18/03/2025
ڈالرز کی جنگ اور لاشوں کا کاروبار
دنیا میں جنگیں کبھی بھی صرف زمین، مذہب یا نظریے کے لیے نہیں لڑی جاتیں۔ ہمیشہ طاقتور ممالک کمزور قوموں کو اپنا میدانِ جنگ بناتے ہیں، انہیں تقسیم کرتے ہیں، ان کے وسائل پر قبضہ کرتے ہیں، اور پھر انہی کے خون سے اپنی معیشت چلاتے ہیں۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مسلسل قربانی دیتا آ رہا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ جنگ ہماری ہے؟ یا پھر ہم محض ایک ڈالرز کی جنگ کا ایندھن بنے ہوئے ہیں؟
اقوامِ متحدہ کا قانون اور پاکستانی حقیقت
اقوامِ متحدہ نے ایک قانون پاس کیا کہ جو ملک دہشت گردی کا شکار ہوگا، اگر اس کی فوج، پولیس یا سیکیورٹی ادارے نقصان اٹھائیں گے تو انہیں مالی امداد دی جائے گی۔ اس قانون کے بعد پاکستان جیسے ملکوں میں دہشت گردی کا ایک نیا کھیل شروع ہوا۔ اب یہاں پولیس، فوج، اور سیکیورٹی فورسز پر حملے معمول بن گئے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی دھماکہ، کوئی نہ کوئی حملہ، کوئی نہ کوئی سانحہ۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ حملے کون کروا رہا ہے؟ اور ان کا فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟
کیا واقعی دشمن ہمیں نقصان پہنچا رہا ہے؟
یا پھر کچھ لوگ جان بوجھ کر یہ حالات پیدا کر رہے ہیں تاکہ عالمی برادری سے مزید امداد حاصل کی جا سکے؟
کیا پاکستان کی فوج واقعی اس جنگ میں شامل ہے؟
پاکستان کی فوج کے دو چہرے ہیں:
1. نچلی سطح کے فوجی جوان اور افسران جو اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، جو سرد علاقوں میں برف کے نیچے دب کر مر رہے ہیں، جو بارودی سرنگوں میں اپنی ٹانگیں کھو رہے ہیں، جو گھروں سے نکلتے ہیں اور لاش بن کر واپس آتے ہیں۔
2. اوپر کے رینکس کے افسران اور حکمران طبقہ جو ان قربانیوں کے بدلے بین الاقوامی امداد کے ڈالر وصول کر رہا ہے، اور وہ ڈالر کہاں جا رہے ہیں؟ بیرون ملک بینک اکاؤنٹس میں، دبئی اور لندن کے محلات میں، مہنگی گاڑیوں اور کاروبار میں۔
اگر فوج واقعی ملک بچا رہی ہے تو پھر ہر آرمی چیف، ہر وزیرِاعظم اور ہر طاقتور شخص کی جائیدادیں بیرون ملک کیوں ہیں؟ اگر وہ اس ملک کی جنگ لڑ رہے ہیں تو ان کے بچے امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں کیوں بستے ہیں؟ اگر یہ جنگ ہماری بقا کے لیے تھی تو پھر عوام آج بھی بھوک، بدحالی اور غربت کا شکار کیوں ہیں؟
نئی چال: مذہب کو دہشت گردی سے جوڑنا
جب صرف فوجی اور پولیس کے مرنے سے دنیا قائل نہ ہوئی، جب یہ بہانہ کمزور پڑنے لگا، تو ایک نیا کھیل شروع ہوا:
1. اب مذہبی طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
2. مساجد اور مدارس میں دھماکے کروائے جا رہے ہیں۔
3. علماء اور دینی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
4. مذہبی شدت پسندی کو جان بوجھ کر ابھارا جا رہا ہے تاکہ عوام مشتعل ہو اور ان کا ردعمل ایک اور دھماکے کا سبب بنے۔
اب ہر دھماکے کے بعد ایک ہی بیانیہ ہوتا ہے:
"یہ دیکھو، یہی ہیں دہشت گرد!"
"یہ مذہبی انتہا پسند ہیں!"
"یہ مدرسوں میں پلنے والے دہشت گرد ہیں!"
لیکن کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ یہ شدت پسندی پیدا کس نے کی؟
یہ "دہشت گرد" کون بناتا ہے؟
یہ ہتھیار انہیں کون دیتا ہے؟
یہ تنظیمیں، جو ہمیشہ انہی خطوں میں پیدا ہوتی ہیں جہاں امریکہ، یورپ اور بڑی طاقتوں کے مفادات ہوتے ہیں، یہ آخر اتنی طاقتور کیسے بن جاتی ہیں؟
یہ جنگ ہماری نہیں، ڈالروں کی جنگ ہے
یہ وہ کھیل ہے جو امریکہ، یورپ، اقوامِ متحدہ، اور ان کے مقامی ایجنٹ کھیل رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام کو تقسیم کیا جا رہا ہے، کبھی مذہب کے نام پر، کبھی قومیت کے نام پر، کبھی سیاست کے نام پر، اور پھر ان کی لاشوں کو ڈالر میں بیچا جا رہا ہے۔
جب پاکستان میں کوئی دھماکہ ہوتا ہے، جب کوئی پولیس اہلکار یا فوجی شہید ہوتا ہے، جب کسی عالمِ دین کو قتل کیا جاتا ہے، تو اس کے بدلے عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کو امداد دیتے ہیں۔ مگر کیا وہ امداد شہید کے بچوں کے حصے میں آتی ہے؟ نہیں! وہ امداد انہی ہاتھوں میں جاتی ہے جو یہ جنگ چلا رہے ہیں۔ وہی ہاتھ جو اقتدار میں ہیں، جو اپنی جیبیں بھر رہے ہیں، جو اپنا کاروبار پھیلا رہے ہیں۔
عوام کو جاگنا ہوگا!
یہ جنگ ہماری نہیں ہے، یہ ہمارے خلاف کھیلا جانے والا ایک خون آلود کھیل ہے۔ جب تک عوام اس کھیل کو نہیں سمجھیں گے، جب تک لوگ یہ نہیں دیکھیں گے کہ یہ ہمارے نام پر، ہمارے خون سے، ہماری لاشوں پر ایک کاروبار ہو رہا ہے، تب تک ہم صرف تماشائی بنے رہیں گے۔
ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ:
کیا یہ جنگ واقعی دہشت گردوں کے خلاف ہے یا صرف ایک کاروباری منصوبہ ہے؟
یہ خون بہانے کی پالیسی کس کے فائدے میں جا رہی ہے؟
کیا ہماری قربانیاں صرف حکمرانوں کی عیاشیوں کو طول دینے کے لیے ہیں؟
کیا ہم ہمیشہ بے وقوف بنتے رہیں گے یا اب کچھ بدلنے کا وقت آ چکا ہے؟
یہ وقت جاگنے کا ہے! اپنی زمین، اپنی قوم، اپنے وسائل اور اپنی جانوں کو ان لٹیروں سے بچانے کا وقت ہے۔ اگر اب بھی ہم خاموش رہے تو پھر ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی جنگ کا ایندھن بنتی رہیں گی، اور ہم ہمیشہ کے لیے غلامی، بدحالی اور قتل و غارت کے اندھیرے میں پھنسے رہیں گے۔