Reality To Words

Reality To Words Reality

30/05/2026

29/05/2026

سورۃ الفلق میں چار چیزوں سے اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے، اور وہ چاروں بڑی خطرناک، خوفناک اور ہلاکت خیز چیزیں ہیں۔
جبکہ سورۃ الناس میں صرف ایک چیز سے پناہ مانگی گئی ہے، مگر وہ ایک چیز اپنی تباہی اور ہلاکت میں سورۃ الفلق والی چار چیزوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

اب غور کریں سورہ الفلق میں چار چیزوں سے پناہ مانگی گئی، مگر اس کے آغاز میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی صرف ایک صفت کا وسیلہ پکڑا گیا۔
اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ
"میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی۔"
ان چار چیزوں سے...
(١) تمام مخلوق کے شر سے
(٢) چھا جانے والے اندھیرے کے شر سے
(٣) جادوگر عورتوں کے شر سے
(٤) حسد کرنے والوں کے شر سے جب وہ اپنے حسد پر چل پڑیں
اب سورۃ الناس کو دیکھیں۔ اس میں پناہ صرف ایک چیز سے مانگی گئی، مگر آغاز میں اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی تین صفات کا وسیلہ پکڑا گیا:
اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ، مَلِكِ النَّاسِ، اِلٰهِ النَّاسِ
"میں پناہ مانگتا ہوں تمام انسانوں کے رب کی، تمام انسانوں کے بادشاہ کی، تمام انسانوں کے حقیقی معبود کی۔"
صرف ایک چیز سے اور وہ چیز ہے خنّاس کا وسوسہ۔
اے تمام انسانوں کے رب! اے تمام انسانوں کے شہنشاہ! اے تمام انسانوں کے معبود برحق! مجھے خنّاس کے وسوسے کے شر سے بچالے۔
یہ خنّاس، یعنی چھپا ہوا دشمن، انسان ہو یا کوئی جن یا شیطان۔
خنّاس اسے کہتے ہیں جو سیدھا آپ کے دل پر وار کرے اور آپ کو پتا ہی نہ چلے۔ اور وہ یہ وار کرکے چھپ جائے۔ چھپ جانے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو نظر ہی نہ آئے، یا بظاہر دوست اور خیر خواہ نظر آئے مگر حقیقت میں وہ آپ کے دل میں کوئی برائی اُتار دے۔
بڑا خطرناک معاملہ ہے، بہت ہی خطرناک۔ دل میں وسوسہ اُتر گیا تو پھر تباہی ہی تباہی ہے!
خاوند بیوی محبت سے رہ رہے ہوتے ہیں۔ کوئی آتا ہے، ہنستے کھیلتے دو لفظ بول کر اُن میں سے کسی ایک کے دل میں وسوسے کا بیج بوتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ بس اس کے دو لفظ کا وسوسہ اتنے حسین اور قریبی رشتے کو برباد کر دیتا ہے اور محبت فنا ہوجاتی ہے۔ دکھ، غم اور شکوے جنم لے لیتے ہیں۔
آپ کسی اچھے انسان سے محبت کرتے ہیں۔ اس کی محبت سے آپ کو دینی فائدہ ہوتا ہے۔ ایک چغل خور آتا ہے، باتوں باتوں میں غیر محسوس طریقے سے آپ کے کان میں وایسا وسوسہ ڈال جاتا ہے کہ آپ کی محبت نفرت اور شک میں تبدیل ہوجاتی ہے، اور سالہا سال کی محنت اور محبت کا منٹوں میں جنازہ نکل جاتا ہے۔
اسی طرح شیاطین جو جنات ہیں، نظر نہیں آتے۔ آپ کو کسی ایسی بدگمانی میں ڈال دیتے ہیں کہ پھر آپ خود کو روک نہیں سکتے اور اس بدگمانی کے طوفان میں آپ کے کتنے رشتے، نعمتیں اور محبتیں تنکوں کی طرح بہہ جاتی ہیں۔
اللہ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے آمین! 🤲
منقول

Manhattan Project Human Radiation Experiments — مکمل تاریخکیا ہوا؟1944 میں Manhattan Project کی میڈیکل ٹیم نے فیصلہ کیا ...
15/05/2026

Manhattan Project Human Radiation Experiments — مکمل تاریخ
کیا ہوا؟
1944 میں Manhattan Project کی میڈیکل ٹیم نے فیصلہ کیا کہ انسانوں پر کنٹرولڈ تجربات ضروری ہیں۔ انہوں نے منصوبہ بنایا کہ ملک بھر کے ہسپتالی مریضوں کو radioactive مواد — plutonium، polonium، اور uranium — inject کیا جائے۔ (Nuclear Museum)
اپریل 1945 سے جولائی 1947 تک، 18 مردوں، عورتوں اور بچوں کو Manhattan Project کے ڈاکٹروں نے plutonium inject کیا۔ کسی کو نہیں بتایا گیا کہ کیا ہو رہا ہے، اور کسی سے رضامندی نہیں لی گئی۔ (SAGE Publications)
پہلا شکار — Ebb Cade
پہلا انسانی شکار Ebb Cade تھا — ایک 53 سالہ سیاہ فام مزدور جو گاڑی حادثے میں ہڈی ٹوٹنے پر Oak Ridge ہسپتال آیا تھا۔ اس نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ وہ ہمیشہ صحتمند رہا ہے۔ پھر بھی انہوں نے خفیہ طور پر اسے plutonium inject کر دیا۔ اگلے پانچ دنوں تک اس کا پیشاب اور پاخانہ اکٹھا کیا گیا — اور اس کی ٹوٹی ہڈی بھی نہیں جوڑی گئی۔ (AHRP)
کون لوگ تھے؟
ان میں Albert Stevens بھی تھے جنہوں نے کسی بھی انسان کی تاریخ میں سب سے زیادہ radiation کی خوراک جھیلی، ایک 4 سالہ بچہ Simeon Shaw جسے آسٹریلیا سے علاج کے نام پر امریکہ لایا گیا، اور Elmer Allen بھی شامل تھے۔ (Wikipedia)
Simeon Shaw نامی 4 سالہ بچے کو bone cancer تھی۔ اسے آسٹریلیا سے کیلیفورنیا لایا گیا۔ ہسپتال میں اس کی ماں کو کبھی کبھار ملنے دیا جاتا تھا۔ اسے plutonium inject کی گئی اور ایک مہینے بعد چھٹی دے دی گئی — آٹھ مہینے بعد وہ مر گیا۔ (Coloradonuclearatlas)
مقصد کیا تھا؟
plutonium کے تجربات کا مقصد یہ جاننا تھا کہ جسم کتنا plutonium جذب کرتا ہے اور کتنا خارج — تاکہ nuclear safety کے لیے معیارات بنائے جا سکیں۔ (Nuclear Museum)
انکشاف کب ہوا؟
یہ تجربات 40 سال تک چھپائے گئے۔ جب منظرِ عام پر آئے، تو حکومت نے معافی مانگی — لیکن کسی ایک ڈاکٹر یا ہسپتال کو سرعام ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ (SAGE Publications)
یہ واقعہ آج بھی medical ethics کی سب سے بڑی خلاف ورزیوں میں شمار ہوتا ہے — جہاں "سائنس کی ترقی" کو انسانی وقار اور رضامندی سے اوپر رکھا گیا

11/05/2026

Address

Karachi

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Reality To Words posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share