11/11/2025
Qabil e ghor post ha really
ہزاروں سالوں سے ان پڑھ نائی بچوں کی ختنے کرتے ا رہے
ہیں ۔کسی نے بچے کا عضو نیہں کاٹا ۔ گجرات کے مشہور سرجن نے بچے کا عضو کاٹ دیا۔
ہزاروں سالوں سے ان پڑھ دایاں زچگی سے نارمل کروڑوں بچے نارمل پیدا کروا چکی ہیں ۔ پھر پڑھی لکھی ڈاکٹرز آ گئیں اور عورتوں کے پیٹ کا کر بچے پیدا کرنے شروع کر دئے۔
ہزاروں سالوں سے ان پڑھ جراح ٹوٹی ہڈیوں کو ٹھیک کرتے اور جوڑتے آ رہے ہیں ۔ پھر آرتھوپیڈک سرجن آ گئے۔ اور لوگوں کی ٹانگیں اور پاوں کاٹنے شروع کر دئے۔
ہزاروں سالوں سے لوگ سرما لگاتے آ رہے تھے ۔اور 90 سال تک بنا عینک کے دیکھتے تھے۔ پھر پڑھے لکھے ڈاکٹر آئی سپیشلسٹ آ گئے۔اور 5 سال کے بچوں کو عینک لگ گئی۔
ہزاروں سال سے لوگ منوں کے حساب سے گڑ کھاتے آ رہے ہیں۔ اور فٹ پاتھ پہ بیٹھے ان پڑھ بندے سے دانت لگاتے رہتے تھے۔ کسی کو کینسر نیہں ہوا۔
آج لاکھوں روپے لگا کر جدید مشینری سے علاج ہوتا ہے۔ اور پھر بھی دانتوں کا کینسر بن جاتا ہے۔
ہزاروں سالوں سے گردے اور پتے کی پھتری کو حکیم ایک پڑی سے نکال لیتے تھے۔ اب جدید ترین ٹیکنالوجی سے پتہ اور گردہ ہی نکال لیا جاتا ہے۔
ہزاروں سالوں سے بچے ماں کا دودھ یا اوپر والا دودھ پیتے ائے ہیں اور بغیر ڈبے کے صحت مند رہے ہیں ماشاءاللہ
لیکن اب ڈبہ لگا دیا گیا ہے جو کہ والدین کے لیے بوجھ بن چکا ہے اور کمپنیوں کے لیے چاندی۔
اب میڈیکل سائنس نے کیا ترقی کی ہے۔
سمجھ سے بالا تر ہے۔
ہر سرکاری و پرائیویٹ ہسپتال میں پاؤں رکھنے کی جگہ نیہں ۔ 1 سال کے بچے سے لے کر 90 سال تک سب مریض بنے ہوۓ ھیں۔