MBR Learning Yard

MBR Learning Yard We excel in providing exquisite educational solutions!

MBR Learning Yard is a project of MBR OPERATION CONSULTANCY SERVICES (SMC-PRIVATE) LIMITED.It has been established to develop young minds to excel in academics and become well-groomed citizens.

17/03/2021

Teachers required in academy at D-12 Markaz for the following subjects:
Maths
Physics
Chemistry
Biology
Send your CVs in messenger or on whatsapp on the following numbers:
03130559690
03225059414

06/11/2020

Tutor required in F8
O level Accounts
Tutor must have O level experience with respect to the stated subject.
2 days a week.
Whatsapp your CV at one of the following numbers:
0322 5059414
0313 0559690

09/10/2020

Computer Science Teacher required for classes 9th, 10th, FSc I and FSc II at an academy in D12
Only teachers residing near D12 will be entertained.
Please make your application descriptive and accurate.

28/09/2020

Qualified subject specialist teachers required for our academy at D12 markaz for the following fields:
Biology
Computer Science
min. 2 years of teaching experience.
It is compulsory to attach your CV.

25/09/2020

Urdu Teacher required in E11.
Only relevant applicants will be entertained.
While applying, please state your current residential address.

23/09/2020

MBR Learning Yard's objective is to create children’s Future. We teach, model and encourage a love of learning, collaboration and compassion for others. A world of learners where children gain a passport to the success.

We are Committed to educate and nurturing all students so they may grow towards responsible global citizenship. Our vision is every child known, safe, inspired, challenged and empowered. Providing quality education and working collaboratively to ensure every student achieves academically, socially and emotionally.

Please visit our website: http://mbrlearningyard.com.pk/
Contact us: 051-2706503

17/08/2020

جب بچے ٹین ایج میں داخل ہوں
تو انہیں کچھ باتیں خاص طور پر سمجھائیں

مثلاً
سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اصرار اس بات پر رہا کہ اپنے ناخن ہمیشہ صاف ستھرے اور درست انداز میں کاٹ کر رکھنا اس لئے کہ لوگ سب سے پہلے آپ کے ناخن دیکھتے ہیں
صرف دیکھتے ہیں
کہتے کچھ نہیں مگر نمبر کٹ جاتے ہیں..!

دوسری بات
ڈیڈورنٹ ضرور لگایا کرو
آپ کے پاس سے کوئی بری اسمیل نہیں آنی چاہیے
کیونکہ آپ کے پاس سے بیڈ اسمیل آنے پر
آپ کے دوست، اسکول فیلو، ساتھ سفر کرنے والے ہمسفر
آفس کولیگ اس سے سخت پریشان ہونگے
لیکن
بولیں گے کچھ نہیں..!
کیونکہ یہ بہت پرسنل معاملہ ہے مگر
نمبر کٹ جائیں گے...!

اس کے بعد اپنے دانت بہت اچھی طرح صاف رکھنا
منہ سے آنے والی بدبودار سانس
آپ کے مخاطب کو سخت ناگوار گزرتی ہے
مگر
لوگ بولیں گے نہیں..!
آپ کو کہہ نہیں سکتے کہیں آپ ناراض نہ ہوجائیں
لیکن
نمبر کٹ جائیں گے..!

گردن اور کان کی صفائی بہت توجہ سے کرنی ہے
ناک کے بال ہر ہفتے کاٹنے ہیں
گردن بہت اچھی طرح مل کر دھونی ہے
کوئی میل نظر نہ آئے
کیونکہ
کوئی اس بارے میں سمجھاتا نہیں ہے
دیکھتا ہے مگر خاموش رہتا ہے
لیکن
نمبر کٹ جاتے ہیں..!
پھر
ناک کان منہ میں انگلیاں نہیں ڈالنی
ناخن نہیں چبانے، بار بار ناک چہرا سر نہیں کھجانا
ضرورت ہو تو بہت نفاست سے سلیقے سے
ایسا کرسکتے ہیں
مثلاً ناک میں خارش ہورہی ہے
تو انگلی سے نہیں الٹے ہاتھ کی پشت سے آہستہ سے
کھجا سکتے ہیں
سیدھے ہاتھ سے تو ھرگز نہیں
جس سے آپ نے کسی سے ہاتھ ملانا ہے
اس سے بہتر ہے رومال یا ٹشو پیپر ضرور ساتھ رکھنا
کیونکہ
نمبر..............!
اسی طرح
جسم کے مخصوص حصوں پر کبھی ٹچ نہ کرنا

چند مزید ھدایات جو کہ یاددہانی کے لئے اکثر دھراتے رہے
چاہے شلوار ہو یا پینٹ
انڈروئیر ضرور پہنو

گھر سے باہر جاتے وقت
منہ اٹھائے جھاڑ جھنکار روانہ مت ہو
اپنا منہ ہاتھ دھو کر بال بنا کر درست لباس
اچھے شوز پہن کر جاؤ چاہیے قریب کی مارکیٹ سے کچھ سامان ہی کیوں نا لانا ہو
شوز کی پالش اور صفائی کا خاص خیال رکھیں
آپ کی شخصیت کے بارے میں لباس سے زیادہ آپ کے شوز بتاتے ہیں
آدھے پونے پاجامے، ادھوری شرٹس سخت معیوب لگتی ہیں
خاص طور پر مسجد جاتے ہوئے
شلوار قمیض میں میں ہونا چاہیئے
آدھے بازو کی چھوٹی شرٹ اور جینز کی قمیض آپ سے پیچھے کھڑے نمازیوں کو بہت پریشان کرتی ہے ان کی توجہ متاثر ہوتی ہے
وہ بھی
کچھ کہہ نہیں سکتے
مگر
آپ کی تربیت پر دل ہی دل میں کوستے ضرور ہیں

گھر کے اندر کا لباس بھی
باوقار ہونا چاہئے
ماں باپ اور بہنوں کے کمروں میں
کبھی دروازہ بجائے بغیر نہیں جانا
بہنوں کے کمرے میں بلاوجہ نہیں بیٹھنا

اپنے میلے کپڑے خود دھونا سیکھو
انہیں واش روم میں لٹکا چھوڑ کر مت آو

اپنی ضرورت کی پرسنل چیزیں اپنی الماری میں رکھیں
جب یہ ٹین ایج میں داخل ہوئے تو بازار سے ریزر بلیڈز لا کر دیئے اور اپنے بازو پر بال صاف کر کے سمجھایا کہ کس طرح
اپنے جسم کے اندرونی حصوں کے بال ہر ہفتے صاف کرنے ہیں
اپنی اور دوسروں کی پرسنل اسپیس کا بہت خیال رکھنا
پرسنل اسپیس ناپنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ
اپنا ہاتھ پورا بازو کھول لیں
یہ اندازاً ڈھائی سے تین فٹ بنتا ہے
نا کبھی کسی کی پرسنل اسپیس میں جائیں
یعنی تین فٹ دور رہ کر بات کریں
نہ کسی کو زیادہ قریب آنے دیں
یقیناً سفر میں کار بس جہاز کی سیٹ کا معاملہ زرا مختلف ہے لیکن اس کے بھی آداب ہیں اور سفر کے سب آداب سیکھنا چاہیے
بچوں کو
سمجھایا ہے کہ کسی کو فون کریں یا
کسی کے پاس جائیں
سب سے پہلے
ایک سانس میں
یہ چار باتیں بتا دیں
سلام، نام، جگہ، کام
یعنی پہلے سلام کریں
پھر اپنا اور اپنے ادارے کا نام بتائیں
پھر آنے کا مقصد بتا کر اجازت لیں کہ
آپ سے بات ہوسکتی ہے..؟
میں اندر آسکتا ہوں..؟
یا کرسی پر بیٹھ سکتا ہوں..؟
اجازت ملے تو ٹھیک ورنہ پھر کبھی صحیح..!
بغیر اجازت کسی کی میز سے ایک بال پین یا ٹشو تک نہیں اٹھانا
کیونکہ

" یہ جرم کے زینے کا پہلا قدم ہے"

ایک بات
جو اکثر بتائی کہ بیٹا
کسی سے فون پر بات کریں یا کسی کے پاس جائیں
اپنے چہرے پر ہلکی سی حقیقی مسکراہٹ ضرور رکھیں
یہ مسکراہٹ آپ کے لئے بے شمار دروازے کھول دیتی ہے

کسی سے ہاتھ ملاؤ تو پورا ہاتھ ملاؤ
گرم جوشی سے اس کے ساتھ ساتھ نظریں بھی ملائیں
یہ نہیں کہ منہ ادھر ہاتھ اودھر
بات کسی اور سے..!
جب دسترخوان پہ بیٹھیں تو ایک دوسرے کا لحاظ کر کے کھائیں ۔
وطن کے سارے بچوں کو
میں اپنا بچہ ہی سمجھتا ہوں
ان بچوں کی اچھی تربیت ان کے لئے ہمارا
سب سے اچھا تحفہ ہے.....!

17/08/2020

ہمارا قومی ترانہ اور اس کی تاریخ

ہمارا قومی ترانہ تیار ہونے میں سات سال لگے، یہ پہلی بار 13 اگست 1954 کو ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا-
14جنوری 1948 کو ریڈیو پاکستان والے زیڈ ۔ اے ۔ بخاری نے یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ سورۃ فاتحہ کو قومی ترانہ قرار دے دیا جائے۔

انہی دنوں جنوبی افریقہ میں مقیم ایک مسلمان تاجر اے آر غنی نے پیشکش کی کہ وہ پاکستان کا قومی ترانہ لکھنے اور اس کی دھن بنانے والے کو پانچ پانچ ہزار روپے انعام دیں گے ۔

2جون 1948 کو حکومت پاکستان نے اس پیشکش کو قبول کر لیا۔ 14 جولائی 1949 کو وزیر مواصلات سردار عبدالرب نشتر کی زیرِ صدارت اجلاس میں قومی ترانے کیلئے پیش کی گئی دھنوں اور نظموں کا جائزہ لینے کیلئے دو کمیٹیاں بنائی گئیں۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ نغمہ، زبان، بحر، دھن اور موسیقیت میں مسلم قوم کی روایات کا خیال رکھا جائے۔

21 اگست 1949 کو ترانے کیلئے ممتاز موسیقار احمد علی غلام علی چھاگلہ کی تیار کردہ دھن منظور کرلی گئی۔اسے ریڈیو پاکستان میں بہرام رستم جی نے اپنے پیانو پر بجا کر ریکارڈ کرایا۔ اس کا دورانیہ80 سیکنڈ تھا اور اسے بجانے میں21 آلات موسیقی/ ساز استعمال کیے گئے۔

یکم مارچ 1950 کو شاہِ ایران پاکستان آئے تو پہلی بار ، سرکاری طور پر پاک بحریہ کے بینڈ نے وارنٹ آفیسرعبدالغفور کی قیادت میں کراچی ائیر پورٹ پر قومی ترانے کی یہ دھن بجائی لیکن پاکستان کی مرکزی کابینہ نے اس دھن کی باقاعدہ منظوری 2 جنوری1954 کو دی۔ اس کے خالق جناب چھاگلہ یہ دن نہ دیکھہ سکے۔ وہ گیارہ ماہ قبل 5 فروری 1953 کو وفات پا چکے تھے۔ ان کی اہلیہ قمر النسأ چھاگلہ اور بیٹے عبدالخالق چھاگلہ نے ترانے کے جملہ حقوق حکومت پاکستان کو دےدئیے۔

منظور شدہ دھن پر ترانہ لکھوانے کیلئے اس کے گراموفون ریکارڈ ملک کے تمام اہم شعرأ کو بھجوائے گئے۔ ہر رات ریڈیو پر بھی اسے نشر کیا جاتا رہا تاکہ شاعر اس پر بول لکھ سکیں۔

قومی ترانہ کمیٹی کو کل 723 ترانے موصول ہوئے۔ کمیٹی کو حفیظ جالندھری، حکیم احمد شجاع اور زیڈ اے بخاری کےلکھے ہوئے ترانے سب سے زیادہ پسند آئے۔ زیڈ اے بخاری نے حفیظ صاحب سے کہا کہ دونوں کے بند ملا کر ترانہ بنالیا جائے لیکن حفیظ نے صاف انکار کردیا.

بالآخر 4اگست 1954 کو مرکزی کابینہ نے جناب حفیظ جالندھری کے ترانے کو پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر منظور کرلیا۔

بیگم خورشید حفیظ کا کہنا ہے کہ حفیظ جالندھری تین ماہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کمرے میں بند رہے، کاغذ لکھ لکھ کر پھاڑتے رہے۔ بالآخر پاکستان کا یہ قومی ترانہ وجود میں آیا۔

قومی ترانہ مخمس میں ہے۔ اس میں کل 15 مصرعے ہیں۔ اسے ممتاز گلوکاروں شمیم بانو، کوکب جہاں ، رشیدہ بیگم، نجم آرأ، نسیم شاہین، احمد رشدی، زوار حسین، اختر عباس، غلام دستگیر، انور ظہیر اور اختر وصی علی کی آوازوں میں ریکارڈ کیا گیا۔ پورا قومی ترانہ بجنے میں ایک منٹ بیس سیکنڈ لگتے ہیں۔

13 اگست 1954 کوقومی ترانہ پہلی بار ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا۔

4 اگست 1955 کو حکومت پاکستان نے ترانے کے الفاظ کے حقوق حفیظ جالندھری سے خرید لئے۔

قومی ترانے میں یہ الفاظ آتے ہیں:
ذوالجلال ، سایہ ، خدا ، استقبال ، جان ، حال ، شان ، ماضی ، ترجمان ، کمال ، ترقی ، رہبر ، ہلال ، ستارہ ، پرچم ، مراد ، منزل ، شاد ، تابندہ ، پائندہ ، سلطنت ، ملک ، قوم ، عوام ، اخوت ، نظام ، سرزمین ، پاک ، قوت ، یقین ، مرکز ، ارض ، عالی شان ، نشان ، تو ، کا ، حسین ، کشور اور قومی نعرے ’’زندہ باد ‘‘ والا باد ۔۔۔

دیکھئیے ان میں سے کون سا لفظ اردو ڈکشنری ( لغات) میں نہیں ہے ؟

حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ، اب اردو کے الفاظ ہیں ، بلکہ ان میں سے ہر لفظ کے نام والا کوئی اردو اخبار یا رسالہ بھی نکلتا ہے۔

ترانے میں فارسی گرامر صرف "باد" کی حد تک ہے... اور یہ ہم قومی نعرے مسلم لیگ زندہ باد، پاکستان زندہ باد میں قیام پاکستان سے برسوں پہلے سے سمجھتے اور قبول کئے ہوئے ہیں.
یہ درست ہے کہ’’کا‘ کی جگہ ’’را‘‘ کردیں تو ایرانی اسے فارسی نظم مان لیں گے۔ لیکن یہ حفیظ کا کمالِ فن کیوں نہ سمجھا جائے کہ انہوں نے دونوں زبانوں کا مشترک ذخیرۂ الفاظ( vocabulary ) استعمال کر کے یہ ترانہ لکھ دیا۔ آخر فارسی (شاید صدیوں ) اس خطے میں رائج رہی ہے۔

براہ کرم یہ تصحیح بھی کر لیں کہ جو تاریخ میں نے لکھی وہ ہمارے رائج قومی ترانہ کی ہے- یہ انتہائی زیادتی ہو گی کہ اس بات کو نہ مانا جائے کہ پاکستان کا سب سے پہلا ترانہ، جہلم کے ایک ہندو شاعر جگن ناتھ آزاد نے 1948ء میں لکھاتھا

06/04/2020

• Specialized Coaching
For students who need extensive coaching, we designate special coaches in small groups not more than 3 students per session.

06/04/2020

We ensure an all-round personality through Mind-Body Workouts and Personality Grooming

03/04/2020

Don’t let germs hitch a ride on your phone:
1. Wash your hands, and don’t be touchy:
“The most important thing is to regularly wash your hands with soap and warm water. Try not to touch your nose, mouth and eyes too often, and try to touch fewer thing in general. This also goes for your phone.”
2. Keep your phone to yourself:
“Don’t let other people touch your phone, since this is an equipment we often put next to our mouth. It is not wise to let people touch anything that is going to be so close to you.”
3. Treat your phone some quality hygiene time:
Recommended to regularly wipe your phone clean with a disinfectant. It’s not recommended washing it with soapy water, but a damped cloth to wipe it off is a good thing.”

28/03/2020

We Believe All Students Have The Potential To EXCEL

Address

Office 13/14, Aim Arcade, D-12 Markaz
Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 09:00 - 18:00
Tuesday 09:00 - 18:00
Wednesday 09:00 - 18:00
Thursday 09:00 - 18:00
Friday 09:00 - 18:00
Saturday 09:00 - 18:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MBR Learning Yard posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share