Biutifull world

Biutifull world Just For Fun

19/01/2026
یہ کسی درگاہ کا گنبد نہیں بلکہ بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کی تحصیل چھتر میں موجود وہ قدیم کنویں ہیں۔جنھیں آج سے قریب ڈھائی...
02/05/2023

یہ کسی درگاہ کا گنبد نہیں بلکہ بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کی تحصیل چھتر میں موجود وہ قدیم کنویں ہیں۔
جنھیں آج سے قریب ڈھائی سو سال پہلے یہاں کے مقامی ہندوؤں نے قصبے کی آبادی کو پینے کے پانی کی سہولت فراہم کرنے کے لیئے بطور رضاکارانہ بنوایا۔
جن سے صدیوں انسان و مویشی پانی پیتے رہے۔
واضح رہے کہ یہاں پر آج بھی ہندو رہائش پذیر ہیں۔
جن کا یہاں قدیم مندر و شمشان گھاٹ بھی موجود ہے۔
جہاں ان کی مختلف مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔
اور اس مندر کی توسیع کے لیئے بلوچستان کے اقلیتی سینیٹر دھنیش کمار نے ایک کروڑ روپے فنڈ جاری کرتے تعمیراتی کام کروایا ہے۔
پچھلے چند سالوں سے ان کنوؤں کا پانی پینا بند کر دیا گیا ہے۔
کیونکہ زیرزمین پانی کے ذخائر کی موجودگی کے باعث شمسی ٹیوب ویلز لگائے جانے سے۔
پانی کی شدید قلت پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔

MZAسندھ کا مشہور، لئنسڈاؤن پُل اور جمالو کی لوک داستانشمالی سندھ کے جڑواں شہروں، روہڑی اور سکھر کو آپس میں ملانے والا م...
26/04/2023

MZA
سندھ کا مشہور، لئنسڈاؤن پُل اور جمالو کی لوک داستان
شمالی سندھ کے جڑواں شہروں، روہڑی اور سکھر کو آپس میں ملانے والا منفرد اور تاریخی پُل یہ ہے دریائے سندھ پر بنا، لئنسڈاؤن پُل جو کہ مقامی طور پر قینچی پُل کے نام سے پہچانا جاتا ہے.
اس پل کے حوالے سے مورخ رحیم داد خان مولائی شیدی نے اپنی کتاب ’تاریخ سکھر‘ میں لکھا کہ لئنسڈاؤن پل 130 سال قبل اس وقت بنایا گیا، جس وقت انگریز سرکار نے سکھر کی کاروباری اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ بنایا، اس سے پہلے انگریز سرکار کا کاروبار انڈس فلوٹیلا جہاز رانی کمپنی کے ذریعے بحری جہازوں اور بیڑیوں کی مدد سے ہوتا تھا۔
کاروبار کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انگریز سرکار نے صوبہ سندھ میں ریلوے لائن بچھانے کا کام شروع کر دیا اور یوں 1858 میں کراچی سے کوٹڑی تک انڈس ویلے اسٹیٹ ریلوے کی پہلی لائن بچھائی گئی، بعد میں ریلوے لائن کا دائرہ صوبے کے دیگر علاقوں میں بڑھاتے ہوئے سکھر تک لائن بچھانے کا منصوبہ بنایا گیا۔
حکومت ہند نے 1872 سے سکھر اور روہڑی کو ملانے کے لیے لئنسڈاؤن پل بنانے کے منصوبے پر غور کرنا شروع کر دیا تھا، لیکن پل بنانے کی منظوری 1883 میں دی گئی، بعض وجوہات کے باعث پل کا کام کچھ سال تک تاخیر کا شکار ہوا، لیکن 1877 میں باقاعدگی سے پل کی تعمیر کا آغاز کردیا گیا۔
لئنسڈاؤن پل کو دریا کے بیچوں بیچ بغیر سہارے کے بنایا گیا، 900فٹ طویل پل سے بیک وقت 2 گاڑیاں گزر سکتی ہیں جب کہ پیدل چلنے والوں کے لیے پل کے سائیڈ میں پیڈسٹل فٹ پاتھ بنایا گیا ،پل کی تعمیر میں استعمال کیا گیا لوہا کسی بھی پلر کے بغیر ڈزائنر کی مہارت سے ایک صدی سے زائد عرصے سے وزن اٹھائے ہوئے ہے۔
لئنسڈاؤن پل کی تکمیل 2 سال کے مختصر عرصے میں مکمل کیے جانے کے بعد 25مارچ 1889 کو پل کاافتتاح کردیا گیا۔
افتتاحی تقریب کی صدارت ممبئی کے گورنر لارڈ ریئی نے کی، تقریب میں سندھ کے کمشنر چارلس پرچرڈ، خیرپور ریاست کے والی میر مراد علی سمیت سندھ اور پنجاب کے اعلیٰ حکا م اور دیگر بڑے لوگوں نے شرکت کی۔
گورنر لارڈ نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ پل پر 40 لاکھ روپے خرچہ آیا، پل کی تعمیر میں 3300 ٹن لوہا استعمال ہوا، جو انگلینڈ سے منگوایا گیا، گورنر نے کہا افتتاحی تقریب میں وائسرائے ہند ’ہینری چارلس کیتھ پیٹی لئنسڈاؤن‘ خود آنا چاہتے تھے، لیکن افسوس کہ

Address

Khipro

Telephone

+923063315615

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Biutifull world posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Biutifull world:

Share