27/08/2022
تحریر وتخلیص :- یاسین 😎
پیشکش: سائنسی معلومات😎
19 اگست پر ساری دنیا میں مکھیوں/شہد کا دن منایا جاتا ہے ھم نے تو بلکل نہیں منایا لیکن اپکو شہد کے بارے میں ڈھیر سارے معلومات فراہم کرے گے جو کہ آئندہ اپکو یاد ہوگا۔
جو شہد اپ کھاتے ہو یہ ایک دم سے نہیں بنتا اس کیلئے جتنا محنت مکھیاں کرتی ہے یقین مانے کوئی نہیں کرسکتا یہ ایک لمبا طریقہ کار ہوتا ہے سب سے پہلے اپکو کچھ ٹرم کو سمجھنا ہوگا جس اپکو طریقہ کار کو سمجھنے میں آسانی ہو
ورکر__ جو مکھیاں فصل (نیکٹر) کھاتی ہے
پراسیسر__ یہ مفت خور مکھیاں ہوتی ہے جو ورکر سے کھاتی ہے
ہوتا یہ ہے کہ جب موسم بہار شروع ہوتا ہے تو مکھیاں اپنے گھر سے بھاگنا شروع کرتے ہے
مکھیاں جب اپنے گھر (چتھے) کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے تو تقریباً سارا دن 1500 تک پھولوں کو چیک کرتی ہے اسکے بعد صرف ایک کو پسند کرتی ہے
مکھیوں کو پھول کی نیکٹر سے صرف سکروز چاہے ہوتا ہے ساری مکھیاں یہ اچھی طرح جانتی ہے کہ نیکٹر خوش ذائقہ ہوتا ہے لیکن ان کی چھوٹی جسم کی وجہ سے یہ سکروز کو ڈائریکٹ حاصل تو نہیں کرسکتی البتہ اسکا توڑ پھوڑ کیا جاتا ہے
اگر اپ شادی شدہ ہو تو اپکو پتہ ہوگا کہ اپکی محبوب گھر میں بیٹھ کر اپ سے مفت میں مانگتی ہیں جب شوہر بیچارہ گھر اتا ہے تو صرف یہ مانگنے پر تلی ہوئی ہوتی ہے اسکو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ پیسہ کمانا کتنا مشکل ہے بلکل یہ کام اس مکھیوں میں بھی پایا جاتا ہے کہانی کچھ یو ہے کہ ۔۔
تمام مکھیاں نیکٹر نہیں کھاتی، نیکٹر کھانے والے مکھیاں(ورکر) جب واپس گھر اتی ہے تو گھر میں ایک اور مکھی(محبوبہ) انتظار میں رہتی ہے یہ محبوبہ
نیکٹر کھانے والی نہیں ہوتی بلکہ مخصوص مکھیاں جسکو پراسیسر کہا جاتا ہے یہ لڑکیوں کی طرح گھر میں بیٹھ کر انتظار کرتی ہے، نیکٹر کھانے والی مکھی جب واپس اتی ہے تو اس نیکٹر کو پراسیسر مکھی(محبوبہ) کو منہ کے ذریعے منتقل کرتی ہے
اب یہ پراسیسر مکھی اس پر ایک انزائم خارج کرتی ہے ہے جس سے سکروز_ پرکٹوز اور گلوکوز میں تبدیل ہوتا پے ، یہ انزائم چونکہ عمر کے لحاظ کے بنتے ہے پراسیسر مکھی کی عمر درمیانی ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ انزائم آسانی سے بناتے ہے زیادہ عمر ہونے کے بعد بعض مکھیاں یہ انزائم بنانا چھوڑ دیتے ہے جس کی وجہ سے یہ ورکر کے نام سے جانا جاتا ہے یہ توڑ پوڑ صرف بیس منٹ کے اندر ہوتا ہے
یہ تو کچھ بیھی نہیں اور سنو!
پراسیسر مکھی( جس نے خوراک ورکر سے لیا ہو) اس آب حیات( جو مکمل شہد نہیں ہوتا ) اپنے ککڑی میں ڈال دیا جاتا ہے
اسکے بعد اس شہد میں تقریباً 70فیصد پانی ہوتا ہے اسکو خشک کرنے کیلئے پراسیسر مکھی کئ گھنٹوں تک اس honeycomb پر پنکے کی طرح ہوا کرکے خشک ہونے کے بعد یہ پانی 18 فیصد بچ جاتا ہے اسکے بعد اسی سراخ پر waxe ڈال دیتا ہے جس سے یہ بند ہو جاتا ہے
شہد نکالنے کے اسکا بنیادی کمپاونڈ Butyl acetet ہوتا ہے جسکا جنرل فارمولا C6H12O2 ہوتا ہے یہ ester کے خاندان ست سے تعلق رکھتا ہے ،اسکا بوائللنگ پوائنٹ 126سینٹی گریڈ پوتا پے
شاید اپ بہت دفعہ مکھیوں کے قبضے میں ائے ہوں گے جب اپ مکھیوں کے گھر پر ڈاکہ ڈاک دیتے ہو تو اس وقت ایک کمپاونڈ خارج کرتا پے یہ کمپاونڈ بلکل ایک گنٹی کی طرح کام کرتا ہے یہ کمپاونڈ isopentyl acetet ہوتا ہے یہ خارج ہوتے ہی ساری مکھیاں ادھر آدھر بکھیری جاتی یے
#فوائد
اگر فوائد پہ اجائے تو شہد بھی کسی سے کم نہیں چونکہ اسمیں مختلف ایلیمنٹ مختلف مقدار سے پاے جاتے ہے جسکا اپنا اپنا کام ہوتا ہے
👈اینیمیا کا خاتمہ
یہ بیماری خون میں ائرن کی کمی کی وجہ سے بنتی ہے اگر اپکے خون میں ائرن کم۔ہو تو پ
اپکو آکسیجن پورا نہیں ہوگا جس سے اپکے دل ودماغ صحیح طرح سے کام نہیں کرتا اگر اپ شہد کو روزانہ کی بنیاد پر استعمال کرنا شروع کرے تو یہ مسلہ حل ہوسکتا پے کیونکہ شہد میں ائرن پایا جاتا ہے
👈بلڈ پریشر کا مسلہ
تقریباً ہر کوئی اس مسلے کا شکار ہے
لو بلڈ پریشر میں بعض لوگ بلڈ کی مقدار کو کم کرنے سے جوڑتے ہیں لیکن اسکا مطلب دماغ کو آکسیجن کا کم سپلائی کی وجہ سے بنتی ہے اگر شہد کھانا شروع کرے تو یقیناً اپکا مسلہ حل ہوتا ہے
اسکے علاوہ بہت سے فوائد ہے لیکن تحریر کی لمبائ ہونے کی وجہ سے اگنور کیا جارہا ہے
؟
ایک بات تو یہ ہے کہ اسمیں پانی بہت کم ہوتا ہے اسکے علاوہ یہ اپنے اردگرد کے ماحول سے بھی پانی کو بھی بخارات میں تبدیل کرتے ہے(مطلب یہ بیکٹریا کو بھی خشک کرتا ہے ) اور اسطرح خراب نہیں ہوتا ۔۔
اسکے علاوہ اسمیں ایک تیزاب(Gluconic Acid)_ جو کہ شہد کا طاقتور تیزاب مانا جاتا ہے یہ تیزاب اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مکھی گلوکوز پر انزائم خارج کرتی ہے ۔۔
اس تیزاب سے شہد کی PH لیول تقریباً 4,3 تک رہتا ہے
اسکے ساتھ ایک اور کمپاونڈ (Hydrogen peroxide) بھی ہوتا ہے جو بیکٹریا کی بڑھنے کی شرح کو کم کرتا ہے۔
ساری عمر تمام تر مکھیاں صرف ادھے چمچ سے بھی کم شہد بنادیتے ہے جسکو آپ انتہائ پسند کرتے ہو لیکن مکھیوں کی محنت کی اپ نے کبھی اندازہ نہیں لگایا یقین مانے یہ بڑی حیرت کی بات ہے۔۔۔