17/07/2025
متروکہ املاک کا بوجھ اور سندھ کا مسلسل نقصان
1947 کی تقسیم صرف سرحدوں کا نہیں، بلکہ تہذیبوں، شناختوں اور وسائل کا ایک غیر منصفانہ بٹوارا تھی۔ سندھ، جو صدیوں سے صوفی مزاج، مقامی روایات اور امن کا گہوارہ رہا، اسی تقسیم میں سب سے زیادہ زخم کھانے والا خطہ بنا۔ ان زخموں میں سب سے گہرا زخم "متروکہ املاک" کے نام پر سندھ کو دی گئی معاشی، سماجی اور ثقافتی چوٹ ہے۔ ایک ایسا المیہ جس کی گونج آج بھی سندھ کے گلی محلوں میں سنائی دیتی ہے، مگر قومی سطح پر اس کا ذکر شجرِ ممنوعہ ہے۔
لیاقت علی خان: بنیاد کا معمار یا جانب داری کا آغاز؟
پاکستان کے پہلے وزیر اعظم، لیاقت علی خان، تاریخ میں عام طور پر ایک نیک نیت رہنما کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں، مگر سندھ کے زاویے سے دیکھا جائے تو ان کا کردار خاصہ متنازع نظر آتا ہے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد، جب لاکھوں مہاجرین ہندوستان سے پاکستان آئے، تو سندھ کو ان کی آبادکاری کے لیے سب سے موزوں خطہ قرار دے دیا گیا۔ مگر یہ فیصلہ سندھ کے عوام، اسمبلی یا نمائندہ قیادت سے پوچھے بغیر کیا گیا۔
لیاقت علی خان نے، اسلامی اخوت کے نام پر مہاجرین کو "قومی اثاثہ" قرار دیا، اور سندھ کو اس اثاثے کا واحد میزبان بنا دیا۔ کراچی، حیدرآباد، سکھر جیسے شہروں میں ہندوؤں کی چھوڑي گئی جائیدادیں، زمینیں، دکانیں اور بنگلے جنہیں "متروکہ" قرار دیا گیا۔ وہ سب لیاقت علی خان کے منظورِ نظر افراد اور مسلم لیگ سے وابستہ بااثر مہاجر قیادت کو "سیاسی انعام" کے طور پر بانٹ دی گئیں۔
متروکہ یا چھینا ہوا سندھ؟
یہ املاک سندھ کی تھیں، سندھ کے اندر واقع تھیں، مگر ان پر فیصلے لاہور، راولپنڈی یا اسلام آباد میں بیٹھ کر کیے گئے۔ سندھی عوام کو ایک تماشائی کی حیثیت سے یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑا۔ جس طرح ہندوستان سے ہجرت کرنے والے انسانوں کے لیے زمین بانٹی گئی، اسی طرح سندھ سے اس کی زمین، اس کی شناخت، اور اس کی تہذیب چھینی گئی۔
یہ کیسا انصاف تھا کہ سندھ کو قربانی دی جائے، مگر اس کا حصہ نہ ملے؟ نہ مشورہ، نہ اختیار، نہ تحفظ۔
وقف املاک کی بےحرمتی: عقیدے کی پامالی
سندھ میں ایسی بھی املاک تھیں جو وقف کی گئی تھیں۔ خدا کے نام پر، فلاحِ عامہ کے لیے۔ مگر لیاقت علی خان کی زیرِ نگرانی ان وقف املاک کو بھی متروکہ قرار دے کر سیاسی فوائد کے لیے استعمال کیا گیا۔ سندھ میں کئی درگاہیں، مساجد، مدارس، اور ہندوؤں کے تعلیمی ادارے یا تو کرائے پر چلے گئے یا مکمل طور پر نجی قبضے میں دے دیے گئے۔
یوں سندھ کی روحانی وراثت کو نہ صرف پامال کیا گیا، بلکہ اسلامی فلاحی اصولوں کو بھی سیاسی سوداگری میں ڈھال دیا گیا۔
ثقافتی اجنبیت اور سندھیوں کی محرومی
آج کراچی میں مقامی سندھی اقلیت میں ہیں۔ زبان، ثقافت، لباس، ادب سب کچھ اجنبی بنا دیا گیا ہے۔ سندھ کے شہروں میں سندھی بولنے والا ایک طالب علم، ایک استاد، ایک افسر سب کو اپنی ہی سرزمین پر پرائے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
اس سب کی جڑ 1947–1951 کے اس دور میں ہے، جب متروکہ املاک اور مہاجرین کی آبادکاری کو بغیر کسی علاقائی توازن اور مشاورت کے نافذ کیا گیا۔ یہ لیاقت علی خان کی ریاستی پالیسی تھی، جس نے سندھ کو ہمیشہ کے لیے شناختی بحران میں دھکیل دیا۔
کیا سندھ کو اس کا حق ملے گا؟
سوال یہ ہے:
سندھ کے شہروں میں واقع متروکہ املاک کا اصل وارث کون ہے؟
سندھ کے اندر قائم وقف بورڈز، ان کی آمدنی پنجاب یا مرکز کیوں لے جاتا ہے؟
سندھ کی سیاسی و تہذیبی خودمختاری کو واپس کب دیا جائے گا؟
کیا یہ تقسیم در تقسیم نہیں؟ کیا یہ لیاقت علی خان سے شروع ہونے والی "وفاقی ناانصافی" آج بھی زندہ نہیں ہے؟
وقت ہے حساب کا
متروکہ املاک محض جائیداد کا نہیں، یہ سندھ کے وسائل، شناخت، ثقافت، اور اختیار پر حملے کی تاریخ ہے۔ لیاقت علی خان کی حکومت سے لے کر آج تک، سندھ کو مسلسل دیوار سے لگایا گیا۔ وقت آ چکا ہے کہ سندھ کو اس کی متروکہ اور وقف املاک واپس دی جائیں اختیار کے ساتھ، اعتماد کے ساتھ، اور انصاف کے ساتھ۔
یہ صرف سندھ کا نہیں، پاکستان کی فکری، سیاسی اور اخلاقی بنیاد کا سوال ہے۔
Hadith e Nabvi SAWW hai.
Kulo k*m raa en wa kulo k*m mus oolun un raiiyatohum,
Yani tum sab nigahbaan ho aur kayamt k din sawal kiya Jai ga.