05/04/2020
"آخر کب تک"
ہم کرونا کی وجہ سے اپنے گھروں میں قید ہو کر بیٹھیں گے؟
یہ سوال مختلف ڈاکٹرز کی آراء سے ذہن میں آتا ہے۔
چین میں 81669 لوگ کو کرونا جن میں 3329 لقمہ اجل بنے، 76964 صحت یاب ہو گئے، صرف 1376 ایکٹو کیس ہیں اور یہ تعداد پر روز کم ہو رہی ہے۔
کیا اس کا مطلب چین میں لوگ اب معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ کیا ان کی تجارت بحال ہو گئی ہے۔
امریکہ میں 311637 کرونا سے متاثر ہوئے جن کو تلاش کرنے کے لئے انہوں نے 1656897 کئے مطلب 18.81٪ صرف۔
کیا یہ باقی 81٪ جن کے ٹیسٹ نیگیٹو آئے وہ کبھی کرونا سے متاثر نہیں ہوں گے۔ اور
اور اگر وہ متاثر ہوتے ہیں تو کیا وہ کیریر نہیں بنے گے۔
کیا ہم امریکہ جتنے ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔
اور اگر کر بھی لیں تو کیا حاصل جو لوگ ایک بار نیگیٹو آ جائیں وہ پھر اس کا شکار نہیں ہوں گے۔
کیا پھر ہم ان کا ٹیسٹ کریں گے اور ٹیسٹ ہی کرتے رہیں گے۔
دنیا میں صرف سال 2016 میں 1350000 لوگ ٹریفک حادثات میں جان سے گئے تو ہم نے ٹریفک کو لاک ڈاؤن کیوں نہیں کیا۔ اور اس نکلنے والے دھویں کی وجہ سے لوگ متعدد بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں وہ الگ۔
تو "آخر کب تک" ہم کرونا کی وجہ سے گھر میں قید ہو کر بیٹھیں گے
کیا اس سے ٹھیک ہو جانے والے دوبارہ اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔
اگر وہ خود متاثر نہ بھی ہو تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ اس کے کیریر نہیں بنے گے۔
کیا ہم ٹیسٹ ہی کرتے جائیں گے کیا ٹیسٹ اس کا حل ہے
کیا یہ اتنا جان لیوا ہے کہ اس کی وجہ سے پوری دنیا کو گھروں میں قید کر دیا جائے