Irfan Yousaf Sidhu

Irfan Yousaf Sidhu Journalist • Columnist • Entrepreneur | Bureau Chief | Sharing daily news, business insights & career guidance | Learn & grow with me.

20/04/2026
01/04/2026

خدمتِ خلق کا زندہ مجسمہ
سردار جہانگیر شریف ڈوگر
معاشرے کے اس تیز رفتار اور خود غرض دور میں جہاں لوگ اپنی زندگی کو صرف سانس لینے اور لذت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو زندگی کو دوسروں کے دکھ ہلکا کرنے کا مقدس فریضہ بنا لیتے ہیں قصور کے علاقے شام کوٹ نو ۔ کنگن پور سے تعلق رکھنے والے سردار جہانگیر شریف ڈوگر صاحب انہی نایاب ہستیوں میں سے ایک ہیں جن کی زندگی دردِ انسانیت کے احساس سے رنگین ہے۔
سردار جہانگیر شریف ڈوگر صاحب احمد تھیلیسیمیا کیئر ہسپتال کنگن پور کے بانی روح رواں ہیں۔ جہاں سینکڑوں معصوم بچے خون کی شدید کمی کا شکار ہو کر زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں، وہاں سردار صاحب کا وجود ایک امید کی کرن بن کر چمکتا ہے۔ وہ نہ صرف ہسپتال کی نگرانی کرتے ہیں بلکہ بلڈ ڈونیشن کیمپوں کے انعقاد، مالی امداد اور مسلسل نگرانی کے ذریعے ان بچوں کی زندگیوں میں روشنی بھرتے رہتے ہیں ان کا کام دکھاوے سے پاک ہے کوئی پریس کانفرنس نہیں، کوئی خود ستائی نہیں صرف خاموش، خالص اور بے لوث خدمت۔
حال ہی میں ان کی سالگرہ کا دن بھی ان کی اسی اندرونی خوبصورتی کا آئینہ بنا جب عام لوگ اس دن کو ذاتی خوشیوں، تقریبوں اور تحائف میں گزارتے ہیں، سردار صاحب نے اسے تھیلیسیمیا کے ان بچوں کے درمیان گزارا جن کی آنکھیں محبت کی پیاس سے ترستی رہتی ہیں۔ کیک کاٹا، بچوں کے ساتھ ہنسے، ان کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں اور ان کی معصوم خوشیوں میں اپنی خوشی تلاش کی۔ وہ منظر واقعی دل کو چھو لینے والا تھا بچوں کی چمکتی آنکھیں، ان کی معصومیت بھری ہنسی اور سردار صاحب کی سادگی بھری موجودگی۔ یہ صرف ایک سالگرہ نہیں تھی، بلکہ ایک پیغام تھا کہ اصل خوشی بانٹنے میں پنہاں ہے۔
ان کی فلاحی خدمات تھیلیسیمیا تک محدود نہیں۔ ڈوگر ویلفیئر ٹرسٹ (رجسٹرڈ پاکستان و برطانیہ) کے جنرل سیکرٹری کے طور پر وہ غریبوں کو راشن، بیواؤں کو سہارا، بیماروں کو علاج اور ضرورت مندوں کو دستِ شفقت بڑھاتے رہتے ہیں۔ ضلع قصور میں وزیراعلیٰ شکایت سیل کے سابق کوآرڈینیٹر اور کنگن پور پریس کلب کے صدر کی حیثیت سے بھی انہوں نے عوامی مسائل کو حل کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔
سب سے قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ان کی سادگی اور خلوص نے لوگوں کے دلوں میں گہری جگہ بنا لی ہے۔ جب بھی وہ کسی تقریب یا اجتماع میں حاضر ہوتے ہیں تو لوگ محبت کے سیلاب کی طرح اُمڈ پڑتے ہیں۔ دعائیں، تعریف اور خلوص بھرے الفاظ یہ سب ان کی بے لوث شخصیت کا قدرتی نتیجہ ہے۔ آج کے اس مادیت پرست دور میں جہاں کامیابی کو دولت اور عہدوں سے ناپا جاتا ہے، سردار جہانگیر شریف ڈوگر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل کامیابی تو لوگوں کے دلوں میں امر ہو جانا ہے۔
سردار جہانگیر شریف ڈوگر جیسے افراد ہمارے معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی اور اخلاقی روشنی ہیں۔ وہ اندھیروں میں امید کی شمع جلاتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال قائم کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ انہیں صحت، لمبی عمر اور مزید خدمتِ خلق کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تحریر۔ عرفان یوسف سدھو

کامیابی کی قیمت: تنہائی یا ناگزیر انتخاب؟تحریر: عرفان یوسف سدھوآج کا نوجوان ناکامی سے نہیں ڈرتا، وہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ...
25/03/2026

کامیابی کی قیمت: تنہائی یا ناگزیر انتخاب؟
تحریر: عرفان یوسف سدھو
آج کا نوجوان ناکامی سے نہیں ڈرتا، وہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ کامیابی اسے تنہا نہ کر دے وہ کامیاب بھی ہونا چاہتا ہے اور ہر دوست، ہر فالوور، ہر رشتے دار کو ساتھ لے کر بھی چلنا چاہتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں سوشل میڈیا نے ہمیں بظاہر جوڑ دیا ہے، مگر حقیقی تعلقات کی قیمت ادا کرنے کا حوصلہ چھین لیا ہے۔ تعلقات اب نمائش بن چکے ہیں ساتھ ہونا ضروری نہیں، صرف دکھائی دینا ضروری ہے جیسے ہی کوئی شخص اپنے مقصد کو سنجیدگی سے لیتا ہے، اس کی دنیا بدل جاتی ہے۔ سب سے پہلے بدلتا ہے اس کا حلقۂ احباب۔ یہیں سے شکایات شروع ہو جاتی ہیں جیسے جیسے میں آگے بڑھ رہا ہوں، لوگ مجھ سے دور ہو رہے ہیں مگر اصل سوال یہ ہے: کیا یہ واقعی نقصان ہے، یا فطرت کا ایک لازمی اصول ہے جس سے گزرے بغیر کوئی سنجیدہ انسان منزل تک نہیں پہنچ سکتا؟ ہمارے معاشرے میں تعلقات کی تعداد کو حیثیت کا پیمانہ بنا لیا گیا ہے۔ جتنے زیادہ لوگ آپ کے گرد، اتنی بڑی آپ کی اہمیت۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے کامیابی معیار مانگتی ہے، مقدار نہیں تیز رفتار سفر ہمیشہ محدود مگر مخلص ساتھیوں کے ساتھ ہی ممکن ہوتا ہے جیسے صحرا کا کارواں جو سب سے آگے نکلنا چاہتا ہے، وہ صرف ان اونٹوں کو ساتھ رکھتا ہے جو اس کی رفتار برداشت کر سکیں۔ باقی خود بخود پیچھے رہ جاتے ہیں زندگی بھی اسی اصول پر چلتی ہے: ہر شخص آپ کے ساتھ منزل تک نہیں پہنچ سکتا جب انسان اپنے اہداف پر پوری توجہ مرکوز کرتا ہے تو غیر ضروری چیزوں کے لیے جگہ خود بخود سِکڑ جاتی ہے وقت، توانائی اور توجہ یہ تینوں وسائل محدود ہیں۔ انہیں ہر ایک کے ساتھ بانٹتے رہیں تو نہ منزل ملتی ہے اور نہ سکون یہی وہ موڑ ہے جہاں ترجیحات بدلتی ہیں، اور ساتھ ہی لوگ بھی تلخ مگر سچی حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص آپ کے ساتھ بڑھنے کے لیے پیدا نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ صرف ایک خاص مرحلے تک آپ کی کہانی کا حصہ ہوتے ہیں اس کے بعد راستے الگ ہو جاتے ہیں مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم ان تعلقات کو زبردستی زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو اب ہماری رفتار کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ ذہنی سکون کا قاتل بھی ہم دوسروں کی منظوری کے اس قدر محتاج ہو چکے ہیں کہ اپنی اصل پہچان ہی کھو بیٹھے ہیں۔ “لوگ کیا کہیں گے” کا خوف ہمیں وہ فیصلے کرنے سے روکتا ہے جو کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کہتے رہیں گے چاہے آپ رک جائیں یا آگے بڑھ جائیں کامیاب لوگوں کی زندگیوں میں ایک بات سب سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے: فوکس یہ فوکس قربانی مانگتا ہے وقت کی، آرام کی، اور بعض اوقات تعلقات کی بھی مگر یہی قربانیاں بعد میں انسان کی سب سے بڑی پہچان بن جاتی ہیں۔ ان کے گرد ایک چھوٹا سا دائرہ ہوتا ہے، مگر وہ دائرہ پتھر کی طرح مضبوط اور سونے کی طرح خالص ہوتا ہے یہ بات ذہن میں بٹھا لیں کہ تنہائی اور اکیلا ہونا ایک جیسی چیز نہیں۔ کامیابی کے راستے پر چلنے والا شخص بظاہر تنہا دکھائی دیتا ہے، مگر وہ درحقیقت اپنے وژن، اپنے خواب اور اپنی لگن کے ساتھ ہوتا ہے اور یہی اس کا سب سے بڑا سہارا ہوتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ ہمیں چھوڑ جاتے ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر ایک کو زبردستی ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں چاہے وہ ہماری رفتار کو سست کر دے یا ہمارے خوابوں کو بوجھ بنا دے اس لیے اپنی زندگی کو اس انداز میں ترتیب دیں کہ وفاداری، وژن اور ترقی کو سب سے اوپر رکھا جائے۔ ایسے تعلقات قائم کریں جو آپ کو آگے دھکیلیں، نہ کہ پیچھے کھینچیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں جو آپ کے خوابوں کو سمجھیں، نہ کہ ان پر سوال اٹھائیں آخر میں یاد رکھیں کامیابی ہجوم کے ساتھ نہیں ملتی۔ یہ ان لوگوں کا نصیب بنتی ہے جو ضرورت پڑنے پر تنہا چلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اگر اس سفر میں کچھ لوگ پیچھے رہ جائیں تو اسے نقصان نہ سمجھیں یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ آپ صحیح سمت میں، صحیح رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
فوکس رکھیں خود سے سچے رہیں اور بے خوف آگے بڑھتے رہیں کیونکہ کامیابی ہمیشہ انتخاب مانگتی ہے اور ہر انتخاب کی ایک قیمت ہوتی ہے۔

موبائل فون: سہولت یا خاموش قید؟عرفان یوسف سدھوانسانی تاریخ میں بعض ایجادات ایسی ہوتی ہیں جو صرف سہولت فراہم نہیں کرتیں ب...
09/03/2026

موبائل فون: سہولت یا خاموش قید؟
عرفان یوسف سدھو
انسانی تاریخ میں بعض ایجادات ایسی ہوتی ہیں جو صرف سہولت فراہم نہیں کرتیں بلکہ معاشرتی اور تہذیبی تبدیلیوں کا سبب بھی بن جاتی ہیں۔ موبائل فون بھی انہی ایجادات میں سے ایک ہے۔ کبھی پیغام رسانی کے لیے خطوط لکھے جاتے تھے اور جواب آنے میں کئی دن بلکہ ہفتے لگ جاتے تھے۔ پھر لینڈ لائن ٹیلی فون نے فاصلے کم کیے اور اب اسمارٹ فون نے تو گویا پوری دنیا کو ایک ہتھیلی پر سمیٹ دیا ہے۔ آج علم کی وسیع لائبریریاں، تازہ خبریں، کاروباری مواقع، تعلیم کے نئے دروازے اور تفریح کے بے شمار ذرائع چند لمحوں میں ہماری دسترس میں آ جاتے ہیں۔
پاکستان میں بھی موبائل فون کا پھیلاؤ ایک بڑی سماجی تبدیلی کی علامت ہے۔ کروڑوں افراد اسمارٹ فون استعمال کر رہے ہیں اور انٹرنیٹ کی رسائی شہروں سے نکل کر دیہات تک پہنچ چکی ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے تعلیم، کاروبار اور رابطوں کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ بلاشبہ یہ ترقی کی ایک روشن مثال ہے۔ تاہم اس روشن تصویر کے پیچھے ایک ایسا پہلو بھی ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی پر نظر ڈالیں تو ایک عام منظر ہر جگہ دکھائی دیتا ہے۔ بسوں میں مسافر، پارکوں میں بیٹھے لوگ یا گھروں میں جمع خاندان—اکثر افراد موبائل فون کی اسکرین میں گم نظر آتے ہیں۔ کھانے کی میز پر بھی یہی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہاتھ میں فون اور توجہ ڈیجیٹل دنیا میں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ گفتگو کی جگہ اسکرولنگ نے لے لی ہے اور حقیقی مسکراہٹوں کی جگہ ایموجیز نے۔
یہ آلہ جو ہمیں دنیا سے جوڑنے کے لیے آیا تھا، بعض اوقات ہمیں اپنے قریب ترین لوگوں سے ہی دور کر دیتا ہے۔ ایک ہی کمرے میں بیٹھے خاندان کے افراد مختلف ڈیجیٹل دنیاؤں میں کھوئے ہوتے ہیں۔ کوئی مختصر ویڈیوز دیکھ رہا ہے، کوئی سوشل میڈیا کی پوسٹوں میں مصروف ہے اور کوئی مسلسل آنے والے نوٹیفکیشنز کا منتظر ہے۔ سوشل میڈیا پر سینکڑوں یا ہزاروں “دوست” تو ہوتے ہیں مگر حقیقی گفتگو کے لیے وقت نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یوں رابطے کی کثرت کے باوجود تنہائی کا احساس بڑھنے لگتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات بھی اس رجحان کو تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مختلف تحقیقات کے مطابق اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال نوجوانوں میں توجہ کی کمی، نیند کی خرابی، ذہنی تناؤ اور اضطراب جیسے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ جب انسان زیادہ وقت مجازی دنیا میں گزارنے لگتا ہے تو حقیقی تعلقات کمزور پڑنے لگتے ہیں اور اس کے اثرات ذہنی صحت پر بھی پڑتے ہیں۔
بچوں اور نوعمروں کے لیے یہ مسئلہ اور بھی اہم ہے۔ آج کل بہت سے گھروں میں موبائل فون بچوں کو مصروف رکھنے کا آسان ذریعہ بن گیا ہے۔ بچے گھنٹوں اسکرین کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں، حالانکہ ان کی عمر کھیل کود، جسمانی سرگرمیوں اور حقیقی دنیا کو دریافت کرنے کی ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کم عمر بچوں کے لیے اسکرین ٹائم محدود ہونا چاہیے اور والدین کو اس بارے میں واضح اصول بنانے چاہئیں۔ مثال کے طور پر کھانے کے وقت یا سونے سے پہلے موبائل فون کے استعمال سے گریز کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کو خود بھی ایک مثبت مثال قائم کرنی چاہیے۔
یقیناً موبائل فون اپنی ذات میں کوئی برائی نہیں۔ اگر اسے اعتدال اور درست مقصد کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ علم اور ترقی کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں کے لیکچرز، آن لائن کورسز اور تحقیقاتی مواد چند کلکس کی دوری پر موجود ہیں۔ پاکستان میں بھی فری لانسنگ، ای کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے شعبوں میں ہزاروں نوجوان اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ مسئلہ دراصل اس کے بے مقصد اور حد سے زیادہ استعمال کا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک سادہ سا تجربہ کیا۔ ایک دن کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال تقریباً ختم کر دیا اور موبائل فون کو صرف ضروری کالز اور پیغامات تک محدود رکھا۔ شام کو جب دن کا جائزہ لیا تو حیرت ہوئی کہ کئی زیر التوا کام مکمل ہو چکے تھے، چند کالم بھی لکھ لیے گئے اور ذہن میں ایک عجیب سا سکون محسوس ہوا۔ اس تجربے نے ایک اہم حقیقت واضح کی کہ مسئلہ وقت کی کمی نہیں بلکہ توجہ کی تقسیم ہے۔
موبائل فون ہماری زندگی آسان بنانے کے لیے آیا تھا، لیکن اگر ہم نے اس کے استعمال میں توازن قائم نہ کیا تو یہی سہولت ایک خاموش قید میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے یہ سوال کریں: کیا ہم موبائل فون استعمال کر رہے ہیں یا موبائل فون ہمیں استعمال کر رہا ہے؟ اگر جواب دوسرا ہے تو ہمیں تھوڑا سا وقفہ لے کر حقیقی دنیا کی طرف لوٹنا ہوگا، کیونکہ اصل تعلقات، سکون اور زندگی کی حقیقی خوشیاں اسی دنیا میں موجود ہیں۔

04/03/2026

‏جب تم اپنی زندگی سے غير ضروری چيزوں کو نکال پھینکو تو پھر تم پر لازم ہے یہ فکر بھی چھوڑ دو کہ تمہارا پھینکا گیا سامان کون اٹھا رہا ہے…

شفا کی دکان، زندگی کی ٹرین اور ہمارا معاشرہعرفان یوسف سدھوہم ایک عجیب معاشرے میں زندہ ہیں؛ ہم عالمی سیاست پر گرما گرم بح...
21/02/2026

شفا کی دکان، زندگی کی ٹرین اور ہمارا معاشرہ
عرفان یوسف سدھو
ہم ایک عجیب معاشرے میں زندہ ہیں؛ ہم عالمی سیاست پر گرما گرم بحث کرتے ہیں، مہنگائی اور نظامِ حکومت پر طویل تبصرے کرتے ہیں، سماجی ذرائع ابلاغ پر فکری انقلاب برپا کر دیتے ہیں، مگر اپنی سب سے بنیادی نعمت صحت پر سنجیدگی سے غور کرنے کا وقت نہیں نکالتے۔ کسی بھی شہر کی کسی بھی گلی میں چلے جائیں، ایک میڈیکل اسٹور ضرور ملے گا۔ ہم وہاں جاتے ہیں، پیناڈول یا کوئی عام سی دوا لیتے ہیں، قیمت ادا کرتے ہیں اور مطمئن واپس آ جاتے ہیں، گویا معاملہ ختم ہو گیا۔
لیکن اگر چند لمحے رک کر ان الماریوں پر سجی دواؤں کو غور سے دیکھا جائے تو منظر بدل جاتا ہے۔ ہزاروں ادویات قطار در قطار رکھی ہوئی ہر ایک کسی بیماری کا نام، کسی درد کی شدت، کسی جسمانی یا ذہنی عارضے کی علامت۔ یہ دکان دراصل انسانی وجود کی نازکی کا خاموش اعتراف ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان بے شمار بیماریوں میں سے کتنی ایسی ہیں جن کا نام تک ہم نے نہیں سنا، اور کتنی ایسی ہیں جن سے ہم اب تک محفوظ ہیں؟ مگر ہم نے کبھی اس تحفظ کو اپنی کامیابی نہیں سمجھا؛ ہم نے اسے معمول جانا، جیسے صحت ہمارا پیدائشی حق ہو۔ حالانکہ یہ حق نہیں، عطا ہے اور عطا پر غرور نہیں، شکر لازم ہوتا ہے۔
وبا کے دنوں میں جب ہسپتالوں کے باہر قطاریں لگیں، آکسیجن کی کمی کی خبریں آئیں اور خوف نے گھروں میں دستک دی، تب ہمیں لمحہ بھر کو احساس ہوا تھا کہ سانس لینا بھی نعمت ہے۔ مگر خطرہ ٹلتے ہی ہم پھر اسی بے فکری میں لوٹ آئے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے؛ یہ ایک تیز رفتار ٹرین ہے جس میں ہم سب سوار ہیں۔ ابتدا میں والدین ہمارے ساتھ والی نشستوں پر ہوتے ہیں، ہمیں یقین ہوتا ہے کہ وہ آخری اسٹیشن تک ہمارے ساتھ رہیں گے، مگر زندگی یقین کے مطابق نہیں چلتی۔ کسی غیر متوقع اسٹیشن پر وہ اتر جاتے ہیں اور ہمیں پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ سفر دراصل تنہا بھی ہو سکتا ہے۔ پھر نئے مسافر آتے ہیں بہن بھائی، دوست، شریکِ حیات، بچے کچھ ہمارے دل کے بہت قریب ہو جاتے ہیں، کچھ وقتی ہمسفر ثابت ہوتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خاموشی سے اتر جاتے ہیں اور ہمیں بعد میں احساس ہوتا ہے کہ ان کی موجودگی کتنی قیمتی تھی۔
اس ٹرین میں کسی کے پاس اپنی آخری منزل کا وقت درج نہیں؛ ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارا اسٹیشن کب آئے گا۔ اس حقیقت کے باوجود ہم ایسے جیتے ہیں جیسے ہمارے پاس لا محدود مہلت ہو۔ ہم بڑی کامیابیوں کے تعاقب میں حال کی چھوٹی نعمتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہمیں گمان ہوتا ہے کہ اصل زندگی کسی بڑے عہدے، بڑی گاڑی یا بڑے گھر کے بعد شروع ہو گی، حالانکہ زندگی اسی لمحے وقوع پذیر ہو رہی ہوتی ہے جب ہم صحت مند ہیں، جب ہمارے اپنے ہمارے ساتھ بیٹھے ہیں، جب ایک عام دن بغیر کسی بڑی پریشانی کے گزر جاتا ہے۔
زندگی ہمیں روز دو سبق دیتی ہے: ہم کمزور ہیں، اور ہم محفوظ بھی ہیں۔ کمزوری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم فانی ہیں، اور حفاظت ہمیں احساس دلاتی ہے کہ ہم پر کرم ہے۔ اگر ہم ہر دن کے اختتام پر چند لمحے نکال کر یہ سوچ لیں کہ آج ہم کن بیماریوں، حادثوں اور محرومیوں سے محفوظ رہے، تو شاید ہمارے لہجے بدل جائیں، شکایت کی جگہ شکر لے لے اور بے صبری کی جگہ تحمل آ جائے۔
اسی طرح اگر ہم اس ٹرین میں اپنے ساتھ بیٹھے مسافروں کی قدر کرنا سیکھ لیں—جلدی معاف کرنا، کم توقع رکھنا، زیادہ محبت دینا—تو نہ صرف ہمارا سفر بہتر ہو جائے گا بلکہ ہمارا معاشرہ بھی نرم دل اور مہذب ہو جائے گا، کیونکہ معاشرے قوانین سے نہیں، رویّوں سے بنتے ہیں۔ ہم سب کو ایک دن اپنی نشست چھوڑنی ہے، یہ طے ہے؛ سوال یہ نہیں کہ کب، سوال یہ ہے کہ تب تک ہم نے اپنے ساتھ والوں کو کیا دیا؟ تلخی یا مٹھاس؟ بے اعتنائی یا توجہ؟ شکایت یا شکر؟
زندگی کی پوری حکمت شاید انہی دو تصویروں میں سمٹی ہوئی ہے: ایک شفا کی دکان کی خاموش الماریاں جو ہمیں ہماری نازکی یاد دلاتی ہیں، اور ایک ٹرین کا مسلسل سفر جو ہمیں ہمارے عارضی ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ اگر ہم نے ان دونوں کو سمجھ لیا تو شاید ہم بہتر انسان بن جائیں، اور جب انسان بہتر ہو جائے تو معاشرہ خود بخود سنورنے لگتا ہے۔ اللہ ہمیں صحت کی قدر، رشتوں کی پہچان اور شکر گزار دل عطا فرمائے۔ آمین۔

Address

Near Town Hall Kangan Pur
Kanganpur
55000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Irfan Yousaf Sidhu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share