02/09/2026
57 قسط نمبر ؛
سچی حقیقتیں : ۔ یہ سلسلہ ۔ حضرت خواجہ پیر صوفی الشاہ غلام سرور شباب علوی قادری قلندری جہانگیری المعروف سرور پیا سرکار رحمتہ اللہ علیہ آستانہ عالیہ اسلام نگر حویلی لکھا ضلع
اوکاڑا کے ارشادات و فرمودات اور ان کی تعلیمات پر مبنی ہے
خزانوں کا مالک
بے شک اللہ تعالیٰ ساری کائنات کے خزانوں کا مالک ہے۔اگر اللہ تعالیٰ ساری دنیا کے ہر شخص کو قارون سے زیادہ مال دار کردے تو اُس کے خزانوں میں اتنا بھی فرق نہیں پڑے گا جتنا سمندر سے ایک قطرہ پانی نکالنے سے پڑتا ہے اور اگر ساری دنیا مل کر اللہ کواپنے سارے خزانے دے دے تواس کے خزانے میں ایک رائی کے دانے کے برابر فرق نہیں پڑے گا یہ ہے اللہ تعالیٰ کی وسعتوں کا حال۔
انسان بلکہ ہر انسان مال ومتاع کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ کسی کو اقتدار کی ضرورت ہے کسی کو دولت کی ضرورت ہے کسی کو گھر کی ضرورت ہے کسی کوزمین کی ضرورت ہے کسی کواپنے خزانے بھرنے کی طلب ہے ہرانسان اپنی غرض کی خاطر دیوانہ ہوکر مارامارا پھر رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کس کوکیا ضرورت ہے اور کس کو میں کیا دوں گا۔ دَراصل اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی انسانوں کوسب کچھ رکھا ہے اور اس نے انسانوں کومحنت کا حکم دے رکھا ہے۔ اللہ فرماتا توزمین کو ہموار کراِس میں بیج ڈال اورپانی لگا باقی کام میرا ہے۔میں تجھے اس کاصلہ دوں گا اور محنت کے ساتھ ساتھ میرے حضور دُعابھی کرکہ میں تجھ پرعنایتوں کی بارش کرتا رہوں اور میں ایک دانے کے بدلے ہزاروں دانے دیتا ہوں۔ایک قصہ یاد آگیا کہ ہارون رشید کے زمانے میں،ہارون رشید نے اعلان کیا کہ میں ہرخاص وعام کودعوت دیتا ہوں کہ فلاں دِن میرے دربار میں جو شخص جوچیز مانگے گامیں دوں گا۔دَراصل ہارون رشید اپنی رعایا کوآزمانا چاہتا تھا۔ تمام لوگ دربار میں اس دِن جمع ہوگئے۔ سب نے اپنی اپنی خواہش کے مطابق بادشاہ سلامت سے مانگا۔ایک شخص نے کہا اے ہارون رشید میں تجھ سے تجھ ہی کو مانگتا ہوں۔ لوگوں نے کہا یہ کیا کررہے ہو؟ اُس شخص نے کہا جوسب کوسب کچھ دے رہا ہے اس کومانگ لوسارے خزانے اپنے ہوجائیں گے۔