Bisma Avenue, Flats for Sale, Buy / Prices in Jauher, Karachi.

  • Home
  • Bisma Avenue, Flats for Sale, Buy / Prices in Jauher, Karachi.

Bisma Avenue, Flats for Sale, Buy / Prices in Jauher, Karachi. Year 2020 - Bisma Avenue, Flat for Sale, Gulistan-e-jauher, Block 13, Karachi.

Demand 62 Lakh for 2 Bed DD 03005777121. کیا آپ بسمہ ایوینیو کا اپارٹمنٹ فروخت کرنا چاہتے ہیں
ہیں صحیح قیمت کے لئے ہم سے رابطہ ضرور کریں

25/04/2026
24/04/2026

پاکستان کی تباہی کو سمجھنے کے لیے سندھ کو سمجھنا ہے سندھ کو سمجھنے کے لیے کراچی کی تباہی کو سمجھنا ہے اور کراچی کی تباہی کو سمجھنے کے لیے بسمہ ایوینیو کی تباہی کو سمجھنا ہے اپ کو سب سمجھ میں ا جائے گا

بِسمہ ایونیو — منی پاکستان یا بدانتظامی اور کرپشن کی عملی مثال؟


اگر پاکستان کو سمجھنا ہو تو کسی بڑی رپورٹ یا تجزیے کی ضرورت نہیں، ایک محلہ کافی ہے۔ ایک گھر، ایک محلہ، ایک شہر — یہی وہ زنجیر ہے جس سے پورا ملک بنتا ہے۔ بِسمہ ایونیو بھی ایسا ہی ایک “منی پاکستان” ہے، جہاں وہی مسائل، وہی بدانتظامی اور وہی مفاد پرستی کھل کر سامنے آ رہی ہے جو ہم قومی سطح پر دیکھتے ہیں۔


سب سے پہلے پانی کا مسئلہ — میٹھے پانی کے بل لیے جاتے ہیں، لیکن فراہم کیا جاتا ہے کھارا پانی، جو زمین سے نکالا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جلدی بیماریاں، قبل از وقت سفید بال، اور دانتوں کی خرابی عام ہو چکی ہے۔ اگر یہی پانی لوہے کو زنگ آلود کر دیتا ہے، تو انسانی جسم پر اس کے اثرات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔


صفائی کی صورتحال بھی بدترین ہے۔ گٹر ابلتے ہیں، گندگی گراؤنڈ فلور پر پھیل جاتی ہے، اور بدبو کا ایسا ماحول ہوتا ہے کہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے نظام کی نشاندہی کرتا ہے جو مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔


لیکن اصل مسئلہ صرف سہولیات کا نہیں — اصل مسئلہ “حساب اور شفافیت” کا ہے۔ جیسے پاکستانی حکومت عوام کو حساب دینے سے کتراتی ہے، ویسے ہی یہاں کی یونین بھی کسی قسم کا حساب دینے کو تیار نہیں۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ اپنی آمدنی کہاں خرچ کر رہے ہیں یا کسی بہتری پر پیسہ لگا رہے ہیں۔


یہاں رہائشیوں سے باقاعدہ مینٹیننس فیس لی جاتی ہے، لیکن اس فیس کا استعمال کہاں ہو رہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس فیس سے صرف دو چوکیدار رکھے گئے ہیں — ایک صبح اور ایک شام کے لیے — اور اس کے علاوہ کھارا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے سوا کوئی ایسا خرچ نظر نہیں آتا جو قابلِ ذکر ہو۔


مزید ظلم یہ ہے کہ جب بھی کوئی بڑا خرچ سامنے آتا ہے تو رہائشیوں پر اضافی بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ رنگ و روغن کے لیے پیسے دیں، کبھی گٹر لائن کے نام پر اضافی رقم طلب کی جاتی ہے، اور کبھی بجلی کے بلوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ یعنی ایک طرف باقاعدہ مینٹیننس فیس وصول کی جا رہی ہے، اور دوسری طرف ہر بڑے خرچ کے لیے الگ سے پیسے لیے جا رہے ہیں۔

یہی وہ ماڈل ہے جو ہمیں قومی سطح پر بھی نظر آتا ہے — جہاں International Monetary Fund اور World Bank سے قرضے لیے جاتے ہیں، لیکن عوام کو اس کا حساب نہیں دیا جاتا۔ یہاں بھی صورتحال مختلف نہیں — پیسہ لیا جا رہا ہے، مگر بہتری کہیں نظر نہیں آتی۔

---

نتیجہ:
بِسمہ ایونیو صرف ایک رہائشی منصوبہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک آئینہ بن چکا ہے — ایک ایسا آئینہ جس میں ہمیں پاکستان کا پورا نظام نظر آتا ہے۔
جہاں آمدنی ہے مگر شفافیت نہیں، پیسہ ہے مگر بہتری نہیں، اختیار ہے مگر جوابدہی نہیں۔

اور جب تک یہ نظام نہیں بدلے گا — نہ محلہ بدلے گا، نہ شہر، نہ ملک۔

24/04/2026

کیا کوئی سرکاری افسر یونین یا نجی کاروبار کا حصہ بن سکتا ہے؟ — قانونی و انتظامی جائزہ

پاکستان میں سرکاری افسران، خصوصاً پولیس افسران، ججز اور دیگر سرکاری عہدوں پر فائز افراد کے لیے واضح قانونی اور اخلاقی حدود مقرر کی گئی ہیں۔ ان حدود کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سرکاری عہدہ رکھنے والا شخص اپنی ذمہ داریوں کو غیر جانبداری، دیانت داری اور مکمل توجہ کے ساتھ انجام دے، اور کسی بھی قسم کے مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) سے بچا رہے۔

1. پولیس افسران کے لیے قانون کیا کہتا ہے؟

پاکستان میں پولیس افسران کے لیے بنیادی قانون Police Order 2002 اور متعلقہ سروس رولز ہیں۔ ان قوانین کے مطابق:

کوئی بھی حاضر سروس پولیس افسر کسی سیاسی سرگرمی، غیر قانونی یونین یا غیر مجاز تنظیم کا حصہ نہیں بن سکتا۔

پولیس افسر اپنے عہدے کو ذاتی فائدے، دباؤ ڈالنے یا کسی گروہ کی سرپرستی کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔

اگر کوئی افسر نجی کاروبار میں شامل ہوتا ہے یا کسی تنظیم کو اپنے اثر و رسوخ سے چلاتا ہے، تو یہ اختیارات کے ناجائز استعمال میں شمار ہو سکتا ہے۔

2. دیگر سرکاری افسران (ججز، بیوروکریٹس، وغیرہ)

پولیس کے علاوہ دیگر سرکاری افسران، جیسے ججز، ایس پی، بیوروکریٹس یا دیگر حکومتی عہدیدار بھی سخت ضابطہ اخلاق کے پابند ہوتے ہیں:

سرکاری ملازمین عام طور پر بغیر اجازت کسی نجی کاروبار میں حصہ نہیں لے سکتے۔

کسی یونین، ایسوسی ایشن یا گروپ کا حصہ بننا، خاص طور پر ایسا گروپ جو اثر و رسوخ یا مالی مفاد رکھتا ہو، قواعد کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔

ججز کے لیے تو مزید سخت اصول ہوتے ہیں، جن کے تحت انہیں مکمل غیر جانبداری برقرار رکھنا لازم ہوتا ہے، اور کسی بھی قسم کی نجی یا تجارتی وابستگی سختی سے ممنوع ہوتی ہے۔

3. نجی کاروبار اور یونین میں شمولیت

عمومی اصول یہ ہے:

اجازت کے بغیر نجی کاروبار میں شمولیت = خلافِ ضابطہ عمل

غیر قانونی یا غیر رجسٹرڈ یونین میں شمولیت = قانون کی خلاف ورزی

سرکاری عہدے کا استعمال کرتے ہوئے کسی گروہ یا کاروبار کو فائدہ پہنچانا = سنگین جرم

4. خلاف ورزی کی صورت میں کیا کارروائی ہو سکتی ہے؟

اگر کوئی سرکاری افسر ان قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف درج ذیل کارروائیاں ہو سکتی ہیں:

محکمانہ انکوائری (Departmental Inquiry)

معطلی (Suspension)

جبری ریٹائرمنٹ (Compulsory Retirement)

پنشن میں کٹوتی یا مکمل بندش

بدعنوانی ثابت ہونے پر نیب یا دیگر اداروں کے ذریعے قانونی کارروائی

5. بنیادی اصول کیا ہے؟

سرکاری عہدہ ایک امانت ہوتا ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ افسر:

غیر جانبدار رہے

ذاتی مفادات سے بالاتر ہو

کسی بھی ایسی سرگرمی سے دور رہے جو اس کے عہدے کی ساکھ کو متاثر کرے

نتیجہ

مختصراً، کوئی بھی پولیس افسر، جج یا دیگر سرکاری عہدیدار بغیر قانونی اجازت کے کسی یونین یا نجی کاروبار کا حصہ نہیں بن سکتا۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو یہ نہ صرف قواعد کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس پر سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔

یہ اصول ایک شفاف، منصفانہ اور ذمہ دار نظامِ حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔

24/04/2026

# # 📢 بسمہ ایونیو کے رہائشیوں کے نام اہم پیغام

بسمہ ایونیو ایک خاندانی اور مہذب رہائشی علاقہ ہے جہاں ہر فرد کی عزت، پرائیویسی اور سکون کو برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

# # # 🚪 1. محلے کے گیٹس پر غیر ضروری بیٹھک سے گریز

یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ بعض مقامات پر محلے کے داخلی گیٹس پر نوجوان لڑکے بیٹھتے ہیں۔
براہِ کرم اس عمل سے اجتناب کریں، کیونکہ:

* محلے میں خواتین اور فیملیز کی آمد و رفت ہوتی ہے
* گیٹ پر بیٹھنا خواتین کے لیے غیر آرام دہ صورتحال پیدا کر سکتا ہے
* یہ عمل محلے کے ماحول اور وقار کے خلاف ہے

👉 لہٰذا گزارش ہے کہ تمام نوجوان اس بات کا خیال رکھیں اور اپنی موجودگی کو مناسب اور مہذب حدود میں رکھیں۔

---

# # # 💰 2. چوکیداری کا دعویٰ اور قانونی ذمہ داری

اگر کسی مقام پر چند افراد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ محلے کے "چوکیدار" ہیں، تو:

* یہ ایک باقاعدہ ذمہ داری اور سروس شمار ہوگی
* اس صورت میں ان افراد کو مناسب اور قانونی معاوضہ دیا جانا چاہیے

📊 موجودہ معلومات کے مطابق، Government of Sindh کی جانب سے کم از کم اجرت (Minimum Wage) تقریباً:

👉 **37,500 روپے ماہانہ** مقرر کی گئی ہے

لہٰذا:

* اگر چار افراد چوکیداری کا دعویٰ کرتے ہیں
* تو ہر فرد کو کم از کم یہی مقررہ اجرت ملنی چاہیے

---

# # # ⚖️ نتیجہ

* بغیر ذمہ داری کے گیٹس پر بیٹھنا مناسب نہیں
* اور اگر ذمہ داری لی جائے تو اس کے ساتھ قانونی تقاضے بھی پورے کیے جائیں

ہم سب کا مقصد ایک محفوظ، باوقار اور مہذب بسمہ ایونیو بنانا ہے۔

---

🙏 شکریہ برائے تعاون
**بسمہ ایونیو ویلفیئر پیغام**

18/02/2026






05/02/2026

Bisma
ایونیو کے حقیقی مالک سلیم پٹیل صاحب اور ان کے صاحبزادے ابھی زندہ ہیں نہ ایوینیو کے اوپر حق جتانے کی ضرورت ہے نہ اس کو لاوارث سمجھ کر قبضہ رکھنے کی ضرورت ہے
باقی ایک کروڑ روپے سالانہ کی امدنی کوئی اسانی سے نہیں چھوڑتا ہے
تو اپ بھی فکر نہ کریں مشکل سے ہی چھوٹے گی عادت اسانی سے نہیں جائے گی

04/02/2026

03/02/2026

سندھ پولیس کا ملازم ہو اور کرپٹ نہ ہو ناممکن ہے بہت جلد اپ کو ایک کروڑ روپے سالانہ کرپشن کیس کی کہانی بسمہ ایوینیو سے عدالتوں میں سنائی جائے گی

03/02/2026



31/01/2026

Address


Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bisma Avenue, Flats for Sale, Buy / Prices in Jauher, Karachi. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bisma Avenue, Flats for Sale, Buy / Prices in Jauher, Karachi.:

  • Want your business to be the top-listed Business?

Share