Maksons LAW Chambers

Maksons LAW Chambers Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Maksons LAW Chambers, Consulting Agency, 1st floor Abbas Center Fazal ul Haq Road Blue Area, Islamabad.

Maksons is a consulting law firm working in Islamabad for the last more than15 years and offers complete consultancy services relating to Income & Tax Sales Tax and corporate law

29/05/2026
29/05/2026

FBR’s New SRO 546(I)/2026 — The End of Digital Entrepreneurship in Pakistan?
The Federal Board of Revenue (FBR) has just proposed a massive shift in how social media creators are taxed. Under the new Notification SRO 546(I)/2026, the government is moving away from taxing your actual earnings to a "fictional income" model that could impact every YouTuber, influencer, and digital creator in the country.
Deep-Dive Analysis of the New Rules
1. The "Fictional Income" Formula (A - B) The FBR has introduced a standardized formula to calculate your minimum taxable income: Income = (A - B).
Variable A: This is your total remuneration. The FBR will take the higher of your actual earnings or a calculated figure: (Revenue Per Mille x Average Views x Total Posts). The PKR 195 Benchmark: For this calculation, the FBR has set a fixed "Revenue Per Mille" (RPM) of PKR 195 per 1,000 views on YouTube. This assumes every creator earns the same, regardless of their niche, audience location, or actual monetization status.
2. The 30% Expense Cap Perhaps the most alarming part is Variable B. While serious creators often spend heavily on cameras, editing teams, studio rentals, and travel, the FBR is capping deductible expenses at maximum 30% of total revenue.
This means you could be taxed on your gross receipts rather than your actual profit.
3. Who is Affected? (The 50,000 Subscriber Rule) The rules apply to every resident person deriving income from social media interactions in Pakistan Reports indicate that accounts with 50,000 subscribers or those generating 12,500 views may now be classified as formal businesses and brought directly under this tax net
4. Power of "Rectification" If you declare an income lower than what the FBR’s formula calculates, the Commissioner has the power to "rectify" your tax return and recover the difference Critics argue this bypasses proper assessment proceedings and undermines a creator's right to explain their actual financial situation

01/04/2026

ٹیکس نظام میں بڑی ہلچل
ایف بی آر کا نیا حکم جاری
اب ہر سیل ریئل ٹائم رپورٹ ہوگی اور ڈیجیٹل انوائس میں تبدیلی صرف 72 گھنٹوں کے اندر ممکن ہوگی!

یہ ایک اہم پیش رفت ہے جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ٹیکس نظام کو مزید ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کے لیے ایک نیا قدم اٹھایا ہے۔ 30 مارچ 2026 کو جاری ہونے والے Sales Tax General Order نمبر 01 آف 2026 کے ذریعے یہ واضح کیا گیا کہ اب سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ افراد کے لیے اپنی سیلز کو ریئل ٹائم میں رپورٹ کرنا لازمی ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہر سیل کی انوائس فوری طور پر FBR کے سسٹم میں رپورٹ ہوگی، جس سے ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھے گی اور فراڈ کے امکانات کم ہوں گے۔

اس آرڈر کی بنیاد سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی سیکشن 23 کی شق (5) اور (6) پر ہے، جو FBR کو یہ اختیار دیتی ہیں کہ وہ کسی بھی کاروبار کو اپنے سسٹم کو FBR کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ساتھ منسلک (integrate) کرنے کا پابند بنا سکے۔ پہلے SRO 1413(I)/2025 کے ذریعے یہ لازم کیا گیا تھا کہ تمام رجسٹرڈ افراد صرف ایک لائسنس یافتہ انٹیگریٹر کے ذریعے ڈیجیٹل انوائسز جاری کریں، مگر اس میں کچھ مشکلات سامنے آئیں، خاص طور پر ان کاروباروں کے لیے جو ایک سے زیادہ سسٹمز استعمال کرتے ہیں۔

اب نئے آرڈر میں اس مسئلے کو حل کرتے ہوئے FBR نے اجازت دے دی ہے کہ کاروبار اپنی ضرورت کے مطابق ایک سے زیادہ licensed integrators کے ساتھ کام کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ FBR سے منظور شدہ ہوں۔ اس سے کاروباری افراد کو زیادہ flexibility ملے گی اور ان کے لیے سسٹم کو manage کرنا آسان ہو جائے گا۔

ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر کوئی ڈیجیٹل سیلز ٹیکس انوائس غلطی سے بن جائے تو اسے صرف 72 گھنٹوں کے اندر FBR کے سسٹم کے ذریعے درست، delete یا cancel کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ مدت گزر جائے تو پھر کوئی بھی تبدیلی صرف متعلقہ Commissioner Inland Revenue کی پیشگی اجازت سے ہی ممکن ہوگی۔ اس شرط کا مقصد یہ ہے کہ غیر ضروری رد و بدل کو روکا جائے اور ہر انوائس کی authenticity برقرار رہے۔

مجموعی طور پر، یہ آرڈر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں ہر لین دین ریکارڈ میں ہوگا اور نگرانی مزید سخت ہوگی۔ اس سے ایک طرف ایماندار کاروباری افراد کو فائدہ ہوگا، جبکہ دوسری طرف غیر شفاف طریقوں کے لیے گنجائش کم ہوتی جائے گی۔

ایف بی آر کی جانب سے تاجر دوست سکیم سے متعلق متفرق سوالات اور ان کے جواباتسوال نمبر 1: تاجر دوست اسکیم کس کے لیے ہے؟جواب...
05/05/2024

ایف بی آر کی جانب سے تاجر دوست سکیم سے متعلق متفرق سوالات اور ان کے جوابات

سوال نمبر 1: تاجر دوست اسکیم کس کے لیے ہے؟
جواب: تمام ہول سیلرز، ،ریٹیلرز، ڈیلرز مثلاً جنرل اسٹورز، میڈیکل اسٹورز، فرنیچر اور تزئین وآرائش کی دُکانیں اور تمام دُکانیں اس اسکیم میں شامل ہیں۔
سوال نمبر2: تاجر دوست اسکیم کس کے لیے نہیں ہے؟
جواب: یہ اسکیم تمام تاجر افراد کے لئے ہے جن کاسوال نمبر1میں ذکر ہے۔ ماسوائے ان کیٹگری کے ۱۔ کمپنی ۲۔نیشنل اور انٹرنیشنل چین اسٹورز جو ایک سے زیادہ شہرمیں واقع ہوں۔
سوال نمبر 3: کیا انکم ٹیکس میں پہلے سے رجسٹرڈ دُکاندار کو تاجر دوست اسکیم 2024 میں بھی اپنے آپ کو رجسٹرڈ کروانا ہوگا؟
جواب: اگر آپ پہلے سے رجسٹرڈ ہیں تو دوبارہ رجسٹریشن کی ضرورت نہیں۔ آپ اسکیم میں رجسٹرڈ شمار کئے جائیں گے۔ البتہ یکم جولائی 2024سے ماہانہ ایڈوانس انکم ٹیکس اسی تاجر دوست اسکیم کے تحت جمع کروانا ہوگا۔
سوال نمبر4: میں پہلے سے ایک دُکاندار کی حیثیت سے انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہوں اور اپنا مجوزہ ٹیکس ادا کرکے انکم ٹیکس ریٹرن بھی جمع کرواتا ہوں تو کیا مجھے بھی اب اس نئی تاجر دوست اسکیم میں رجسٹریشن کروانا ہوگی؟
جواب: اگر آپ پہلے سے رجسٹرڈ ہیں اور اپنا ٹیکس ریٹرن بھی جمع کرواتے ہیں تو دوبارہ رجسٹریشن کی ضرورت نہیں۔ آپ اسکیم میں رجسٹرڈ شمار کیئے جائیں گے۔ البتہ یکم جولائی 2024 سے ماہانہ ایڈوانس انکم ٹیکس اسی تاجر دوست اسکیم کے تحت جمع کروائیں گے۔
سوال نمبر 5: اگر میں اپنے آپ کو نئی تاجر دوست اسکیم میں رجسٹریشن کروالوں تو پہلے سے انکم ٹیکس رجسٹریشن کینسل تصور ہوگی اور مجھے ریٹرن جمع نہیں کروانی ہوگی۔
جواب: جی نہیں! آپ کی پہلی رجسٹریشن ختم نہیں ہوگی۔ تاجر دوست اسکیم تمام تاجروں کے لیے ہے۔ اگر کوئی تاجر پہلے سے رجسٹرڈہے اور اپنا گوشوارہ (ریٹرن)بھی جمع کرواتا ہے تو دوبارہ رجسٹریشن کی ضرورت نہیں۔ آپ اسکیم میں رجسٹرڈ شمار کئے جائیں گے۔ البتہ یکم جولائی 2024سے ماہانہ ایڈوانس انکم ٹیکس اسی تاجر دوست اسکیم کے تحت جمع کروانا ہوگا اور سال 2024 کا ریٹرن معمول کے مطابق جمع کروائیں گے، جیسے پہلے جمع کرواتے رہے ہیں۔
سوال نمبر 6: کیا انکم ٹیکس اور تاجر دوست اسکیم 2024کے تحت ایک دُکاندار کو علیحدہ علیحدہ انکم ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس دینا ہوگا یعنی بیک وقت دونوں ٹیکس 25-2024 میں دینا ہوں گے؟
جواب: تاجر دوست اسکیم میں ٹیکس جمع کرانے کا طریقہ کار دیا گیا ہے، دُکاندار یا تاجر کو اِس اسکیم کے تحت ماہانہ ایڈوانس ٹیکس دینا ہوگا۔ جو تاجر سہ ماہی ایڈوانس انکم ٹیکس دینے کے پابند ہیں وہ اپنا سہ ماہی انکم ٹیکس جمع کرواتے وقت تاجر دوست اسکیم میں دیا گیا ٹیکس ایڈجسٹ کرواسکتے ہیں۔
سوال نمبر7: کیا یہ اسکیم Tier-Iریٹیلرز کے لئے بھی ہے؟
جواب: جی ہاں! یہ اسکیم تمام ریٹیلرز پر لاگو ہے۔
سوال نمبر8: کیا تاجروں کو سیلز ٹیکس میں بھی رجسٹرڈ ہونا ہوگا؟
جواب: تاجر دوست اسکیم انکم ٹیکس رجسٹریشن سے متعلق ہے اس اسکیم کا سیلز ٹیکس سے تعلق نہیں۔ البتہ وہ تاجر جو سیلز ٹیکس میں رجسٹر ہونا لازم ہیں انہیں سیلز ٹیکس میں بھی رجسٹر ہونا چاہئے۔
سوال نمبر9: کیا تاجروں کو POS میں بھی رجسٹریشن کروانا ہوگی۔
جواب: تاجر دوست اسکیم میں شامل ہونے کے لئے POSکی رجسٹریشن لازمی نہیں۔البتہ Tier-Iریٹیلرز کو POS میں رجسٹریشن لازمی ہے۔
سوال نمبر 10: میں ایک شاپنگ مال میں KIOSK لگاتا ہوں۔ کیا میں بھی تاجر دوست اسکیم میں رجسٹریشن کا اہل ہوں۔
جواب: جی ہاں! یہ اسکیم تمام دُکانداروں کے لئے ہے بشمولKIOSK۔
سوال نمبر 11: کیا بجلی کے بل کے ساتھ ادا کیا گیا ٹیکس ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے؟
جواب: جی ہاں! ماہانہ بجلی کے بلوں پر ادا کیا گیا انکم ٹیکس تاجر دوست اسکیم میں ادائیگی کے وقت ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔

The Federal Board of Revenue (FBR) is initiating the registration process for traders under the Tajir Dost Scheme, aimin...
29/04/2024

The Federal Board of Revenue (FBR) is initiating the registration process for traders under the Tajir Dost Scheme, aiming to bring five major categories of traders into the tax system.

According to a news report, Finance Minister Muhammad Aurangzeb has approved the initiative, pending notification.

The scheme targets wholesalers, dealers, retailers, furniture and decoration showrooms, jewellers, cosmetics stores, grocery, medical and hardware stores, meat shops, vegetables and fruits outlets, motor vehicle showrooms, and dealers of fertiliser, pesticide, and chemicals in Karachi, Lahore, Peshawar, Quetta, Islamabad, and Rawalpindi.

The scheme also covers manufacturer-cum-retailers, importer-cum-retailers, and individuals involved in combined retail and wholesale activities or other business activities within the supply chain.

To enforce tax compliance, selected tax offices and bank branches will operate on weekends to meet the monthly tax collection target of Rs879 billion for March, following a reported revenue of around Rs850 billion on Friday.

Traders and shopkeepers can register under Section 181 of the Income Tax Ordinance 2001 via the Tax Asaan App, FBR’s web portal, or by visiting FBR’s tax facilitation centers.

The registration process begins on April 1, with tax collection effective from July 1. Failure to register by the April 30 deadline will result in monetary penalties under section 182 of the Income Tax Ordinance 2001.

The scheme offers a 25% discount on monthly advance tax payment if paid in a lump sum and a 25% discount on monthly advance tax payments for non-filers who submit their tax return for the tax year 2023 before the July 15 deadline for the first installment of monthly advance tax.

For those who make 12 months of monthly advance tax payments for the tax year 2024 in one payment on July 15, the discount increases to 50%.

Registration for the scheme has been simplified, eliminating the need for tax professionals’ assistance.

25/11/2023

اسلام آباد: ایف بی آر اور نادرا کا ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق
نادرا اور ایف بی آر کے حکام پر مشتمل اعلٰی سطحی تکنیکی کمیٹی قائم، نوٹیفکیشن
کمیٹی کی سربراہی چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر کریں گے
کمیٹی کے ارکان میں چیف پراجیکٹ آفیسر نادرا سمیت نادرا کے دو سینئر افسران شامل ہونگے
کمیٹی کے دیگر ارکان میں سی ای او پرال اور دو سینیئر افسران ایف بی آر سے شامل
ایف بی آر اور نادرا ٹیکس دہندگان کی اصل آمدن کا جائزہ لینگے
نئے ٹیکس دہندگان کی رجسٹریشن اور نان فائلر کے ٹیکس پروفائل کو حتمی شکل دی جائے گی، ذرائع
ایف بی آر اور نادرا کے درمیان ڈیٹا کا بھی تبادلہ کیا جائے گا، ذرائع

FBR to take serious actions against non-filers. File your returns now and avoid the action.
25/11/2023

FBR to take serious actions against non-filers. File your returns now and avoid the action.

Grab the opportunity to learn on line through zoom. substantial material will also be shared for help and guidance.
03/08/2023

Grab the opportunity to learn on line through zoom. substantial material will also be shared for help and guidance.



16/02/2023

Grab the opportunity and learn online.

Maksons is a consulting law firm working in Islamabad for the last more than15 years and offers complete consultancy services relating to Income & Tax Sales Tax and corporate law

Address

1st Floor Abbas Center Fazal Ul Haq Road Blue Area
Islamabad

Opening Hours

Monday 09:30 - 06:00
Tuesday 09:00 - 06:00
Wednesday 09:00 - 06:00
Thursday 09:00 - 06:00
Friday 09:00 - 06:00
Saturday 09:00 - 06:00
Sunday 09:00 - 06:00

Telephone

0512150347

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maksons LAW Chambers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Maksons LAW Chambers:

Share