08/12/2025
پریس ریلیز ایبٹ آباد پولیس نے ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہم پیش رفت کی ہے۔ مورخہ 04 دسمبر کی شب ڈاکٹر وردہ کی گمشدگی کی رپورٹ اُن کے والد کی جانب سے تھانہ کینٹ میں درج کرائی گئی، جس کے بعد پولیس نے فوری طور پر جدید خطوط پر تحقیقات کا آغاز کیا۔ تفتیش سے یہ بات سامنے آئی کہ سال 2023 میں ڈاکٹر وردہ نے اپنی قریبی سہیلی ردہ کے پاس 67 تولہ سونا بطور امانت رکھا، جس کی واپسی پر تنازعہ چلا آ رہا تھا۔ مورخہ 04 دسمبر 2025 کو ملزمہ ردہ نے سونا واپس دینے کے بہانے ڈاکٹر وردہ کو ڈی ایچ کیو سے گاڑی میں بٹھا کر رحمن اسٹریٹ جدون پلازہ میں اپنے زیرِ تعمیر گھر لے جا کر پہلے سے موجود اغواء کار ملزم شمعریز , ندیم ، کے حوالے کیا اور خود واپس اپنے گھر روانہ ہو گئی۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج، سی ڈی آر ریکارڈ اور تکنیکی معاونت کی بنیاد پر شبانہ روز محنت کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر چھاپے مارے، 35 سے زائد مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی اور بالآخر ملزمان ردہ جدون، ندیم زیب ولد اورنگزیب اور پرویز ولد ایوب کو گرفتار کر لیا، جبکہ مرکزی ملزم شمعریز کی گرفتاری کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں پشاور میں موجود ہیں۔ گرفتار ملزمان نے انکشاف کیا کہ ڈاکٹر وردہ کو اغواء اور قتل کرکے لڑی بنوٹہ کے جنگل میں گڑھا کھود کر دفن کیا گیا؛ جس کی نشاندہی پرویز نے کی، پولیس نے ڈی ایس پی کینٹ ، ایس ایچ او کینٹ کی نگرانی میں نعش برآمد کر کے پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوائی گئی۔ واقعہ میں استعمال ہونے والی گاڑیاں، سونا کی لین دین سے متعلق اسٹامپ پیپر اور چیک قبضہ پولیس میں لے لیے گئے ہیں، جبکہ پوسٹ مارٹم، فرانزک اور سائٹ انسپیکشن رپورٹس پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ڈی پی او ایبٹ آباد نے واضح کیا ہے کہ ظلم کرنے والے قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے، مظلوم کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا،اور پولیس اپنی ذمہ داریاں انتہائی شفافیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ پوری کر رہی ہے۔