11/09/2026
ایوب میڈیکل کمپلیکس میں احتجاج — اصل نقصان کس کا؟
ایوب میڈیکل کمپلیکس میں آج ہاؤس آفیسرز (HOs) کے احتجاج اور آپس میں تلخ کلامی/لڑائی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق OPD بھی متاثر رہی اور کئی مریض علاج کی سہولت سے محروم رہے۔
احتجاج کرنا ہر کسی کا حق ہے اور ہاؤس آفیسرز کے اپنے جائز مطالبات ہو سکتے ہیں، لیکن احتجاج کا ایسا طریقہ اختیار نہیں ہونا چاہیے جس کی سزا ایک عام مریض کو ملے۔
ایوب میڈیکل کمپلیکس ہزاروں لوگوں کے لیے امید کی آخری کرن ہے۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے مریض اپنا وقت، پیسہ اور سفر کی تکلیف برداشت کرکے علاج کے لیے یہاں پہنچتے ہیں۔ ایسے میں OPD بند ہونا یا علاج کا نظام متاثر ہونا ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتا ہے۔
اگر ہاؤس آفیسرز کو اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کرنا ہے تو انتظامیہ اور متعلقہ حکام کے سامنے، مثلاً ڈین آفس کے باہر یا کسی ایسے مقام پر احتجاج کیا جائے جہاں مریضوں کا علاج متاثر نہ ہو۔
مطالبات بھی سنے جائیں، احتجاج بھی ہو، لیکن مریضوں کا علاج بند نہ ہو۔
ہم انتظامیہ، ہاؤس آفیسرز اور تمام متعلقہ فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور ایوب میڈیکل کمپلیکس میں مریضوں کے علاج کا سلسلہ ہر صورت جاری رکھا جائے۔
مریض سیاست یا اختلاف کا فریق نہیں، اسے صرف علاج چاہیے۔