27/06/2025
*خلیفۂ دوم، فاروق اعظم، سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں چند باتیں جو عوام میں کم معروف ہیں*
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مذہبی، انتظامی، عسکری اور سماجی معاملات میں بڑی گراں قدر خدمات ہیں جیسے:
- سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے 17 ہجری میں اسلامی ہجری تقویم کا باضابطہ آغاز کیا، جس کی بنیاد نبی کریم ﷺ کی ہجرتِ مدینہ پر رکھی گئی۔
- اگرچہ نبی کریم ﷺ نے تراویح چند دن جماعت سے پڑھی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رمضان میں باقاعدہ طور پر باجماعت تراویح کا نظام قائم کیا۔
- سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فجر کی اذان میں مؤذن کو “الصلاة خير من النوم” (نماز نیند سے بہتر ہے) کہنے کا حکم دیا۔ یہ اضافہ سنتِ نبوی ﷺ کے اشارے پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بھی کیا تھا، مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے بطور مستقل جزو رائج کر دیا۔
- آپ نے مسجد نبوی شریف کی توسیع کروائی اطراف کی زمینیں خرید کر مسجد کی حدود کو وسیع کیا۔ پہلی بار پتھروں اور گارے سے باقاعدہ دیواریں، ستون اور چھت تعمیر کروائی گئی۔ اُس وقت کے حساب سے کھجور کے درختوں کی لکڑیاں، کیکر کے درخت کے ستون اور مٹی کی دیواروں سے وقت کی بہترین تعمیر کروائی گئی۔
- سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زکوۃ و صدقات کی باقاعدہ وصولی کے لیے سرکاری اہلکار اور حساب رکھنے والوں کو مقرر فرمایا۔
- آپ نے بیت المال سے یتیموں، بیواؤں، بوڑھوں کے ساتھ ساتھ نئے قبول اسلام کرنے والوں کے لیے بھی باقاعدہ وظیفوں کا نظام جاری فرمایا۔ بیت المال کا نظام پہلے موجود تو تھا، مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے باقاعدہ ریکارڈ رکھنے، نگرانی کے انتظامات، اور حساب و کتاب کے سخت اصولوں ساتھ منظم کر کے اس میں جدت و قوت کے ساتھ متعارف کروایا۔
- آپ نے گورنروں، قاضیوں، فوجی کمانڈروں، اور کاتبوں کی تقرری کرکے باقاعدہ حکومت کا ڈھانچہ تیار کیا۔ کہہ لیں کے باقاعدہ صوبائی نظام اور ولایات و امصار کا سسٹم متعارف کروایا۔
- سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آزاد عدلیہ قائم کی، قاضیوں کے اختیارات متعین کیے، اور عدالتی اصول بڑے پختہ و منظم اصولوں پر وضع کیے۔
- آپ نے پہلی سرکاری پولیس فورس (مع خفیہ جاسوسی فورس) قائم کی تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ “دیوان الجند” یعنی فوجی رجسٹرز متعارف کروائے اور سپاہیوں کے نام، تنخواہیں، زمینیں، اور حاضری کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا گیا۔
- سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تمام علاقوں اور آبادیوں کی مردم شماری اور اعداد و شمار مرتب کروائے۔ یعنی مردم شماری (Census) کے نظام کو متعارف کروایا۔
- سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نئی سرزمینوں میں مساجد کو صرف عبادت گاہ ہی نہیں بلکہ انتظامی اور تعلیمی مراکز بنایا۔ یعنی جیسے جیسے علاقے فتح ہوتے مسجد ایک تعلیم و تعلم اور معاشرتی و معاشی ٹریننگ سینٹرز کے طور پر قائم فرماتے جاتے جو کہ وہاں کی آبادیوں کے لئے ہر طرح سے فائدہ مند ثابت ہوتے۔
- آپ نے مختلف مفتوح علاقوں (کوفہ، بصرہ، شام، مصر) میں قراء و معلمین کو بھیجا تاکہ لوگ قرآن صحیح تلفظ کے ساتھ سیکھیں۔ آپ نے قرآت میں اختلافات پر سخت نگرانی رکھی تاکہ فتنے پیدا نہ ہوں (یہ بعد میں سیدنا عثمان کے جمعِ قرآن کی تحریک میں بھی معاون بنا)۔ آپ نے مدینہ میں باقاعدہ حلقاتِ قرآن قائم کروائے۔
- سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے باقاعدہ تنخواہوں، دن رات کی شفٹوں، اور پنشن کے نظام کو متعارف کروا کر ایک مستقل فوج ادارے کی صورت میں تشکیل دی۔
- آپ نے افسران اور افواج کے لیے نئے انتظامی و عسکری شہر آباد کیے جنہیں “امصار” کہا جاتا ہے۔ یعنی اس دور کے کینٹ علاقے تعمیر کروائے جہاں عسکری معاملات اور ٹریننگ کے انتظامات بھی موجود تھے۔
- “معاہدۂ عمر” کے نام سے غیر مسلم شہریوں (ذمیوں) کے لیے حقوق و ذمہ داریوں کا باقاعدہ معاہدہ تحریر کیا۔ اس کے علاوہ زرعی زمین کے خراج (Kharāj) اور غیر مسلموں کی جزیہ (Jizya) کا مکمل نظام قائم فرمایا۔
- آپ نے مفتیان، قرآن کے قاری اور اساتذہ کو نئے علاقوں میں اسلام کی تعلیم کے لیے بھیجا۔
- قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے “محتسب” (Food inspectors) مقرر کیے، اور دھوکہ دہی سے بچاؤ کے اصول بنائے۔ اشیاء کی کوالٹی چیکنگ اور مارکیٹ کنٹرولنگ رکھی۔ بلکہ آپ نے سیدتنا شفاء رضی اللہ عنہا کو مارکیٹ کوالٹی چیکنگ اور فوڈ انسپیکٹر کے طور پر مقرر فرمایا۔
- آپ نے اپنے دور میں شاہراہیں، سپاہیوں کے لیے چوکیاں، مسافروں کی آرام گاہیں، اور کنویں بھی تعمیر کروائے۔
- جدید میونسپلٹی یا سیکورٹی کے نظام کا ابتدائی ماڈل “رات کے گشت” سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خود انجام دیا کرتے اور باقاعدہ رات کے پہرے داروں کا نظام بھی متعین کیا۔
اور یہ سب کچھ آپ رضی اللہ عنہ نے عیسوی کیلنڈر (جو ہمارے ہاں رائج ہے) کے حساب سے صرف دس سال کی خلافت میں مکمل فرمایا۔
ابھی آپ کی لیڈرشپ میں ہونے والی فتوحات اور جنگی معاملات کی خدمات الگ ہیں.