25/08/2026
آیت نور کیس
ڈی پی او ہری پور شفیع اللہ گنڈاپور کی ہمراہ سپیشل انوسٹی گیشن ٹیم کے پریس کانفرنس ۔
انتہاہی افسوس اور افسردہ دل کے ساتھ کہ آج معصوم بچی بچی آیت نور جوکہ میری بچی تھی ، تمام ہری پور پولیس کی بچی تھی کے دلخراش درد ناک واقعہ پر پریس کانفرنس کی جارہی ہے۔کسی بھی بچے کی گمشدگی یا اغواء کا واقع کسی ایک خاندان کے لیے دکھ کا باعث نہیں ہوتا بلکہ پورے معاشرے کا دکھ ہوتا ہے۔ مورخہ 10 اگست کو آیت نور کے والد شفیق جو کہ ایک غریب بیکری کا مزدور ہے نے اپنی بیٹی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کراوائی جس پر مقدمہ علت 361 جرم 364A درج رجسٹر ہو کر تفتیش و تلاش شروع کی گئی، گمشدہ بچی کے والدین سے ملاقات کی اور غم کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ مکمل طور پر کھڑا ہونیکی یقین دہانی کروائی وقوعہ کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے سپیشل انوسٹی گیشن ٹیم کا قیام عمل میں لایا ۔جس میں پولیس کے سینئر افسران ایس ایس پی انوسٹی گیشن ہریپور ، ڈی ایس پی سٹی ، ڈی ایس پی ہیڈکواٹر/انوسٹی گیشن ، ایس ایچ اوز ، سٹی ،ٹی آئی پی، خانپور انچارج انوسٹی گیشن تھانہ سٹی و ٹی آئی پی کے علاوہ پہلی بار خصوصی طور پر فی میل پولیس افسران جن میں ایس پی سکیورٹی ہزارہ ریجن ، آے ایس آئی سی ٹی دی، انچارج کمپلین سیل،سمیت فی میل تفتیشی افسران پر مشتعمل ٹیم کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ۔سی سی ٹی وی فوٹیجز ،سی ڈی ار،جیو فینسینگ اور دیگر تکنیکی شہادتیں اکھٹی کرنے کے لیے فی میل و میل افسران پر مشتمعل آئی ٹی کی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ۔واضح رہے دوران تفتیش 200 سی سی ٹی وی کے ریکارڈ حاصل کیے فوٹیجز کا تجزیہ کیا۔تفتیش سے منسلک 20 مشتبہ نمبرات کے ریکارڈ حاصل کیے جاکر تجزیے کیے گئے۔ 12 کیمرے ایسے تھے جن سے تفتیش آگے بڑھی اور بچی کے گھر سے نکالنے،لے جانے اور ملزمان کی شناخت پیدل وموٹرسائیکل کی گئی۔جن کوٹریس کر کے 3 ملزمان عثمان ولد لقمان سکنہ ماڈل ٹاؤن،قاسم ولد نثار احمد اورطلحہ ولد فرید سکنہ کانگڑہ کو گرفتار کرکے وقوعہ میں استعمال ہونے والا موٹرسائیکل بھی برآمد کرلیا ۔ انتہاہی بریک بینی سے تمام ملزمان سے تفتیش کے دوران ملزم عثمان نے معصوم بچی کو اغواء اور زناء بلجبر کا اعتراف عدالت میں کیا جس کا اقبال جرم جج نے ریکارڈ کیا ۔ملزم قاسم اور طلحہ کو برائے جسمانی ریمانڈ 10 یوم عدالت میں پیش کیا گیا ۔جج صاحب نے کم عمری کے باعث ملزم طلحہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر سنٹرل جیل ہری پور میں داخل کا حکم دیا جبکہ ملزم قاسم کا دو یوم کا جسمانی ریمانڈ پولیس کو دیا ۔ تفتیش کا دائرہ کار مذید وسیع کرتے ہوئے تکنیکی شواہد اور مسلسل سرچ آپریشن بھی بچی کی تلاش کےلیے کیے جن میں ایک وقت میں 400 سے زائد پویس افسران و جوانان ،ٹی ایم اے اور واسا کا سٹاف مختلف ٹیموں میں تقسیم ہو کر پورے علاقے کی سرچ کرتے تھے ۔ دوران سرچ سینئر پولیس افسران نے پورے علاقے میں نالے ، گٹر،گھاس کے گھنے ایریا، یونیورٹی آف ہریپور کے طراف میں ، کھاد فیکٹری گراؤنڈ ،پٹھان کالونی کے ملحقہ علاقوں ،خالی پلاٹ ، ویران جگہوں میں وقوعہ کے روز سے برآمدگی تک مسلسل جاری رکھے ۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے واقع کا نوٹس لیا۔ڈی آئی جی ہزارہ ناصر محمود ستی نے ہریپور کا دورہ کیا ۔ تمام سپیشل انوسٹی گیشن ٹیم کی تفتیش کا انتہای باریک بینی سے جائزہ لیا ۔ڈی پی او ہریپور نے ڈی آئی جی ہزارہ کو کی گئی کی تفتیش،حاصل کی گئیں سی سی ٹی وی فوٹیجز اور ملزمان کے بیانات پر باقاعدہ تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ڈی آئی جی ہزارہ نے ایت نور کے والد اور اہل خانہ سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کی یقین دہانی کروائی، واضح رہے اپنے تمام تفتیشی مراحل ، سرچ آپریشن اور انٹاروگیشن میں آیت نور کے والد اور رشتے داروں کو ڈی پی او ہری پور اور تفتیشی افسران نے ہمراہ رکھتے ہوئے آگاہی فراہم کی ۔ تفتیش میں کافی چیلنجز کابھی سامنا رہا کیونکہ معصوم آیت نور کے کیس میں ملوث ملزمان کم عمر تھے اور شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے براہ راست سم رجسٹریشن نہیں تھی اسلئے ان کی فیملیز اور دیگر مشکوک نمبرات کا ریکارڈ حاصل کیا جا کر ان کے تکنیکی تجزیے آئی ٹی کی ٹیم نے کیے ۔وقوعہ میں ملوث نامعلوم چوتھا ملزم حسن خان ولد سدوزئی سکنہ حال پٹھان کالونی ٹریس کر کے گرفتار کیا اور ملزم کی نشاندہی پرلنک روڈ واقع یونیورسٹی روڈ نزد وئیر ہاؤس خالی پلاٹ میں انتہای گہرے،خشک اور گھاس میں چھپے ہوئے کنویں کو دریافت کر کےمعصوم بچی آیت نور کی نعش کو ریسکیور 1122 کو کو فوری طلب کرکے ان کی مدد سے ریکور کیا۔ریکوری کے تمام تر عمل کی براہ راست نگرانی ڈی پی او ہری پور اورسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم کے سینئر افسران نے کی۔معصوم آیت نور کی نعش کو ڈی پی او ہری پور اور سینئر پولیس افسران نے ہمراہ ریسکیو 1122 کے ٹرامہ سنٹر ہری پور منتقل کیا جہاں پر سینئر ڈاکٹران کے پوسٹمارٹم کا عمل مکمل کر کے ایکسرے،ڈی این اے، کیڈنی،انٹیسٹائین اور تمام جسمانی سیمپل حاصل کیے جا کر تجزیے کے لیے بھجوایا۔مقدمہ میں مذید تفتیش جاری ہے۔
ہری پور پولیس ہری پور کیے علماء اکرام ، تاجر برادری ،میڈیا نمائندگان ، سول سوسائٹی، علاقہ معززین اور شرفاء کی انتہای مشکور ہے ہیں کہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ۔ پٹھان کالونی اور ملحقہ علاقہ جات کے مکینون اور تاجروں کے بھی انتہاہی مشکوک ہیں نصب شدہ کیمرا جات اور سی سی ٹی وی فوٹیجز تک پولیس کی ہرممکن رسائی کی ۔ ڈی پی او ہری پور کی جانب سے شہریوں سے گزارش کی جاتی ہے کہ جن لوگوں نے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے ہوئے ہیں ان کو فنکشنل رکھیں اور ڈی وی ایر کو محفوظ رکھیں تاکہ ایسے ہندولناک کرائم کی صورت میں ملزمان کو کیفر کرداد تک پہنچانے میں شہادت ملے۔ ہری پور پولیس چین آف انوسٹی گیشن کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے انصاف کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں پرعزم ہے۔