو لوٹنے میں مصروف رہیں گے تو کون ان اداروں کا استعمال کرے گا اور انہیں منافع بخش کاروبار بنائے گا؟