Jamil khan

Jamil khan The Best Leader have a high consideration factor, they really care about their peoples...
Co-ordinat

انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن "ISS" میں نماز کیسے پڑھی جاتی ہے؟ ایک مسلمان خلاباز جب زمین سے 420 کلومیـٹر اوپر خلا میں تیر رہا ...
30/05/2026

انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن "ISS" میں نماز کیسے پڑھی جاتی ہے؟ ایک مسلمان خلاباز جب زمین سے 420 کلومیـٹر اوپر خلا میں تیر رہا ہے اور نماز کا وقت ہوتا ہے۔، تو نماز کیسے پڑھیں گے ؟ قبلہ کس سمت ہے؟ہم جانتے ہیں کہ خلا میں کشش ثقل نہیں ہے جب کشش ثقل نہیں ہوگا تو سجدہ کیسے کریں گے؟ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ انٹرنیشنل اسپیـس اسٹیشن ISS ہر 90 منٹ میں ایک بار زمین کا چکر لگاتا ہے۔۔ تو آپ دن اور راتوں کو کیسے گنتے ہیں؟ خلا میں نماز کیسے پڑھیں گے ؟ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں صرف غیر مسلم نہیں جاتے،، بلکہ مسلمان سائنس دانوں اور ماہر فلکیات بھی جاتے ہیں تو وہ فـرض نماز کیسے پڑھتے ہیں ؟

آج سے 21 سال پہلے یعنی سال 2007 میں جب ملائیشیا مسلمان خلاباز شیخ رشید مسزفر انٹرنیشـنل اسپـیس اسٹیشن پر پہلی بار جا رہے تھے اور وہ جس ماہ میں ISS پر جا رہے تھے، وہ مسلمانوں کی مقدس مہینہ رمضان المبارک تھا رہنمائی کے لیے بتاتا چلوں کہ شیخ رشید رمضان کے دوران خلا میں جانے والے پہلے مسلمان تھے ملائیشیا کے مذہبی حکام نے پہلے ہی ایک خصـــــوصی ہدایت نامہ تیار کر رکھا تھا۔۔۔۔ اس پر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اسلامی رسومات کی انجام دہی کی ہدایت مکمل تفصـــــیل لکھی تھی اس ہدایت نامے میں واضح کہا گیا ہے کہ قبـلہ کی سمــت کا تعین کرنے کے لیے زمین کے قریب ترین مقام کو اســـتعمال کیا جا سکتا ہے اور نماز مکمل طور پر درست نہ ہونے کے باوجود بھی ادا کی جائے گی، سجدے کی صورت میں سر کو تھوڑا سا آگے کی طـــــــرف جھکانا چاہیے۔ کشش ثقل کی عدم موجودگی میں اہم چیز نیت ہے۔ روزے کی صورت میں یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ اس وقت ناسا انٹرنیـشنل اسپیس اسٹیشن کس ملک کے اوپر ہے۔۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہاں سورج آپ کو ایک دن یعنی 24 گھنٹے میں 16 مرتبہ طلوع غروب ہوتے دیکھ سکتے ہیں وہاں دن صرف 90 منٹ کا ہوتا ہے اسکے بعد رات شروع ہوتی ہے۔

چونکہ آئی ایس ایس ہر 90 منٹ میں زمین کا چکر لگاتا ہے، اسلیے اس نے ہر طلوع آفتاب اور غروب آفـتاب کی پیروی کرنے کے بجائے لانچ سائٹ کے نماز کے اوقات کے مطابق دن میں معمول کے مطابق پانچ بار نماز ادا کی۔ زیرو گریویٹی میں اس نے تیرنے سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو بیلٹ سے باندھ لیا،،،،،،،،،، اور اس نے مکہ مکرمہ کی سمت کا سامنا جتنا ممکن ہو سکے کیا۔۔۔ چونکہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کی رفتار بندوق کی گولی سے زیادہ ہے اس وجہ سے بہت جلد سمت بدلتے ہیں۔ لیکن ان کو پتا چلتا تھا کہ مکہ اور آئی ایس ایس کس سمت میں ہے، تو ان حساب سے نماز ادا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔۔۔ کہ "نماز کھڑے ہوکر ادا کرو، اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر ادا کرو، اور اگر اس پر بھی قدرت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر ادا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

تحریر Tehsin Ullah Khan

Israel has suspended ties with UN Secretary-General António Guterres after the UN blacklisted Israeli institutions
30/05/2026

Israel has suspended ties with UN Secretary-General António Guterres after the UN blacklisted Israeli institutions

کینیڈا کا ایک ایسا شہر جہاں لوگ رات کو سونے سے پہلے اپنے گھر اور گاڑیوں کے دروازے لاک نہیں کرتے...بلکہ جان بوجھ کر کھلے ...
30/05/2026

کینیڈا کا ایک ایسا شہر جہاں لوگ رات کو سونے سے پہلے اپنے گھر اور گاڑیوں کے دروازے لاک نہیں کرتے...
بلکہ جان بوجھ کر کھلے چھوڑ دیتے ہیں!
وجہ چور نہیں...
برفانی ریچھ ہیں۔ 🙂

سوچیے ذرا...رات کے دو بجے ہیں۔
باہر مکمل خاموشی ہے۔ درجہ حرارت منفی 25 یا منفی 30 تک جا چکا ہے۔سڑک پر شاید ہی کوئی انسان نظر آئے۔
اور اچانک اندھیرے میں ایک سفید سایہ حرکت کرتا دکھائی دے...

پہلے آپ کو لگے گا برف اڑ رہی ہے۔
پھر احساس ہوگا کہ یہ برف نہیں...
600 کلو وزنی ایک برفانی ریچھ ہے!

ایسا ریچھ جو چند سیکنڈ میں گاڑی کو الٹ سکتا ہے اور دنیا کے خطرناک ترین شکاری جانوروں میں شمار ہوتا ہے۔

اسی لیے کینیڈا کے صوبہ مینٹوبا کے انتہائی شمال میں واقع چھوٹے سے قصبے چرچل (Churchill) میں لوگ اکثر گاڑیوں کے دروازے لاک نہیں کرتے تاکہ اگر کسی شخص کا اچانک ریچھ سے سامنا ہو جائے تو وہ فوراً قریب کھڑی گاڑی میں گھس کر جان بچا سکے۔
دنیا بھر میں چوروں سے بچنے کے لئیے گاڑیوں کے لوگ دروازے بند کرکے سوتے ہیں اور یہاں چرچل میں لوگوں کو ریچھوں سے بچانے کے لیے دروازے کھلے رکھتے ہیں۔ 🙂

یہ قصبہ ہڈسن بے (Hudson Bay) کے کنارے واقع ہے اور اسے دنیا بھر میں

"Polar Bear Capital of the World"

کہا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پورے قصبے کی آبادی صرف تقریباً 870 افراد ہے۔

لیکن برفانی ریچھوں کی تعداد بعض اندازوں کے مطابق 600 سے 1000 کے درمیان سمجھی جاتی ہے، جبکہ مخصوص موسم میں سیکڑوں ریچھ چرچل کے اردگرد جمع ہو جاتے ہیں۔

یعنی بعض اوقات وہاں ریچھ انسانوں کے برابر یا ان سے بھی زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔ 🙂

چرچل پہنچنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ اگر آپ کراچی، لاہور یا ٹورنٹو کی طرح گاڑی اٹھا کر نکلنے کا سوچ رہے ہیں تو بھول جائیے۔

یہ کینیڈا کے ان چند شہروں میں شامل ہے جہاں کوئی مستقل ہائی وے نہیں جاتی۔ :)

زیادہ تر لوگ پہلے Winnipeg پہنچتے ہیں۔ پھر وہاں سے یا جہاز لیتے ہیں یا تقریباً دو دن کا طویل ٹرین سفر کرتے ہیں جو برفانی میدانوں، جنگلات اور ویران علاقوں سے گزرتا ہوا چرچل پہنچتا ہے۔

اور شاید اسی تنہائی کی وجہ سے وہاں ہر چیز مہنگی بھی ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء، تعمیراتی سامان، گاڑیاں، حتیٰ کہ روزمرہ کی بہت سی چیزیں بھی جہاز یا ٹرین کے ذریعے پہنچتی ہیں۔

مقامی لوگ اکثر مذاق میں کہتے ہیں کہ
" یہاں اگر دودھ گر جائے تو افسوس صرف دودھ کا نہیں، اس کے کرائے کا بھی ہوتا ہے!" 🙂

ہر سال اکتوبر اور نومبر میں دنیا بھر سے ہزاروں سیاح یہاں آتے ہیں تاکہ برفانی ریچھوں کو قریب سے دیکھ سکیں۔

خصوصی دیوہیکل گاڑیاں جنہیں Tundra Buggies کہا جاتا ہے، سیاحوں کو برفانی میدانوں میں لے جاتی ہیں جہاں کئی کئی سو کلو وزنی ریچھ گاڑیوں کے بالکل قریب آ جاتے ہیں۔

چرچل میں ایک مشہور "پولر بیئر جیل" بھی موجود ہے۔ اگر کوئی ریچھ بار بار شہر میں داخل ہو کر لوگوں کے لیے خطرہ بنے تو اسے بے ہوش کرکے ایک خصوصی مرکز میں رکھا جاتا ہے اور بعد میں دور دراز علاقوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔

لیکن چرچل صرف ریچھوں کا شہر نہیں۔

گرمیوں میں ہزاروں سفید بیلوگا وہیلیں یہاں آتی ہیں اور سردیوں میں آسمان پر شمالی روشنیاں (Northern Lights) ناچتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

شاید اسی لیے چرچل دنیا کے ان چند مقامات میں شامل ہے جہاں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اصل حکمران ہم نہیں...
فطرت ہے۔
اور وہاں کے لوگ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں۔

طرح جانتے ہیں۔

اسی لیے وہ دروازے بند کرنے کے بجائے کبھی کبھی کھلے چھوڑ دیتے ہیں...
کیا پتہ اگلے موڑ پر کسی انسان کو چور سے نہیں،ایک بھوکے برفانی ریچھ سے بچنے کے لیے پناہ چاہیے ہو۔۔۔ :)

-سہیل بلخی

#کینیڈا

سطحِ سمندر سے تقریباً 10,500 فٹ کی بلندی پر موجود جھیل سیف الملوک کا یہ منظر دل کو عجیب سا سکون دیتا ہے۔۔۔اونچے پہاڑ، بر...
29/05/2026

سطحِ سمندر سے تقریباً 10,500 فٹ کی بلندی پر موجود جھیل سیف الملوک کا یہ منظر دل کو عجیب سا سکون دیتا ہے۔۔۔

اونچے پہاڑ، برف کی تہیں، چلتے بادل اور نیچے سبز پانی۔۔۔ ہر طرف صرف قدرت ہی قدرت نظر آتی ہے۔۔۔

اگر واقعی جھیل کی خاموشی اور پانی کے شور کو محسوس کرنا ہے تو سموسے پکوڑے والی دکانوں سے تھوڑا دور کسی اونچے پہاڑ پر جا کے بیٹھیں ۔۔۔

پھر جب ٹھنڈی ہوا چہرے پر لگے گی، بادل پہاڑوں سے ٹکرائیں گے اور نیچے جھیل خاموشی سے نظر آئے گی تب اندازہ ہوگا کہ سیف الملوک اصل میں کتنی خوبصورت ہے 😍

یہ مقام عام گاڑیوں سے مکمل طور پر قابلِ رسائی نہیں، بلکہ یہاں تک پہنچنے کے لیے صرف 4x4 جیپ ٹریک استعمال ہوتا ہے۔۔۔

پتھریلے راستے اور خطرناک موڑ اس سفر کو مزید خاص بنا دیتے ہیں۔۔۔

سچ سچ بتانا۔۔۔ جب آپ پہلی بار اس خطرناک ٹریک سے جھیل سیف الملوک آئے تھے تو اُس وقت دل کی کیا کیفیت تھی؟

میں جب تقریباً 15 سال پہلے یہاں آیا تھا تو اس ٹریک کو دیکھنے کے بعد ایک رات نیند نہیں آئی تھی 😂

قدیم دور میں گھروں کو قدرتی طور پر ٹھنڈا رکھنے کے لیے خاص قسم کے ہوا پکڑنے والے نظام استعمال کیے جاتے تھے جنہیں ونڈ کیچر...
29/05/2026

قدیم دور میں گھروں کو قدرتی طور پر ٹھنڈا رکھنے کے لیے خاص قسم کے ہوا پکڑنے والے نظام استعمال کیے جاتے تھے جنہیں ونڈ کیچر کہا جاتا ہے۔ یہ بلند اور کھلے ڈھانچے ہوا کو اندر کی طرف کھینچتے تھے اور اسے کمروں میں داخل کرتے وقت ٹھنڈا کرتے تھے۔ اس عمل کے دوران گرم ہوا اوپر کی طرف اٹھ کر باہر نکل جاتی تھی، جس سے گھر کے اندر کا ماحول خوشگوار اور آرام دہ رہتا تھا۔ یہ تکنیک خاص طور پر گرم اور صحرائی علاقوں میں بہت عام تھی جہاں بجلی یا جدید کولنگ سسٹم موجود نہیں تھے۔ ونڈ کیچر آج بھی قدیم انجینئرنگ کی ایک شاندار مثال سمجھے جاتے ہیں۔ڈسکلیمر: یہ پوسٹ صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور عوامی طور پر دستیاب رپورٹس پر مبنی ہے۔ پس منظر میں استعمال کی گئی تصویر AI سے تیار کی گئی ہے اور صرف حوالہ کے لیے ہے۔

میں جب بھی کائنات کے بارے میں پڑھتا ہوں تو ایک عجیب سا احساس ہوتا ہے۔ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہ کتنی چھوٹی ہے، اور اس کے...
29/05/2026

میں جب بھی کائنات کے بارے میں پڑھتا ہوں تو ایک عجیب سا احساس ہوتا ہے۔
ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہ کتنی چھوٹی ہے، اور اس کے باہر پھیلی یہ بےحد وسیع کائنات کتنی پراسراراور
عجیب ہیں مجھے ہمیشہ سے ستاروں کہکشاؤں اور خلا کے بےپناہ فاصلوں سے مخبت ہیں اور مجھے ہمیشہ حیران کرتے رہے ہیں۔ فلکیات کے بارے میں کوئی نئی اپڈیٹ ائے تو میں اسے ضرور دیکھتا ہوں، کیونکہ کائنات کے راز جاننے کا شوق شاید
کھبی ختم نہیں ہوتا۔آج جب میری نظر جیمز ویب ٹیلیسکوپ کی اس تصویر پر پڑی تو میں کچھ دیر اسے خاموشی سے
دیکھتا رہا۔ اور پھر ایک گہرے سوچ چلا گیا پہلے تو یہ صرف چند روشن نقطے لگتے ہیں، لیکن جب آپ حقیقت جان جاتے ہیں تو انسان واقعی حیران رہ جاتا ہے۔
یہ تصویر اج کی نہیں ہے۔
یہ اربوں سال پرانے ماضی کی جھلک ہے۔
کائنات میں روشنی فورا ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں پہنچتی۔ اس کی رفتار بہت تیز ہے، تقریبا تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ، لیکن کائنات اتنی وسیع ہے کہ روشنی کو بھی بعض اوقات اربوں سال لگ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم بہت دور موجود کسی کہکشاں کو دیکھتے ہیں تو دراصل ہم اس کی پرانی شکل دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے جب اس دور دراز خلا کی تصویر لی تو اس نے ایسی روشنی کو پکڑا جو اربوں سال پہلے اپنے سفر پر نکلی تھی۔
یعنی وہ کہکشائیں ہمیں ویسی نظر آ رہی ہیں جیسی وہ اربوں سال پہلے تھیں، نہ کہ جیسی وہ آج ہیں۔
ممکن ہے ان میں سے کچھ کہکشائیں اب بدل چکی ہوں، کچھ ٹکرا چکی ہوں، اور کچھ شاید ختم بھی ہو چکی ہوں۔
لیکن ان کی روشنی ابھی تک خلا میں سفر کر رہی ہے، اور آج جا کر ہمارے پاس پہنچی ہے۔
اسی لیے سائنسدان کہتے ہیں کہ طاقتور ٹیلی اسکوپس دراصل وقت کو دیکھتے
ہیں جتنا دور ہم خلا میں دیکھتے ہیں، اتنا ہی پیچھے ماضی میں چلے جاتے ہیں۔
اس تصویر میں نظر آنے والا تقریبا ہر روشن نقطہ ایک ستارہ نہیں بلکہ ایک پوری کہکشاں ہے، اور ہر کہکشاں میں اربوں ستارے موجود ہوتے ہیں۔
یعنی ایک تصویر کے اندر ہی کھربوں سورج اور بےشمار دنیائیں چھپی ہوئی ہیں۔
تخریر۔۔عالم نامہ Aalam nama

وادیِ سواں کی تہذیب تحریر: سید جواد حسین رضویوادی سواں کی تہذیب دریافت کرنے کا سہرا ڈی این واڈیا (D.N. Wadia) کے سر جاتا...
29/05/2026

وادیِ سواں کی تہذیب
تحریر: سید جواد حسین رضوی

وادی سواں کی تہذیب دریافت کرنے کا سہرا ڈی این واڈیا (D.N. Wadia) کے سر جاتا ہے جنہوں نے 1928 میں دنیا کو اس تہذیب سے پہلی دفعہ روشناس کرایا۔ ان کا پورا نام داراشا نوشیروان واڈیا (Darashaw Nosherwan Wadia) تھا اور نام سے لگتا ہے کہ وہ پارسی تھے۔ وہ برِصغیر کے ایک انتہائی مایہ ناز ماہرِ ارضیات (Geologist) تھے، انہیں فادر آف انڈین جیالوجی مانا جاتا ہے۔ انہوں نے خطۂ پوٹھوہار کا دورہ کیا اور دریائے سواں کے گرد و نواح سے قدیم پتھر کے اوزار جمع کیے، جس سے دنیا کو پہلی بار معلوم ہوا کہ یہاں کوئی ماقبل تاریخ (Prehistoric) انسانی سرگرمی موجود تھی۔

ڈی این واڈیا کی 1928ء کی ارضیاتی رپورٹ کے بعد، کے آر یو ٹوڈ نے 1930ء میں خطہ پوٹھوہار میں راولپنڈی کے قریب "پنڈی گھیب" کے مقام پر تفصیلی سروے کیا۔ وہاں سے انہوں نے پتھر کے قدیم اوزاروں کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کیا اور پہلی بار ان اوزاروں کی باقاعدہ فنی درجہ بندی (Classification) شروع کی۔ ٹوڈ برٹش راج میں رائل انڈین نیوی (Royal Indian Navy) میں ایک افسر تھے، جو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کے ساتھ ساتھ آثارِ قدیمہ (Archaeology) میں گہرا اور جنونی لگاؤ رکھتے تھے۔

سواں تہذیب کو عالمی سطح پر مستند شناخت 1935ء میں ملی، جب امریکہ کی ییل (Yale) اور برطانیہ کی کیمبرج (Cambridge) یونیورسٹیوں کا ایک مشترکہ وفد ہندوستان آیا۔ اس مہم کی سربراہی ایچ ڈی ٹیرا (H. de Terra) اور ٹی ٹی پیٹرسن (T.T. Paterson ) کر رہے تھے۔ انہوں نے وادیِ سواں کا تفصیلی سروے کیا، زمین کی تہوں (Stratigraphy) کا مطالعہ کیا اور اسے باقاعدہ "سواں کلچر" (Soan Culture) کا نام دیا۔ ان کی لکھی ہوئی کتاب آج بھی اس تہذیب پر بنیادی ماخذ مانی جاتی ہے۔

پاکستان بننے کے بعد پاکستانی ماہرینِ آثارِ قدیمہ، بالخصوص پشاور یونیورسٹی کے نامور محقق پروفیسر احمد حسن دانی نے 1960ء کی دہائی میں وادیِ سواں کے مختلف مقامات کا دوبارہ جائزہ لیا۔ انہوں نے یہ ثابت کرنے میں اہم کردار ادا کیا کہ یہاں کے اوزار دنیا کی دیگر قدیم تہذیبوں (جیسے یورپ اور افریقہ کے پتھر کے دور) کے ہم پلہ ہیں۔

1980ء کی دہائی میں برٹش آرکیولوجیکل مشن ٹو پاکستان (BAMP) نے ڈاکٹر رابن ڈینل (Robin Dennell) اور ڈاکٹر برجیٹ آلچن (Bridget Allchin) کی قیادت میں پاکستان کے محکمہ آثارِ قدیمہ کے ساتھ مل کر انقلابی تحقیقات کیں۔ راولپنڈی کے قریب روات کے مقام پر انہوں نے زمین کی گہرائی سے پتھر کے ایسے اوزار ڈھونڈ نکالے جن کی عمر جدید سائنسی طریقوں (Paleomagnetic Dating) سے 20 لاکھ سال کے قریب معلوم ہوئی۔ اس دریافت نے پوری دنیا کے ماہرین کو حیران کر دیا، کیونکہ اس سے پہلے یہ مانا جاتا تھا کہ اتنے پرانے انسان صرف افریقہ میں پائے جاتے تھے۔ یہاں ایک اور مقام سے کھدائی کے دوران تقریباً 45,000 سال پرانی ایک انسانی بستی کے آثار اور پتھر کاٹنے کی باقاعدہ ورکشاپ ملی۔ اس مقام کو روات غار (Rawat Cave) کہا جاتا ہے۔

حالیہ سالوں میں قائداعظم یونیورسٹی (اسلام آباد)، پنجاب یونیورسٹی، اور ہزارہ یونیورسٹی کے شعبہ آثارِ قدیمہ نے غیر ملکی ماہرین کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل میپنگ اور نئے فوسلز کی تلاش پر کام کیا ہے۔ اب تک پوٹھوہار اور وادیِ سواں کے علاقے میں سیکڑوں ایسے مقامات (Sites) کی نشاندہی کی جا چکی ہے جہاں پتھر کے اوزار بکھرے پڑے ہیں۔

اگرچہ اس تہذیب پر بہت کام ہوا ہے، لیکن اب تک کی بڑی محدودیت یہ ہے کہ یہاں سے ابھی تک کوئی انسانی ڈھانچہ یا ہڈی (Human Fossil) نہیں مل سکی، صرف ان کے استعمال کیے ہوئے پتھر کے اوزار ملے ہیں۔ اس کی وجہ پوٹھوہار کی مٹی کی تیزابیت اور سخت موسم ہے جو ہڈیوں کو لاکھوں سال تک محفوظ نہیں رہنے دیتا۔ آج بھی ماہرین اس کوشش میں ہیں کہ شاید کسی غار یا گہری تہہ سے کوئی انسانی فوسل مل جائے جو اس تہذیب کی کڑیوں کو مکمل کر سکے۔
یہ تہذیب پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی قدیم ترین ماقبل تاریخ (Prehistoric) تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ یہ موہن جو دڑو یا ہڑپہ کی طرح اینٹوں کے مکانات اور شہروں پر مشتمل تہذیب نہیں تھی، بلکہ یہ پتھر کے دور (Paleolithic Age) کے انسانوں کی بستی تھی، جو لاکھوں سال پرانی ہے۔ اس تہذیب کا دائرہ بڑھ کر بھارت میں ہماچل پردیش اور نیپال تک وسیع ہے، مشابہت کی وجہ سے بھارت اور نیپال سے ملنے والے آثار کو بھی سواں تہذیب سے جوڑتے ہیں۔ اس پوری تہذیب کو ہی Soanian Civilization کہتے ہیں۔

یہ تہذیب دریائے سواں کے گرد پروان چڑھی اس لئے اس کو یہ نام دیا گیا۔ کچھ حالیہ سائنسی تحقیقات اور راولپنڈی کے قریب "روات" کے مقام سے ملنے والے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں انسانوں یا ان کے آبا و اجداد (جیسے Homo erectus) کی موجودگی کے آثار 20 لاکھ سال تک پرانے ہو سکتے ہیں۔ یہ دنیا میں افریقہ سے باہر قدیم ترین انسانی سرگرمیوں کے چند بڑے مراکز میں سے ایک ہے۔

اس تمہیدی گفتگو کے بعد وادی سواں کی طرف آتے ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہاں پنپنے والی تہذیب ہومو ایریکٹس (Homo erectus) سے مخصوص ہے جو ایشیا میں عام پائے جاتے تھے۔ اس دور کا انسان غاروں میں رہتا تھا یا قدرتی پناہ گاہوں کا استعمال کرتا تھا۔ وہ کھیتی باڑی نہیں جانتے تھے، بلکہ جنگلی جانوروں کا شکار کرتے، مچھلیاں پکڑتے اور جنگلی پھل، جڑیں اور جڑی بوٹیاں اکٹھی کر کے پیٹ بھرتے تھے۔

لاکھوں سال پہلے پوٹھوہار کا یہ علاقہ ایسا خشک نہیں تھا جیسا آج ہے۔ اس دور میں یہاں گھنے جنگلات تھے اور یہاں ایسے جانور پائے جاتے تھے جو آج پاکستان میں ناپید ہو چکے ہیں، مثلاً قدیم دور کے بڑے ہاتھی، گینڈے، مگرمچھ، چیتے اور زرافے۔ ان جانوروں کے فوسلز (محجرات) بھی پوٹھوہار کے علاقے سے بڑی تعداد میں ملے ہیں۔ سواں تہذیب کی سب سے بڑی خاصیت یہاں سے ملنے والے پتھر کے اوزار ہیں۔ یہاں کے قدیم باشندے دریا کے کناروں پر ملنے والے گول پتھروں (Pebbles) کو توڑ کر تیز دھار اوزار بناتے تھے۔ یہ اوزار راولپنڈی کے اطراف میں مختلف علاقوں جیسے اڈیالہ، پنڈی گھیپ اور روات وغیرہ سے بھاری تعداد میں ملے ہیں۔

نوٹ: اس تحریر میں زیادہ تر مواد پشاور یونیورسٹی کے شعبۂ آثار قدیمہ کے آفیشل جرنل "اینشنٹ پاکستان" (Ancient Pakistan) میں شائع شدہ ڈاکٹر محمد سلیم کے مقالے سے لیا گیا ہے۔

"کائنات کا گرم ترین مقام کہاں ہے ؟؟ اور اس مقام کا درجہ حرارت کیا ہے یا کیا تھا ؟ پہلے جب ہم سنتے تھے کہ جہنم کا ایندھن ...
29/05/2026

"کائنات کا گرم ترین مقام کہاں ہے ؟؟ اور اس مقام کا درجہ حرارت کیا ہے یا کیا تھا ؟ پہلے جب ہم سنتے تھے کہ جہنم کا ایندھن پتھر اور انسان ہوں گے تو حیرانگی ہوتی تھی کہ آگ جلانے کےلیے لکڑی چاہیے ہوتی ہے،،،،،،،،، لیکن جہنم میں پتھر ہوں گے لیکن پتھر جلتے کیسے ہیں،، یعنی پتھر آگ کیسے پکڑتے ہیں ؟ لیکن جب سے کائنات کا مطالعہ شروع کیا ہے۔۔ یہ سوال اس قدر واضح ہوگیا کہ میں بتا نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔کائنات کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ پتھر کی اگ لکڑیوں کی آگ سے ہزاروں گنا سخت اور تیز ہوتی ہے،،، اگر آپ بھی میری طرح پہلے اس چیز کو نہیں مانتے تھے۔۔۔ تو یہ تحریر آپ کے لیے ہے۔

ہم جانتے ہیں،، کہ زیرو ڈگری سیلسیس پر پانی برف بن جاتا ہے یہ پانی کا فریز ٹمپریچر ہے یعنی ضروری نہیں ہے کہ ہر ایک چیز اس درجہ حرارت پر فریز ہوگی،، لیکن جس چیز میں پانی کا مالیکیولز موجود ہو، اس کو اگر ہم زیرو درجہِ حرارت پر رکھیں،، تو وہ برف میں تبدیل ہوگا، آپ اس وقت جس کمرے میں ہیں۔۔۔ اس کا اوسط درجہ حرارت 25 ڈگری سیلسیس ہے۔۔۔ ہمارے جسم کا نارمل درجہ حرارت 37 ڈگری سیلسیس ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ اگر یہ درجہِ حرارت اوپر یا نیچے ہوجائے تو فوراً آپ کو مسئلہ ہوجاتا ہے،، کیونکہ ہمارے جسم کا پورا سسٹم اس درجہِ حرارت پر ہی صحیح کام کرتا ہے

ایک رپورٹ کے مطابق زمین کی سطح کا اب تک کا ریکارڈ کیا گیا، سب سے زیادہ درجہ حرارت 56.7 ڈگری سیلسیس ہے،، جبکہ 100 ڈگری سیلسیس پر پانی ابلنا شروع کر دیتا ہے،،،، یہ باتیں شاید آپ پہلے سے ہی جانتے ہوں۔ لیکن اسکے بعد جو میں بتانے والا ہوں وہ آپ کے لیے شاید بالکل نئی بات ہو۔۔۔اب ہم زمین سے باہر نکلیں گے، اور سورج کے قریب ترین سیارے کا دورہ کریں گے۔۔ چونکہ ناسا کا اسپیس شپ پہلے سے وہاں جا چکا ہے، اور اس نے معلوم کیا ہے کہ مرکری کا درجہ حرارت تقریباً 427 ڈگری سیلسیس ہے

جبکہ وینس سیارے کا 462 ڈگری سیلسیس ہے سائنس کا ماننا ہے کہ وینس ہمارے سولر سسٹم کا سب سے گرم ترین سیارہ ہے۔۔ جب کہ لاوا کا درجہِ حرارت 1200 ڈگری سیلسیس تک نوٹ کیا گیا ہے۔ اس سے زیادہ درجہ حرارت پر لوہا پگھلنے لگتا ہے۔۔۔ یعنی عام طور پر لوہا 1538 ڈگری سیلسیس پر پگھل جاتا ہے۔ اس سے آگے درجہ حرارت پر لوہا بھی بھاپ بن جاتا ہے۔

ہمارے سورج کی سطح کا درجہ حرارت 5500 ڈگری سیلسیس ہے، جب کہ اس کے Core کا درجہِ حرارت پندرہ کروڑ تک بتایا گیا ہے۔ کائنات میں اس سے آگے "درجہِ حرارت" آپ کو ضرور حیران کردے گی کیوں کہ اس سے آگے درجہِ حرارت سوپر نووا کا ہوتا ہے۔ یعنی جب ایک ستارہ اپنی عمر مکمل کر دیتا ہے،،، تو ایک زوردار دھماکے سے پھٹ جاتا ہے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جب کسی ستارے میں "سوپر نووا" دھمماکہ ہوتا ہے،، تو تب اس کا درجہ حرارت 55 کروڑ ڈگری سیلسیس تک ہوتا ہے۔۔۔ 55 کروڑ ڈگری سیلسیس کوئی مذاق نہیں ہے۔۔ ہم لوگ 50 ڈگری سیلسیس گرمی برداشت نہیں کرسکتے اور یہ 55 کروڑ ڈگری سیلسیس ہے۔

لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کے بعد جو سب سے زیادہ درجہ حرارت ہوتا ہے۔ وہ نیوٹران سٹار کا ہوتا ہے۔ اب نیوٹران سٹار کیا ہوتا ہے۔۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایک نیوٹران سٹار کا درجہِ حرارت تقریباً 12 ارب ڈگری سیلسیس تک ہوتا ہے۔۔۔۔۔ لیکن یہ بھی کائنات کا کا گرم ترین مقام نہیں ہے بلکہ اس سے آگے اگر ہم جائیں تو ہم وہاں پہنچ جاتے ہیں،،،،،، جہاں سے اس کائنات کا آغاز ہوا تھا۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ کائنات کا آغاز بگ بینگ سے ہوا ہے۔یعنی یہ ساری کائنات ایک نقطے میں سموئی ہوئی تھی۔۔۔۔اس وقت اس نقطے کا سائز کیا تھا؟ جس سے اتنی "بڑی کائنات" وجود میں آئی۔ یہ ہم نہیں جانتے،،،،،،،،،،،، لیکن مختلف کیلکولیشن سے ہم یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ اس وقت اس نقطے کا درجہِ حرارت کیا تھا۔

دل تھام کر رکھیں،،،،،، کیونکہ میں اس نقطے کا درجہِ حرارت بتانے والا ہوں جس سے اس خوبصورت کائنات کا آغاز ہوا۔سائنس دانوں کا کہنا ہے،، کہ بگ بینگ کے وقت اس "نقطے" کا درجہ حرارت 142 نونیلین ڈگری سیلسیس تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب یہ 142 نونیلین کیا ہے ؟ 142000000000000000000000000,00,00,000 کو 142 نونیلین کہتے ہیں۔۔۔۔۔ سائنس دان اس درجہ حرارت کو Absolute Hot کہتے ہیں۔۔۔ یعنی کے اس سے زیادہ ٹمپریچر کائنات میں نہیں ہے اور اگر اس سے زیادہ درجہ حرارت پایا گیا تو وہ ہمارے سائنس کے تمام قوانین کو ختم کردے گا۔ یہ درجہِ حرارت کا آخری حد ہے۔ سائنس کے مطابق کائنات UNIVERSES میں اس سے زیادہ درجہ حرارت کا وجود نہیں ہے"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!

تحریر Tehsin Ullah Khan

28/05/2026

اگر ایک رات کے لیے تم اپنی پوری زندگی کا فیصلہ بدل سکتے ہو تو کیا بدلو گے؟
اور سب سے بڑھ کر... کیوں؟"

🎉 Facebook recognized me as a consistent post creator this week!
28/05/2026

🎉 Facebook recognized me as a consistent post creator this week!

Address

Noor Deen Khan Road
Karachi Manora
75620

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamil khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Jamil khan:

Share