26/08/2026
کردار، وفا اور نظریے کی پہچان — سید سہیل عباس شاہ
کسی بھی انسان کا تعلق اگر ایک اچھے خاندان، باوقار معاشرے اور بااصول برادری سے ہو تو وہ اپنی شخصیت، کردار اور خدمات سے ایسی مثال قائم کرتا ہے جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رہتی ہے۔ ایسی ہی ایک روشن مثال جسٹس ریٹائرڈ سید جعفر شاہ مرحوم کے فرزندِ سید سہیل عباس شاہ۔ ہیں۔
سید سہیل عباس شاہ دوسری مرتبہ اپنے حلقے سے منتخب ہو کر بڑے بڑے سیاسی ناموں کو شکست دیتے ہوئے اسمبلی تک پہنچے۔ مگر ان کی اصل پہچان صرف ایک منتخب نمائندے کی نہیں، بلکہ ایک باوقار، باکردار، بااصول اور نظریاتی شخصیت کی ہے۔ انہوں نے اپنے کردار، کارکردگی اور عوامی خدمت سے اپنے حلقے اور پورے گلگت بلتستان میں اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔
وہ اپنے حلقۂ انتخاب تھری کی بھرپور نمائندگی کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق اور مسائل کی آواز بھی بن کر کھڑے ہیں۔ بالخصوص خان کے نظریے، حقیقی آزادی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بیانیے کے ساتھ جس استقامت اور چٹان جیسی مضبوطی سے وہ کھڑے رہے ہیں، وہ ان کی نظریاتی وابستگی اور سیاسی کردار کا واضح ثبوت ہے۔
دوسری جانب نیک نام کریم کا سیاسی سفر
دوسری جانب نیک نام کریم کے سیاسی سفر کا ایک پہلو ہنزہ کی حالیہ تاریخ میں ایک اہم سوال کے طور پر سامنے آتا ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے مرکزی نامزد امیدوار رحیم گوجالی تھے۔ پارٹی کے لیے ان کی طویل قربانیاں، اسیری، ملٹری ٹرائل اور آج بھی جاری مقدمات اور قانونی معاملات ان کی سیاسی جدوجہد کا حصہ ہیں۔ انہی حالات اور ان کی قربانیوں کے تناظر میں ان کی ٹکٹ فائنل ہوئی تھی۔
لیکن بعد ازاں نیک نام کریم نے اپنے چند قریبی ساتھیوں سمیت، پرانی ٹیم جو کہ ’’الجھن گروپ‘‘ کہلاتی تھی، بالخصوص عزیز احمد، اور سابقہ ٹیم کے افراد کی جانب سے اس پورے معاملے میں سہولت کاری کی گئی۔ جس کے بعض افراد کے بارے میں پارٹی کارکن پہلے بھی پاکستان تحریکِ انصاف سے بے وفائی اور اختلافات کا ذکر کرتے رہے ہیں۔
سابق وزیرِ اعلیٰ محمد خالد خورشید خان، ڈسٹرکٹ ہنزہ کے عمائدین اور پارٹی کے بعض ذمہ داران کے سامنے مسلسل منت سماجت اور مختلف حوالہ جات پیش کیے گئے۔ یہاں تک کہ کمیونٹی، امام اور قرآنِ پاک کا حوالہ دے کر رحیم گوجالی سے ہنزہ کے وسیع تر مفاد میں قربانی دینے کی درخواست کی گئی۔
بالآخر انہی حالات، یقین دہانیوں اور دباؤ کے باعث رحیم گوجالی کو مجبوراً اپنا پارٹی ٹکٹ پاس آن کرنا پڑا اور نیک نام کریم کے لیے راستہ ہموار ہوا۔
عوام نے پھر عمران خان اور پاکستان تحریکِ انصاف کے نام پر اپنا مینڈیٹ دیا، مگر کامیابی کے بعد نیک نام کریم کا ایک دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہونا ان تمام قربانیوں، اعتماد اور مینڈیٹ کے حوالے سے ایک بڑا سوال بن گیا۔
سوال یہ ہے کہ جس مینڈیٹ کے لیے اتنی قربانیاں دی گئیں، کیا اس مینڈیٹ کی لاج رکھی گئی؟ وزارت اور اقتدار اپنی جگہ، مگر قوم کا اعتماد، نظریاتی وفاداری، کردار اور اصول کہیں زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔
بالخصوص ایک بات سب سے منفرد اور قابلِ ذکر ہے کہ مرکزی قائدین جو وہاں پہنچے تھے، محمد خالد خورشید خان کی ہدایت کی روشنی میں رحیم گوجری نے اپنے بل بوتے پر، سنگل کیپیسٹی سکیورٹی، اور دیگر تمام انتظامی معاملات کی ذمہ داری خود سنبھالی اور انہیں مکمل معاونت فراہم کی۔
یہ مرکزی قائدین کی بھی بہت بڑی مہربانی تھی، بالخصوص عمر ڈار صاحب، ممبر قومی اسمبلی محترمہ شاندانہ گلزار خان صاحبہ، محترمہ ریحانہ ڈار صاحبہ اور شاندانہ گلزار خان صاحبہ کے ہمراہ پشاور سے آنے والی پوری ٹیم، جنہوں نے نہ صرف ہماری بھرپور سپورٹ کی بلکہ ٹریننگ، اور دیگر تمام معاملات میں ہماری معاونت کی۔
بالخصوص پشاور کے گزشتہ تین انتخابات میں جس طرح یہ پوری ٹیم اپنی تمام تر تکنیکی مہارت، تجربے اور ٹیم ورک کے ساتھ میدان میں موجود رہی، اسی تجربے اور مہارت کو یہاں بھی بھرپور انداز میں بروئے کار لایا گیا۔
ان تمام خدمات، تعاون اور قربانیوں کے باوجود نیک نام کریم نے آخر کسی کی لاج نہیں رکھی۔
اس کے برعکس سید سہیل عباس شاہ نے مشکل ترین حالات میں اپنی پارٹی، اپنے نظریے، اپنے حلقے، اپنی کمیونٹی اور پورے گلگت بلتستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہ کر ثابت کیا کہ عہدے عارضی ہوتے ہیں، مگر کردار اور وفاداری تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
اسی لیے سید سہیل عباس شاہ ایک ایسا کردار ہیں جن پر ہنزہ، گلگت بلتستان اور پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکن فخر کر سکتے ہیں۔
کیا خوب ایک گلوکار نے بھی ان کی شخصیت، کردار اور وفاداری کو اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے—آئیے، آپ بھی سنیے۔