Irfan Yousaf Sidhu

Irfan Yousaf Sidhu Journalist • Columnist • Entrepreneur | Bureau Chief | Sharing daily news, business insights & career guidance | Learn & grow with me.

10/07/2026
سکون کی قیمتتحریر: عرفان یوسف سدھوزندگی کے طویل سفر میں انسان بہت سے چہروں سے گزرتا ہے۔ کچھ چہرے وقتی مسکراہٹیں بکھیرتے ...
23/06/2026

سکون کی قیمت
تحریر: عرفان یوسف سدھو
زندگی کے طویل سفر میں انسان بہت سے چہروں سے گزرتا ہے۔ کچھ چہرے وقتی مسکراہٹیں بکھیرتے ہیں تو کچھ گہرے زخم دے جاتے ہیں جو عمر بھر نہیں بھرتے۔ وقت جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے، ایک بات دن بدن صاف ہوتی چلی جاتی ہے کہ ہر مسکراہٹ کے پیچھے خلوص نہیں ہوتا اور ہر رشتہ وفا کی ضمانت نہیں بنتا۔ کبھی کبھی ماحول کو تھوڑا ہلانا پڑتا ہے، نہ فساد مچانے کے لیے بلکہ صرف اس لیے کہ چہروں سے نقاب اتریں اور حقیقت سامنے آ جائے کہ جو لوگ ہمارے اردگرد ہیں، وہ واقعی ہمارے ہیں بھی یا صرف فائدے کے مسافر۔ میں نے زندگی سے یہ سبق سیکھا ہے کہ جب دوسروں کے رویوں سے بار بار ٹوٹتے رہو تو ایک دن اچانک احساس ہوتا ہے کہ خود کو اہمیت دینا خود غرضی نہیں بلکہ خودداری ہے۔ اپنی ذات کی حفاظت کرنا، اپنے سکون کو مقدم رکھنا اور روح کو تھکن کے بوجھ سے بچانا کوئی لاپرواہی نہیں، یہ ایک شعوری اور بالغانہ فیصلہ ہے۔ آج کی دنیا عجیب موڑ پر کھڑی ہے۔ آنے والے وقت میں سب سے نایاب چیزیں شاید بھروسہ مند دوست اور حلال رزق ہوں گی، کیونکہ لوگ اب رشتے ضرورت کی بنیاد پر جوڑتے ہیں اور مطلب پورا ہوتے ہی احساسات کو خاموشی سے دفن کر دیتے ہیں۔ بات کر لینا ہمیشہ مسئلوں کا حل نہیں ہوتا۔ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی بات جب سامنے والے تک صرف شور بن کر پہنچے تو خاموشی گفتگو سے کہیں زیادہ باوقار ہو جاتی ہے۔ عقلمند کہتے ہیں کہ کیچڑ میں پتھر نہ مارو، مگر زندگی سکھاتی ہے کہ احتیاط کا اعلیٰ درجہ کیچڑ سے دور ہو جانا ہے کیونکہ بعض زخم تو دوسروں کے پھینکے پتھروں سے بھی لگ جاتے ہیں۔ اذیتیں ہمیشہ برے لوگوں سے نہیں ملتیں، کبھی وہی لوگ زخم دیتے ہیں جنہیں ہم اپنا خیر سمجھتے رہے۔ یہی زندگی کا سب سے کڑوا سبق ہے۔ اصل پختگی ہر جنگ جیتنے میں نہیں بلکہ یہ جان لینے میں ہے کہ کب خاموش رہنا ہے، کب پیچھے ہٹنا ہے اور کب فاصلے کو بحث پر ترجیح دینی ہے۔ سکون کوئی کمزوری نہیں، یہ بہادری ہے۔ اپنے اندر کے شور کو خاموش کرنا، ٹوٹی ہوئی ذات کو سنبھالنا اور لوگوں کی توقعات کے بوجھ سے نکل کر خود کو سمجھ لینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ زندگی میں کبھی خزاں کی طرح بھی ہونا چاہیے۔ کچھ لوگوں کو، کچھ یادوں کو، کچھ تکلیفوں کو جھڑنے دینا چاہیے تاکہ دل میں نئی بہار کے لیے جگہ بن سکے۔ آخرکار یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ آپ کبھی لوگوں کے معیار پر پورے نہیں اتر سکتے، چاہے اپنی ساری اچھائیاں نچھاور کر دیں۔ اس لیے اگر بدلنا ہے تو صرف اپنے سکون کے لیے بدلیں، لوگوں کو راضی کرنے کے لیے نہیں، کیونکہ سکون لوگوں کی خوشنودی میں نہیں بلکہ خود کو سمجھ لینے اور اپنی ذات کے ساتھ ایمانداری سے جینے میں ہے۔

02/06/2026
ہر بند دروازہ محرومی نہیں ہوتاتحریر: عرفان یوسف سدھوچند روز قبل ایک دوست سے ملاقات ہوئی چہرے پر اداسی تھی، آنکھوں میں تھ...
01/06/2026

ہر بند دروازہ محرومی نہیں ہوتا
تحریر: عرفان یوسف سدھو
چند روز قبل ایک دوست سے ملاقات ہوئی چہرے پر اداسی تھی، آنکھوں میں تھکن اور لہجے میں وہ شکستگی جو مسلسل ناکامیوں کے بعد انسان کے اندر اتر جاتی ہے باتوں باتوں میں کہنے لگا: "شاید زندگی میرے حق میں نہیں رہی جس دروازے پر دستک دیتا ہوں، وہ بند ہو جاتا ہے۔" میں خاموشی سے اس کی بات سنتا رہا۔ مجھے محسوس ہوا کہ وہ صرف اپنی کہانی نہیں سنا رہا تھا بلکہ اس دور کے لاکھوں لوگوں کی ترجمانی کر رہا تھا جو کسی ناکامی، محرومی یا بچھڑ جانے والے رشتے کے بعد یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اب ان کے لیے کچھ باقی نہیں رہا حقیقت مگر اس کے برعکس ہوتی ہے زندگی میں بہت سے دروازے ایسے ہوتے ہیں جو ہماری خواہش کے باوجود نہیں کھلتے ہم انہیں اپنی ناکامی سمجھتے ہیں، اپنی قسمت کا ظلم قرار دیتے ہیں، حالانکہ وقت گزرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ بند دروازہ دراصل کسی بڑے نقصان سے بچانے کے لیے بند کیا گیا تھا زندگی کے کئی فیصلوں کی حکمت ہمیں فوراً سمجھ نہیں آتی، اس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے مجھے ہمیشہ یہ بات حیران کرتی ہے کہ انسان کتنا بے صبر ہے وہ ایک لمحے کو پوری زندگی سمجھ لیتا ہے ایک ناکامی کو مقدر کا آخری فیصلہ اور ایک محرومی کو ہمیشہ کا اندھیرا تصور کر لیتا ہے حالانکہ زندگی کا تجربہ بتاتا ہے کہ اکثر وہ چیزیں جن پر ہم نے سب سے زیادہ آنسو بہائے ہوتے ہیں، بعد میں انہی پر سب سے زیادہ شکر ادا کر رہے ہوتے ہیں
ایک بزرگ کہا کرتے تھے کہ جب کبھی کوئی خواہش پوری نہ ہو تو فوراً یہ فیصلہ مت کرو کہ تمہارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے کچھ وقت گزرنے دو زندگی کو اپنا مقدمہ مکمل کرنے دو اکثر فیصلے آخری صفحے پر سمجھ آتے ہیں، پہلے صفحے پر نہیں شاید اسی لیے تاریخ کے بڑے لوگ حالات کے سامنے جلد ہتھیار نہیں ڈالتے تھے انہیں یقین ہوتا تھا کہ ہر ناکامی کے پیچھے کوئی سبق، ہر تاخیر کے پیچھے کوئی حکمت اور ہر آزمائش کے پیچھے کوئی مقصد ضرور موجود ہے یہی یقین انہیں دوسروں سے ممتاز بناتا تھا
حضرت یوسفؑ کا واقعہ اسی حقیقت کی ایک لازوال مثال ہے ایک بچے کو بھائیوں نے کنویں میں پھینک دیا وہاں سے غلامی تک، غلامی سے قید تک اور قید سے اقتدار تک کا سفر بظاہر ایک دوسرے سے الگ واقعات معلوم ہوتے ہیں، مگر جب پوری کہانی سامنے آتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ہر مشکل اگلے دروازے تک پہنچانے کا ذریعہ تھی اگر ہم صرف کنویں کو دیکھتے تو اسے ظلم کہتے، لیکن اللہ نے اسی کنویں کو عظمت کا راستہ بنا دیا۔
آج ہمارا مسئلہ صرف حالات نہیں، ہمارا مسئلہ بدگمانی بھی ہے ہم زندگی کے بارے میں بدگمان، لوگوں کے بارے میں بدگمان اور کبھی کبھی اپنے رب کی حکمت کے بارے میں بھی شکوے میں مبتلا ہو جاتے ہیں کسی کا خاموش رہنا ہمیں تکبر لگتا ہے، کسی کی مصروفیت بے رخی محسوس ہوتی ہے اور کسی کی ایک غلطی اس کی پوری شخصیت پر حاوی ہو جاتی ہے حالانکہ اچھا گمان صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں، بلکہ ذہنی سکون کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے۔
میں نے زندگی میں ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جن کے پاس بہت کم تھا، مگر وہ مطمئن تھے۔ اور ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جن کے پاس سب کچھ تھا، مگر دل بے سکون تھا۔ فرق صرف سوچ کا تھا پہلے گروہ کو یقین تھا کہ جو ملا، بہتر ہے اور جو نہیں ملا، شاید اس سے بھی بہتر کوئی چیز ان کے لیے لکھی جا چکی ہے زندگی دراصل امید اور یقین کے سہارے چلتی ہے جب امید ختم ہو جائے تو راستے ہوتے ہوئے بھی راستہ دکھائی نہیں دیتا لیکن جب دل میں اچھا گمان باقی ہو تو اندھیروں میں بھی روشنی کی ایک لکیر نظر آنے لگتی ہے۔
اس لیے اگر آج کوئی دروازہ بند ہے تو اسے اپنی کہانی کا اختتام مت سمجھیے اگر کوئی شخص آپ کی زندگی سے چلا گیا ہے تو یہ نہ سوچیے کہ خوشیاں بھی ساتھ لے گیا ہے اگر کوئی دعا ابھی تک پوری نہیں ہوئی تو اسے رد شدہ دعا نہ سمجھیے ممکن ہے اس کا جواب ابھی راستے میں ہو، یا شاید اللہ نے اس کے بدلے میں آپ کے لیے کچھ بہتر محفوظ کر رکھا ہو زندگی نے ایک بات ضرور سکھائی ہے کہ وقت سے پہلے نہ کوئی نعمت ملتی ہے اور نہ وقت کے بعد کوئی رزق رکتا ہے۔ انسان اپنی پوری قوت سے منصوبے بناتا ہے، مگر آخرکار وہی ہوتا ہے جو اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے اس لیے کوشش جاری رکھیے، دعا کا دامن تھامے رکھیے اور سب سے بڑھ کر اپنے رب سے اچھا گمان رکھیے کیونکہ زندگی کے سفر میں ہر بند دروازہ محرومی نہیں ہوتا، بعض اوقات وہ ایک بہتر دروازے تک پہنچنے کا راستہ ہوتا ہے اور شاید یہی زندگی کا سب سے خوبصورت راز ہے کہ جو لوگ امید کا چراغ بجھنے نہیں دیتے، منزل اکثر انہی کے حصے میں آتی ہے۔

I am truly honored and grateful to the District Press Club for selecting me as Chairman. I extend my heartfelt thanks to...
26/05/2026

I am truly honored and grateful to the District Press Club for selecting me as Chairman. I extend my heartfelt thanks to the respected President of District Press Club, the Founder of District Press Club, and especially my elder brother, General Secretary Syed Tanveer Iqbal Bukhari, for their trust, support, and encouragement. This honor is a great responsibility for me, and I will continue to serve the journalist community with honesty, unity, and dedication. Thank you to all respected members for their confidence in me.

Address

Near Town Hall Kangan Pur
Kanganpur
55000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Irfan Yousaf Sidhu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share