M.Hasan&co Rasoll Pur Tarar Dist Hafizabad Tehsil Pindi Bhattia

M.Hasan&co Rasoll Pur Tarar Dist Hafizabad Tehsil Pindi Bhattia Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from M.Hasan&co Rasoll Pur Tarar Dist Hafizabad Tehsil Pindi Bhattia, Business service, Rasoll Pur Tarar Dist Hafizabad TehsilPindi Bhattia, Hafizabad.

🌷 1️⃣ بزرگوں کی بات سچ 🪻یہ جملہ تجربے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ کسانوں اور زمینداروں کے بزرگ سالوں کے مشاہدے کے مطابق:"ج...
27/03/2026

🌷 1️⃣ بزرگوں کی بات سچ 🪻
یہ جملہ تجربے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ کسانوں اور زمینداروں کے بزرگ سالوں کے مشاہدے کے مطابق:
"جب فصل بونے کے وقت بارش نہیں ہوتی، تو پکنے یا کٹائی کے وقت بارش آ جاتی ہے۔"
یہ ایک موسمیاتی پیٹرن ہے جو اکثر پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں دیکھا جاتا ہے۔ یعنی:
بجائی (سِوائی) کے وقت خشک موسم ہوتا ہے۔
کٹائی کے وقت بارش یا ژالہ باری اکثر فصل کو متاثر کرتی ہے۔
یہ بات اس لیے اہم ہے کیونکہ کسان کو اپنی فصل کے دوران موسمی خطرات کے لیے پہلے سے تیار رہنا پڑتا ہے۔
🌧️ 2️⃣ بارش اور ژالہ باری کا اثر
بارش اور ژالہ باری ہمیشہ نقصان دہ نہیں ہوتی، مگر مخصوص حالات میں خطرہ بڑھ جاتا ہے:
اگر دھان یا گندم پکنے کے قریب ہو تو پانی میں زیادہ دیر رہنے سے فصل خراب ہو سکتی ہے۔
ژالہ باری سے پتیوں یا دانوں کو نقصان پہنچتا ہے، خاص طور پر دھان کے رائس پیڈنگ اور گرین فیز میں۔
کچھ علاقوں میں نقصان ہو سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر اوسط پیداوار اچھی رہنے کی توقع ہے۔
مطلب: کچھ کھیت متاثر ہوں گے، مگر زیادہ تر علاقے معمول کے مطابق فائدہ اٹھائیں گے۔
🌾 3️⃣ دھان کی ڈبل کاشت
آپ نے ذکر کیا:
"اس سال دھان کی ڈبل کاشت زیادہ ہو رہی ہے، پہلے 1847 پھر 1985"
اس کا مطلب ہے کہ ایک ہی زمین پر سال میں دو بار دھان کی کاشت ہو رہی ہے۔
ڈبل کاشت سے پیداوار بڑھ جاتی ہے، مگر ریسک بھی زیادہ ہو جاتا ہے:
بارش یا سیلاب سے زیادہ نقصان کا امکان
پانی کی کمی یا زمین کی زرخیزی متاثر ہو سکتی ہے
بیماریوں اور کیڑوں کا خطرہ بڑھتا ہے
🌊 4️⃣ سیلابی علاقوں میں خطرہ
سیلابی علاقوں میں، خاص طور پر دریاؤں کے کنارے یا ندی نالوں کے نزدیک، کسان ہمیشہ خوفزدہ رہتے ہیں۔
اگر بارش زیادہ ہو جائے یا دریاؤں میں پانی بڑھ جائے تو فصل ڈوب سکتی ہے۔
اس لیے سیلاب کے خطرے والے علاقے میں کسان اکثر بیمہ، پانی نکاسی، یا اضافی احتیاطی اقدامات کرتے ہیں۔

01/03/2025
28/02/2025

💚💚

Ten Unknown Facts About

1. Founding and History: BMW, Bayerische Motoren Werke AG, was founded in 1916 in Munich, Germany, initially producing aircraft engines. The company transitioned to motorcycle production in the 1920s and eventually to automobiles in the 1930s.

2. Iconic Logo: The BMW logo, often referred to as the "roundel," consists of a black ring intersecting with four quadrants of blue and white. It represents the company's origins in aviation, with the blue and white symbolizing a spinning propeller against a clear blue sky.

3. Innovation in Technology: BMW is renowned for its innovations in automotive technology. It introduced the world's first electric car, the BMW i3, in 2013, and has been a leader in developing advanced driving assistance systems (ADAS) and hybrid powertrains.

4. Performance and Motorsport Heritage: BMW has a strong heritage in motorsport, particularly in touring car and Formula 1 racing. The brand's M division produces high-performance variants of their regular models, known for their precision engineering and exhilarating driving dynamics.

5. Global Presence: BMW is a global automotive Company

6. Luxury and Design: BMW is synonymous with luxury and distinctive design, crafting vehicles that blend elegance with cutting-edge technology and comfort.

7. Sustainable Practices: BMW has committed to sustainability, incorporating eco-friendly materials and manufacturing processes into its vehicles, as well as advancing electric vehicle technology with models like the BMW i4 and iX.

8. Global Manufacturing: BMW operates numerous production facilities worldwide, including in Germany, the United States, China, and other countries, ensuring a global reach and localized production.

9. Brand Portfolio: In addition to its renowned BMW brand, the company also owns MINI and Rolls-Royce, catering to a diverse range of automotive tastes and luxury segments.
💚💚

Ten Unknown Facts About

1. Founding and History: BMW, Bayerische Motoren Werke AG, was founded in 1916 in Munich, Germany, initially producing aircraft engines. The company transitioned to motorcycle production in the 1920s and eventually to automobiles in the 1930s.

2. Iconic Logo: The BMW logo, often referred to as the "roundel," consists of a black ring intersecting with four quadrants of blue and white. It represents the company's origins in aviation, with the blue and white symbolizing a spinning propeller against a clear blue sky.

3. Innovation in Technology: BMW is renowned for its innovations in automotive technology. It introduced the world's first electric car, the BMW i3, in 2013, and has been a leader in developing advanced driving assistance systems (ADAS) and hybrid powertrains.

4. Performance and Motorsport Heritage: BMW has a strong heritage in motorsport, particularly in touring car and Formula 1 racing. The brand's M division produces high-performance variants of their regular models, known for their precision engineering and exhilarating driving dynamics.

5. Global Presence: BMW is a global automotive Company

6. Luxury and Design: BMW is synonymous with luxury and distinctive design, crafting vehicles that blend elegance with cutting-edge technology and comfort.

7. Sustainable Practices: BMW has committed to sustainability, incorporating eco-friendly materials and manufacturing processes into its vehicles, as well as advancing electric vehicle technology with models like the BMW i4 and iX.

8. Global Manufacturing: BMW operates numerous production facilities worldwide, including in Germany, the United States, China, and other countries, ensuring a global reach and localized production.

9. Brand Portfolio: In addition to its renowned BMW brand, the company also owns MINI and Rolls-Royce, catering to a diverse range of automotive tastes and luxury segments.

11/09/2024

یہ سولہویں صدی کی ایک پینٹنگ ہے جس میں 500 قبل مسیح میں ایک بدعنوان جج کے زندہ ہوتے ہوئے اس کی کھال اتاری جا رہی ہے۔
اس جج کا نام سیسمنس تھا۔ فارس میں بادشاہ کمبیسیس کے وقت ایک بدعنوان شاہی جج تھا۔ معلوم ہوا کہ اس نے عدالت میں رشوت لی اور غیر منصفانہ فیصلہ دیا۔ اس کے نتیجے میں بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے اس کی بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا جائے اور اسکی زندہ کھال اتارنے کا حکم دیا۔
فیصلہ سنانے سے پہلے بادشاہ نے سیسمنیس سے پوچھا کہ وہ کسے اپنا جانشین نامزد کرنا چاہتا ہے۔ سیسمنس نے اس لالچ میں، اپنے بیٹے، Otanes کو منتخب کیا. بادشاہ نے رضامندی ظاہر کی اور جج سیسمنس کی جگہ اس کے بیٹےاوتانیس کو مقرر کیا۔
اس کے بعد اس نے فیصلہ سنایا اور حکم دیا کہ جج سیسمنس کی کھال(جلد) ہٹائی جائے۔
اور اس کی جلد (کھال)کو جج کے بیٹھنے والی کرسی پہ چڑھا دیا گیا۔ جس پر نیا جج عدالت میں بیٹھ کر اسے بدعنوانی کے ممکنہ نتائج کی یاد دلائے گا۔ Otanes، اپنے غور و خوض میں، ہمیشہ یہ یاد رکھنے پر مجبور تھا کہ وہ ہمیشہ اپنے پھانسی پانے والے باپ کی جلد پر بیٹھا رہتا تھا۔ اس سے اس کی تمام سماعتوں، غور و فکر اور جملوں میں انصاف اور مساوات کو یقینی بنانے میں مدد ملی۔
اگر ہم اس تاریخی واقعے کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ملک کے عدالتی نظام کو دیکھیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
ہمارا عدالتی نظام انتہائی کرپٹ اور غیر مؤثر ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں مقدمے التواء کا شکار ہیں جن کا فیصلہ نہیں ہو رہا۔
بے گناہ لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ 25,25 سال ایک مقدمے کے فیصلے کو لگ جاتے ہیں، جبکہ یہی عدالتیں اشرافیہ کی خدمت کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مغربی معاشرہ اور اُنکا عدالتی نظام ہم سے ہزاروں درجے بہتر ہے۔

منقول

04/04/2024

جب حکمران ہی بھکاری ہوں تو عوام تو ہو ہی گی 🙏

پاکستان میں بھکاریوں سے متعلق حیران کن حقائق
24 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں 3 کروڑ 80 لاکھ بھکاری ہیں جس میں 12 فیصد مرد، 55 فیصد خواتین، 27 فیصد بچے اور بقایا 6 فیصد سفید پوش مجبور افراد شامل ہیں.
ان بھکاریوں کا 50 فیصد کراچی، 16 فیصد لاہور، 7 فیصد اسلام آباد اور بقایا دیگر شہروں میں پھیلا ہوا ہے.
کراچی میں روزانہ اوسط بھیک 2ہزار روپے، لاہور میں 1400 اور اسلام آباد میں 950 روپے ہے.
پورے ملک میں فی بھکاری اوسط 850 روپے ہے.
روزانہ بھیک کی مد میں یہ بھکاری 32 ارب روپے لوگوں کی جیبوں سے نکال لیتے ہیں.
سالانہ یہ رقم117 کھرب روپے بنتی ہے
ڈالر کی اوسط میں یہ رقم 42 ارب ڈالر بنتی ہے.
بغیر کسی منافع بخش کام کے بھکاریوں پر ترس کھا کر انکی مدد کرنے سے ہماری جیب سے سالانہ 42 ارب ڈالر نکل جاتے ہیں.
اس خیرات کا نتیجہ ہمیں سالانہ 21 فیصد مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے اور ملکی ترقی کے لئے 3 کروڑ 80 لاکھ افراد کی عظیم الشان افرادی قوت کسی کام نہیں آتی.
جبکہ ان سے کام لینے اور معمولی کام ہی لینے کی صورت میں آمدنی 38 ارب ڈالر متوقع ہے جو چند برسوں میں ہی ہمارے ملک کو مکمل اپنے پاؤں پر نہ صرف کھڑا کرسکتی ہے بلکہ موجودہ بھکاریوں کے لئے باعزت روزگار بھی مہیا کرسکتی ہے.
اب اگر عوام اسی مہنگائی میں جینا چاہتے ہیں اور اپنے بچوں کی روٹی ان بھکاریوں کو دیکر مطمئن ہیں تو بیشک اگلے سو سال اور ذلت میں گزارئیے.
لیکن
اگر آپ چند سالوں میں ہی مضبوط معاشی استحکام اور اپنے بچوں کے لئے پرسکون زندگی دینا چاہتے ہیں تو آج ہی سے تمام بھکاریوں کو خداحافظ کہہ دیجیے. پانچ سال کے بعد آپ اپنے فیصلے پر انشاللہ نادم نہیں ہونگے اور اپنے بچوں کو پھلتا پھولتا دیکھ کر خوشی محسوس کرینگے.

بنگلہ دیش نے جس دن بھکاری سسٹم کو خدا حافظ کہا تھا، اسکے صرف چار سال بعد اسکے پاس 52 ارب ڈالر کے ذخائر تھے.
کیا ہم اچھی بات اور مستند کام کی تقلید نہیں کرسکتے.

اب اپنے بچوں کے لئے فیصلہ آپکے ہاتھ میں ہے.

( منقول)
Sach-ki-talash

Address

Rasoll Pur Tarar Dist Hafizabad TehsilPindi Bhattia
Hafizabad
2690

Telephone

+92 346 6448066

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M.Hasan&co Rasoll Pur Tarar Dist Hafizabad Tehsil Pindi Bhattia posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share