01/04/2026
خدمتِ خلق کا زندہ مجسمہ
سردار جہانگیر شریف ڈوگر
معاشرے کے اس تیز رفتار اور خود غرض دور میں جہاں لوگ اپنی زندگی کو صرف سانس لینے اور لذت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو زندگی کو دوسروں کے دکھ ہلکا کرنے کا مقدس فریضہ بنا لیتے ہیں قصور کے علاقے شام کوٹ نو ۔ کنگن پور سے تعلق رکھنے والے سردار جہانگیر شریف ڈوگر صاحب انہی نایاب ہستیوں میں سے ایک ہیں جن کی زندگی دردِ انسانیت کے احساس سے رنگین ہے۔
سردار جہانگیر شریف ڈوگر صاحب احمد تھیلیسیمیا کیئر ہسپتال کنگن پور کے بانی روح رواں ہیں۔ جہاں سینکڑوں معصوم بچے خون کی شدید کمی کا شکار ہو کر زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں، وہاں سردار صاحب کا وجود ایک امید کی کرن بن کر چمکتا ہے۔ وہ نہ صرف ہسپتال کی نگرانی کرتے ہیں بلکہ بلڈ ڈونیشن کیمپوں کے انعقاد، مالی امداد اور مسلسل نگرانی کے ذریعے ان بچوں کی زندگیوں میں روشنی بھرتے رہتے ہیں ان کا کام دکھاوے سے پاک ہے کوئی پریس کانفرنس نہیں، کوئی خود ستائی نہیں صرف خاموش، خالص اور بے لوث خدمت۔
حال ہی میں ان کی سالگرہ کا دن بھی ان کی اسی اندرونی خوبصورتی کا آئینہ بنا جب عام لوگ اس دن کو ذاتی خوشیوں، تقریبوں اور تحائف میں گزارتے ہیں، سردار صاحب نے اسے تھیلیسیمیا کے ان بچوں کے درمیان گزارا جن کی آنکھیں محبت کی پیاس سے ترستی رہتی ہیں۔ کیک کاٹا، بچوں کے ساتھ ہنسے، ان کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں اور ان کی معصوم خوشیوں میں اپنی خوشی تلاش کی۔ وہ منظر واقعی دل کو چھو لینے والا تھا بچوں کی چمکتی آنکھیں، ان کی معصومیت بھری ہنسی اور سردار صاحب کی سادگی بھری موجودگی۔ یہ صرف ایک سالگرہ نہیں تھی، بلکہ ایک پیغام تھا کہ اصل خوشی بانٹنے میں پنہاں ہے۔
ان کی فلاحی خدمات تھیلیسیمیا تک محدود نہیں۔ ڈوگر ویلفیئر ٹرسٹ (رجسٹرڈ پاکستان و برطانیہ) کے جنرل سیکرٹری کے طور پر وہ غریبوں کو راشن، بیواؤں کو سہارا، بیماروں کو علاج اور ضرورت مندوں کو دستِ شفقت بڑھاتے رہتے ہیں۔ ضلع قصور میں وزیراعلیٰ شکایت سیل کے سابق کوآرڈینیٹر اور کنگن پور پریس کلب کے صدر کی حیثیت سے بھی انہوں نے عوامی مسائل کو حل کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔
سب سے قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ان کی سادگی اور خلوص نے لوگوں کے دلوں میں گہری جگہ بنا لی ہے۔ جب بھی وہ کسی تقریب یا اجتماع میں حاضر ہوتے ہیں تو لوگ محبت کے سیلاب کی طرح اُمڈ پڑتے ہیں۔ دعائیں، تعریف اور خلوص بھرے الفاظ یہ سب ان کی بے لوث شخصیت کا قدرتی نتیجہ ہے۔ آج کے اس مادیت پرست دور میں جہاں کامیابی کو دولت اور عہدوں سے ناپا جاتا ہے، سردار جہانگیر شریف ڈوگر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل کامیابی تو لوگوں کے دلوں میں امر ہو جانا ہے۔
سردار جہانگیر شریف ڈوگر جیسے افراد ہمارے معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی اور اخلاقی روشنی ہیں۔ وہ اندھیروں میں امید کی شمع جلاتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال قائم کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ انہیں صحت، لمبی عمر اور مزید خدمتِ خلق کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تحریر۔ عرفان یوسف سدھو