Kachba's business

Kachba's business EASY JOURNEY

28/02/2026

رمضان المبارک رحمتوں اور عبادات کا مہینہ ہے جس میں زکوٰۃ کی ادائیگی کو خاص اہمیت حاصل ہے، یہ مال کو پاک اور معاشرے میں توازن پیدا کرتی ہے۔
قرآن و حدیث میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے، اس لیے صاحبِ نصاب مسلمان پر اس کی ادائیگی فرض ہے۔
سونا، چاندی، نقد رقم اور مالِ تجارت اگر نصاب کے برابر ہوں اور ان پر قمری سال گزر جائے تو زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔
نصاب پورا ہونے کے بعد ہر سال مقررہ تاریخ پر موجود تمام قابلِ زکوٰۃ مال کا حساب کیا جاتا ہے۔
زکوٰۃ ایک ساتھ یا قسطوں میں، نقد یا ضرورت کی اشیاء کی صورت میں مستحق افراد کو دی جا سکتی ہے۔
یہ عبادت روحانی پاکیزگی، مال میں برکت اور معاشرتی ہمدردی کا بہترین ذریعہ ہے۔

15/02/2026


– the main city tag �
Best Hashtags
– for locals & community posts �
Best Hashtags
– aesthetic or photography posts �
Best Hashtags
– lifestyle/tagging city experiences �
Best Hashtags
– geo-specific tag broadening reach �
Best Hashtags
– for food & lifestyle content �
Best Hashtags
/ – fashion or style-focused posts �
Best Hashtags
– sports
fans/PSL-related content � – country-wide audience �
Best Hashtags
– because posts often tag nearby twin city �
Best Hashtags
or – for travel posts �
iqhashtags.com

08/02/2026
07/02/2026

پوچھنا یہ تھا کہ بسنت جیسے قبیح، ناجائز، فضول اور خونی تہوار منانے پر جو کروڑوں اربوں روپے ضائع کیے جارہے ہیں تو ان سے بھی کسی غریب کی بیٹی کی شادی ہوسکتی ہے اور کسی حاجت مند کی مدد کی جاسکتی ہے یا یہ کام صرف قربانی اور حج ہی کی رقم سے کیے جاسکتے ہیں؟!

✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن

07/02/2026
07/02/2026

عالمی سطح پر بچوں کے اغوا کا ڈیٹا دیکھیے "

لیکن اس سے پہلے بطورِ تمہید ایک دو باتیں سمجھ لیجئے تاکہ آپکو معلوم ہو کہ ہم یہ ڈیٹا آپ کے سامنے رکھ کر آپکو سمجھانا اور بتانا کیا چاہتے ہیں!

عالمی اداروں (ICMEC اور UNICEF) کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 80 لاکھ (8 Million) بچے لاپتہ ہوتے ہیں۔

مختصرا ملک ، خطہ ، سالانہ لاپتہ بچے (اوسط) اہم وجہ اور مقصد بھی ساتھ جان لیجئے ۔

امریکہ 460,000 سے 500,000 جنسی استحصال، ڈارک ویب، نجی نیٹ ورکس

برطانیہ (UK) 112,000 سے 140,000 جبری مشقت، منشیات کی اسمگلنگ، بدفعلی

یورپی یونین (EU) 250,000 (ہر 2 منٹ میں ایک) سرحد پار اسمگلنگ، غیر قانونی گود لینا

کینیڈا 45,000 سے 50,000 بھاگے ہوئے بچے جو شکاریوں کے ہتھے چڑھتے ہیں

برازیل / لاطینی امریکہ 40,000 سے 50,000 اعضاء کی اسمگلنگ اور مشقت

روس 45,000 انٹرنیٹ پر مبنی جنسی جرائم

چونکہ ہم جس کیس پر اسٹدی کر رہے ہیں اسکا تعلق خصوصاً ان تین ممالک سے اور اس کے ساتھ ساتھ عرب ممالک سے بھی ہے ۔

ایک بار ان تین کا اعداد و شمار پھر دیکھ لیجئے ۔

امریکہ : سالانہ تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار بچے۔
بھارت : سالانہ تقریباً 1 لاکھ بچے۔
پاکستان : سالانہ 3 سے 5 ہزار (صرف رپورٹ شدہ)۔

پھر پاکستان، بنگلہ دیش اور سوڈان سے 4 سے 7 سال کے ہزاروں بچے اغوا یا خرید کر عرب ممالک اسمگل کیے گئے۔ ان بچوں کو جان بوجھ کر "بھوکا" رکھا جاتا تھا تاکہ ان کا وزن نہ بڑھے اور وہ اونٹ پر تیز دوڑ سکیں۔

ابھی بہت کچھ ہم آپ سے پڑھوانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ محض ماضی کا قصہ نہیں ، بلکہ آج بھی دبئی پورٹا پوٹی (Porta Potty) جیسے اسکینڈلز اور نجی جزیروں پر ہونے والی پارٹیاں ثابت کرتی ہیں کہ تیل کی دولت نے انسانوں کو مالِ تجارت بنا دیا ہے۔

پورٹا پورٹی کیا ہے ؟

یہ ایک ایسی اصطلاح جس کا مطلب ہے موبائل ٹوائلٹ سیٹ ، جسے کہیں بھی لایا جا سکتا ہے۔
اس اسکینڈل میں یہ اصطلاح ان خواتین (ماڈلز، انفلوئنسرز اور انسٹاگرام اسٹارز) کے لیے استعمال کی گئی جنہیں عرب شہزادے اور ارب پتی محض اپنی "غلاظت" نکالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اس اسکینڈل کے مطابق ، دولت کے نشے میں چور یہ لوگ ان ماڈلز کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کرتے ہیں۔ اس میں انسانی فضلہ (F***s) کھانا ، پیشاب پینا اور دیگر ایسی حرکات شامل ہیں جنہیں بیان کرنا بھی ممکن نہیں۔ ان لڑکیوں کو لفظی طور پر "انسانی ٹوائلٹ" کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اسی لیے اس کا نام "پورٹا پورٹی" پڑا۔

بی سی کی اصل رپورٹ کا لنک : BBC World Service - Death in Dubai
(نوٹ: یہ بی بی سی کے "World of Secrets" پوڈ کاسٹ کا سیزن 9 ہے ، جس کا عنوان ہے "Death in Dubai")

رپورٹ میں دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ کس طرح افریقی اور یورپی لڑکیوں کو "دولت اور چکا چوند" کے نام پر دبئی بلایا جاتا ہے۔ وہاں ان کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک (انسانی فضلہ کھلانے وغیرہ) کی ویڈیوز وائرل ہوئیں، وہ محض افواہ نہیں تھیں بلکہ ایک منظم نیٹ ورک کا حصہ تھیں۔ اس رپورٹ کا مرکزی کردار مونک نامی لڑکی ہے ، جس کی موت دبئی میں ہوئی اور اس کے گرد وہی پورٹا پوٹی کی گھناؤنی کہانیاں تھیں۔ بی بی سی نے اس کے "باس" تک پہنچنے کی کوشش کی اور اس پورے کالے دھندے کو بے نقاب کیا جس میں طاقتور لوگ ملوث ہیں۔

جب بی بی سی جیسا ادارہ یہ تسلیم کر رہا ہے کہ وہاں ان لڑکیوں کی بولیاں لگتی ہیں اور انہیں بدترین جنسی و جسمانی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

تو پھر کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ عالمی اشرافیہ کے ارادے کیا ہیں؟

خیر چلئے ، اب یہاں سے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں!

کیوں یہ ڈیٹا سامنے نہیں آتا ؟

پہلی وجہ چونکہ مغربی میڈیا (جو کہ خود ان فائلوں میں ملوث ہے) عرب شہزادوں کے خلاف اس لیے نہیں لکھتا کیونکہ ان کے مالی مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

دوسری وجہ یہ کہ ان نیٹ ورکس میں شامل عربوں کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ عالمی اداروں اور خبر رساں ایجنسیوں کے منہ بند کر دیتے ہیں۔

اب آجائیے واپس اپنے موضوع پر کہ جب بچے اغوا ہوتے ہیں۔۔۔

تو یہ بچے کہاں جاتے ہیں؟

عالمی تحقیقات (Global Report on Trafficking in Persons) کے مطابق اغوا شدہ بچوں کو ان چار بنیادی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے:

جبری مشقت اور بھیک (Forced Labor): تقریباً 30% بچے سستی لیبر یا گداگری کے لیے اسمگل ہوتے ہیں۔

جنسی استحصال (Sexual Exploitation): یہ سب سے ہولناک پہلو ہے جس میں بچوں کو ڈارک ویب (Dark Web) اور پورنوگرافی کی عالمی منڈی میں جھونکا جاتا ہے۔

غیر قانونی گود لینا (Illegal Adoption): بہت سے بچے امیر ممالک کے جوڑوں کو بھاری قیمت پر بیچ دیے جاتے ہیں۔

اعضاء کی اسمگلنگ (Organ Trafficking): WHO کے مطابق، عالمی سطح پر گردوں اور دیگر اعضاء کی غیر قانونی پیوند کاری کا بڑا حصہ ان لاپتہ بچوں یا لاوارث افراد سے حاصل کیا جاتا ہے۔

حالیہ "فائلوں" کا ان سے کیا لنک ہے؟

حالیہ برسوں میں "ایپسٹین لسٹ" (Epstein Files) اور اس جیسے دیگر انکشافات نے وہ کڑی واضح کر دی ہے جو اب تک چھپی ہوئی تھی:
لنک 1 (طاقتور سرپرستی) ، یہ فائلیں ثابت کرتی ہیں کہ بچوں کا اغوا محض چھوٹے گروہوں کا کام نہیں، بلکہ اس کے پیچھے عالمی اشرافیہ (Elite)، سیاستدان اور بڑے کاروباری لوگ شامل ہیں جو ان بچوں کو اپنی شیطانی جبلتوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

لنک 2 (سپلائی چین) ، یہ طاقتور لوگ ایسے قوانین کی پشت پناہی کرتے ہیں جو خاندانی نظام کو کمزور کریں۔ جب خاندان ٹوٹتا ہے تو "لاوارث" بچوں کی تعداد بڑھتی ہے، جس سے اس عالمی مافیا کو "سستا اور بے نام خام مال" ملتا رہتا ہے۔

لنک 3 (تحفظ کا خاتمہ) ، یہ فائلیں بتاتی ہیں کہ کیوں بڑے بڑے ادارے ان جرائم پر خاموش رہتے ہیں؛ کیونکہ مجرم خود ان اداروں کو کنٹرول کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔

یہ سب کیسے ہوتا ہے؟

آئیے ، اس "انسانی شکار" کے عمل کو بالکل نچلی سطح سے شروع کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ گلی کے کونے سے اٹھ کر بین الاقوامی فائلوں تک کیسے پہنچتا ہے :

ایک عام آدمی کے آس پاس یہ کھیل یوں شروع ہوتا ہے:

پہلی دستک (ڈیجیٹل) آپ کا بچہ موبائل پر گیم کھیل رہا ہے یا ویڈیو دیکھ رہا ہے۔

وہاں کوئی انجان "دوست" بنتا ہے ، اسے تحفے یا توجہ کا لالچ دیتا ہے۔
یہ پہلا قدم ہے اسے ذہنی طور پر گھر سے توڑنے کا۔

چونکہ آج کی ماں معاشی بوجھ تلے دبی کام پر ہے ، باپ رزق کی تگ و دو میں باہر ہے۔ بچہ گلی میں تنہا ہے یا کسی ایسے "بڑے" کے پاس ہے جسے آپ "بھروسہ مند" سمجھتے ہیں۔

بچہ زبردستی نہیں اٹھایا جاتا، اکثر اسے ورغلا کر، کسی بہانے سے یا نشہ آور چیز سنگھا کر خاموشی سے غائب کر دیا جاتا ہے۔ اب وہ آپ کی پہنچ سے دور ہو چکا ہے۔

پہلا مرحلہ ختم اب دوسرا شروع اسکے بعد وہ بچہ گلی سے نکل کر شہر کے کسی "گودام" یا "محفوظ ٹھکانے" پر پہنچتا ہے وہاں اس کے بال کاٹ دیے جاتے ہیں ، اس کے کپڑے بدل دیے جاتے ہیں تاکہ وہ پہچانا نہ جا سکے۔

پھر یہاں مقامی ایجنٹ اس کے جعلی کاغذات (ب فارم یا برتھ سرٹیفکیٹ) تیار کرتے ہیں۔ اسے کسی "لاوارث یتیم خانے" یا "این جی او" کے ریکارڈ میں ڈال دیا جاتا ہے تاکہ قانونی طور پر اسے منتقل کرنا آسان ہو۔

اسکے بعد وہ مقام آتا ہے جہاں یہ کھیل بین الاقوامی ہو جاتا ہے ان بچوں کو سمندری کنٹینرز، نجی طیاروں یا غیر قانونی زمینی راستوں (مثلاً ایران سے ترکی اور پھر یورپ) کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔

اسکے بعد وہ "فائلیں" حرکت میں آتی ہیں جن کا ہم ذکر کر رہے تھے۔
طاقتور لوگ بارڈرز اور ایئرپورٹس پر ایسی "کھڑکیاں" کھلی رکھتے ہیں جہاں سے یہ انسانی گوشت خاموشی سے پار ہو جاتا ہے۔

جب بچہ باہر پہنچ جاتا ہے، تو اب وہ ان ہاتھوں میں ہے جن کا ذکر عالمی تحقیقات میں ہے۔

یہاں سے وہ ان لنکس سے جڑتا ہے:

کیسے ؟

کہ اگر بچہ بہت چھوٹا ہے یا اس کی مانگ نہیں ، تو اسے "اعضاء" نکالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اعضاء امیر ممالک کے ہسپتالوں میں لاکھوں ڈالرز میں بکتے ہیں۔

اور وہ بچے جو شکل و صورت میں بہتر ہوتے ہیں، انہیں ان طاقتور لوگوں کے "نجی جزیروں" یا "خفیہ اڈوں" پر پہنچایا جاتا ہے جن کا نام ایپسٹین فائلوں میں موجود ہے۔ وہاں ان کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے اور ان کی ویڈیوز بنا کر بڑے لوگوں کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اور باقی بچوں کو جبری مشقت یا جدید غلامی کی منڈیوں میں جھونک دیا جاتا ہے۔

آپ کو یاد ہو اگر تو قصور کے "زینب الرٹ" کیس کے دوران یہ انکشافات سامنے آئے تھے کہ یہ محض ایک فرد (عمران) کا کام نہیں تھا۔

اس وقت کے کئی سینئر صحافیوں اور محققین نے دعویٰ کیا تھا کہ قصور سے اغوا ہونے والے بچوں کی ویڈیوز "ڈارک ویب" پر بیچی جاتی تھیں اور اس نیٹ ورک کے تانے بانے بااثر سیاسی شخصیات سے ملتے تھے۔
اسی لیے اصل "ماسٹر مائنڈز" کبھی سامنے نہیں آئے۔

اگر آپکو یاد ہو 2019 میں ایف آئی اے نے ایک انکوائری رپورٹ مرتب کی تھی جس میں 629 پاکستانی لڑکیوں کی فہرست دی گئی تھی جنہیں چین اسمگل کیا گیا۔

رپورٹ کے الفاظ تھے کہ "اسمگلروں نے غریب خاندانوں کو 'خوشحال مستقبل' کا جھانسہ دے کر نکاح کے نام پر انسانی سودے بازی کی۔
اسی رپورٹ کے حوالے سے اس وقت کے ایف آئی اے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ "حکومتی حلقوں کی جانب سے شدید دباؤ ہے کہ ان کیسز کو دبا دیا جائے تاکہ پاک-چین تعلقات پر اثر نہ پڑے ، جی ۔

اور تو اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی TIP رپورٹ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ پاکستان کے بااثر طبقے ان اسمگلروں کے سہولت کار ہیں۔

اب پھر سؤال کیجئے ، یہ سب آپس میں کیسے جڑا ہوا ہے؟ (The Master Link)

اب ایک عام آدمی سوچے کہ ان تمام لنکس کا آپس میں تعلق کیا ہے؟

یوں کہ پہلے قانون آپ کے گھر کی دیوار کمزور کرتا ہے (محافظ کو بے اختیار کر کے) ، معیشت ماں کو بچے سے دور کرتی ہے ، ٹیکنالوجی شکاری کو آپ کے بیڈروم تک رسائی دیتی ہے ، عالمی اشرافیہ ان بچوں کو خریدتی ہے تاکہ اپنی شیطانی خواہشات پوری کر سکے۔

مدثر فاروقی ✒️

ٹائٹل: 2032 میں پیزا آرڈر کرنے کا تجربہ۔۔۔ مستقبل ہمیں کس طرف لے جا رہا ہے؟ 🤖🍕کیپشن:سوچیں کہ 2032 میں ایک سادہ پیزا آرڈر...
05/02/2026

ٹائٹل: 2032 میں پیزا آرڈر کرنے کا تجربہ۔۔۔ مستقبل ہمیں کس طرف لے جا رہا ہے؟ 🤖🍕

کیپشن:
سوچیں کہ 2032 میں ایک سادہ پیزا آرڈر کتنا "ذہین" ہوگا۔ میں نے کل جو کچھ تجربہ کیا، وہ سن کر آپ کی رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ 🫢

🗣️ میں: کیا یہ پیزا ہٹ ہے؟
🤖 گوگل: نہیں سر، گوگل پیزا ہے۔ ہم نے پچھلے مہینے پیزا ہٹ خرید لیا۔

🗣️ میں: ٹھیک ہے، ایک پیزا آرڈر کرنا ہے۔
🤖 گوگل: کیا آپ اپنا پسندیدہ پیزا—ساسیج، پیپیرونی، مشروم اور میٹ بالز والا، موٹی پرت کے ساتھ—آرڈر کریں گے؟

😳 میں: تمہیں کیسے پتہ؟
🤖 گوگل: آپ نے پچھلی 12 بار یہی آرڈر کیا ہے۔

🤖 گوگل: اس بار سبزی والا پیزا تجویز کرتا ہوں۔
🗣️ میں: نہیں!
🤖 گوگل: آپ کا کولیسٹرول بہت زیادہ ہے۔ ہمارے پاس آپ کے پچھلے 7 سالوں کے خون کے ٹیسٹ ہیں۔

😤 میں: میں دوائی لے رہا ہوں!
🤖 گوگل: آپ نے 4 ماہ پہلے صرف 30 گولیاں خریدی تھیں، اور آپ کریڈٹ کارڈ، بینک یا ٹیکس ریکارڈ میں باقاعدگی نہیں دکھاتیں۔

🔥 میں: بس کافی! میں سب چھوڑ کر کسی جزیرے پر چلا جاتا ہوں!
🤖 گوگل: پہلے اپنا پاسپورٹ تجدید کریں، وہ 6 ہفتے پہلے ایکسپائر ہو چکا ہے۔

🗣️ میں: (کسی اور سے) جانو، پیزا لینے خود ہی جانا پڑے گا۔
🤖 گوگل: 'جانو' کون ہے؟ ہمارے ریکارڈ میں یہ نام 15 مختلف نمبرز پر ہے، مگر کوئی بھی آپ کے قریب نہیں۔ خاص طور پر رات کو۔

😶 میں: ختم۔

---

حقیقت یہ ہے کہ: ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور نگرانی کا دور ہماری روزمرہ زندگی کے ہر پہلو کو تبدیل کر رہا ہے۔ کیا یہ ترقی ہے یا آزادی کی قیمت؟ 🤔

💬 آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ ایسے مستقبل کے لیے تیار ہیں؟

https://whatsapp.com/channel/0029Va9K9vN2kNFxX41VpG1o

*جب گھروں میں کھانا پکنا بند ہو جائے ؟؟؟*‎کیا کبھی آپ نےسوچا کہ کھانا پکانا صرف ایک گھریلو کام نہیں، بلکہ خاندانی نظام ک...
31/01/2026

*جب گھروں میں کھانا پکنا بند ہو جائے ؟؟؟*

‎کیا کبھی آپ نےسوچا کہ کھانا پکانا صرف ایک گھریلو کام نہیں، بلکہ خاندانی نظام کو باندھنےوالی ایک زنجیر ہے؟ 1980 کی دہائی میں جب امریکہ میں گھروں میں کھانا پکانا کم ہوا اور باہر سےمنگوانے کا رجحان بڑھا، تو کچھ ماہرین معیشت نےخبردار کیا تھااگر حکومت بچوں اور بزرگوں کی نگہداشت کرے اور کھانے کی تیاری بھی نجی کمپنیاں سنبھال لیں، تو خاندانی ڈھانچہ کمزور پڑ جائے گا تب بہت کم لوگوں نےان باتوں پر دھیان دیا
‎لیکن پھر کیا ہوا ؟ ‎ 1971 میں 71٪ امریکی گھرانوں میں میاں بیوی اور بچےایک ساتھ رہتے تھے آج صرف 20٪ ایسےخاندان باقی بچے ، باقی کہاں گئے؟
‎نرسنگ ہومز، اکیلے فلیٹس، یا بے ربط زندگیاں۔
‎ 15%خواتین اکیلی رہتی ہیں
‎ 12%مرد خاندانوں میں اکیلے ہوتے ہیں
‎41%بچے بغیر شادی کے پیدا ہوتے ہیں
‎ پہلی شادیوں میں 50%طلاق کی شرح اور دوسری شادیوں میں 67٪ اور‎ تیسری میں 74٪ ۔۔۔ سب کوئی حادثہ نہیں۔۔۔ یہ ایک سماجی قیمت ہے جو ‏تو گھر ریسٹ ہاؤس بن جاتے ہیں اور خاندان ، سوشل میڈیا فرینڈز کی طرح رسمی رہ جاتے ہیں۔
منقول

31/01/2026

Address

MARYAM CENTER BEHIND NATIONAL BANK LIAQUAT Road KOTRI
Kotri
76000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kachba's business posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kachba's business:

Share