Rahim Gojali

Rahim Gojali Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Rahim Gojali, Business service, Sarteez Gircha Gojal Hunza, Hunza.

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ

Former Nominated Candidate
Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI)
GBA-6 Hunza, Gilgit-Baltistan
General Elections 2026

سابق نامزد امیدوار
پاکستان تحریکِ انصاف (PTI)
حلقہ GBA-6 ہنزہ، گلگت بلتستان
عام انتخابات 2026

26/08/2026

کردار، وفا اور نظریے کی پہچان — سید سہیل عباس شاہ

کسی بھی انسان کا تعلق اگر ایک اچھے خاندان، باوقار معاشرے اور بااصول برادری سے ہو تو وہ اپنی شخصیت، کردار اور خدمات سے ایسی مثال قائم کرتا ہے جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رہتی ہے۔ ایسی ہی ایک روشن مثال جسٹس ریٹائرڈ سید جعفر شاہ مرحوم کے فرزندِ سید سہیل عباس شاہ۔ ہیں۔
سید سہیل عباس شاہ دوسری مرتبہ اپنے حلقے سے منتخب ہو کر بڑے بڑے سیاسی ناموں کو شکست دیتے ہوئے اسمبلی تک پہنچے۔ مگر ان کی اصل پہچان صرف ایک منتخب نمائندے کی نہیں، بلکہ ایک باوقار، باکردار، بااصول اور نظریاتی شخصیت کی ہے۔ انہوں نے اپنے کردار، کارکردگی اور عوامی خدمت سے اپنے حلقے اور پورے گلگت بلتستان میں اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔
وہ اپنے حلقۂ انتخاب تھری کی بھرپور نمائندگی کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق اور مسائل کی آواز بھی بن کر کھڑے ہیں۔ بالخصوص خان کے نظریے، حقیقی آزادی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بیانیے کے ساتھ جس استقامت اور چٹان جیسی مضبوطی سے وہ کھڑے رہے ہیں، وہ ان کی نظریاتی وابستگی اور سیاسی کردار کا واضح ثبوت ہے۔

دوسری جانب نیک نام کریم کا سیاسی سفر

دوسری جانب نیک نام کریم کے سیاسی سفر کا ایک پہلو ہنزہ کی حالیہ تاریخ میں ایک اہم سوال کے طور پر سامنے آتا ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے مرکزی نامزد امیدوار رحیم گوجالی تھے۔ پارٹی کے لیے ان کی طویل قربانیاں، اسیری، ملٹری ٹرائل اور آج بھی جاری مقدمات اور قانونی معاملات ان کی سیاسی جدوجہد کا حصہ ہیں۔ انہی حالات اور ان کی قربانیوں کے تناظر میں ان کی ٹکٹ فائنل ہوئی تھی۔
لیکن بعد ازاں نیک نام کریم نے اپنے چند قریبی ساتھیوں سمیت، پرانی ٹیم جو کہ ’’الجھن گروپ‘‘ کہلاتی تھی، بالخصوص عزیز احمد، اور سابقہ ٹیم کے افراد کی جانب سے اس پورے معاملے میں سہولت کاری کی گئی۔ جس کے بعض افراد کے بارے میں پارٹی کارکن پہلے بھی پاکستان تحریکِ انصاف سے بے وفائی اور اختلافات کا ذکر کرتے رہے ہیں۔
سابق وزیرِ اعلیٰ محمد خالد خورشید خان، ڈسٹرکٹ ہنزہ کے عمائدین اور پارٹی کے بعض ذمہ داران کے سامنے مسلسل منت سماجت اور مختلف حوالہ جات پیش کیے گئے۔ یہاں تک کہ کمیونٹی، امام اور قرآنِ پاک کا حوالہ دے کر رحیم گوجالی سے ہنزہ کے وسیع تر مفاد میں قربانی دینے کی درخواست کی گئی۔
بالآخر انہی حالات، یقین دہانیوں اور دباؤ کے باعث رحیم گوجالی کو مجبوراً اپنا پارٹی ٹکٹ پاس آن کرنا پڑا اور نیک نام کریم کے لیے راستہ ہموار ہوا۔
عوام نے پھر عمران خان اور پاکستان تحریکِ انصاف کے نام پر اپنا مینڈیٹ دیا، مگر کامیابی کے بعد نیک نام کریم کا ایک دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہونا ان تمام قربانیوں، اعتماد اور مینڈیٹ کے حوالے سے ایک بڑا سوال بن گیا۔
سوال یہ ہے کہ جس مینڈیٹ کے لیے اتنی قربانیاں دی گئیں، کیا اس مینڈیٹ کی لاج رکھی گئی؟ وزارت اور اقتدار اپنی جگہ، مگر قوم کا اعتماد، نظریاتی وفاداری، کردار اور اصول کہیں زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔

بالخصوص ایک بات سب سے منفرد اور قابلِ ذکر ہے کہ مرکزی قائدین جو وہاں پہنچے تھے، محمد خالد خورشید خان کی ہدایت کی روشنی میں رحیم گوجری نے اپنے بل بوتے پر، سنگل کیپیسٹی سکیورٹی، اور دیگر تمام انتظامی معاملات کی ذمہ داری خود سنبھالی اور انہیں مکمل معاونت فراہم کی۔
یہ مرکزی قائدین کی بھی بہت بڑی مہربانی تھی، بالخصوص عمر ڈار صاحب، ممبر قومی اسمبلی محترمہ شاندانہ گلزار خان صاحبہ، محترمہ ریحانہ ڈار صاحبہ اور شاندانہ گلزار خان صاحبہ کے ہمراہ پشاور سے آنے والی پوری ٹیم، جنہوں نے نہ صرف ہماری بھرپور سپورٹ کی بلکہ ٹریننگ، اور دیگر تمام معاملات میں ہماری معاونت کی۔
بالخصوص پشاور کے گزشتہ تین انتخابات میں جس طرح یہ پوری ٹیم اپنی تمام تر تکنیکی مہارت، تجربے اور ٹیم ورک کے ساتھ میدان میں موجود رہی، اسی تجربے اور مہارت کو یہاں بھی بھرپور انداز میں بروئے کار لایا گیا۔
ان تمام خدمات، تعاون اور قربانیوں کے باوجود نیک نام کریم نے آخر کسی کی لاج نہیں رکھی۔

اس کے برعکس سید سہیل عباس شاہ نے مشکل ترین حالات میں اپنی پارٹی، اپنے نظریے، اپنے حلقے، اپنی کمیونٹی اور پورے گلگت بلتستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہ کر ثابت کیا کہ عہدے عارضی ہوتے ہیں، مگر کردار اور وفاداری تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
اسی لیے سید سہیل عباس شاہ ایک ایسا کردار ہیں جن پر ہنزہ، گلگت بلتستان اور پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکن فخر کر سکتے ہیں۔
کیا خوب ایک گلوکار نے بھی ان کی شخصیت، کردار اور وفاداری کو اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے—آئیے، آپ بھی سنیے۔

سپریم کورٹ نے مرکزی کیس کے ساتھ توہین عدالت درخواست بھی سماعت کیلئے مقرر کردی۔۔۔
26/08/2026

سپریم کورٹ نے مرکزی کیس کے ساتھ توہین عدالت درخواست بھی سماعت کیلئے مقرر کردی۔۔۔

26/08/2026
25/08/2026

واہ وزیراعلی صاحب اپ نے تو کچا چھٹا کھول دیا

25/08/2026

احمد خان نیازی کے سنگ — پرانے اور وفادار ساتھی حقیقی آزادی کے کارواں کو آگے لے کر بڑھیں گے!

خان کے حقیقی ساتھی، ہم سب کے بڑے بھائی اور اس قافلے کے کمانڈر احمد خان نیازی اپنی پرانی، مخلص اور وفادار ٹیم کے ہمراہ ہمیشہ چٹان کی طرح کھڑے رہے ہیں۔ خان کی موومنٹ ہو، ریلیاں ہوں، عدالتوں میں پیشیاں ہوں یا خان کے اقتدار سے اترنے سے آج تک کا مشکل ترین وقت—یہ ساتھی ہر مشکل، ہر آزمائش اور ہر قدم پر چٹان کی طرح خان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

اب یہ قافلہ اس عزم و یقین سے نکلے گا کہ
جہاں سے ہم چاہیں، راستہ وہیں سے نکلے گا۔
اے وطنِ عزیز! کی مٹی ہمیں ایڑیاں رگڑنے دے،
ہمیں بھی یقین ہے کہ چشمہ یہیں سے نکلے گا۔

ان شاء اللہ احمد خان نیازی کے سنگ یہ کارواں آخری دم تک اسی عزم، وفاداری اور یقین کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا۔ 🇵🇰✌️🔥

25/08/2026

عمران احمد خان نیازی کے وہ 26 جملے جو اقوالِ زریں بن گئے — کاشی بلوچ کا کمال تجزیہ۔

اس ویڈیو کلپ میں اپنا ولاگ، رپورٹ اور تجزیہ پیش کرنے والے کاشی بلوچ پاکستان کے کمال کے تجزیہ کار ہیں۔ آپ ان کا مکمل تجزیہ ضرور سنیں، یقیناً ان کی گفتگو سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔
میں خود ہمیشہ ان کے تجزیے سنتا ہوں۔ وہ ہر معاملے پر گہری نظر، مثبت سوچ اور اپنی مدلل رائے رکھتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر، سچ اور حق کے لیے ثابت قدمی سے آواز بلند کرتے ہیں۔ ان کا اندازِ گفتگو، طرزِ بیان اور بات کو مدلل انداز میں پیش کرنے کا منفرد طریقہ واقعی کمال ہے۔
کاشی بلوچ کو سنیں، ان کے تجزیے کو سمجھیں اور اپنی رائے خود قائم کریں۔

25/08/2026

میرے پیارے بھائی زونیر کومبو، معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ٹورزم انڈسٹری کے بے تاج بادشاہ، آپ کے تمام کانٹینٹس کو دیکھ کر مجھے ہمیشہ خوشی ہوتی ہے، لیکن آج آپ کا یہ ویڈیو کلپ سن کر دل سے آپ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کو جی چاہا۔
آپ جس انداز میں غلط ایکسرسائز کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، حق اور سچ کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، قانون کی بالادستی، ملک کی بہتری اور ایک بہتر معاشرے کے لیے اپنی آواز بلند کرتے ہیں، یہ واقعی قابلِ تحسین ہے۔
گلگت بلتستان سمیت پاکستان کے خوبصورت علاقوں، ان کی ثقافت، خوبصورتی اور سیاحت کو جس خوبصورتی سے پروموٹ کرتے ہیں، وہ بھی قابلِ قدر ہے۔ مزید یہ کہ میرے خاندان میں میرے بھتیجے حنیف انصاری کی شادی میں شریک ہو کر اپنے خاندان اور دوستوں کے ہمراہ میرے بھتیجے، ہمارے خاندان اور ہمارے علاقے کو جو عزت دی، وہ ہمیشہ یاد رہے گی۔
لیکن ان تمام خوبصورت باتوں سے بڑھ کر آج کے اس کلپ میں جس بےباکی، خلوص اور جرأت کے ساتھ آپ نے حق اور سچ کی آواز بلند کی، وہ واقعی دل کو چھو گئی۔
میرے پیارے بھائی زونیر کومبو، آپ کی مثبت سوچ، حق گوئی اور معاشرے کے لیے آواز اٹھانے کے جذبے کو دل کی گہرائیوں سے سلام اور خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔

25/08/2026

سرحد یونیورسٹی اسلام آباد: طالبات کی زبانی، کل کے واقعے کی لرزہ خیز حقیقت — ریاستی خاموشی کب تک؟

کل سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعے کا آنکھوں دیکھا حال خود طالبات کی زبانی سنیے۔ ان کے ساتھ کیا کچھ پیش آیا، حالات کس وجہ سے اس نہج تک پہنچے اور اصل حقیقت کیا ہے—یہ سب انہی کی زبانی سنیں۔
افسوس کہ اتنے سنگین معاملے پر ریاست اور ملک کے ذمہ داران تاحال خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
طالبات کی زبانی سنیں، تمام کلپس خود دیکھیں اور پھر فیصلہ خود کریں۔

25/08/2026

اِنّا لِلّٰهِ وَإِنّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

مرحوم اُستاد فرمان علی بن علی مدد
جمال آباد، گوجال، ہنزہ — ایک روشن، باوقار اور قابلِ احترام شخصیت کی یاد میں
نہایت دکھ، رنج اور افسوس کے ساتھ اُستاد فرمان علی بن علی مدد کی وفات پر دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ مرحوم، ساکن جمال آباد، گوجال، ہنزہ، 20 اگست 2026ء کو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی میں انتقال کر گئے اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
مرحوم نے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1980ء کی دہائی کے آغاز میں ڈی جے مڈل اسکول مورکھون، گوجال سے اپنے تدریسی سفر کا آغاز کیا۔ ایک مخلص، شفیق، بااخلاق اور قابل استاد کی حیثیت سے انہوں نے اپنے شاگردوں کی تعلیم و تربیت میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی شفقت، خلوص اور حسنِ اخلاق آج بھی ان کے بے شمار شاگردوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
بعد ازاں مرحوم نے کاروباری میدان میں قدم رکھا اور گلگت شہر میں فرمان پرنٹنگ پریس کے نام سے اپنا ادارہ قائم کیا۔ وہ گوجال، ہنزہ کے اُن اولین افراد میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے پرنٹنگ پریس جیسے تکنیکی شعبے میں کاروبار کی بنیاد رکھی۔ محنت، دیانت داری، مستقل مزاجی اور اپنے کام سے لگن کے ذریعے انہوں نے کامیابی کی ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی۔
بعد میں اسلام آباد منتقل ہو کر انہوں نے اپنے کاروبار کو مزید وسعت دی اور کامیابی کے ساتھ جاری رکھا۔ مرحوم ایک نہایت مہربان، خوش اخلاق، ملنسار، ہمدرد اور خدمت گزار انسان تھے۔ کمیونٹی کی خدمت اور فلاحی سرگرمیوں میں ان کی شمولیت ہمیشہ قابلِ قدر رہی، اور انہوں نے طویل عرصے تک رضاکارانہ طور پر مختلف سماجی و فلاحی خدمات انجام دیں۔
ایک باوقار اور کامیاب خاندان کے سربراہ
مرحوم اپنے پیچھے ایک باوقار اور کامیاب خاندان چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے بڑے صاحبزادے حیدر فرمان مارشل آرٹس کے ممتاز چیمپئن ہیں، جبکہ دوسرے صاحبزادے ارہام فرمان نے حال ہی میں یونیورسٹی آف ٹورنٹو، کینیڈا سے اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کی ہے۔ ان کی ایک صاحبزادی جرمنی کی ایک یونیورسٹی سے ماسٹرز کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔
مرحوم اپنے پسماندگان میں اہلیہ، دو بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں۔
اُستاد فرمان علی بن علی مدد کی رحلت جمال آباد، گوجال، ہنزہ سمیت پوری برادری کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی پوری زندگی تعلیم، محنت، دیانت داری، خدمتِ خلق، خوش اخلاقی اور انسان دوستی سے عبارت تھی۔ ان کی علمی، سماجی اور کاروباری خدمات کو ان کے شاگرد، دوست، عزیز و اقارب اور اہلِ علاقہ ہمیشہ قدر و احترام سے یاد رکھیں گے۔
ہماری جانب سے مرحوم کے تمام اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور خاندان کے اُن تمام افراد سے، جو جمال آباد، گوجال، ہنزہ سے لے کر گلگت تک آباد ہیں، دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اس غم کی گھڑی میں آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
ہماری دعا ہے کہ پروردگارِ عالم مرحوم اُستاد فرمان علی بن علی مدد کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے اور اپنی رحمتِ خاص میں جگہ عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ تمام پسماندگان، اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوست احباب، شاگردوں اور تمام سوگواران کو صبرِ جمیل، حوصلہ اور اس عظیم صدمے کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
May your beautiful soul rest in eternal peace. Aameen.

25/08/2026

گرفتاری سے پہلے لڑکی کا آخری بیان — جبر، ظلم اور فسطائیت آخر کب تک؟

بلوچ آواز اٹھائے تو: ’’تھو تھو، بلوچ غدار ہیں، انتشار پھیلا رہے ہیں۔‘‘
پشتون آواز اٹھائے تو: ’’یہ جاہل ہیں، دہشت گردی پھیلا رہے ہیں اور ملک توڑنے کا بیانیہ بنا رہے ہیں۔‘‘
کشمیری آواز اٹھائے تو: ’’یہ ناشکرے ہیں، غدار ہیں اور ملک توڑنا چاہتے ہیں۔‘‘
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانا کب سے غداری بن گیا؟
ملک میں جو بھی اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھا رہا ہے، وہ آپ سے کوئی الگ ملک نہیں مانگ رہا۔ چاہے کشمیر ہو، بلوچستان ہو، سندھ ہو، پنجاب ہو یا گلگت بلتستان—یہ سب اپنے ہی ملک میں اپنے جائز حقوق، انصاف، عزت اور بہتر مستقبل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
آپ کو ان کی آواز سننی چاہیے، ان کے مسائل سمجھنے چاہئیں اور ان کے جائز مطالبات کا جواب دینا چاہیے۔ لیکن اس کے بجائے جو بھی سوال کرے، اسے غدار، ملک دشمن، جاہل یا انتشار پھیلانے والا قرار دے دیا جاتا ہے۔ کیا یہی ریاست اور عوام کے درمیان تعلق ہونا چاہیے؟
آپ دنیا کے دوسرے ممالک کے مسائل پر تو آواز اٹھاتے ہیں، ان کے حق میں بیانات دیتے ہیں، ان کے بیانیے کی حمایت کرتے ہیں، لیکن جب اپنے ہی ملک کے شہری، اپنے ہی بھائی اور اپنی ہی قوم اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھائیں تو ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے ان پر الزامات لگائے جاتے ہیں اور ان کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہ دوہرا معیار آخر کب تک؟
اگر ظلم کہیں بھی ہو تو اس کے خلاف آواز اٹھانا انسانی فرض ہے، لیکن اپنے ہی لوگوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر خاموش رہنا سب سے بڑا المیہ ہے۔ بلوچستان ہو، خیبر پختونخوا ہو، کشمیر ہو، سندھ ہو، پنجاب ہو یا گلگت بلتستان—ہر پاکستانی کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے پرامن آواز اٹھانے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
اور گرفتاری سے پہلے اس بچی نے جو سوال اٹھایا، وہ صرف اس کا سوال نہیں بلکہ ہر اس شخص کا سوال ہے جو اپنے حق کے لیے آواز اٹھا رہا ہے:
’’جبر، ظلم اور فسطائیت آخر کب تک؟‘‘
یاد رکھیں، آواز کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن حق کی آواز کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، ایک دن ختم ہو کر رہتا ہے۔

Address

Sarteez Gircha Gojal Hunza
Hunza

Telephone

+923498881377

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rahim Gojali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share