13/04/2025
بعض لوگ اپنائیت سے گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں، جیسے کوئی قریب آتا جائے تو اُن کے اندر ایک انجانی بےچینی جنم لینے لگتی ہے۔ یہ کیفیت عام ہے، مگر سمجھنے سے محروم رہتی ہے۔ جب کوئی فرد حد سے زیادہ اپنے پن کا مظاہرہ کرتا ہے، حد سے زیادہ خیال رکھتا ہے، یا جذباتی طور پر قریب آنے کی کوشش کرتا ہے، تو بعض دلوں میں ایک انجانا بوجھ سا اُتر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی اُن سے کچھ چھین لے گا: ان کی آزادی، ان کی ذاتی حدود، یا شاید ان کی خود ساختہ محفوظ تنہائی۔۔۔
ایسے لوگ اکثر زندگی میں ایسی تجربات سے گزرے ہوتے ہیں جنہوں نے ان کے اندر کے خ*ل کو سخت کر دیا ہوتا ہے۔ بچپن میں والدین یا قریبی رشتوں کی طرف سے عدم تحفظ، جذباتی نظراندازی، یا بار بار ٹوٹتے اعتماد نے انہیں سکھا دیا ہوتا ہے کہ جہاں اپنائیت ہے، وہاں درد بھی چھپا ہوتا ہے۔ چنانچہ جیسے ہی کوئی زیادہ اپنائیت سے بات کرتا ہے، ان کے ذہن میں ایک دفاعی الارم بج اٹھتا ہے، جو انہیں دور رہنے کو کہتا ہے۔۔۔
مزید یہ کہ اپنائیت میں ایک غیر محسوس ذمہ داری شامل ہوتی ہے۔ جب کوئی انسان محبت سے پیش آتا ہے، تو دل کے کسی کونے میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اب مجھے بھی جواب دینا ہو گا، محبت لوٹانی ہو گی، اور اگر میں نہ کر سکا تو شاید سامنے والا ٹوٹ جائے گا۔ یہ احساسِ ذمہ داری بعض لوگوں کے لیے بہت بھاری ہوتا ہے، خصوصاً اُن کے لیے جنہوں نے خود کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے جذباتی طور پر بےحس بنانا سیکھ لیا ہو۔۔۔
انسان فطری طور پر تعلقات کا خواہاں ہے، مگر ہر ایک کا تعلق سے جُڑنے کا زاویہ مختلف ہوتا ہے۔ کچھ لوگ چاہے کتنا بھی پیار چاہتے ہوں، جب وہ زیادہ اپنائیت محسوس کرتے ہیں، تو اُنہیں لگتا ہے کہ اُن کی اصل شناخت، ان کا سکون، اور ان کا کنٹرول چھن جائے گا۔ اس لیے وہ نارمل، رسمی، اور فاصلہ دار اندازِ گفتگو میں سکون محسوس کرتے ہیں، کیونکہ اس میں کوئی جذباتی وابستگی نہیں ہوتی، نہ کوئی بوجھ، نہ کوئی خطرہ۔۔۔
مزید برآں، موجودہ تیز رفتار، ڈیجیٹل دور نے انسانوں کو جذبات سے زیادہ معلومات اور کارکردگی کی طرف مائل کر دیا ہے۔ اپنائیت، احساس، اور دل کی گہرائیوں سے جُڑے مکالمے وقت طلب اور ذہنی توانائی مانگتے ہیں، جبکہ رسمی اندازِ گفتگو فوری، غیر وابستہ اور محفوظ لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان لفظوں کے شور میں تو مبتلا ہے، مگر جذبات کی گونج سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔
آخر میں، یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جو لوگ اپنائیت سے دور بھاگتے ہیں، وہ دراصل کسی زمانے میں اُسی اپنائیت کے خواہاں تھے — مگر کسی نے اُنہیں یہ سکھا دیا کہ زیادہ قریب آنا، زیادہ محسوس کرنا، اور زیادہ مان لینا، کمزور کر دیتا ہے۔ ایسے لوگ اندر سے شاید بہت نرم ہوتے ہیں، لیکن اُن کی نرمی کی تہوں پر وقت کی سخت دھول جمی ہوتی یے۔۔۔۔
وہ شاید حد سے زیادہ حساس ہوتے ہیں، اسی لیے حد سے زیادہ محتاط بھی۔۔۔