26/05/2025
انگریزوں کو مہذب خیال کرنے والے غور سے پڑھیں۔
ایک غیر ملکی معزز مہمان نے ہمیں وائلڈ لائف کے تحفظ کا درس دیا تو یاد آیا کہ کس بے رحمی سے انگریزوں نے ہندوستان میں شیروں اور وائلڈ لائف کا قتل عام کیا اور قریبا 80 ہزار شیروں کا شکار کیا ۔ آج اس افسوسناک معاملے کے مزید دردناک پہلو پر بات کریں گے کہ یہ سب کیوں کیا گیا ؟
پروفیسر جوزف سرامک اپنی کتاب Face him like a Briton میں لکھتے ہیں کہ برطانوی راج میں ہندوستان میں شیروں کے اس بے رحمانہ شکار کی ایک وجہ ٹیپو سلطان سے انگریز کی نفرت بھی تھی۔
سلطان ٹیپو شیروں کے دلدادہ تھے ۔انہیں شیر میسور بھی کہا جاتا تھا۔ ٹیپو سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے "شیر جیسا" ۔ ان کی تلواروں اور خنجر پر بھی شیر کی شبیہہ بنی ہوتی تھی ۔ شیر ہی ان کی سلطنت کا سرکاری نشان تھا اور ان کے لیے جو تخت بنایا تھا وہ بھی ایسا تھا جیسا کوئی شیر کے اوپر بیٹھا ہوا ہو ۔
ٹیپو سلطان کے لیۓ 1793 میں ایک فرانسیسی انجنیئر نے ایک باجا ڈیزائن کیا جس میں ایک شیر ایک انگریز فوجی کو گراۓ ہوۓ تھا اور جب اس باجے کو منہ سے بجایا جاتا تھا تو انگریز فوجی کراہتے ہوۓ اپنا بازو اوپر نیچے کرتا تھا اور شیر کی دھاڑ کے ساتھ انگریز فوجی کی چیخوں کی آواز بھی سنائ دیتی تھی- اس باجے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس کو 18 مختلف سروں سے بجایا جا سکتا تھا !
یہ باجا آج بھی لندن کے " وکٹوریا اینڈ البرٹ میوزیم " میں رکھا ہوا ہے جس کو دیکھنے کے لیۓ دور دور سے سیاح آتے ہیں اور اس شاہکار کو سراہتے ہیں !
چنانچہ ٹیپو سلطان کو شکست دینے کے بعدانگریز نے ٹیپو سلطان کو Outdo کرنے کے لیے شیروں کا اس بے رحمی سے شکار کیا کہ جہاں لاکھوں شیر پائے جاتے تھے وہ برطانوی راج کے اختتام پر محض چند ہزار رہ گئے ۔ وحشت کے اس سارے کھیل میں شیر میسور کی تذلیل مقصود تھی۔
چنانچہ سلطان ٹیپو کے میسور میں ہی " وین انجن اینڈ وین انجن " نامی ایک فرم قائم کی گئی جو شیروں کو حنوط کرتی اور کھال میں بھوسہ بھر کے جانوروں کے ماڈل تیار کرتی۔ یہ کام کہیں اور بھی ہو سکتا تھا ۔ میسور سے بڑے شہر بھی موجود تھے جہاں کی مارکیٹ کے امکانات میسور سے کہیں زیادہ تھے لیکن چونکہ مقصد سلطان ٹیپو کی نسبت کی تذلیل تھی اس لیے یہ فرم میسور میں قائم کی گئی۔
میسور میں وحشت کا یہ کھیل کتنی شدت سے کھیلا گیا اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ صرف اس ایک فرم نے 43 ہزار شیروں اور 30 ہزار چیتوں کی کھال کو پراسس کیا ۔ جس شہر میں شیر میسور سلطان ٹیپو کی یادیں بسیرا کیے ہوئے تھیں اس میسور کے بازوروں میں اور چوراہوں میں شیروں کی کھالوں کو خشک کیا جاتا ۔ ہندوستان بھر سے شیر مار کر ان کی کھال میسور بھجوائی جاتی ۔
جارج یول نامی ایک برطانوی افسر نے ہندوستان میں قیام کے دوران 400 شیروں کا شکار کیا اور جیفری نائیٹنگیل نے 300 شیر مارے۔ یعنی صرف دو برطانوی اہلکاروں کے ہاتھوں 700 شیر مارے گئے۔
امریکہ کے برگیڈیئر جنرل ولیم مچل 1924 میں وائسرائے کے مہمان کے طور پر بھارت آئے تو انہوں نے یہاں جانوروں کا بے رحمی سے شکار کیا۔ یہ وہ ہی صاحب ہیں جنہیں امریکہ میں " فادر آف دی ایئر فورس " کہا جاتا ہے اور بعد میں جن کا کورٹ مارشل ہوا تھا۔ انہوں نے اسی سال " نیشنل جیوگرافک میگزین " میں Tiger hunting in India کے نام سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا کہ
" گذشتہ تین دنوں میں ہم نے اتنے زیادہ جانوروں کا شکار کیا کہ ان کی کھالیں خشک نہ ہو سکیں۔ چنانچہ ہم نے یہ ساری کھالیں ٹرک کی چھت پر ڈال دیں کہ راستے میں ہی خشک ہوتی رہیں گی۔ "
برطانوی افسران اور اہلکاروں نے برصغیر کے جنگلوں میں جس بے رحمی سے شکار کیا وہ ایک تاریک باب ہے۔ گاندھی اروان معاہدے والے وائسرائے لارڈ ارون کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 10 ہزار بھڑ تیتر مارے تھے۔ راولپنڈی کے ایک ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر نے پوٹھوہار کے علاقے میں
ایک روز میں 40 ہرنوں کا شکار کیا۔
میرے خیالات کا یہ سلسلہ ٹوٹا تو دیکھا ، محفل ابھی جاری تھی۔ برصغیر کی جنگلی حیات کا قتل عام کرنے والے مہربان اب ہمیں سمجھانے آئے بیٹھے تھے کہ ایک مہذب قوم کی طرح جنگلی حیات کا تحفظ کیسے کیا جاتا ہے اور احساس کمتری کے مارے شرکاء کے چہرے بتا رہے تھے کہ ان کے ہاں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ہم مقامی لوگوں کے مہذب ہونے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔!!!