Zeeshan Steel Works & Traders - ZST

Zeeshan Steel Works & Traders - ZST Welcome to Z-S-T, this is official page of Zeeshan Steel Works & Traders. We serve you 24 hours. Come

21/06/2022
اشتہار برائے بھرتی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس پونچھ راولاکوٹ
05/12/2021

اشتہار برائے بھرتی
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس پونچھ راولاکوٹ

30/04/2021

سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پر اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتا

بجلی کے کرنٹ لگنے والے بندے کے لئے انتظام:خدا کے لئے کرنٹ لگنے والے شخص کو زمین میں دفنانے کا خود ساختہ طریقہ استعمال نہ...
18/07/2020

بجلی کے کرنٹ لگنے والے بندے کے لئے انتظام:

خدا کے لئے کرنٹ لگنے والے شخص کو زمین میں دفنانے کا خود ساختہ طریقہ استعمال نہ کریں کیونکہ اس کی کوئی طبی اہمیت نہیں ہے .

برائے مہربانی خود اپنے پیاروں کی جان خطرے میں نہ ڈالیں، کیونکہ گھنٹوں زمین میں پڑا رہنے سے علاج میں دیر ہوجاتی ہے....

بجلی کے کرنٹ لگنے کی صورت میں کیا کرنا چاہئے ..

اگر کوئی شخص ہوش میں ہے تو ، ابتدائی طبی امداد کا آسان استعمال کریں اور زخمی ہونے والے اعضاء پر مرہم لگائیں.

اگر کوئی شخص بے ہوش ہے ، تو اسکو لٹائیں، اور اس کا سینہ زور سے دبائیں ،اور دبانا جاری رکھیں ، یہاں تک کہ انسان سانس لینے یا کھانسی شروع کردے۔

کسی شخص کو ٹھنڈا ہونے سے روکنے کی کوشش کریں ، لہذا اس کے لئے کمبل استعمال کریں اور اس کا جسم ڈھانپ لیں.

فوری طور پر ہسپتال پہنچائیں، کیونکہ کرنٹ لگنے سے دل کا دورہ پڑتا ہے....

زخمی اعضاء کو صاف کپڑے کے ساتھ ڈھانپ لیں ..

یہ ابتدائی طبی امداد کا ایک آسان طریقہ ہے اور بقیہ علاج ہسپتال میں کیا جائے گا۔

سریا خریدتے وقت فراڈ سے کیسے بچیں....؟سریے کی مِقدار چیک کرنے کا ایک آسان سا کُلیہ... جو کہ تجربہ کار لوگوں کا بنا ہُوا ...
17/07/2020

سریا خریدتے وقت فراڈ سے کیسے بچیں....؟
سریے کی مِقدار چیک کرنے کا ایک آسان سا کُلیہ...
جو کہ تجربہ کار لوگوں کا بنا ہُوا ہے، شاید نئے گھر بنانے والوں کو میری تحریر سے فائدہ ہو سکے،
سب سے پہلے تو یاد رکھیئے کہ جِس سریے پر چھوٹی چھوٹی شاخیں سی نِکلی ہوں گی، جان لیجیے کہ وہ سریا کچرے سے بنا ہُوا ہے وہ ہرگِز مت خریدیں،
اِس کے علاوہ سریے کی ہر لینتھ کے اوپر ایک کونے پر اسکی تفصیل لکھی ہوتی ہے اسے غور سے پڑھیں کیونکہ 60 گریڈ کا سریا 40 گریڈ کے سرہے سے مہنگا ہوتا ہے تو کہیں ایسا تو نہیں کہ آپکو 60 کا بتا کر 40 پکڑایا جارہا ہے،،

اب آتے ہیں سریے کے وزن کو جاننے کے کُلیے کی طرف!!!!

پاکِستان میں 3 سُوتر سے 8 سُوتر تک کا سریا استعمال ہوتا ہے، ان میں سے بھی عام گھروں میں3اور4 ہی زیادہ استعمال ہوتا ہے، 3اور4 سُوترکا سریا چھت، سیڑھی، چھوٹے کالمز، چھوٹے بیمز وغیرہ میں جبکہ بڑے بیم یا بڑے کالمز میں 6 سُوتر کا سریا اِستعمال ہوتا ہے،

تین سُوتر کی ایک 40فُٹ لینتھ کا کُل وزن 6.8 کلو ہوتا ہے یعنی 6 کلو اور 800 گرام، جبکہ3سُوتر کے سریے کے ایک فُٹ ٹُکڑے کا وزن 170 گرام ہوتا ہے،
4سُوتر کی40فُٹ لینتھ کا وزن 12.10 کلو یعنی 12کلو اور 100 گرام جبکہ ایک فٹ کے پیس کا وزن 302 گرام ہوتا ہے،
پانچ سُوتر کی ایک 40 فٹ لینتھ کا وزن 18.90 یعنی 18کلو اور 900گرام جبکہ ایک فُٹ کے پیس کا وزن 476 گرام ہوتا ہے،
چھے سُوتر کی 40 فٹ لینتھ کا کُل وزن 27.22 یعنی 27کلو اور 220 گرام جبکہ ایک فٹ پیس کا وزن 680 گرام ہوتا ہے،
سات سُوتر کی 40فٹ لینتھ کا کُل وزن 37.05 یعنی 37کلو اور 050 گرام جبکہ ایک فٹ کے پیس کا وزن 930گرام ہوتا ہے،
آٹھ سُوتر کی 40فٹ لینتھ کا کُل وزن 48.39 یعنی 48کلو 390گرام اور ایک فُٹ کے پیس کا وزن 1.21 یعنی 1کلو 210گرام ہوتا ہے،

اب آپ جب بھی سریہ خریدیں تو وزن کرا لینے کے بعد اسکے لینتھ گِنیں مثال کے طور پر آپ 4 سُوتر کی 10لینتھ لیں ہیں جن میں سے ہر ایک کی لمبائی 40 فٹ ہے، انکے وزن کا کلیہ/فارمولا آپکے پاس موجود ہے 12.10x10 = 121کلو۔
اب اگر یہ 121 کلو ہے پھر تو ٹھیک یے یا اس میں زیادہ سے زیادہ 4 سے 5 کلو اوپر نیچے ہوجانے کی رعایت موجود ہے (وجہ سریے کی میکنگ اور پڑے پڑے تھوڑا زنگ لگ جانے کی صُورت میں معمولی وزن کا کم ہونا) لیکن اگر 4 سوتر کی 40فُٹی 10 لینتھ کا وزن 100کلو بن رہا ہے تو سمجھ جائیں آپکو چُونا لگایا جارہا ہے، اور یہ سریے کے ٹھیے یا فیکٹری والا رانگ نمبر ہے اُلٹے قدموں واپس بھاگ جائیں.

یہ پوسٹ سب کو تو نہیں لیکن چند لوگوں کے بہت کام کی ہے، اس طریقے کو فالو کر کے سریے والوں کے فراڈ سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے، باقی اینٹ، بلاک، بجری والوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے کہ وہ مقدار برابر رکھیں۔آمین

   پاکستان میں دو لوگ بڑے اطمینان سے ہیں‘ غریب اور  امیر……یہ جو درمیان والے ”مڈل کلاسیئے“ ہیں صحیح بیڑا ان کا غرق ہوتاہے...
13/07/2020


پاکستان میں دو لوگ بڑے اطمینان سے ہیں‘ غریب اور امیر……یہ جو درمیان والے ”مڈل کلاسیئے“ ہیں صحیح بیڑا ان کا غرق ہوتاہے‘ یہ رکھ رکھاؤسے لگ بھگ امیر لگتے ہیں لیکن حالت یہ ہوتی ہے کہ گھر میں آئے روز اس وجہ سے لڑائی ہوتی ہے کہ گھی اتنی جلدی کیسے ختم ہوگیاہمارے ہاں قابل رحم اور قابل نفرت بھی دو ہی طبقات ہیں‘ امیر اور غریب۔امیر قابل نفرت ہے کیونکہ اس کے پاس پیسہ ہے اور غریب قابل رحم ہے کیونکہ اس کے پاس پیسہ نہیں۔پاکستان کا بجٹ بھی انہی دو طبقات کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتاہے‘ گورنمنٹ بھی انہی دو طبقات پر نظر رکھتی ہے۔درمیان میں جو سینڈوچ بنتا ہے وہ بیچارا مڈل کلاس ہے۔امیر لوگ اسے غریب سمجھتے ہیں اور غریب لوگ امیر۔یہ مڈل کلاسیاکون ہوتاہے؟ یہ وہ ہوتا ہے جس کے پاس بظاہر امیروں والی ہر چیز ہوتی ہے لیکن سیکنڈ ہینڈ۔اس کے پاس نسبتاً بہترگھر ہوتاہے لیکن کرائے کا۔ گاڑی ہوتی ہے لیکن بیس سال پرانی۔گھر میں اے سی ہوتاہے لیکن عموماً چلتا ائیر کولر ہی ہے۔کپڑے صاف ہوتے ہیں لیکن چلتے کئی کئی سال ہیں۔ یو پی ایس ہوتاہے لیکن اس کی بیٹری عموماً آدھا گھنٹہ ہی نکالتی ہے۔اس کے پاس اچھا موبائل بھی ہوتاہے لیکن استعمال شدہ۔اس کے گھر میں ہر ہفتے لمبے شوربے والا چکن بنتا ہے۔یہ اپنے بچوں کو پارک میں سیرو تفریح کے لیے لے کر جائے تو عموماً گھر سے اچھی طرح کھانا کھا کر نکلتاہے۔اس کے پاس اے ٹی ایم کارڈ تو ہوتاہے لیکن کبھی پانچ سو سے زیادہ نکلوانے کی نہ ضرورت پڑتی ہے نہ ہمت۔یہ دن رات کوئی ایسا بزنس کرنے کے منصوبے بناتا ہے جس میں کوئی خرچہ نہ کرنا پڑے۔اِس کی گاڑی صرف سردیوں میں بڑے کمال کی کولنگ کرتی ہے۔یہ جب بھی اپنے بیوی بچوں کو لے کر کسی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ جاتا ہے چھ افراد کی ساری فیملی دو برگرزمیں ہی بھگت جاتی ہے۔یہ اگرظاہرکرے کہ میرے پاس بہت پیسہ ہے تو رشتے دار ادھار مانگنے آجاتے ہیں‘ نہ بتائے تو کوئی منہ نہیں لگاتا۔یہ اپنی اوقات سے صرف 20فیصد اونچی زندگی گذارنے کی کوشش میں پستا رہتا ہے۔ اصل میں یہ غریبوں سے بھی بدتر زندگی گذار رہا ہوتا ہے۔ اس کی ساری زندگی کمیٹیاں ڈالنے اور بھگتانے میں گذر جاتی ہے۔ پاکستان میں امیروں اور غریبوں سے کہیں زیادہ تعدادمڈل کلاسیوں کی ہے لیکن یہ کسی کھاتے میں شمار نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں ہر وہ بندہ مزے میں ہے جس کے پاس بہت سارا پیسہ ہے یا بالکل نہیں ہے۔جس کے پاس پیسہ ہے وہ اے سی میں سوجاتاہے۔ جس کے پاس نہیں وہ کسی فٹ پاتھ پر نیند پوری کرلیتاہے۔ پیسے والا کسی سے کچھ نہیں مانگتااور غریب ہر کسی کے آگے ہاتھ پھیلا کر کھڑا ہوجاتاہے رگڑا اُس کو لگتاہے جس کے پاس پیسہ تو ہے لیکن صرف گذارے لائق۔غریبوں کی اکثریت کو یہ مڈل کلاسیے ہی پال رہے ہیں۔کبھی کبھی تو مجھے لگتاہے کہ سب سے زیادہ خوف خدا بھی اِس مڈل کلاس میں ہی پایا جاتاہے۔ یہی کلاس سب سے زیادہ خیرات کرتی ہے۔ بعض اوقات تو ان کی اپنی زندگی غریب سے بھی بدتر گذر رہی ہوتی ہے لیکن انا کے مارے یہ بیچارے کسی کو بتاتے نہیں۔آپ نے کبھی لوئر ایلیٹ کلاس یا اپر ایلیٹ کلاس کی ٹرم نہیں سنی ہوگی۔لوئر غریب یا اپر غریب بھی نہیں ہوتا صرف لوئر مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس کے الفاظ سننے کو ملتے ہیں۔لوئر اور اپر میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا‘ لوئر والے کے پاس موٹر سائیکل ہوتی ہے اور اپر والے کے پاس پرانے ماڈل کی کار۔نیندیں دونوں کی اڑی رہتی ہیں۔یہ عیدالاضحی پر قربانی کی استطاعت نہ رکھنے کے باوجود کسی اونٹ یا گائے میں حصہ ڈال لیتے ہیں۔ان کی ساری زندگی گھر کی فالتو لائٹس آف کرنے اور بل کم کرنے کے منصوبے بناتے گذر جاتی ہے۔یہ موبائل میں سو روپے والا کارڈ بھی پوری احتیاط سے استعمال کرتے ہیں اور گھر والوں کو آگاہ کیا ہوتاہے کہ ایک مسڈ کال دوں تو اس کا مطلب ہے میں آرہا ہوں۔ دو مسڈ کال دوں تو مطلب ہے میں ذرا لیٹ ہوں۔یہ ایک دن کے استری کیے ہوئے کپڑے دو دن چلاتے ہیں۔یہ ہر دو گھنٹے بعد شک دور کرنے کے لیے بجلی کے میٹرکی ریڈنگ چیک کرتے رہتے ہیں۔یہ کبھی بھی اس قابل نہیں ہوپاتے کہ ایک ہی مہینے میں بجلی، گیس اور پانی کے سارے بل اکٹھے ادا کرسکیں لہذا بجلی کا بل ادا کردیں تو گیس کا بل اگلے مہینے پر ڈال دیتے ہیں۔ان کی اکثریت چونکہ پڑھی لکھی بھی ہوتی ہے لہذا کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتی۔ان کے پاس بیٹیوں کی شادی کرنے کے پیسے نہیں ہوتے‘اولاد کے لیے اچھی نوکری کی سفارش نہیں ہوتی اس کے باوجود یہ کسی کو دکھ میں دیکھتے ہیں تو خود بھی آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ان کی گھر کام کرنے والی غریب ماسی چونکہ دیگرمختلف گھروں میں کام کرتی ہے اس لیے رمضان میں ہر گھر سے راشن کے نام پر لگ بھگ پچاس کلو آٹے سمیت چار پانچ ماہ کا راشن اکٹھا کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔ لیکن مڈل کلاسئے پریشان رہتے ہیں کہ اپنے گھر کے لیے جو پندرہ دن کا راشن لائے تھے وہ ختم ہونے کے قریب ہے اور تنخواہ ملنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ زکواۃ غریبوں کو جاتی ہے۔ بھیک کے پیسے بھی کوئی غریب ہی لیتا ہے۔ فطرانہ بھی غریب کا نصیب بنتا ہے۔لیکن غریب یہ سب لے کر بھی کوئی کام کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا کیونکہ اس نے طے کر لیا ہے کہ چونکہ وہ غریب ہے لہذا اس پر کسی قسم کی کوئی محنت فرض نہیں اور باقی سب کو چاہیے کہ وہ اسے مل جل کر پالیں۔ بھکاری وہ واحد طبقہ ہے جو کبھی کسی کو بھیک نہیں دیتا۔آپ کسی بھکاری کو ذرا کسی کام پر لگانے کی آفر کریں آگے سے جو سننے کو ملے گا وہ آپ بہتر جانتے ہیں۔ لیکن مڈل کلاسیا کیا کرے؟ یہ نہ زکواۃ مانگتا ہے‘ نہ فطرانہ‘ نہ بھیک۔یہ صرف کڑھتا ہے، سسکتا ہے اورمرتا ہے!
اور آخر میں مڈل کلاسئیوں کی سب سے بڑی پرابلم یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو کبھی مڈل کلاس نہیں کہتے۔۔!!

خوشخبری :      اب گھر بیٹھے ویڈیو لیکچر سنیے اور قوم کو برباد ہونے سے بچائیے ۔ ایمز میں 25 جون 2020 بروز جمعرات سے آ ن ل...
19/06/2020

خوشخبری : اب گھر بیٹھے ویڈیو لیکچر سنیے اور قوم کو برباد ہونے سے بچائیے ۔ ایمز میں 25 جون 2020 بروز جمعرات سے آ ن لائن ویڈیو لنک کلاسز کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ ابتدا میں فرسٹ+سکنڈ ائیر کلاسز 25 جون سے شروع ہوں گی اور 29 جون سے نہم اور دہم کلاسز شروع ہوں گی۔ انشاء اللّٰہ کلاسز کے لیے کسی بھی ادارے کے بچے رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔
شکریہ

بلاک چنائی کا نیا طریقہ 👌👌
18/04/2020

بلاک چنائی کا نیا طریقہ 👌👌

Address

Hajira Road Tatta Pani Azad Kashmir
Kotli

Opening Hours

Monday 08:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923458803917

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zeeshan Steel Works & Traders - ZST posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share