24/06/2026
محرم میں جہاں ایک فرقہ محبت میں اندھا ہو کر ایسی باتیں/حرکتیں شروع کردیتا ہے کے واضح حدود کراس ہونے لگتی وہیں،
وہیں بہت سے لوگ ہیں، جو تاریخ یا حوالہ جات کی بتی بنا کر دوسری طرف کی انتہاء کی باتیں کرنے لگتے ہیں، اور دوسرے گروہ کا ایک مشہور قول ہے،
وہ جی کربلاء دو شہزادوں کی اقتدار کے لیے جنگ تھی،
جی ٹھیک ہے جناب آپکی یہ بھی مان لیں، پھر تو یزید ڈبل سے بھی زیادہ قصوروار ہے،
کے بات اگر شہزادہ ہونے کی آئیگی تو،
یزید ابن سیدنا امیر معاویہ
کسی بھی طرح، کسی بھی طرح،
حسین ابن علی، و نواسہ رسول سے بڑا شہزادہ ہرگز نہیں ہے،
کے جہاں حسن و حسین کی عزت و احترام اور مقام کا یہ مرتبہ ہو کے دنیا جن سیدنا عمر کے نام سے کانپتی تھی، انکے بیٹے کو کھیلتے ہوئے سیدنا حسن نے کہا تم تو ہمارے نوکر ہو، بچے نے باپ سے شکایت لگانا چاہی تو سیدنا عمر جنہوں نے اس دور کی سپر پاور فارس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا، اپنے بیٹے کو عشق آل بیت سکھاتے ہوئے بولے کے جائو بیٹو حسین سے کہو یہ بات لکھ کر دے دیں...!!
تو جہاں خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق اپنے بیٹے سے کہتے ہوں کے جائو حسین سے لکھوا کر لائو کے وہ تمہیں اپنا نوکر مانتے ہیں، تو پھر وہاں یزید کی کیا حیثیت کے وہ بطور شہزادہ حسین سے بڑا ہوجائے ؟
اللہ پاک ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل سے حقیقی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین