Shan Rice Traders

Shan Rice Traders Long Grain Super Kernal Basmati Rice

28/04/2025

ایک پوسٹ ملاحظہ کیجیے ۔
,, صبح سے بجلی گئی ہوئی ہے اور میں نے جنگ کے لیے کپڑے بھی استری نہیں کیے "

اس کے علاوہ سینکڑوں فقرے بازی اور میمز جو پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ کو انجوائے کرنے کے لیے لکھی جا رہی ہیں ۔ اور لکھنے والے وہ ہیں جنہوں نے جنگ کیا کبھی اپنی گلی میں چھوٹا سا فساد اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔
جنگ مذاق نہیں ہوتی اور نہ ان پر مذاق بنائے جا سکتے ہیں یہ جنگیں جس زمین پر چھڑ جائیں اس کو بنجر کر کے رکھ دیتی ہیں۔
کیا ہم نے عراق، شام، افغانستان ، فل سطین اور لیبیا کا حال نہیں دیکھا؟ آج وہاں کھنڈرات، یتیم بچے، بیوہ عورتیں اور معذور نسلیں ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، عراق کی جنگ کے بعد 60 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ شام میں خانہ جنگی سے 5 لاکھ سے زائد جانیں چلی گئیں، اور غزہ کے حالات تو آپ کے سامنے ہیں

جنگ صرف گولی اور بم نہیں لاتی، یہ بھوک، غربت، بیماری، نفسیاتی عذاب اور لاوارث نسلوں کو ساتھ لاتی ہے۔ جو زخم جنگ دیتی ہے، وہ دہائیوں تک بھر نہیں پاتے۔
جنگ مذاق نہیں، یہ نسلوں کی قبریں کھودتی ہے۔۔۔!

جنگ چھوٹی ہو یا بڑی ۔۔ تباہی لاتی ہے ۔ پہلی جنگ عظیم نے تقریباً 1 کروڑ 60 لاکھ جانیں نگل لیں ۔
دوسری جنگ عظیم میں 7 کروڑ سے زائد افراد مارے گئے، جس میں عام شہریوں کی تعداد افسوسناک حد تک زیادہ تھی۔ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملے نے لمحوں میں لاکھوں انسانوں کو بھسم کر دیا، اور آج بھی ان شہروں میں بیماریوں اور معذوریوں کی صورت میں جنگ کے زخم باقی ہیں۔

یاد رکھیں، جنگ میں کوئی جیتتا نہیں۔ صرف لاشیں، برباد نسلیں، یتیم بچے اور بنجر زمینیں بچتی ہیں ۔
آمن کی دعا کیجیے ۔۔ ہم جیسے ملک جنگوں کے متحمل ہی نہیں ہوسکتے ہم نے جنگوں کے بارے میں صرف اخباروں میں پڑھا ہے ہم نے گولیوں کی گرج ، توپوں کی گولہ باری اور ٹینکوں کی چنگھاڑ کبھی اپنی انکھوں سے دیکھی ہی نہیں اور کانوں سے سنی ہی نہیں ۔۔۔
لکھنا بڑا اسان ہے ، جنگ سہنا بہت مشکل ہے۔

تحریر : مجیب الرحمٰن

04/03/2025

پارک میں لوگ چہل قدمی کر رہے تھے۔ کچھ لوگ ہلکی ہلکی جاگنگ بھی کر رہے تھے۔ دوپہر مایوس ہو کر رخصت ہو رہی تھی اور شام دھیرے دھیرے مارگلہ کی پہاڑیوں سے نیچے سرک رہی تھی۔
گرم دوپہر کے بعد اسلام آباد کی شام کی اپنی ہی خوب صورتی، اپنا ہی سکھ ہوتا ہے۔

میری بچپن کی عادت ہے. میں پریشانی یا ٹینشن میں کسی پارک میں چلا جاتا ہوں۔ ایک دو چکر لگاتا ہوں اور پھر کسی بینچ پر چپ چاپ بیٹھ جاتا ہوں۔ وہ بینچ میری ساری ٹینشن، میری ساری پریشانی چوس لیتا ہے اور میں ایک بار پھر تازہ دم ہو کر گھر واپس آ جاتا ہوں۔
میں اس دن بھی شدید ٹینشن میں تھا۔ میں نے پارک کا چکر لگایا اور سر جھکا کر بینچ پر بیٹھ گیا۔

تھوڑی دیر بعد ایک نیم خواندہ پشتون کسی سائیڈ سے آیا اور بینچ پر میرے ساتھ بیٹھ گیا۔ اسے شاید بڑبڑانے کی عادت تھی یا پھر وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتا تھا چنانچہ اس نے مجھے بار بار انگیج کرنا شروع کر دیا۔ وہ کبھی آٹے کی مہنگائی کا ذکر کرتا تھا، کبھی ٹرانسپورٹ کے کرایوں کا رونا روتا تھا اور کبھی لوگوں کے غیر اسلامی لباس پر تبصرے کرتا تھا۔
میں تھوڑی دیر اس کی لغویات سنتا رہا لیکن جب بات حد سے نکل گئی تو میں نے جیب سے تھوڑے سے روپے نکالے اور اس کے ہاتھ پر رکھ دیے۔

وہ تھوڑی دیر تک حیرت سے نوٹوں کو دیکھتا رہا، پھر اس نے قہقہہ لگایا۔
نوٹ واپس میرے ہاتھ پر رکھے اور بولا۔
"آپ لوگوں کا بڑا المیہ ہے (وہ المیہ کو لمیا کہہ رہا تھا) آپ دوسروں کو بھکاری سمجھتے ہیں۔ آپ کا خیال ہوتا ہے آپ کے ساتھ اگر کوئی غریب شخص بات کر رہا ہے تو اس کا صرف ایک ہی مقصد ہے وہ آپ سے بھیک لینا چاہتا ہے.
بابو صاحب! مجھ پر ﷲ کا بڑا کرم ہے۔ چوکی داری کرتا ہوں، روٹی مالک عزوجل دے دیتا ہے اور خرچے کے پیسے مالک عزوجل کے بندے سے مل جاتے ہیں۔ میں بس آپ کو پریشان دیکھ کر آپ کے پاس بیٹھ گیا تھا۔
میرا والد کہتا تھا پریشان آدمی کو حوصلہ دینا بہت بڑی نیکی ہوتی ہے۔ چنانچہ میں جہاں کسی کو پریشان دیکھتا ہوں میں اس کے پاس بیٹھ جاتا ہوں مگر آپ نے مجھے بھکاری سمجھ لیا۔"

میری حیرت شرمندگی میں بدل گئی اور میں اس سے معافی مانگنے لگا۔
وہ ہنسا اور داڑھی کھجاتے کھجاتے مجھ سے پوچھا۔ "کیا تمہارے پاس گاڑی ہے؟"

میں نے چند لمحوں تک اس سوال پر غور کیا اور پھر جواب دیا۔ "ہاں تین چار ہیں۔"

وہ بولا۔ "تم کو پتا ہے آج کل پٹرول کی کیا قیمت ہے؟"

میں نے ہنس کر جواب دیا۔ "مجھے نہیں پتا، ڈرائیور پٹرول ڈلواتا ہے۔"

اس نے قہقہہ لگا کر کہا۔ "اور تم پھر بھی پریشان بیٹھے ہو؟"

میں نے حیرت سے جواب دیا۔ "گاڑی کا پریشانی کے ساتھ کیا تعلق بنتا ہے خان؟"

وہ سنجیدہ ہو کر بولا۔ "بڑا گہرا تعلق ہے۔ کیا مکان تمہارا اپنا ہے۔؟" میں نے جواب دیا۔ "ہاں میرا اپنا ہے بلکہ تین چار ہیں۔"

وہ مسکرایا اور پوچھا "کیا بیوی بچے بھی ہیں؟"

میں نے فوراً ہاں میں جواب دیا۔

اس نے پوچھا۔ "بچہ لوگ کیا کرتے ہیں؟"

میں نے جواب دیا "بیٹے اپنا کاروبار کرتے ہیں اور بیٹیاں پڑھ رہی ہیں۔"

اس نے پوچھا " اور کیا تمہاری بیگم صاحبہ کی صحت ٹھیک ہے؟"

میں نے فوراً جواب دیا "ہاں الحمدلله۔ ہم دونوں ٹھیک ٹھاک ہیں۔ ہمیں ﷲ نے مہلک بیماریوں سے بچا رکھا ہے۔"

وہ بولا "اور کیا خرچہ پورا ہو جاتا ہے؟"

میں نے اوپر آسمان کی طرف دیکھا اور جواب دیا "الحمدلله۔ خرچے کی کبھی تنگی نہیں ہوئی۔"

اس نے قہقہہ لگایا اور میرے بازو پر اپنا کھردرا ہاتھ رکھ کر بولا۔ "اور بابو صاحب آپ اس کے بعد بھی پریشان ہے؟ آپ نے پھر بھی منہ بنا رکھا ہے۔ آپ کو پتا ہے آپ بنی اسرائیل ہو چکے ہیں۔"

میں بے اختیار ہنس پڑا اور پہلی مرتبہ اس کی گفتگو میں دلچسپی لینے لگا۔
میں نے اس سے پوچھا۔ "میں بنی اسرائیل کیسے ہوگیا اور بنی اسرائیل کیا ہوتا ہے؟"

وہ سنجیدگی سے بولا۔ "آپ اگر قرآن مجید پڑھیں تو ﷲ تعالیٰ بار بار بنی اسرائیل سے کہتا ہے، میں نے تمہیں یہ بھی دیا، وہ بھی دیا، ملک بھی دیا، کھیت بھی دیے، دشمنوں سے بھی بچایا، تمہارے لیے آسمان سے کھانا بھی اتارا، باغ اور مکان بھی دیے، عورتیں اور بچے بھی دیے اور غلام اور کنیزیں بھی دیں مگر تم اس کے باوجود ناشکرے ہو گئے۔ تم نے اس کے باوجود میرا احسان نہیں مانا۔
ہمارے مولوی صاحب کہتے ہیں ساری نعمتوں کے بعد بھی جب کوئی شخص ﷲ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اس کے احسان یاد نہیں کرتا تو وہ بنی اسرائیل ہو جاتا ہے اور پھر ﷲ تعالیٰ اسے بنی اسرائیل کی طرح ذلیل کرتا ہے.
وہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سکون اور امن سے محروم ہو جاتا ہے اور آپ بھی مجھے بنی اسرائیل محسوس ہو رہے ہیں۔ آپ کے پاس ﷲ کی دی ہوئی تمام نعمتیں موجود ہیں مگر آپ ان کے باوجود بینچ پر اداس بیٹھے ہیں۔ مجھے آپ پر ترس آ رہا ہے۔"

اب مجھے جھٹکا سا لگا اور میں شرمندگی اور خوف سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔
میں اپنے آپ کو پڑھا لکھا اور تجربہ کار سمجھتا تھا۔
بچپن سے اسلامی کتابیں بھی پڑھ رہا ہوں اور عالموں کی صحبت سے بھی لطف اندوز ہوتا رہتا ہوں لیکن آپ یقین کریں بنی اسرائیل کی یہ تھیوری میرے لیے بالکل نئی تھی۔
میں نے قرآن مجید میں جب بھی بنی اسرائیل کے الفاظ پڑھے مجھے محسوس ہوا ﷲ تعالیٰ ناشکرے اور نافرمان یہودیوں سے مخاطب ہے۔ یہ انھیں اپنے احسانات یاد کرا رہا ہے لیکن کیا ﷲ تعالیٰ کی نظر میں ہر احسان فراموش بنی اسرائیل ہو سکتا ہے اور کیا قدرت اس کے ساتھ وہی سلوک کرتی ہے جو اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ وادی سینا اور اسرائیل میں کیا تھا۔؟

یہ بات میرے لیے نئی تھی۔ میں اپنی جگہ سے اٹھا، اس ان پڑھ پشتون کے ہاتھ کو بوسا دیا اور پارک سے چپ چاپ باہر آ گیا۔

میں سارا راستہ ﷲ کی ایک ایک نعمت یاد کرتا رہا، اس کا شکر ادا کرتا رہا اور اپنی آستینوں سے اپنے آنسو صاف کرتا رہا۔
میں کیا تھا اور میرے رب نے مجھے کیا بنا دیا مگر میں اس کے بعد بھی پریشان اور مایوس رہتا ہوں۔ مجھ سے زیادہ بنی اسرائیل کون ہو سکتا ہے...!!!

*منقول*
ٰی_شکر_کی_توفیق_دے

15/01/2025

پانی ہماری صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، اور اگر ہم کم پانی پیتے ہیں، تو اس کے کئی نقصانات ہو سکتے ہیں:

1. دھندلا دماغ 🧠:
پانی کی کمی سے دماغ کی فعالیت سست ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے آپ کی توجہ مرکوز کرنے میں مشکل ہو سکتی ہے اور ذہنی تھکاوٹ محسوس ہو سکتی ہے۔

2. جلد کی خشکی 😣:
پانی کی کمی سے جلد خشک اور پھٹی ہوئی نظر آتی ہے، اور یہ جلد کی عمر بڑھنے کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

3. *قبض:
پانی کی کمی سے ہاضمہ سست ہو جاتا ہے اور قبض کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے، کیونکہ پانی آنتوں کو نرم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

4. کم توانائی😴:
پانی کی کمی سے جسم میں توانائی کی سطح کم ہو جاتی ہے، جس سے آپ کو تھکاوٹ اور سستی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

5. گردے کی مشکلات 🏥:
مسلسل پانی کم پینے سے گردوں پر دباؤ بڑھتا ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ گردے کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

6. *غصہ اور موڈ کی خرابی* 😡:
پانی کی کمی سے دماغ میں کیمیکلز کا توازن خراب ہوتا ہے، جس سے چڑچڑاپن، غصہ اور موڈ کی خرابی ہو سکتی ہے۔

پانی کم پینا آپ کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے تاکہ آپ کی توانائی برقرار رہے، جلد نرم ہو اور آپ کا جسم صحیح طریقے سے کام کرے۔ 💧
سردیوں میں اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ باہر ٹھنڈا ہے، پانی پینے کی ضرورت نہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ سردیوں میں بھی پانی پینا اتنا ہی ضروری ہے! سرد موسم میں ہوا خشک ہوتی ہے، جس سے آپ کے جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ چائے اور سوپ کا مزہ تو الگ ہے، لیکن وہ جسم کو وہ ہائیڈریشن نہیں دیتے جو پانی دیتا ہے۔

پانی پینے سے آپ کی توانائی برقرار رہتی ہے، خون کی گردش بہتر ہوتی ہے، اور آپ کی جلد نرم رہتی ہے۔

25/06/2024

سیاحت کے جنگلات اور بہت سی دوسری چیزیں اپنی جگہ
اور بدقسمتی سے سب کچھ ہونے کے باوجود مظلوم بھی پختونخوہ اور بلوچستان ہیں تو یہ ناانصافی کہاں تک جائے گی۔ پختونخوہ وطن کے ذخائر

1) کرک سے گزشتہ 11 ماہ میں 85 لاکھ 43 ہزار بیرل تیل برآمد کیا گیا ہے۔
2) سوات میں بہترین زمرود کے 70 ملین قیراط ہیں اور مارکیٹ میں 220 قیراط کی قیمت 4000 سے 6000 ڈالر تک ہے۔
3) اس سال خیبر سے 40 ٹن فلورائٹ برآمد کیا گیارہ۔
4) 11 ماہ میں کرک سے 65000 ملین ایم سی ایف گیس برآمد کی گئی ہے۔
5) مہمند میں اس سال 1935 ٹن نیفرائٹ نکالا گیا۔
6) مالاکنڈ میں 200 ملین ٹن، صوابی بلاک میں 100 ملین ٹن ماربل ہے۔
7) مہمند میں 1,360,000 ٹن ماربل برآمد کیا جاتا ہے۔
😎 چترال، جنوبی وزیرستان اور جنوبی پختونخوا میں سالانہ 640,000 کلو چھلغوزہ پیدا ہوتا ہے جس کی قیمت چین میں 18,000 روپے فی کلو ہے۔
9) کوہاٹ ٹنل سے روزانہ 30,000 سے 35,000 گاڑیاں گزرتی ہیں اور ہر گاڑی کا کرایہ 80 سے 450 روپے ہے اور اس کا کنٹرول فوجی کمپنی NLC کے پاس ہے۔
10) جنوبی پختونخوا کے ڈھاکہ ضلع سے روزانہ 5000 ٹن کوئلہ برآمد کیا جاتا ہے۔
11) درہ آدم خیل سے ہر سال 350,000 ٹن کوئلہ نکلتا ہے۔
12) بونیر اور مردان میں 2 ارب ٹن ماربل موجود ہے۔
13) چترال میں ایک ارب ٹن ماربل موجود ہے۔
14) صرف کورما میں 20 لاکھ ٹن کوئلہ موجود ہے، اس کے ساتھ لوہے کی گیس اور اچھا ماربل بھی ہے۔
15) بالائی وزیرستان کے پیر گھر میں تانبے اور سونا کی بڑی مقدار موجود ہے۔
16) گومل کے پہاڑوں میں کوئلے کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔
17) باجوڑ میں ہر سال 85000 ٹن ماربل، اور 1550 ٹن کرومائیٹ برآمد کیا جاتا ہے۔
18) پختونحوہ اور بلوچستان میں 700 کروڑ کے جواہرات ہیں جو ہماری سوچ سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔
19) عرب ممالک میں تیل کا ہر دس میں سے ایک کنواں کامیاب ہوتا ہے اور وزیرستان میں ہر تیسرا کنواں کامیاب ہوتا ہے۔میران شاہ میں اتنا تیل ہے جو پاکستان کی 40 سال کی تمام ضروریات پوری کرتا ہے۔
20) شمالی وزیرستان میں 36000 ملین ٹن تانبا موجود ہے ایک ٹن تانبے کی قیمت 7000 ڈالر ہے۔
21) تربیلا ڈیم سے 4000 سے 5000 میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے، اسے 250 بڑی فیکٹریوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور تربیلا ڈیم سے پختونحوہ اربوں ڈالر کما سکتے ہیں۔
22) لکی مروت بٹنی کی ویلی آئل فیلڈ سے 1,000 سے 3,000 بیرل تیل اور 1 سے 5 ملین مکعب فٹ گیس برآمد کی جاتی ہے۔
23) ملاکنڈ کے دریاؤں سے 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے جس
کی قیمت 1 سے 2 روپے فی یونٹ ہے۔
Copied
منقول

01/06/2024

Address

Ghallah Mandi Gujranwala
Gujranwala
52

Opening Hours

Monday 09:00 - 22:00
Tuesday 09:00 - 22:00
Wednesday 09:00 - 22:00
Thursday 09:00 - 22:00
Saturday 09:00 - 22:00
Sunday 09:00 - 22:00

Telephone

03216193003

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shan Rice Traders posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share