NADRA matters Legal Helpline

NADRA matters Legal Helpline شناختی کارڈ اور دیگر تعلیمی اسناد میں عمر یا نام کی دُر?

01/05/2025
01/10/2023

یہ وہ ہی 1757ء کی اسٹیبلشمنٹ تھی جس نے 1947ء میں اپنے ساتھیوں کو اقتدار سونپا آج 2023ء تک اسٹیبلشمنٹ ایک ہی ہے یعنی غلام ہندوستان پر جابرانہ حکمرانی کرنیوالوں کا راج۔ جلیانوالہ باغ قتل عام ہو یا لال مسجد قتل عام یہ اسی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیاں ہیں جس نے 1757ء میں جنم لیا تھا۔

رابرٹ کلائیو، جنرل ڈائر، جنرل یحیٰی، جنرل ضیأ الحق، جنرل پرویز مشرف اور آج 2023ء تک ایک ہی اسٹیبلشمنٹ کا سیٹ اپ چلا آرہا ہے لیکن لوگ اس بات پر مطمئن ہوگئے ہیں کہ 1947ء میں ہندوستان برٹش راج سے آزاد ہوگیا تھا۔ بظاہرً تو ہندوستان تقسیم ہوا تھا لیکن جو ریاست پاکستان کے نام سے وجود میں آئی تھی اس پر اسی 1757ء والی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسوں کے تسلسل کا معاہدہ فوجی قیادت سے ہوچکا تھا۔ 1757ء کی اسٹیبلشمنٹ نے 14 اگست 1947ء کو پاکستان کا اقتدار فوج (اسٹیبلشمنٹ) کو سونپ دیا تھا۔ قائد اعظم گورنر جنرل اور لیاقت علی خان وزیراعظم یہ سب عوام کو بیوقوف بنانے کا حربہ تھا۔ درحقیقت جیسے آج اسٹیبلشمنٹ بالادست ہے اور وزیراعظم اور صدر وغیرہ کوئ حیثیت نہیں رکھتے اسی طرح اسی اسٹیبلشمنٹ کے زیر سایہ 14 اگست 1947ء کے گورنر جنرل قائد اعظم اور انکے مسلم لیگی اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتے تھے کہ جتنا آج کا کوئی علاقائی بلدیاتی کونسلر حیثیت رکھتا ہو۔

15 اگست 1947ء کا ہندوستان 1757ء کی اسٹیبلشمنٹ سے جان چھڑانے کا فیصلہ کر چکا تھا اسکی وجہ ہندوستان کے عوام کا شعور تھا جسکا سب سےبڑا مظہر نتھورام گوڈسے کے ہاتھوں گاندھی جی کا قتل تھا اسکے برعکس بعد از تقسیم ریاست پاکستان کے عوام فکر و شعور کی پستی میں ڈوبے ہوئے تھے اور انھیں مزھب اور سیاست کے نام پر ابھی بھی باآسانی بیوقوف بنایا جاسکتا تھا لہذا پاکستان پر اسی عوامی کمزوری کی وجہ سے آج بھی برٹش دور کی 1757ء والی اسٹیبلشمنٹ قابض ہے۔

15 اگست 1947ء کا ہندوستان مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسرت موہانی، رام پرساد بسمل، چندر شیکھر آزاد، بھگت سنگھ اور ادھم سنگھ جیسے سوچ و فکر رکھنے والوں کا دیش تھا جبکہ 14 اگست 1947ء کو وجود میں آنیوالا میرا ملک شعوری و فکری طور پر مکمل بانجھ ہے جس پر آج بھی 1757ء کی اسٹیبلشمنٹ قابض ہے۔

26/08/2023

کے۔الیکٹرک عوام کی پراپرٹی ہے لہذا اس پر عوامی قبضہ ہونا چاھیئے۔ بجلی عوام کا بنیادی حق ہے ریاست سمیت کسی اوباش، بدقماش اور غنڈے سرمایہ دار گروہ کو یہ حق حاصل نہیں ہونا چاھیئے کہ وہ عوام کے اس بنیادی حق پر قابض ہو کر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالے اور اگر عوام کیساتھ یہ منظم ڈکیتی کی جارہی ہے تو یہ ایک انتہائی سنگین اور گھناؤنا جرم ہے جسکی سزا انتہائی سخت ترین ہونی چاھیئے۔ پاکستان کی عدالتیں اسکا نوٹس لینے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہیں جسکا بدترین خمیازہ ریاست چلانے والے ساڑھے تین کروڑ عوام بھگت رہے ہیں۔

ریاستی ملی بھگت سے ایک استحصالی عوام دشمن سرمایہ دار گروہ کراچی کے عوام کو پچھلے اٹھارہ برسوں سے دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے۔ یعنی عوام اپنا بنیادی حق جو کہ انھیں بلکل مفت ملنا چاھیئے وہ حق عوام اپنے گھر کی چیزیں فروخت کر کے حاصل کررہے ہیں۔ ظلم اپنی تمام حدیں پار کرچکاہے۔

عوام بہت بڑی طاقت ہوتے ہیں بس انھیں خوف کا بت توڑنا ہوتا اور بجلی پر قابض گروہ عوام میں موجود اس خوف کے بت کو توڑنے میں مدد دے رہا ہے انقلاب نہ سہی انارکی نے تو دستک دینا شروع کر دیا ہے۔ جنھوں نے عوام کے جسموں سے خون تک نچوڑ لیا ہے سر انکے بھی سلامت نہ رہیں گے اور حالات یہ بتا رہے ہیں کہ سروں کی فصل پک کر تیار کھڑی ہے۔

قوانین بنانے کا مقصد لوگوں کے حقوق کی حفاظت و پاسداری و پاسبانی ہوتا ہے لیکن جب طاقتور، عیار، مکار مظلوموں کے لئےقوانین ...
23/07/2023

قوانین بنانے کا مقصد لوگوں کے حقوق کی حفاظت و پاسداری و پاسبانی ہوتا ہے لیکن جب طاقتور، عیار، مکار مظلوموں کے لئےقوانین بے اثر کردیں اور پھر وہ قوانین طاقتور کو تحفظ فراہم کرنے لگ جائیں، ظالم کی ڈھال بن جائیں تو اسوقت میں جھاد فرض ہو جاتا ہے، پھر ایسے قوانین کے کپڑے اتار ڈالنا، اسے سرعام چوکوں چوراہوں پر ننگا کردینا فرض عین ہوجاتا ہے۔ پھر ایسے حالات میں اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے جزبہ، ولولہ، نئ امنگ، حوصلہ پیدا کرکے فتح حاصل کی جا سکتی ہے۔

With the latest technological advancements, people have devised new ways of digital fraud. UrduPoint anchor Danish Hussain has interviewed such a Rickshaw dr...

دشمن سرحدوں کے اندر ہی ہیں:-آپ اگر اس پروگرام کو سنیں تو آپکے لئے یہ یقین کرنا مشکل نہیں ہوگا کہ پاکستان پر ایک عفریت، ا...
23/07/2023

دشمن سرحدوں کے اندر ہی ہیں:-

آپ اگر اس پروگرام کو سنیں تو آپکے لئے یہ یقین کرنا مشکل نہیں ہوگا کہ پاکستان پر ایک عفریت، ایک بلا ایک مستقل عذاب کی صورت میں مسلط ہیں اور یہ ہے وہ "قوت" جو پردے کے پیچھے سے کارفرما ہے۔ فیصل واووڈا اسی قوت کی ترجمانی کررہا ہے، فیصل واووڈا اسی قوت کی باتیں اس پروگرام میں کررہا ہے۔

کیا یہ پردے کے پیچھے کی قوت ملک دوست ہے؟ کیا یہ پردے کے پیچھے کی قوت ملک کی تعمیر وترقی کے لئے سود مند ہے؟ کیا پچھلے 75 برسوں سے اس پردے کے پیچھے کی قوت کے اعمال و افعال ملک و قوم کے مفاد میں تھے یا ہیں ؟ ان تمام سوالات کے جوابات خود ملکی معاشی و معاشرتی حالات دے رہے ہیں۔

یہ بات بھی طے ہیکہ عوام اس کارفرما قوت سے مکمل بدظن ہیں اور اس سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ اس پردے کے پیچھے کی قوت نے اپنے خفیہ اقتدار کے دوام کے لئے پاکستان کی عوام کو تقسیم در تقسیم کئے رکھا ہے اسطرح پردے کے پیچھے کی یہ طاقت اپنے دیگر جرائم کے علاوہ اس انتہائی گھناؤنے اور قبیح جرم کی بھی مرتکب ہوئی ہے۔

سیاست سمیت پاکستان کا ہر شعبہ اس پردے کے پیچھے کی قوت کا غلام نظر آتا ہے۔ یہ بدی کی قوت سیاست کو اپنے سب سے مضبوط ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتیں اسکی غلام ہیں۔ عقل و شعور سے عاری، ناخواندہ، ان سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنان مطلب پرست، مفاد پرست، جھوٹے، جرائم پیشہ اور درجہ انسانیت سے گرے ہوئے لوگ ہیں۔ میں ان کارکنان کو ان القابات سے اس لئے نواز رہا ہوں کیونکہ یہی سیاسی و مذہبی کارکنان اس پردے کے پیچھے کی بدی کی قوت کی first line of defense ہیں۔ کیا اس ملک میں ایسی سیاست اور ایسے سیاسی و مذہبی کارکنان کی موجودگی میں کسی مثبت تعمیری انقلاب کی توقع کی جا سکتی ہے؟

چونکہ میڈیا بھی اس پردے کے پیچھے کی بدی کی قوت کا غلام ہے لہزا وہ اس "خفیہ اور un registered سیاسی جماعت" کے ترجمانوں سے "اندر" کی خبریں عوام تک پہنچا نا اپنا فرض گردانتا ہے۔

شاید اب کوئی حقیقی تبدیلی اور انقلاب فطری عمل کے تحت ہی ظہور پذیر ہو سکے۔ موجودہ ملکی حالات اسکے اشارے بھی دے رہے ہیں۔ سسٹم کی بوسیدگی، اسکی ٹوٹ پھوٹ، طبقاتی کشمکش، حدوں کو چھوتی ہوئی مہنگائ، جہالت و غربت، اشرافیہ کی عیاشیاں اور پردے کے پیچھے کی بدی کی قوت کی ملک و ملت دشمنی آج نہیں تو کل انقلاب فرانس سے بھی زیادہ سخت انقلاب کی نوید بن کر نمودار ہوگی۔۔۔۔۔۔آپ اسے انارکی کہہ لیں لیکن اب یہ عمل ضروری ہوگیا ہے۔

Faisal Vawda Do tok Statement in Kiran Naz Program | Chairman PTI Cases | SA...

دنیا میں 143 ویں نمبر کی جیوڈشری کی عیاشیاںزوال پزیر ریاست کی شاہ خرچیاںکرپٹ ریاست کے کرپٹ اداروں کی خر مستیاںسپریم کورٹ...
04/07/2023

دنیا میں 143 ویں نمبر کی جیوڈشری کی عیاشیاں
زوال پزیر ریاست کی شاہ خرچیاں
کرپٹ ریاست کے کرپٹ اداروں کی خر مستیاں

سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہوں میں اضافے کا آرڈر جاری

قائم مقام صدر صادق سنجرانی نے سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہوں میں اضافے کا آرڈر جاری کر دیا۔

صدارتی آرڈر 2023 کے تحت چیف جسٹس کی تنخواہ میں 2 لاکھ 4 ہزار 885 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

سپریم کورٹ کے دیگر ججز کی تنخواہ میں ایک لاکھ 93 ہزار 527 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

آرڈر کے بعد چیف جسٹس پاکستان کی تنخواہ 12 لاکھ 29 ہزار 189 روپے ماہانہ ہو گئی۔

سپریم کورٹ کے جج کی تنخواہ 11 لاکھ 61 ہزار 163 روپے ماہانہ ہو گئی۔

2022ء کے آرڈر کے مطابق چیف جسٹس کی تنخواہ 10 لاکھ 24 ہزار 324 روپے تھی جبکہ جج کی تنخواہ 9 لاکھ 67 ہزار 636 روپے تھی

یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیںدو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیںاک شمع بجھائی تو کئی اور جلا لیںہم گردشِ دوراں س...
02/07/2023

یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں
دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں

اک شمع بجھائی تو کئی اور جلا لیں
ہم گردشِ دوراں سے بڑی چال چلے ہیں

🔴Forensic Criminal Investigation. TECHNIQUES OF HUMANIDENTIFICATION🔴فرانزک مجرمانہ تفتیش۔ انسان کی شناخت تکنیک🔵 ڈی این ا...
01/07/2023

🔴Forensic Criminal Investigation. TECHNIQUES OF HUMANIDENTIFICATION
🔴فرانزک مجرمانہ تفتیش۔ انسان کی شناخت تکنیک
🔵 ڈی این اے
🔵DNA

As with the other biometric methods of identification, DNA comparison relies on accessible antemortem data. However, unlike other modalities, familial relationship can be established even when antemortem data are not available.

In addition, like ridgeology (fingerprints), large
national databases are currently being established that can reduce the need for a presumptive identification, especially if the decedent has had contact with the justice system.

The best sources for DNA material are direct
reference samples from the decedent during
life. Direct reference samples are classified as
primary and secondary. Primary direct DNA
sources include blood, a tissue biopsy slide, a
pap smear, tooth remnants, and a hair sample
(with roots). Direct secondary DNA sources
include a toothbrush, comb, bedding, or
clothing. Indirect DNA reference samples are
those from biological relatives.

DNA testing requires more time, effort, specialized personnel,and higher cost than other identification methods. The degree to which human remains are fragmented or degraded determines the value of DNA analysis in the identification process. Intact, large body parts lend themselves to identification by less costly methods, such as
dental, radiographic imaging, and fingerprints.

However, DNA analysis may be the only viable
method for identifying severely fragmented or
degraded remains. The majority of forensic
DNA tests are performed on nuclear DNA using polymerase chain reaction (PCR) amplificationof the sample with short tandem repeat (STR)typing.

Simultaneous analysis of mitochondrial
DNA (mtDNA) may be necessary to improve
the identification process.

STRs are particularly informative when using
well-preserved soft tissue and bone samples andeven on degraded tissue and bone fragments if the DNA extraction process is optimized.

However, STRs alone are often not sufficient
for identification when samples are severely
compromised.

Forensic DNA analyses for human identification has seen a tremendous upsurge since the President’s DNA Initiative Program that beganin 2003.

The program provided funding,training, and further financial assistance to ensure that forensic DNA would reach its full potential in identifying missing persons. Fromthis program, the National Institute of Justice
(NIJ) now provides funding to have DNA
analyses performed on unidentified remains bythe Center for Human Identification at the University of North Texas or the FBI.

Once the analysis is complete, the profiles (if they are sufficient) are entered into the FBI’s CODIS system (Combined DNA Index System) and uploaded into the National DNA Index System.

🔴فرانزک مجرمانہ تفتیش۔ انسان کی شناخت تکنیک
🔵 ڈی این اے

شناخت کے دیگر بائیو میٹرک طریقوں کی طرح، ڈی این اے کا موازنہ قابل رسائی پر انحصار کرتا ہے۔ اینٹی مارٹم ڈیٹا تاہم، دیگر طریقوں کے برعکس، خاندانی تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اینٹی مارٹم ڈیٹا دستیاب نہ ہو۔

اس کے علاوہ، رجولوجی (انگلیوں کے نشانات) کی طرح، بڑے قومی ڈیٹا بیس اس وقت قائم کیے جا رہے ہیں جو ایک مفروضہ شناخت کی ضرورت کو کم کر سکتے ہیں، خاص طور پر اگر متوفی انصاف کے نظام سے رابطہ ہوا ہے۔

ڈی این اے مواد کے بہترین ذرائع براہ راست ہیں۔
کے دوران مرنے والے سے حوالہ نمونے۔ زندگی براہ راست حوالہ نمونے کے طور پر درجہ بندی کر رہے ہیں بنیادی اور ثانوی. بنیادی براہ راست ڈی این اے ذرائع میں خون، ایک ٹشو بایپسی سلائیڈ، a پاپ سمیر، دانتوں کی باقیات، اور بالوں کا نمونہ (جڑوں کے ساتھ)۔ براہ راست ثانوی DNA ذرائع دانتوں کا برش، کنگھی، بستر، یا شامل کریں۔ لباس بالواسطہ ڈی این اے ریفرنس کے نمونے ہیں۔ وہ جو حیاتیاتی رشتہ داروں سے ہیں۔

ڈی این اے ٹیسٹنگ مزید وقت، محنت، خصوصی افراد کی ضرورت ہے، اور دیگر شناخت سے زیادہ قیمت طریقے جس درجہ تک انسان باقی رہتا ہے۔ بکھرے ہوئے ہیں یا انحطاط کا تعین کرتا ہے۔ شناخت میں ڈی این اے تجزیہ کی قدر عمل برقرار، جسم کے بڑے حصے خود کو قرض دیتے ہیں۔ کم مہنگے طریقوں سے شناخت کرنا، جیسے
ڈینٹل، ریڈیوگرافک امیجنگ، اور فنگر پرنٹس۔

تاہم، ڈی این اے کا تجزیہ ہی ممکن ہے۔ شدید بکھرے ہوئے یا کی شناخت کا طریقہ تباہ شدہ باقیات. فرانزک کی اکثریت ڈی این اے ٹیسٹ جوہری ڈی این اے پر استعمال کرتے ہوئے کئے جاتے ہیں۔ پولیمریز چین ری ایکشن (PCR) پروردن مختصر ٹینڈم ریپیٹ (STR) کے ساتھ نمونے کا ٹائپنگ مائٹوکونڈریل کا بیک وقت تجزیہ ڈی این اے (mtDNA) شناخت کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہو سکتا ہے۔
.

استعمال کرتے وقت STRs خاص طور پر معلوماتی ہوتے ہیں۔ اچھی طرح سے محفوظ نرم بافتوں اور ہڈیوں کے نمونے اور یہاں تک کہ انحطاط شدہ بافتوں اور ہڈیوں کے ٹکڑوں پر بھی اگر ڈی این اے نکالنے کے عمل کو بہتر بنایا گیا ہو۔

تاہم، اکیلے STRs اکثر کافی نہیں ہوتے ہیں۔سمجھوتہ شناخت کے لیے جب نمونے شدید ہوں۔


انسانی شناخت کے لیے فرانزک ڈی این اے کے تجزیوں میں اس کے بعد سے زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ صدر کا ڈی این اے انیشیٹو پروگرام شروع ہوا۔

2003 میں پروگرام نے فنڈ فراہم کیا، تربیت، اور مزید مالی امداد اس بات کو یقینی بنائیں کہ فرانزک ڈی این اے مکمل طور پر پہنچ جائے گا۔ لاپتہ افراد کی شناخت کا امکان سے یہ پروگرام، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف جسٹس این آئی جی اب ڈی این اے رکھنے کے لیے فنڈ فراہم کرتا ہے۔کی طرف سے نامعلوم باقیات پر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تجزیہ یونیورسٹی آف نارتھ ٹیکساس یا ایف بی آئی میں انسانی شناخت کا مرکز۔

تجزیہ مکمل ہونے کے بعد، پروفائلز (اگر وہ ہیں۔ کافی) ایف بی آئی کے CODIS سسٹم (کمبائنڈ ڈی این اے انڈیکس سسٹم) میں داخل ہیں اور نیشنل ڈی این اے انڈیکس سسٹم میں اپ لوڈ کیا گیا۔

30/06/2023
پاکستان میں سائبر کرائم کا قانون کیا ہے اور اس کی کیا سزائیں مقرر ہیں .؟ جواب : عام افراد کے لئے سائبر جرائم اور ان کی س...
23/06/2023

پاکستان میں سائبر کرائم کا قانون کیا ہے اور اس کی کیا سزائیں مقرر ہیں .؟
جواب : عام افراد کے لئے سائبر جرائم اور ان کی سزاؤں کا جاننا بے حد ضروری ہے۔

1) کسی بھی شخص کے موبائل فون، لیپ ٹاپ وغیرہ تک بلا اجازت رسائی کی صورت میں 3 ماہ قید یا 50ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

2) کسی بھی شخص کے ڈیٹا کو بلا اجازت کاپی کرنے پر 6 ماہ قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

3) کسی بھی شخص کے فون، لیپ ٹاپ کے ڈیٹا کو نقصان پہنچانے کی صورت میں 2 سال قیدیا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

4) اہم ڈیٹا (جیسے ملکی سالمیت کے لیے ضروری معلومات کا ڈیٹا بیس) تک بلااجازت رسائی کی صورت میں 3سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

5) اہم ڈیٹا کو بلااجازت کاپی کرنے پر 5 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

6) اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچانے پر 7سال قید، 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

7) جرم اور نفرت انگیز تقاریر کی تائید و تشہیر پر 5سال قیدیا 1کروڑ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

8) سائبر دہشت گردی:کو ئی بھی شخص جو اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچائے یا پہنچانے کی دھمکی دے یا نفرت انگیز تقاریر پھیلائے ، اسے 14سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

9) الیکٹرونک جعل سازی پر 3 سال قید یا ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں

10) الیکٹرونک فراڈ پر 2سال قید یا 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

11) کسی بھی جرم میں استعمال ہونے والی ڈیوائس بنانے، حاصل کرنے یا فراہم کرنے پر 6ماہ قید یا 50ہزر جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

12) کسی بھی شخص کی شناخت کو بلا اجازت استعمال کرنے پر 3 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

13) سم کارڈ کے بلا اجازت اجراء پر 3 سال قید یا 5 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

14) کمیونی کیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر 3سال قید یا 10 لاکھ جرماہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

15)بلااجازت نقب زنی( جیسے کمیونی وغیرہ میں) پر 2سال قیدیا 5لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

16) کسی کی شہرت کے خلاف جرائم:کسی کے خلاف غلط معلومات پھیلانے پر 3 سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

17)کسی کی عریاں تصویر/ ویڈیو آویزاں کرنے یا دکھانے پر 7 سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

18) وائرس زدہ کوڈ لکھنے یا پھیلانے پر 2سال قید یا 10لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

19) آن لائن ہراساں کرنے، بازاری یا ناشائستہ گفتگو کرنے پر 1سال قید یا یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا رونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

20)سپامنگ پر پہلی دفعہ 50ہزار روپے جرمانہ اور اس کے بعد خلاف ورزی پر 3ماہ قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

21) سپوفنگ پر 3سال قید یا 5لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

Address

Gulshan E Iqbal, North Nazimabad, PECHS, Clifton, North Karachi
Karachi

Telephone

+923337297683

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when NADRA matters Legal Helpline posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to NADRA matters Legal Helpline:

Share