Idara Khidmat Ul Hujjaj Pvt Ltd

Idara Khidmat Ul Hujjaj Pvt Ltd Trusted Hajj Services, Expert Guidance, Dedicated Care for Smooth & Spiritually Fulfilling Pilgrimage

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر نے زائرین اور صارفین کی توجہ حاصل کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اسلام کے ...
30/06/2026

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر نے زائرین اور صارفین کی توجہ حاصل کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اسلام کے تیسرے خلیفہ اور دامادِ رسول، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی قبرِ مبارک ہے، اسلامی روایات اور تاریخی شواہد کی روشنی میں یہ دعویٰ مکمل طور پر درست اور مستند ہے۔

خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار (4) صاحبزادیاں تھیں۔
1- حضرت زینب رضی اللہ عنہا: یہ آپ ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں، ان کا نکاح ابوالعاص بن ربیع سے ہوا تھا۔

2۔ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا: یہ آپ ﷺ کی دوسری صاحبزادی تھیں۔ان کا نکاح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ہوا اور انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔

3۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا: یہ آپ ﷺ کی تیسری صاحبزادی تھیں،حضرت رقیہؓ کی وفات کے بعد ان کا نکاح بھی حضرت عثمان بن عفانؓ سے ہوا تھا۔

4۔ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا: یہ آپ ﷺ کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی صاحبزادی تھیں،ان کا نکاح حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوا۔

اسلامی تاریخ اور روایات کے مطابق، سن 35 ہجری میں شہادت کے بعد حضرت عثمان غنیؓ کو مدینہ منورہ کے مشہور قبرستان 'جنت البقیع' کے بالکل متصل ایک باغ میں دفن کیا گیا تھا جسے "حشِ کوکب" کہا جاتا تھا۔

خلافتِ راشدہ کے بعد، اموی دورِ حکومت میں جب مدینہ منورہ کے گورنر مروان بن الحکم نے جنت البقیع کی حدود کو وسیع کیا، تو اس باغ کو بقیع کے اندر شامل کر لیا گیا، اسی وجہ سے آج یہ مقام جنت البقیع کے آخری حصے میں واقع ہے۔
بقیع الغرقد میں موجود تمام صحابہ کرام، اہل بیتِ اطہار اور امہات المؤمنین کی قبور کو پکی تعمیرات، مزارات یا نام کی تختیوں سے پاک رکھا گیا ہے۔
قبرِ مبارک پر پتھر بطور نشانی موجود ہیں، جو کہ قرونِ اولیٰ کی اسلامی سادگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
بقیع کے آخری حصے میں ایک چبوترے اور حفاظتی جنگلے کے اندر یہ مبارک مقام دیکھا جا سکتا ہے۔ سعودی وزارتِ امورِ اسلامیہ کی جانب سے وہاں ایک نیلا معلوماتی بورڈ بھی نصب ہے جو زائرین کو مسنون طریقے سے سلام پیش کرنے اور بدعات سے بچنے کی ہدایت کرتا ہے۔

Idara Khidmat Ul Hujjaj Pvt Ltd
Disclaimer: This report is based on publicly available information and shared for informational purposes only.

مسجد نبویؐ میں موسمِ گرما کے خصوصی رضاکارانہ خدمت پروگرام کا آغازمدینہ منورہ: مسجد نبویؐ میں زائرین کی سہولت اور رہنمائی...
24/06/2026

مسجد نبویؐ میں موسمِ گرما کے خصوصی رضاکارانہ خدمت پروگرام کا آغاز

مدینہ منورہ: مسجد نبویؐ میں زائرین کی سہولت اور رہنمائی کے لیے موسمِ گرما کے خصوصی رضاکارانہ پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ پروگرام 18 جون 2026 سے 17 جولائی 2026 تک جاری رہے گا۔

اس پروگرام کے تحت منتخب رضاکار مسجد نبویؐ میں آنے والے زائرین کی مختلف حوالوں سے مدد کریں گے، جن میں راستوں کی رہنمائی، مختلف زبانوں میں ترجمانی، وزیٹر سروسز اور بزرگ و معذور افراد کی معاونت شامل ہے۔

انتظامیہ کے مطابق اس رضاکارانہ پروگرام میں 15 سے 65 سال تک کے مرد افراد، بشمول خصوصی افراد، شرکت کے اہل ہیں۔ مجموعی طور پر 100 نشستیں مختص کی گئی ہیں، جن میں اہل افراد کو منتخب کیا جائے گا۔

رضاکار روزانہ سہ پہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اپنی خدمات انجام دیں گے، تاکہ زائرین کو بہترین سہولت اور پرسکون ماحول فراہم کیا جا سکے۔

حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد مسجد نبویؐ میں آنے والے زائرین کو بہتر سہولیات کی فراہمی، رہنمائی کے نظام کو مؤثر بنانا اور خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ دینا ہے۔

یہ پروگرام نہ صرف زائرین کے لیے آسانی کا باعث بنے گا بلکہ نوجوانوں میں رضاکارانہ خدمات کے جذبے کو بھی تقویت دے گا۔





      for   with
22/06/2026

for with

مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی ﷺ کے اندر واقع ریاضُ الجنہ میں خدمات انجام دینے والے ایک ملازم کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈی...
12/06/2026

مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی ﷺ کے اندر واقع ریاضُ الجنہ میں خدمات انجام دینے والے ایک ملازم کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں۔

وائرل ہونے والے مناظر میں ملازم کو منبرِ رسول ﷺ کے قریب صفائی اور دیکھ بھال کے فرائض انجام دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین اس خدمت کو مسجدِ نبوی ﷺ کے انتظامی امور کا ایک اہم حصہ قرار دیتے ہوئے اس سے وابستہ افراد کی محنت اور ذمہ داری کو سراہ رہے ہیں۔

ریاضُ الجنہ مسجدِ نبوی ﷺ کے ان مقامات میں شمار ہوتا ہے جو زائرین کے لیے خصوصی روحانی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس مقام کی صفائی، دیکھ بھال اور انتظامات سے متعلق مناظر اکثر عقیدت مندوں کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اس مواد کے بعد متعدد صارفین نے مدینہ منورہ کی حاضری، مسجدِ نبوی ﷺ میں عبادت اور مقدس مقامات کی زیارت کی اپنی خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے۔

Disclaimer: The information presented in this report is based on publicly shared images, videos, and social media content available at the time of publication. Social Asian shares such content for informational purposes only and does not independently verify all descriptions, interpretations, or claims associated with viral posts.

Hashtags: Idara Khidmat Ul Hujjaj Pvt Ltd Karachi Corporate Cars Property Eye Naeem Ahmed

سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے حج 2027ء (1448ھ) کی تیاریوں کا آغاز معمول سے کافی پہلے کرتے ہوئے حج انتظامات میں چند اہم اصلاح...
12/06/2026

سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے حج 2027ء (1448ھ) کی تیاریوں کا آغاز معمول سے کافی پہلے کرتے ہوئے حج انتظامات میں چند اہم اصلاحات کا اعلان کیا ہے، جن کا مقصد حجاجِ کرام کو زیادہ منظم، معیاری اور جامع خدمات فراہم کرنا ہے۔

اہم تبدیلیاں

1. پیکیج D کا خاتمہ

سابقہ حج پیکیج D کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ حج پیکیجز کو ازسرِ نو ترتیب دے کر تین بنیادی اور بہتر درجہ بندیوں (A، B، C) میں تقسیم کیا گیا ہے۔

2. جامع اور لازمی خدمات

اب حج پیکیج میں درج ذیل خدمات کو لازمی طور پر شامل کیا جائے گا:

مشاعرِ مقدسہ (منیٰ، مزدلفہ، عرفات) کی خدمات

مکہ مکرمہ میں رہائش

مدینہ منورہ میں رہائش

اندرونِ ملک نقل و حمل

کھانے پینے (کیٹرنگ) کی خدمات

اس سے پہلے بعض ممالک میں ان میں سے کچھ خدمات اختیاری یا الگ معاہدوں کے تحت فراہم کی جاتی تھیں، لیکن اب انہیں ایک مربوط پیکیج کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

3. حجاج کے لیے فوائد

اس نئے نظام کے نتیجے میں:

خدمات کا معیار بہتر ہوگا۔

رہائش، ٹرانسپورٹ اور خوراک کے مسائل میں کمی آئے گی۔

قیمتوں اور خدمات میں زیادہ شفافیت ہوگی۔

حجاج کو ایک ہی ذمہ دار ادارے کے ذریعے مکمل سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

شکایات اور انتظامی پیچیدگیوں میں کمی متوقع ہے۔

4. جلد از جلد تیاری

وزارت نے حج 2027ء کی منصوبہ بندی حج 2026ء کے اختتام کے فوراً بعد شروع کر دی ہے تاکہ:

رہائش کے بہتر مقامات بروقت محفوظ کیے جا سکیں۔

خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ جلد معاہدے ہوں۔

مختلف ممالک کے حج مشنز کو تیاری کے لیے زیادہ وقت مل سکے۔

5. حج مشنز اور سروس پرووائیڈرز کی تربیت

سعودی وزارتِ حج و عمرہ بیرونِ ملک حج مشنز، معلمین اور سروس پرووائیڈرز کی تربیت اور اہلیت کے معیار کو مزید سخت کرنے پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ حجاج کو عالمی معیار کی خدمات فراہم کی جا سکیں۔

پاکستان کے لیے ممکنہ اثرات

پاکستانی حجاج کے لیے اس پالیسی کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ:

نجی حج اسکیموں کی ازسرِ نو درجہ بندی ہوگی۔

کم قیمت مگر محدود سہولیات والے بعض پیکیجز ختم ہو سکتے ہیں۔

رہائش، ٹرانسپورٹ اور کھانے کے معیار میں بہتری آئے گی۔

مجموعی اخراجات کی ساخت تبدیل ہو سکتی ہے، تاہم خدمات زیادہ مربوط ہوں گی۔

حج آپریشن میں وزارتِ حج و عمرہ کی نگرانی مزید مؤثر ہوگی۔

ابھی پیکیجز کی تفصیلی درجہ بندی، سہولیات کی سطح، اور متوقع قیمتوں کا مکمل اعلان باقی ہے، جسے آئندہ مہینوں میں مرحلہ وار جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
Idara Khidmat Ul Hujjaj Pvt Ltd
Naeem Ahmed
Karachi Corporate Cars
Property Eye

11/06/2026

With Property Eye – I just got recognised as one of their top fans! 🎉
11/06/2026

With Property Eye – I just got recognised as one of their top fans! 🎉

14 سو سال سے بھی پہلے کے قبیلےبنو قریش: خانہ کعبہ کے ارد گرد مکہ کا سب سے طاقتور اور معزز قبیلہ "قریش" آباد دکھایا گیا ہ...
11/06/2026

14 سو سال سے بھی پہلے کے قبیلے
بنو قریش: خانہ کعبہ کے ارد گرد مکہ کا سب سے طاقتور اور معزز قبیلہ "قریش" آباد دکھایا گیا ہے۔
یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آبائی قبیلہ تھا۔
بنو ہاشم: خانہ کعبہ کے بالکل قریب بنو ہاشم کی نشاندہی کی گئی ہے، جو قریش کی ہی ایک معزز ترین شاخ ہے اور اسی خاندان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق تھا۔
۲. مدینہ منورہ اور اس کے قریبی مقامات (بالائی حصہ)
تصویر کے اوپری حصے میں مدینہ منورہ (یثرب) کا سرسبز و شاداب علاقہ اور نخلستان دکھائے گئے ہیں۔
مسجد نبوی: مدینہ کے مرکز میں سبز گنبد کے ساتھ مسجد نبوی کی عمارت دکھائی گئی ہے، جو ہجرتِ مدینہ کے بعد مسلمانوں کا مرکز بنی۔
جبلِ احد (احد پہاڑ): مدینہ منورہ کے پس منظر میں تاریخی پہاڑ "جبل احد" نظر آ رہا ہے، جہاں غزوہ احد کی مشہور جنگ لڑی گئی تھی۔
بنو اوس اور بنو خزرج: مدینہ منورہ کے دائیں اور بائیں طرف ان دو بڑے قبائل کے نام درج ہیں۔ یہ مدینہ کے مقامی انصار قبائل تھے جنہوں نے ہجرت کے بعد مسلمانوں کی دل کھول کر مدد کی تھی۔
۳. مکہ اور مدینہ کے درمیانی مقامات اور وادیاں
مکہ سے مدینہ جانے والے تجارتی اور ہجرت کے راستے پر درج ذیل مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے:
وادی فاطمہ: نقشے کے درمیان میں ایک سرسبز نخلستان اور پانی کا چشمہ نظر آ رہا ہے جسے "وادی فاطمہ" لکھا گیا ہے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مشہور اور زرخیز وادی ہے۔
طائف: مکہ کے پہاڑی سلسلے کے ساتھ دائیں جانب "طائف" کا علاقہ دکھایا گیا ہے، جو اپنی سرد آب و ہوا اور باغات کے لیے مشہور تھا۔
۴. دیگر تاریخی قبائل (درمیانی اور صحرائی علاقے)
مکہ اور مدینہ کے ارد گرد کے وسیع صحرائی علاقوں میں عرب کے دیگر مشہور قبائل آباد تھے جن کے نام تصویر میں درج ہیں:
بنو تمیم: یہ نجد اور حجاز کے درمیانی علاقوں کا ایک بہت بڑا اور جنگجو قبیلہ تھا۔
بنو کنانہ: قریش کا قریبی قبیلہ جو مکہ کے نواح میں آباد تھا۔
بنو بکر: یہ بھی حجاز کے ارد گرد آباد ایک مشہور عرب قبیلہ تھا۔
بنو اسد: مکہ اور مدینہ کے درمیانی صحرائی راستوں پر آباد ایک قبیلہ۔
بنو تک: نقشے کے دائیں جانب دور صحرا میں اس قبیلے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
خلاصہ: یہ تصویر عہدِ رسالت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حجاز کا ایک جامع جغرافیائی خاکہ پیش کرتی ہے، جس سے مکہ اور مدینہ کی دوری، ان کے درمیان موجود وادیوں، تجارتی راستوں (جہاں اونٹوں کے قافلے نظر آ رہے ہیں) اور وہاں آباد مختلف قبائل کی جغرافیائی پوزیشن کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔

Address

UG-2, Mateen Galaxy, Block 10/A, Gulshan E Iqbal
Karachi
75300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Idara Khidmat Ul Hujjaj Pvt Ltd posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share