03/12/2022
ایک بزرگ تھے کسی دکان پر سودا لینے گئے٬
اور جب 500 کا نوٹ دیا تو دکاندار نے کہا...
بابا جی!
یہ 500 اور 1000 کے نوٹ تو منسوخ ہو گئے ہیں..
بابا جی رونے لگ گئے،
دکاندار نے کہا...
آپ روئیں نہیں میں آپ کوویسے ہی سودا دے دیتا ہوں.
فرمایا..
. نہیں نہیں مجھے سودے کی ضرورت نہیں اتنا روئے کہ لوگ حیران.
کسی نے کہا کہ بابا جی !
اتنا کیوں رو رہے ہو؟
اگر وہ آپ کو سودا نہیں دیتا تو ہم پیسے تبدیل کر دیتے ہیں اورآپ سودا لے جائیں.
وہ کہنے لگے.بچو! میں اس لیے نہیں رو رہا کہ آج 500/1000 کے نوٹ منسوخ ہوجانے سے سودا نہیں ملے گا میں تو اس بات پر رو رہا ہوں کہ مجھے یہ خیال آیا کہ میں نے کچھ رقم جمع کی تھی ٬
آج میں اسکے عیوض سودا لینے آیا لیکن جب میں دکاندار کے پاس آیا تو دکاندار نے کہا کہ یہ نوٹ منسوخ شدہ ہیں.
پھر میں نے اپنے آپ سے کہا...
او بندے! آج اپنے جن عملوں کو تم صالح سمجھتے ہو اگر قیامت کے دن٬
اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا:
" یہ اعمال منسوخ کئے جاتے ہیں تو پھر تمہارا کیابنے گا.دنیا میں تو میں اور بھی پیسے لے لوں گا سودا خرید لوں گا..!!مگر آخرت میں تو اور عمل نہیں لا سکوں گا کیا وہاں آپ میرے اعمال کیساتھ اپنے اعمال تبدیل کر سکتے ہیں؟؟؟اور کیا آپکے اعمال بھی قابلِ قبول ہونگے...؟؟؟مجھے تو آخرت یاد آ گئی.