01/05/2025
🌑 ماں کی بددعا — "ابنِ عاق کا انجام"
✨ حصہ 1: بڑھاپا اور بیٹے کا غرور
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے کی بات ہے۔ ایک شخص تھا جس کا نام نعمان تھا۔ جوان، طاقتور، خوبصورت، اور مالدار۔ والد بچپن میں فوت ہو چکا تھا، اور ماں نے دن رات محنت کر کے اُسے پالا۔ نہ اپنا سکون دیکھا، نہ دوسری شادی کی۔ صرف بیٹے کی پرورش میں زندگی لگا دی۔
جب نعمان جوان ہوا، تو ماں کی جھریاں اور کمزوری اُس کو بوجھ لگنے لگیں۔
ایک دن ماں نے کہا:
"بیٹا! میری کمر میں بہت درد ہے، ذرا تیل لگا دو۔"
نعمان نے نفرت سے کہا:
"اماں! آپ روز روز بہانے کرتی ہیں، جوانی میں تو اکیلی سب کچھ کرتی تھیں، اب کیوں اتنی کمزور ہو گئیں؟"
ماں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر وہ چپ رہی۔
✨ حصہ 2: شادی، فخر، اور بے ادبی
نعمان نے شہر کی ایک خوبصورت، مغرور عورت سے شادی کر لی۔ بیوی اکثر اُسے اُکساتی:
"تمہاری ماں ہمارے معاملات میں دخل دیتی ہے، اُسے علٰیحدہ کر دو!"
نعمان نے ماں کو گھر کے پچھلے کمرے میں قید کر دیا۔ نہ صحیح کھانا، نہ دوا، نہ عزت۔
ایک دن ماں کو شدید بخار ہو گیا۔ اُس نے پانی مانگا، مگر بہو نے کہا:
"شور مت کرو، نعمان آرام کر رہا ہے!"
بوڑھی ماں کانپتے ہاتھوں سے دیوار کے سہارے اٹھنے لگی، تو گر پڑی۔ زمین پر پڑی وہ بس ایک جملہ کہہ سکی:
"اے اللہ! میرا بیٹا اگر میری خدمت نہیں کر سکتا تو اُسے کسی کا محتاج بنا دے، تاکہ اسے ماں کی قدر ہو جائے!"
یہ کہہ کر اُس نے اپنی جان خالق کے سپرد کر دی۔
✨ حصہ 3: بددعا کا اثر
ماں کے انتقال کے کچھ ہی دن بعد، نعمان کی تجارت میں گھاٹا ہوا۔ بیوی چھوڑ گئی۔ دوستوں نے منہ موڑ لیا۔
وہ بیمار ہوا، تو جسم مفلوج ہو گیا۔ ہاتھ کام کرنا چھوڑ گئے۔ پاؤں ہلنا بند ہو گئے۔ وہ گلیوں میں گرتا، لوگ اُسے دھتکارتے۔
ایک دن مسجد کے باہر بیٹھا تھا۔ کسی نے کہا:
"یہ وہی نعمان ہے جس کی ماں دعا مانگ کر اسے پالتی رہی۔ مگر اُس نے اُس ماں کو دھتکارا!"
✨ حصہ 4: فریاد اور بخشش کی امید
ایک رات، نعمان نے آسمان کی طرف دیکھا، آنکھوں میں آنسو تھے:
"اے میرے رب! میں ماں کی نافرمانی میں اندھا تھا۔ مجھے ایک موقع دے دے، میں توبہ کرتا ہوں!"
اسی رات، خواب میں ماں کی روح آئی۔ چہرے پر نور تھا۔ اُس نے کہا:
"بیٹا، اللہ غفور الرحیم ہے۔ میں نے بھی تجھے معاف کر دیا۔ جا، لوگوں کی خدمت کر، اور ماں کی نافرمانی سے لوگوں کو بچا!"
صبح جب وہ اٹھا، اُس کا جسم نارمل ہو چکا تھا۔ اُس نے باقی زندگی یتیموں، بیواؤں اور ماؤں کی خدمت میں گزار دی۔
📚 سبق:
ماں کی خدمت جنت کا دروازہ ہے، اور نافرمانی جہنم کا رستہ۔
ماں کی بددعا عرش تک جاتی ہے، اور اللہ اُس کے آنسو کو ضائع نہیں کرتا۔
عزت، دولت، طاقت سب ختم ہو سکتی ہے، مگر ماں کی رضا نہیں ملتی تو کچھ باقی نہیں رہتا۔
کبھی کسی بوڑھی ماں کو "بوجھ" نہ سمجھو، اُس کے قدموں تلے تمہاری دنیا و آخرت چھپی ہے۔