21/08/2026
نیا مجوزہ آئینی مسودہ
آٹھائیسویں آئینی ترمیم
---
باب اول: ریاست کا انتظامی ڈھانچہ
پاکستان ایک وفاقی، جمہوری اور آئینی ریاست ہوگا جس میں مضبوط وفاق، بااختیار صوبے اور مکمل خودمختار بلدیاتی نظام ہوگا۔ ریاست کے تمام ادارے آئین کے تحت کام کریں گے اور آئین کے تابع ہوں گے۔
---
باب دوم: نئے صوبے
بہتر حکمرانی، متوازن ترقی اور عوامی خدمات کی بہتر فراہمی کے لیے ملک کو انتظامی طور پر درج ذیل صوبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
پنجاب
شمالی پنجاب
وسطی پنجاب
جنوبی پنجاب
پوٹھوہار
بہاولپور
سندھ
کراچی
حیدرآباد
میرپور خاص
سکھر
لاڑکانہ
خیبر پختونخوا
پشاور
ہزارہ
ملاکنڈ
ڈیرہ اسماعیل خان
بلوچستان
کوئٹہ
مکران
ژوب
قلات
دیگر وفاقی اکائیاں
گلگت بلتستان
آزاد جموں و کشمیر آئینی اور سیاسی اتفاق رائے سے مشروط
---
باب سوم: صدرِ مملکت
صدر ریاست، وفاق اور آئین کی علامت ہوگا۔
صدر کا انتخاب عوام براہِ راست کریں گے۔
صدر وفاقی حکومت کا سربراہ ہوگا۔
وفاقی کابینہ صدر کے اختیار کے تحت کام کرے گی۔
صدر قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور وفاقی اداروں کی نگرانی کرے گا۔
---
باب چہارم: وفاقی کابینہ
تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ وفاقی کابینہ کے رکن ہوں گے۔
ہر وزیر اعلیٰ کو اپنے صوبے کے معاملات میں مکمل اختیار حاصل ہوگا، لیکن وفاق اور قومی امور میں وہ صدر کو جوابدہ ہوگا۔
تمام وزرائے اعلیٰ قومی پالیسی سازی میں حصہ لیں گے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی یقینی بنائی جا سکے۔
---
باب پنجم: گورنر
ہر صوبے کا ایک گورنر ہوگا جو وفاق اور صدر کا نمائندہ ہوگا۔
گورنر صوبے میں آئین اور وفاقی پالیسیوں پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گا۔
اگر کوئی وزیر اعلیٰ آئین کی خلاف ورزی کرے یا اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہ کرے تو گورنر، صدر کی منظوری سے، وزیر اعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی عمل شروع کرنے کی سفارش کر سکتا ہے۔ ایسا اقدام وفاقی آئینی عدالت کی عدالتی نظرثانی سے مشروط ہوگا۔
---
باب ششم: وفاقی مقنہ
قومی اسمبلی کو ختم کر دیا جائے گا۔
سینیٹ ایوانِ بالا کی حیثیت سے واحد وفاقی قانون ساز ایوان ہوگا۔
تمام وفاقی قوانین، قومی بجٹ اور آئینی ترامیم کے لیے سینیٹ کی منظوری ضروری ہوگی۔
سینیٹرز کا انتخاب صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کھلی رائے شماری کے ذریعے کریں گے۔
---
باب ہفتم: صوبائی حکومت
ہر صوبے کی ایک منتخب صوبائی اسمبلی ہوگی۔
وزیر اعلیٰ کا انتخاب صوبائی اسمبلی کے اراکین کریں گے۔
صوبائی کابینہ صوبے کے انتظامی امور چلائے گی۔
---
باب ہشتم: وفاقی آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت ملک کی سب سے بڑی آئینی عدالت ہوگی۔
یہ وہ آئینی اختیارات انجام دے گی جو اس وقت سپریم کورٹ کے پاس ہیں۔
آئین کی تشریح، بنیادی حقوق کے تحفظ اور وفاق و صوبوں کے درمیان تنازعات کے حل کا حتمی اختیار اسی کے پاس ہوگا۔
---
باب نہم: بلدیاتی نظام
ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ ناظم میئر/ایڈمنسٹریٹر کا انتخاب عوام براہِ راست کریں گے۔
ڈپٹی کمشنر DC ڈسٹرکٹ ناظم کے ماتحت انتظامی افسر کے طور پر کام کرے گا۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر DPO ضلع میں امن و امان کے لیے ڈسٹرکٹ ناظم کے ماتحت ہوگا، جبکہ پولیس کے پیشہ ورانہ اور قانونی اختیارات آئین اور قانون کے تحت محفوظ رہیں گے۔
تحصیل ناظمین اور یونین کونسلوں کا آئینی طور پر محفوظ نظام قائم کیا جائے گا۔
ترقیاتی فنڈز کا ایک بڑا حصہ براہِ راست بلدیاتی اداروں کو منتقل کیا جائے گا۔
---
باب دہم: بنیادی اصول
مضبوط وفاق کے ساتھ بااختیار صوبے۔
مضبوط اور آئینی طور پر محفوظ بلدیاتی نظام۔
فوری، شفاف اور غیر سیاسی احتساب۔
ایک آزاد وفاقی آئینی عدالت۔
اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی۔
ریاست کے تمام ادارے آئین اور قانون کے تابع ہوں گے۔🇵🇰