The Helping Hand

The Helping Hand The Helping Hand consists of a group of young individuals working jointly towards a successful ventu We enjoy a solution based approach.

The Helping Hand consists of a group of young individuals working jointly towards a successful venture in the IT industry. The company endeavors to accomplish success through fresh ideas, dedication, determination, sincerity and agility as its competencies. We offer service until your satisfaction.

57  قسط نمبر ؛سچی حقیقتیں  : ۔ یہ سلسلہ ۔ حضرت خواجہ پیر صوفی الشاہ غلام سرور شباب علوی قادری قلندری جہانگیری  المعروف  ...
02/09/2026

57 قسط نمبر ؛
سچی حقیقتیں : ۔ یہ سلسلہ ۔ حضرت خواجہ پیر صوفی الشاہ غلام سرور شباب علوی قادری قلندری جہانگیری المعروف سرور پیا سرکار رحمتہ اللہ علیہ آستانہ عالیہ اسلام نگر حویلی لکھا ضلع
اوکاڑا کے ارشادات و فرمودات اور ان کی تعلیمات پر مبنی ہے


خزانوں کا مالک
بے شک اللہ تعالیٰ ساری کائنات کے خزانوں کا مالک ہے۔اگر اللہ تعالیٰ ساری دنیا کے ہر شخص کو قارون سے زیادہ مال دار کردے تو اُس کے خزانوں میں اتنا بھی فرق نہیں پڑے گا جتنا سمندر سے ایک قطرہ پانی نکالنے سے پڑتا ہے اور اگر ساری دنیا مل کر اللہ کواپنے سارے خزانے دے دے تواس کے خزانے میں ایک رائی کے دانے کے برابر فرق نہیں پڑے گا یہ ہے اللہ تعالیٰ کی وسعتوں کا حال۔
انسان بلکہ ہر انسان مال ومتاع کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ کسی کو اقتدار کی ضرورت ہے کسی کو دولت کی ضرورت ہے کسی کو گھر کی ضرورت ہے کسی کوزمین کی ضرورت ہے کسی کواپنے خزانے بھرنے کی طلب ہے ہرانسان اپنی غرض کی خاطر دیوانہ ہوکر مارامارا پھر رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کس کوکیا ضرورت ہے اور کس کو میں کیا دوں گا۔ دَراصل اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی انسانوں کوسب کچھ رکھا ہے اور اس نے انسانوں کومحنت کا حکم دے رکھا ہے۔ اللہ فرماتا توزمین کو ہموار کراِس میں بیج ڈال اورپانی لگا باقی کام میرا ہے۔میں تجھے اس کاصلہ دوں گا اور محنت کے ساتھ ساتھ میرے حضور دُعابھی کرکہ میں تجھ پرعنایتوں کی بارش کرتا رہوں اور میں ایک دانے کے بدلے ہزاروں دانے دیتا ہوں۔ایک قصہ یاد آگیا کہ ہارون رشید کے زمانے میں،ہارون رشید نے اعلان کیا کہ میں ہرخاص وعام کودعوت دیتا ہوں کہ فلاں دِن میرے دربار میں جو شخص جوچیز مانگے گامیں دوں گا۔دَراصل ہارون رشید اپنی رعایا کوآزمانا چاہتا تھا۔ تمام لوگ دربار میں اس دِن جمع ہوگئے۔ سب نے اپنی اپنی خواہش کے مطابق بادشاہ سلامت سے مانگا۔ایک شخص نے کہا اے ہارون رشید میں تجھ سے تجھ ہی کو مانگتا ہوں۔ لوگوں نے کہا یہ کیا کررہے ہو؟ اُس شخص نے کہا جوسب کوسب کچھ دے رہا ہے اس کومانگ لوسارے خزانے اپنے ہوجائیں گے۔

56  قسط نمبر ؛سچی حقیقتیں  : ۔ یہ سلسلہ ۔ حضرت خواجہ پیر صوفی الشاہ غلام سرور شباب علوی قادری قلندری جہانگیری  المعروف  ...
29/08/2026

56 قسط نمبر ؛
سچی حقیقتیں : ۔ یہ سلسلہ ۔ حضرت خواجہ پیر صوفی الشاہ غلام سرور شباب علوی قادری قلندری جہانگیری المعروف سرور پیا سرکار رحمتہ اللہ علیہ آستانہ عالیہ اسلام نگر حویلی لکھا ضلع
اوکاڑا کے ارشادات و فرمودات اور ان کی تعلیمات پر مبنی ہے

زناء کی چار اقسام ہیں
جسم کا زناء
تمام مکاتب ِ فکر اس بات پر متفق ہیں کہ مردوعورت کا غیر شرعی وغیرقانونی جنسی ملاپ جس کی آخری حد دخول ہے زناء ہے۔قرآن حکیم میں پاک پروردِگار کا ارشاد ہے۔
”وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَی إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَسَاء سَبِیْلاً۔“ترجمہ:”اور (خبردار!)زنا کے قریب بھی نہ جانابے شک وہ بڑی بے حیائی ہے اور بری راہ ہے۔“
نظروں کا زنا
غیر مرد کا غیر عورت کو اور غیرعورت کا غیر مرد کو دیکھنا،کہ جس سے بیمار دِل میں فجوری رُوح کے اضطراب سے شہوت وہوس کی آگ بھڑکے، نظروں کا زنا ہے۔ بائبل کے عہد نامہ جدید کی پہلی کتاب”متی کی انجیل“میں جناب عیسٰی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں۔ ”تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ تم زنا نہ کرنا،لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ جو کوئی کسی عورت پربری نظر ڈالتا ہے وہ اپنے دِل میں پہلے ہی اس کے ساتھ زنا کرچکا ہے۔“
زبان کا زنا
بچوں،جوانوں اور بڑوں کاایک دوسرے سے بدکلامی،بدزبانی،دشنام طرازی، فحش گوئی،غیر مہذب اور غیر اخلاقی گفت وشنید وغیرہ کرنا، زبان کا زنا ہے۔پاک پرودِگار ارشاد فرماتا ہے کہ
وَقُل لِّعِبَادِیْ یَقُولُواْ الَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنْ۔ترجمہ:”اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ بہت ہی اچھی بات منہ سے نکالا کریں۔“
دماغ کا زنا
کسی مرد یا عورت کااپنے ذہن میں آزاد جنگلی وحشی جانور کی مثل کسی تخیلاتی یا تصوراتی شے سے اختلاط وملاپ، آوارہ سوچ اور دماغ کازنا ہے۔”جسم“،”نظر“اور”زبان“کے زنا کی ابتدا ”بری سوچ“ سے ہوتی ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ اپنی سوچوں کو پاک کرو!اپنی تنہائی کوپاک کرو! اپنے نفس کو پاک کرو!اور ڈرو،کہ تمہارا خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔

55  قسط نمبر ؛سچی حقیقتیں  : ۔ یہ سلسلہ ۔ حضرت خواجہ پیر صوفی الشاہ غلام سرور شباب علوی قادری قلندری جہانگیری  المعروف  ...
28/08/2026

55 قسط نمبر ؛
سچی حقیقتیں : ۔ یہ سلسلہ ۔ حضرت خواجہ پیر صوفی الشاہ غلام سرور شباب علوی قادری قلندری جہانگیری المعروف سرور پیا سرکار رحمتہ اللہ علیہ آستانہ عالیہ اسلام نگر حویلی لکھا ضلع اوکاڑا کے ارشادات و فرمودات اور ان کی تعلیمات پر مبنی ہے

رُوح نکلنے کا وقت یعنی عالم نزع
یہ وہ سخت مرحلہ ہوتا ہے جس انسان اس جہاں سے۔۔۔اپنے پیاروں سے۔۔۔اپنی تعلیمی قابلیت سے۔۔۔اپنی تمام ذاتی صفات سے۔۔۔اپنی جمع شدہ دولت اور جائیداد سے۔۔۔ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہاتھ جھاڑکر ایک طویل سفر پر روانہ ہوتا ہے۔ اور اپنے ساتھ صرف نیک وبداعمال کا پشتارا لے چلتا ہے۔ تو اس مرحلے کی کیفیات کومرنے والا توبیان کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ
کَلَّا إِذَا بَلَغَتْ التَّرَاقِی۔وَقِیْلَ مَنْ رَاق۔وَظَنَّ أَنَّہُ الْفِرَاقُ۔وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ۔إِلَی رَبِّکَ یَوْمَءِذٍ الْمَسَاق۔
ترجمہ:جب روح سارے بدن سے کھینچ کر ہنسلی کی ہڈی میں اکر اَٹک جائے گی۔اور لوگ کہیں گے کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا،کوئی دوا دارو کرنے والا؟ حالانکہ مرنے والا توسمجھ جاتا ہے کہ اَب جدائی کا وقت آگیا ہے۔ روح نکلنے کی شدت کے باعث اس کی پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ رہی ہوتی ہے۔ یہی تو اپنے رب سے ملاقات کا وقت ہے۔
(سورہ القیامۃ:۶۲تا۰۳)
فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ۔وَأَنتُمْ حِیْنَءِذٍ تَنظُرُونَ۔وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَیْْہِ مِنکُمْ وَلَکِن لَّا تُبْصِرُونَ۔ فَلَوْلَا إِن کُنتُمْ غَیْْرَ مَدِیْنِیْنَ۔تَرْجِعُونَہَا إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ۔
ترجمہ:جب رُوح نکل کر گلے تک پہنچ جاتی ہے اور تم مرنے والے کواپنی آنکھوں سے مرتا دیکھ رہے ہوتے ہو۔ اُس وقت ہم تم سے زیادہ اس کے نزدیک ہوتے ہیں۔ مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔اگر تم اپنے قول میں سچے ہو کہ تمہیں جزاوسزا کچھ نہیں ملنے والی توتم اس کی رُوح کو پلٹا کیوں نہیں دیتے؟(سورہ الواقعہ:۳۸تا ۷۸)
اسی طرح؛
ترجمہ:کاش تم دیکھ سکو کہ جب ظالم موت کی سختیوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور فرشتے (عذاب کے لیے) اپنے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ لاؤ نکالو اپنی جانیں۔(سورہ الانعام:۳۹)
رحمۃ للعالمیں ﷺ نے موت کے اس انتہائی ہولناک مرحلے سے نمٹنے کا نہایت آسان نسخہ بیان فرمایا ہے۔ کہ ”بے شک صدقہ خدا کے غضب کوٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے۔“
دعا گو: پیر صوفی محمد انور ندیم علوی قادری سروری

54  قسط نمبر ؛سچی حقیقتیں  : ۔ یہ سلسلہ ۔ حضرت خواجہ پیر صوفی الشاہ غلام سرور شباب علوی قادری قلندری جہانگیری  المعروف  ...
27/08/2026

54 قسط نمبر ؛
سچی حقیقتیں : ۔ یہ سلسلہ ۔ حضرت خواجہ پیر صوفی الشاہ غلام سرور شباب علوی قادری قلندری جہانگیری المعروف سرور پیا سرکار رحمتہ اللہ علیہ آستانہ عالیہ اسلام نگر حویلی لکھا ضلع
اوکاڑا کے ارشادات و فرمودات اور ان کی تعلیمات پر مبنی ہے

”میں“مر جائے تو عشق پختہ ہوتا ہے
عاشق اپنے محبوب کی ایک جھلک دیکھنے کی غرض سے اس کے دَر پر پہنچا۔دستک دی تو اندر سے آوازآئی۔”کون ہے؟“ عاشق نے پرنم آنکھوں اوردِل ِ بے قرار کے ساتھ جواب دیا۔”میں ہوں،دید کو ترس گیا ہوں۔“اندر سے جواب ملا!! واپس چلا جا، میرے چاہنے والوں میں ”میں“کوئی نہیں ہے۔ ابھی تجھ سے غرور وتکبر کی بو آتی ہے۔ تیری ”اَنا“باقی ہے۔ جا کچھ عرصہ اور ہجر وفراق کی آگ میں جل۔“عاشق نامراد مایوس ہوکر واپس لوٹ گیا۔ کچھ ماہ وسال اور گزرے محبوب کی جدائی میں جلا،صدمہ فراق سہتا رہا۔جب پھر محبوب کے دروازے پر سودائی اور دیوانہ بنا حاضر ہوا،تو محبوب نے اس بار پھر پچھلا سوال دہرایا۔ ”دروازے پرکون ہے؟“عاشق نے عجزوانکساری اور اَدب سے جواب دیا۔ ”میری جاں! دروازے پر بھی توہی ہے۔“محبوب نے یہ الفاظ سنے تو کہا۔ ”اَب تیری میں ختم ہوگئی ہے جب من وتو کا جھگڑا ہی ختم ہوا،تو پھر دُوری کیسی آجاؤ اجازت ہے۔“اس حکایت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نفی ذات کے بغیر منزل ملتی۔(حکایاتِ مولانا رومی)

53  قسط نمبر ؛چار عالم حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی ؒ جو مرید وخلیفہ حضرت نظام الدین اولیاء محبوب ِ الٰہی ؒ کے ہیں فرماتے ...
26/08/2026

53 قسط نمبر ؛

چار عالم
حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی ؒ جو مرید وخلیفہ حضرت نظام الدین اولیاء محبوب ِ الٰہی ؒ کے ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی ؒ کے اوراد میں لکھا ہے کہ چا ر عالم ہیں۔ (عالم ناسوت۔عالم ملکوت۔عالم جبروت۔عالم لاہوت)
پھر اِن کی شرح اس طرح فرمائی۔عالم ناسوت عالم حیوانات ہے۔ اس کا فعل حواس ِ خمسہ سے ہے جیسے کھانا،پینا، سونکھنا، دیکھنا، سننا، جب سالک ریاضت سے عالم ناسوت سے گزر جاتا ہے توعالم ملکوت کی راہ لیتا ہے۔ یعنی عالم ملکوت میں چلا جاتا ہے۔ یہ عالم،عالم فرشتگان ہے اس کافعل تسبیح وتہلیل،قیام،رکوع اورسجود ہے۔ جب اس عالم سے گزرتا ہے تو عالم جبروت میں چلا جاتا ہے۔عالم جبروت عالم رُوح ہے اس کا فعل صفات حمیدہ ہے جیسے ذوق شوق،طلب وجد،سکر صحو اور محو۔جب ان سے گزر جاتا ہے تو عالم لاہوت میں پہنچتا ہے جوبے نشان ہے۔اس وقت اپنے آپ سے قطع تعلق کرتا ہے۔اسی کولامکان بھی کہتے ہیں۔یہاں پر نہ گفتگو ہے اور نہ جستجو۔ فرمان الٰہی ہے۔(ان اِلٰی رَبک المنتھی)تیری آخری منزل رَب ہے۔
پھر فرمایا۔اے درویش! عالم ناسوت نفس کی صفت ہے۔ عالم ملکوت ولی کی صفت ہے۔ عالم جبروت رُوح کی صفت ہے۔ اور عالم لاہوت رحمن یعنی اللہ کی صفت ہے۔ہر ایک میں اس کے مناسب حال ومقام ایک خاص صفت ہے۔ نفس اس جہاں کی طرف مائل ہوتا ہے جوشیطان کامقام ہے۔ لیکن دِل بہشت جاوداں کی طرف مائل ہوتا ہے۔ رُوح رحمن اور پوشیدہ اسرار کی طرف مائل ہوتی ہے۔ جو نفس کی متابعت کرتا ہے وہ دوزخ میں جاتا ہے جودِل کا تابع ہوتا ہے وہ جنت حاصل کرتا ہے رُوح کی متابعت سے قرب ِ الٰہی حاصل ہوتا ہے۔ (مفتاح العاشقین:ملفوظات حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی۔مجلس ۳)
دعا گو: پیر صوفی محمد انور ندیم علوی قادری سروری

52 A  قسط نمبر ؛ارکان ِ تصوف کیا ہیں؟ مشائخ کرام کے نزدیک تصوف کے چار ارکان ہیں۔  1۔شریعت۔2۔طریقت۔3۔حقیقت۔4۔معرفت قرآن و...
25/08/2026

52 A قسط نمبر ؛

ارکان ِ تصوف کیا ہیں؟
مشائخ کرام کے نزدیک تصوف کے چار ارکان ہیں۔
1۔شریعت۔2۔طریقت۔3۔حقیقت۔4۔معرفت
قرآن وسنت کے ظاہری احکام کو ”شریعت“کہا جاتا ہے۔ اور ”طریقت“ان کے باطن کا نام ہے۔ مثال کے طور پر طہارت شرعی یہ ہے کہ بدن کو پاک کرلیا جائے لیکن”طریقت“کی طہارت یہ ہے دِل کوتمام برائیوں سے پاک کیاجائے۔”شریعت“کے احکام پر عمل کرنے سے جو اثرات ذہن وقلب پر مکمل طور پر چھا جائیں اور یقین کی دولت حاصل ہو جائے تو اِسے ”حقیقت“کہا جاتا ہے۔ ”معرفت“سے مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پہچان۔اس کا دوسرا نام”عرفان“ہے۔ جب صوفی پر حقائق کھلتے ہیں تو وہ حق الیقین کی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ یہی عرفان ہے اور یہی معرفت ہے۔
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء فرماتے ہیں کہ جب صوفی سالک سے کوئی غلطی ہوجاتی ہے تو ”معرفت“سے ”حقیقت“کی منزل پر آجاتا ہے۔ جب ”حقیقت“کی منزل پر اِس سے غلطی ہوتی ہے تووہ ”طریقت“کی منزل پر آجاتا ہے۔ اور جب ”طریقت“کی منزل پر اس سے غلطی ہوتی ہے تو ”شریعت“کی منزل پر آجاتا ہے۔ اس لیے ”شریعت“ کی پابندی ضروری ہے۔

دعا گو: پیر صوفی محمد انور ندیم علوی قادری سروری

52  قسط نمبر ؛صوفی کون ہوتا ہے؟ اگر سوال کیا جائے کہ صوفی کون ہوتا ہے؟ تو اِس کا مختصر جواب یہ ہے کہ پاکیزہ خیال،خیر اند...
24/08/2026

52 قسط نمبر ؛
صوفی کون ہوتا ہے؟
اگر سوال کیا جائے کہ صوفی کون ہوتا ہے؟ تو اِس کا مختصر جواب یہ ہے کہ پاکیزہ خیال،خیر اندیش،نیک نیت،اہل دِل،اہل ذوق،فائدہ بخش اور دُعا گو۔صوفی انسانیت کا دشمن نہیں بلکہ دوست ہوتا ہے۔ صوفی کو نفرت برے انسان سے نہیں بلکہ برائی سے ہوتی ہے۔اگر صوفیاء بروں سے نفرت کریں تو کون ہوگا جو بروں کو منزل کی راہنمائی کرے گا۔
حالانکہ شریعت وطریقت دو راہیں ہیں نہ اولیاء اللہ کبھی غیر علماء ہوسکتے ہیں۔امام مالک فرماتے ہیں۔ علم باطن نہ جانے گا مگر وہ جو علم ظاہر جانتا ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی جاہل کواپنا ولی نہ بنایا یونی بنانا چاہا تو پہلے اُسے علم دے دیا اس کے بعد ولی کہا۔ شریعت،طریقت،حقیقت،معرفت میں باہم اصلاً کوئی اختلاف نہیں،اِس کا مدعی اگر بے سمجھے کہے تو نراجاہل ہے اور سمجھ کرکہے تو گمراہ،بددین۔
شریعت،سید عالم حضورنبی کریم ﷺ کے اقوال ہیں۔ اور طریقت آپ حضور ﷺ کے افعال ہیں۔ اور حقیقت، آپ حضور ﷺ کے احوال ہیں۔ اور معرفت آپ حضور ﷺ کے علوم بے مثال ہیں۔شریعت،طریقت،حقیقت،معرفت، ارکان ِ تصوف ہیں۔
دعا گو: پیر صوفی محمد انور ندیم علوی قادری سروری

A 51  قسط نمبر ؛مثنوی مولانا روم سے اقتباسحصۃ دومتودکان کے اندر چیتھڑے سی رہا ہے اس دکان کے نیچے زرو جواہر کی دکانیں مخف...
22/08/2026

A 51 قسط نمبر ؛

مثنوی مولانا روم سے اقتباس
حصۃ دوم
تودکان کے اندر چیتھڑے سی رہا ہے اس دکان کے نیچے زرو جواہر کی دکانیں مخفی ہیں۔ تو لذائذ جسمانیہ کے حصول میں منہمک ہے حالانکہ تیری رُوح کے اندر اس سے کہیں زیادہ گراں قدر رُوحانی لذتیں موجود ہیں۔ یہ دکان کرایہ ہے(اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا)اس لیے جلدی کر تیشہ کے اور اس کی تہ کرید (ریاضت سے جسم کو مضمحل کراور رُوح کوقوت دے)۔ تاکہ تو تیشے کواچانک کان پر جامارے اور اس دولت کے حصول سے اس قدرمال دار ہوجائے گا کہ دکانداری اور پارہ دوزی سے چھوٹ جائے۔پارہ دوزی کیاہے؟ پانی اور روٹی کی خوراک۔تویہ (خوراک) چیتھڑے(جسم کی بھاری گدڑی) پر ہی ہے۔ اے غافل جو بادشاہ یاقبال یعنی(حضرت آدم) کی نسل سے ہے ہوش میں آاور اس پارچہ دوزی سے شرم کر۔اپنے جسم پر پیوند لگانے کی بجائے اس دکان کی تہ سے پیوند اکھیڑ تاکہ تیرے آگے دولت کی دکانیں نمودار ہوجائیں۔
دعا گو: پیر صوفی محمد انور ندیم علوی قادری سروری

51  قسط نمبر ؛مثنوی مولانا روم سے اقتباس تواپنی ہستی کے گھر کوکھود ڈال جس کے اندر ایک عقیق موجود ہے۔اس یمن کے عقیق سے لا...
21/08/2026

51 قسط نمبر ؛

مثنوی مولانا روم سے اقتباس
تواپنی ہستی کے گھر کوکھود ڈال جس کے اندر ایک عقیق موجود ہے۔اس یمن کے عقیق سے لاکھوں نئے گھر تعمیر کرسکتا ہے۔خزانہ گھر کے نیچے مدفون ہے اور اگر اس خزانہ کونکالنا اور قبضے میں لانا چاہتے ہوتو اس کو منہدم کرنے کے بغیر چارہ نہیں۔پس تم گھر کومنہدم کرنے میں تامل نہ کرو اور کھڑے نہ رہو۔ آخر وہ گھر (موت کے بعد) خود مسمار ہوجائے گااور یقینا اس کے نیچے سے خزانہ ننگا ہوجائے گا۔ شاید تم کہو کہ ہم از خود اپنی ہستی کاگھر کیوں ڈھائیں۔ جب وہ خود بخود ڈھے جائے گا تو خزانہ نکل پڑے گا۔لیکن اس وقت تم خزانے کے لائق نہیں ہوگے۔ لیکن پھر وہ خزانہ تیری ملک نہ ہوسکے گا۔کیونکہ رُوح جو اس خزانہ پر قابض ہوتی ہے تو وہ کشائش غنا اس کے خانہ ووجود بااختیار خود ویران کرنے کاعوض ہے اور موت کے بعد خانہ وجود ویران ہوتا ہے۔ جب اس نے بااختیار خود وہ انہدام خانہ ہستی کاکام نہیں کیا تو اس کا محنتانہ نہیں مل سکتا۔انسان کاحق اتنا ہی ہے جتنی وہ کوشش کرے۔
اس کے بعد تو حسرت سے اپنا ہاتھ کاٹے گااور کہے گا کہ ہائے افسوس!ایسا چاند بادل کے نیچے موجود تھا میں نے اس کی پرواہ نہ کی۔ افسوس مجھے جواچھی بات بطور مشورہ کہی گئی میں نے اس پر عمل نہ کیا اور گھر بھی تباہ ہوا،اور میرا ہاتھ بھی خالی رہ گیا۔ افسوس یہ گھر خزانہ کی آڑ اور حجاب میں رہا۔ ایک دانا سینکڑوں خرمنوں کی رکاوٹ بنارہا،اس لیے اس خزانہ کو معلوم نہ کرسکا۔ تونے یہ خانہ(وجود) اجرت اور کرایہ پر لیا ہے کو بیح اور شرا کے ساتھ تیرا ملک نہیں ہوا۔ اس کرایہ کی معیاد موت تک ہے تاکہ اس مدت کے اندر تو اس گھر میں ٹھہر کر کچھ کمالے۔یعنی اس چند روزہ زندگی کا توشہ اعمال جمع کرلے۔

دعا گو: پیر صوفی محمد انور ندیم علوی قادری سروری

50  قسط نمبر ؛عشق کیا ہے؟ اس دنیا کے لوگوں کی مثال ایک قندیل کے سامنے تین پروانوں کی سی ہے۔تین پروانے تھے پہلا پروانہ قن...
20/08/2026

50 قسط نمبر ؛
عشق کیا ہے؟
اس دنیا کے لوگوں کی مثال ایک قندیل کے سامنے تین پروانوں کی سی ہے۔تین پروانے تھے پہلا پروانہ قندیل کے قریب گیا اور اُس کی حدت محسوس کرکے واپس آگیا اور کہا مجھے معلوم ہے عشق کیا ہے؟ دوسرا پروانہ قندیل کے اور قریب گیا اور اُس کی آگ کواپنے پروں سے چھو کر دیکھا اور واپس آکر واپس آکر کہا مجھے معلوم ہے عشق کیا ہے؟ تیسرا پروانہ قندیل کے پاس گیا اور جل کر بھسم ہوگیا۔پس وہی اکیلا جانتا تھا کہ اصل میں عشق کیا ہے۔ (شیخ فریدالدین عطارؒ)
بس یہی علم الیقین،عین الیقین اور حق الیقین کا معاملہ ہے۔جو سمجھ گیا اس کا بیڑا پار ہے اور جو نہ سمجھا وہ فلسفے اور عقل کی مغزماریوں،گھمن گھیریوں میں ہی لگا رہتا ہے ساری عمر۔
عشق کی چنگاری
حضرت مولانا غوث علی شاہ پانی پتی ؒ نے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ
ایک شخص کسی عاشق درویش کی خدمت میں جاتا،اُن کی صحبت میں بیٹھا رہتا اور اپنی کوئی مراد یا حاجت پیش نہ کرتا۔ ایک روز وہ درویش پوچھنے لگے کہ ”تم روزانہ آتے ہو اور بیٹھ کرچلے جاتے ہو،ہر کوئی اپنی مراد اور حاجت پیش کرتا ہے،دُعا کے لیے کہتا ہے مگر تم نے کبھی کچھ نہیں کہا،آخر تم کس لیے آتے ہو۔“
وہ شخص کہنے لگا کہ ”حضور!میں تو عشق کی چنگاری لینے آتاہوں، فقط یہ چاہتا ہوں کہ مجھے عشق کی آگ لگ جائے۔“
یہ سن کرمرد درویش چپ ہورہے۔کچھ دنوں بعد انہوں نے دوبارہ پوچھا،اس شخص نے کہا کہ ”میرا تو بس ایک ہی مطالبہ ہے۔“وہ بزرگ پھر چپ ہورہے۔اسی طرح کچھ دنوں کے بعد انہوں نے پھر پوچھا تو اس نے اپنا مطالبہ دہرایا کہ
”مجھے عشق کی چنگاری چاہئے اور کچھ نہیں چاہئے۔“اس پر وہ بزرگ کہنے لگے کہ ”کل جنگل میں فلاں جگہ جانا وہاں ایک شخص پڑا ہو نظر آئے گا۔اگلے دن آکر مجھے اس کی حالت بتانا۔“اگلے دِن وہ شخص جنگل میں اس مقام پر گیا تودیکھا کہ
”وہاں ایک شخص پڑا ہوا ہے جس کا سر،بازو اور ٹانگیں دھڑ سے جدا تڑپ رہے ہیں اور خون کے فوارے نکل رہے ہیں۔“یہ حالت دیکھ کر وہ شخص واپس بزرگ کے پاس آیا اور لوگوں کے جانے کے بعد بزرگ سے کہنے لگا کہ ”میں نے دیکھا ہے اس شخص کا ہر عضو،دھڑ سے جدا ہے اور تڑپ رہا ہے۔ یہ سن کر اُس درویش نے کہا کہ”عاشقوں کایہ حال ہوتا ہے اگر یہ حال قبول ہے توعشق کی چنگاری دے دیتے ہیں۔“

جو عشق ومحبت کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں آزمائش کی بھٹی پر چڑھا دیا جاتا ہے اور خوف وبھوک کے ساتھ مال وجان اور دوسری نعمتوں میں کمی کرکے آزمایا جاتا ہے۔ تاکہ معلوم ہو کہ ”یہ لوگ اپنے دعویٰ محبت میں کہاں تک سچے ہیں۔
دعا گو: پیر صوفی محمد انور ندیم علوی قادری سروری

Address

Islam Nagar
Haveli
56020

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Helping Hand posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to The Helping Hand:

Shortcuts

Share