13/10/2026
پاکستان کے وسائل پر قبضے کا کھیل، عوامی مینڈیٹ کیوں خطرے میں ہے؟
ملک پر قابض حکمران اشرافیہ یا ان کے آقاؤں کو آپ جو بھی نام دیں، یہ پاکستان کی ایک تلخ حقیقت ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے پیچھے اصل مقاصد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے کئی خطوں میں معدنیات اور قدرتی وسائل کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جہاں مائنز اینڈ منرلز کے حوالے سے معاہدوں اور پیشگی انتظامات کی اطلاعات ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہاں کے عوام، منتخب حکومتوں اور نمائندوں کو اعتماد میں لیے بغیر ان کے پہاڑوں، زمینوں اور قدرتی وسائل کے مستقبل کے فیصلے کیے جائیں گے؟
ملک کے اندر نظریاتی اختلافات اور مختلف معاملات پر اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ حامد میر بڑے بڑے طاقتور حلقوں اور بااثر لوگوں کو بھی ٹف ٹائم دیتے ہیں اور ایسے حقائق عوام کے سامنے لاتے ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی یہ مختصر سی رپورٹ بھی کئی اہم سوالات اٹھاتی ہے، جنہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
آخر اپنے ہی وسائل پر اختیار وہاں کے عوام کا کیوں نہیں؟ کیا منتخب حکومتوں کو کمزور کرنے اور گورنر راج یا ایمرجنسی کی باتوں کے پیچھے ان وسائل پر اختیار حاصل کرنے کی خواہش بھی کارفرما ہے؟ پاکستانی قوم کو ان سوالات پر غور کرنا چاہیے اور عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور قدرتی وسائل پر مقامی آبادی کے جائز حقوق کا دفاع کرنا چاہیے۔
ویڈیو کلپ ضرور دیکھیں اور سنیں، پھر کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔ آپ کے خیال میں اس تمام صورتِ حال کے پیچھے اصل مقصد کیا ہے؟