Maksons LAW Chambers

Maksons LAW Chambers Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Maksons LAW Chambers, Consulting Agency, 1st floor Abbas Center Fazal ul Haq Road Blue Area, Islamabad.

Maksons is a consulting law firm working in Islamabad for the last more than15 years and offers complete consultancy services relating to Income & Tax Sales Tax and corporate law

01/06/2026

ایف بی آر افسران کی ایک غلطی نے کمپنی کو کروڑوں کا ٹیکس معاف کروا دیا...

کبھی کبھی عدالتوں میں اصل تنازع یہ نہیں ہوتا کہ ٹیکس بنتا تھا یا نہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ کارروائی کرنے والا افسر قانوناً ایسا کرنے کا اختیار رکھتا بھی تھا یا نہیں۔ DHA Dolmen Lahore (Pvt.) Ltd. کا یہ مقدمہ بھی اسی بنیادی سوال کے گرد گھومتا رہا، اور آخرکار یہی سوال پورے کیس کا فیصلہ بدل گیا۔
معاملہ اس وقت شروع ہوا جب کمپنی نے ٹیکس سال 2022 اور 2023 کے لیے اپنی انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرائیں، جو قانون کے مطابق خودکار طور پر منظور شدہ اسیسمنٹس تصور ہوئیں۔ کچھ عرصے بعد محکمۂ ان لینڈ ریونیو کے ایک Additional Commissioner نے ریکارڈ کا جائزہ لیا اور یہ رائے قائم کی کہ یہ اسیسمنٹس ریونیو کے مفاد کے خلاف ہیں۔ اس بنیاد پر اس نے نہ صرف سیکشن 122(5A) کے تحت اسیسمنٹ میں ترمیم کی کارروائی شروع کی بلکہ ساتھ ہی سیکشن 111 کے تحت بھی سوالات اٹھائے، جو غیر وضاحت شدہ آمدن، سرمایہ کاری اور اثاثوں سے متعلق قانون کی ایک اہم شق ہے۔
کمپنی نے اس کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اصل مسئلہ ٹیکس کا نہیں بلکہ اختیارِ سماعت کا ہے۔ کمپنی کے وکلا نے نشاندہی کی کہ کمشنر کی جانب سے جاری کیے گئے jurisdiction orders میں سیکشن 111 کے اختیارات مخصوص طور پر IRO اور DCIR کو دیے گئے تھے، جبکہ Additional Commissioner کو صرف چند محدود نظرثانی اور انتظامی اختیارات تفویض کیے گئے تھے۔ لہٰذا جس افسر نے کارروائی شروع کی، اس کے پاس قانونی طور پر وہ اختیار موجود ہی نہیں تھا جس کی بنیاد پر پورا مقدمہ قائم کیا گیا۔
دوسری جانب محکمۂ ٹیکس نے مؤقف اختیار کیا کہ Additional Commissioner کو سیکشن 122(5A) کے تحت اسیسمنٹ میں ترمیم کا اختیار حاصل تھا اور اس اختیار کے ساتھ "all incidental statutory powers" بھی دی گئی تھیں۔ محکمہ کا کہنا تھا کہ جب ایک افسر اسیسمنٹ میں ترمیم کر سکتا ہے تو اس کے لیے ضروری ضمنی اختیارات بھی استعمال کر سکتا ہے، جن میں سیکشن 111 سے متعلق معاملات کا جائزہ لینا بھی شامل ہے۔
ٹریبونل نے اس قانونی بحث کو انتہائی تفصیل سے سنا اور سب سے پہلے قانون کی مختلف شقوں کے دائرہ کار کو واضح کیا۔ فیصلے میں بتایا گیا کہ سیکشن 122(5) اور سیکشن 122(5A) بظاہر ایک جیسے نظر آتے ہیں، مگر ان کا مقصد اور قانونی نوعیت بالکل مختلف ہے۔ سیکشن 122(5) اس وقت استعمال ہوتی ہے جب محکمہ کے پاس کوئی نئی معلومات یا شواہد آ جائیں جن سے ظاہر ہو کہ آمدن ٹیکس سے بچ گئی ہے یا کم ظاہر کی گئی ہے۔ جبکہ سیکشن 122(5A) صرف اس وقت استعمال ہو سکتی ہے جب موجودہ ریکارڈ میں کوئی ایسی قانونی یا تکنیکی غلطی موجود ہو جو ریونیو کے لیے نقصان دہ ہو۔ اس شق کے تحت نئی تحقیقات یا نئے حقائق تلاش کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
اسی تناظر میں ٹریبونل نے سیکشن 111 کا جائزہ لیا اور قرار دیا کہ یہ بنیادی طور پر ایک تحقیقی اور حقائق پر مبنی شق ہے۔ جب کسی شخص کے اثاثے، سرمایہ کاری یا اخراجات اس کی ظاہر کردہ آمدن سے مطابقت نہ رکھتے ہوں تو محکمہ وضاحت طلب کرتا ہے، ثبوت مانگتا ہے اور پھر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ آیا وہ آمدن واقعی غیر وضاحت شدہ ہے یا نہیں۔ اس پورے عمل میں نئی معلومات، تحقیقات اور شواہد کی جانچ پڑتال شامل ہوتی ہے۔
ٹریبونل نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ سیکشن 111 کو محض ایک "ضمنی اختیار" قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر قانون کسی افسر کو صرف اسیسمنٹ کی نظرثانی کا اختیار دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے خود بخود تحقیقات کرنے، نئے حقائق دریافت کرنے یا سیکشن 111 جیسی الگ قانونی شق استعمال کرنے کا اختیار بھی مل گیا۔ قانون میں دیے گئے اختیارات کی حدود واضح ہوتی ہیں اور انہیں تشریح کے ذریعے بڑھایا نہیں جا سکتا۔
فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگرچہ کمشنر مختلف افسروں کو اختیارات تفویض کر سکتا ہے، لیکن ایسی تفویض واضح، صریح اور غیر مبہم ہونی چاہیے۔ کسی اختیار کو صرف اندازے، مفروضے یا وسیع تشریح کی بنیاد پر نہیں مانا جا سکتا۔ چونکہ موجودہ کیس میں Additional Commissioner کو سیکشن 111 کے اختیارات واضح طور پر نہیں دیے گئے تھے، اس لیے اس کی جانب سے شروع کی گئی کارروائی قانونی بنیاد سے محروم تھی۔
ٹریبونل نے مزید قرار دیا کہ سیکشن 111 کی نوعیت ہی ایسی ہے جو بالآخر "escaped income" یعنی ایسی آمدن کے تعین پر منتج ہوتی ہے جو پہلے ٹیکس کے دائرے میں نہیں آئی۔ قانون نے ایسی صورتحال کے لیے ایک الگ راستہ یعنی سیکشن 122(5) مقرر کیا ہوا ہے۔ اس لیے سیکشن 122(5A) کو استعمال کرتے ہوئے سیکشن 111 کی کارروائی چلانا دراصل قانون کے طے شدہ طریقۂ کار کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
آخرکار ٹریبونل اس نتیجے پر پہنچا کہ Additional Commissioner نے اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا، اس کے پاس سیکشن 111 کے تحت کارروائی شروع کرنے کا قانونی اختیار موجود نہیں تھا، اور "incidental powers" کی اصطلاح کو اتنا وسیع نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے ذریعے ایک نیا اور مستقل اختیار پیدا ہو جائے۔ اسی بنیاد پر کمپنی کی اپیلیں منظور کر لی گئیں اور نچلی اتھارٹیز کے تمام احکامات کالعدم قرار دے دیے گئے۔
یہ فیصلہ دراصل ایک اہم اصول کو دوبارہ اجاگر کرتا ہے: قانون میں صرف صحیح نتیجہ کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس نتیجے تک پہنچنے کا طریقہ بھی قانون کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ اگر اختیار ہی درست نہ ہو تو پوری کارروائی، چاہے نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، قانونی حیثیت برقرار نہیں رکھ سکتی۔ ⚖️

29/05/2026
29/05/2026

FBR’s New SRO 546(I)/2026 — The End of Digital Entrepreneurship in Pakistan?
The Federal Board of Revenue (FBR) has just proposed a massive shift in how social media creators are taxed. Under the new Notification SRO 546(I)/2026, the government is moving away from taxing your actual earnings to a "fictional income" model that could impact every YouTuber, influencer, and digital creator in the country.
Deep-Dive Analysis of the New Rules
1. The "Fictional Income" Formula (A - B) The FBR has introduced a standardized formula to calculate your minimum taxable income: Income = (A - B).
Variable A: This is your total remuneration. The FBR will take the higher of your actual earnings or a calculated figure: (Revenue Per Mille x Average Views x Total Posts). The PKR 195 Benchmark: For this calculation, the FBR has set a fixed "Revenue Per Mille" (RPM) of PKR 195 per 1,000 views on YouTube. This assumes every creator earns the same, regardless of their niche, audience location, or actual monetization status.
2. The 30% Expense Cap Perhaps the most alarming part is Variable B. While serious creators often spend heavily on cameras, editing teams, studio rentals, and travel, the FBR is capping deductible expenses at maximum 30% of total revenue.
This means you could be taxed on your gross receipts rather than your actual profit.
3. Who is Affected? (The 50,000 Subscriber Rule) The rules apply to every resident person deriving income from social media interactions in Pakistan Reports indicate that accounts with 50,000 subscribers or those generating 12,500 views may now be classified as formal businesses and brought directly under this tax net
4. Power of "Rectification" If you declare an income lower than what the FBR’s formula calculates, the Commissioner has the power to "rectify" your tax return and recover the difference Critics argue this bypasses proper assessment proceedings and undermines a creator's right to explain their actual financial situation

01/04/2026

ٹیکس نظام میں بڑی ہلچل
ایف بی آر کا نیا حکم جاری
اب ہر سیل ریئل ٹائم رپورٹ ہوگی اور ڈیجیٹل انوائس میں تبدیلی صرف 72 گھنٹوں کے اندر ممکن ہوگی!

یہ ایک اہم پیش رفت ہے جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ٹیکس نظام کو مزید ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کے لیے ایک نیا قدم اٹھایا ہے۔ 30 مارچ 2026 کو جاری ہونے والے Sales Tax General Order نمبر 01 آف 2026 کے ذریعے یہ واضح کیا گیا کہ اب سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ افراد کے لیے اپنی سیلز کو ریئل ٹائم میں رپورٹ کرنا لازمی ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہر سیل کی انوائس فوری طور پر FBR کے سسٹم میں رپورٹ ہوگی، جس سے ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھے گی اور فراڈ کے امکانات کم ہوں گے۔

اس آرڈر کی بنیاد سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی سیکشن 23 کی شق (5) اور (6) پر ہے، جو FBR کو یہ اختیار دیتی ہیں کہ وہ کسی بھی کاروبار کو اپنے سسٹم کو FBR کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ساتھ منسلک (integrate) کرنے کا پابند بنا سکے۔ پہلے SRO 1413(I)/2025 کے ذریعے یہ لازم کیا گیا تھا کہ تمام رجسٹرڈ افراد صرف ایک لائسنس یافتہ انٹیگریٹر کے ذریعے ڈیجیٹل انوائسز جاری کریں، مگر اس میں کچھ مشکلات سامنے آئیں، خاص طور پر ان کاروباروں کے لیے جو ایک سے زیادہ سسٹمز استعمال کرتے ہیں۔

اب نئے آرڈر میں اس مسئلے کو حل کرتے ہوئے FBR نے اجازت دے دی ہے کہ کاروبار اپنی ضرورت کے مطابق ایک سے زیادہ licensed integrators کے ساتھ کام کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ FBR سے منظور شدہ ہوں۔ اس سے کاروباری افراد کو زیادہ flexibility ملے گی اور ان کے لیے سسٹم کو manage کرنا آسان ہو جائے گا۔

ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر کوئی ڈیجیٹل سیلز ٹیکس انوائس غلطی سے بن جائے تو اسے صرف 72 گھنٹوں کے اندر FBR کے سسٹم کے ذریعے درست، delete یا cancel کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ مدت گزر جائے تو پھر کوئی بھی تبدیلی صرف متعلقہ Commissioner Inland Revenue کی پیشگی اجازت سے ہی ممکن ہوگی۔ اس شرط کا مقصد یہ ہے کہ غیر ضروری رد و بدل کو روکا جائے اور ہر انوائس کی authenticity برقرار رہے۔

مجموعی طور پر، یہ آرڈر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں ہر لین دین ریکارڈ میں ہوگا اور نگرانی مزید سخت ہوگی۔ اس سے ایک طرف ایماندار کاروباری افراد کو فائدہ ہوگا، جبکہ دوسری طرف غیر شفاف طریقوں کے لیے گنجائش کم ہوتی جائے گی۔

Address

1st Floor Abbas Center Fazal Ul Haq Road Blue Area
Islamabad

Opening Hours

Monday 09:30 - 06:00
Tuesday 09:00 - 06:00
Wednesday 09:00 - 06:00
Thursday 09:00 - 06:00
Friday 09:00 - 06:00
Saturday 09:00 - 06:00
Sunday 09:00 - 06:00

Telephone

0512150347

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maksons LAW Chambers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Maksons LAW Chambers:

Shortcuts

Share