Malik + Ahmad Cattle Farm

Malik + Ahmad Cattle Farm Trend setter corporation in Qurbani Market!

30/05/2026

قانون واقعی اندھا ہوگیاہے
بلکہ ملک میں اسوقت کوئی قانون نافذ نہیں۔شریف فیملی اور انکے کتے غلط پراپیگنڈہ ذریعے عوام کو گمراہ کرکے مرضی کے لوگوں کو دھڑا دھڑ نواز رہے ہیں۔یقین نہ آئے تو اسی آئیڈی پر لکھا مقالہ ،،بیٹی بمقابلہ باپ،، ضرور پڑھیں۔جو انکے خلاف کسی یوتھیئے کی بجائے ایک نوننیئے کی سچی روداد ہے۔

24/04/2026

مقالا
کارکردگی موازنہ۔بیٹی بمقابلہ باپ
تحریر۔علی اصغر چوہدری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے تین بھائی کم وقفے سے بھری جوانی میں اچانک میرے ہاتھوں میں دم توڑگئے۔چاند چھپ گیا،تارے غائب ہوگئے، نیلا آسمان یکدم سیاہ لگنے لگا۔چوبیس اوربتیس سالہ دوتومیری گود میں سر رکھے مجھ سے باتیں کرتے گئے۔جیسے میرا نصف بدن بھی ساتھ لے گئے۔ قصبے کی دیواریں بھی بین کر رہی تھیں۔انکے غم میں ماں جی نڈھال ہوئیں۔انکوعلاج کیلئے لاہور لایاتووہ بھی میری جھولی میں پڑی گزرگئیں،تب میں بیس کا تھا۔سوگوار فضاؤں کے سانس بھی رک گئے،درختوں کے ساکت پتے دکھ میں برابرشریک دکھائی دیئے۔خنک ہواتھم گئی،ماحول میں تپش کا عنصر نمایاں ہوگیا۔اس مصیبت میں ساراپریوار ذہنی مریض ہوگیا،تین باہوں کے عروس اور خاندان کی قبیل داری کا بوجھ مجھ اکیلے کے سرتھا۔میں نے اپنے باپ کوایساکوئی دکھ نہیں دیا،نہ ہی انکی زندگی میں فوت ہوااور نہ پاگل،البتہ انہیں ضرور پاگل کردیا۔پھر ابا جی بھی میری آغوش میں سر رکھکر دم دینے والی روائیت برقرار رکھتے ہوئےلاہوری ہسپتال میں چل بسے۔گھنے شجر کے سائے سے نکل کر کڑی دھوپ کا سامنا کرنا پڑا۔سکول دور میں بلا کا تیزاور کئی رفاہی تنظیموں کا سربراہ رہنے والا پھرتیلا لڑکا حالات کی چکی میں گیہوں کی طرح پسنے کیلئے تیار تھا۔ایک دو سال میں تابڑ توڑ فوتگیوں سے سبھی گھر والوں کی دماغی حالت کافی نازک اور مالی حالت ڈھیر پتلی ہوگئی تھی۔ لہذاچوراسی بھانجے بھتیجوں کی سر براہی مجھ اکیلے پر تھی انہی میں سے کچھ پلوں کی آنکھیں کھلیں توبعدمیں وہ باولے کتوں کیطرح ناچیز پر بھونکنے لگے۔
میں آزاد ہوں،سلسلہ،نائک اور مٹھی بھر چاول جیسی کافی فلموں اورکئی مشہور ناولوں کی کہانیاں میری زندگی جیسی ہیں۔یہ ٹھہرا راقم کا تعارف۔
اب شاہی خاندان کے ساتھ سٹوری پر آتے ہیں ۔
شرفاءٹبرکی جلاءوطنی دوران، بوجہ،خوف ء مشرف جب ،،نون،، کوپنجاب میں امید وار نہیں ملتا تھا،بازارسیاست کی گہماگہمی دھیمی پڑچکی تھی اورسیاسی مجرے انتہائی ہلکی آنچ پر ہورہے تھے۔ ان دنوں وقت جیسے کسی پرانے دریچے میں ٹھہرا ہواتھا،ایک عجب سی بےقراری تھی جیسے کسی انجانے فیصلے کی آہٹ چوکھٹ پر کھڑی ہو۔ تب افضل تارڑ صاحب نے مجھ نونی جنونی مڈل کلاسیئےکوتڑا کر دریائی پٹی والےبیلے کے چورڈاکو،جرائم پیشہ اشتہاریوں اور رسہ گیروں کےگڑھ کےکوفیوں مافق قافیوں کے میری جندڑی سے ڈبل تجربہ والےکھونگ سیاسی بابوں کے اس گروپ کے مقابل الیکشن میں کھڑا کردیاکہ جو پچاس سال سے بلا مقابلہ منتخب ہوتےآرہےتھے۔
نکی جئی جان تے جندڑی ملوک۔میں نے بھی چھبیس کے آنکڑے والی اتھری جوانی کیساتھ ایسی گھمبرڈالی کہ یارلوگ منیچنے کی بجائے الٹاروٹھ گئے اور گھنگھرو ٹوٹ کردور جا گرے،پھروہی ہوا جو سانگلے،گوہ کیساتھ ہواتھا۔ان دنوں سافٹ ویئر اپ ڈیٹنگ کے رواج کی بجائے ڈھبری ٹائٹ کی جاتی تھی جو میری وڈھے رینچ کیساتھ ایسی کی گئی کہ آنے باھر آگئے۔
تارڑبکل اوڑھناچاہی تو جواب ملا کہ، ،،اجے نکہڑ کےلترکھاو ویلا آیاتے رل کے تتر کھاواں گے۔،، مگرتتر کھانے کا وقت آیا توتارڑ ہوری خود تتر ہوگئے۔
تیزآندھی چلی،درختوں کے پتے ہلے جیسے فضا ء بھی اس عمل کی گواہ بن رہی ہو۔
لفظ افق پرپھیلے،وقت ایک لمحے کو رک گیا۔چاروں اور،خاموشی چھا گئی مگر اس خاموشی میں شکست نہیں تھی بلکہ یہ سماں کا نرم تبسم تھا۔میری اس انقلابی حرکت سے علاقے کا گھٹن زدہ ذہنی غلامی والا پسماندہ ماحول تو ہمیشہ کیلئے یکسرتبدیل ہوگیا لیکن میری جھلی توت پر آگئی۔
اقتداری کھیر دوبارہ بٹی تومرکزی گاڈفادر نےانہیں کو سینے لگالیاجنہوں نےنون کو لون لگایاتھا،پھرانہوں نے اتفاق مارکہ چھتری تلے ہم جیسوں کوایسارگڑا لگایاکہ ہم ووٹوں میں تو کیالوٹوں اور نوٹوں میں بھی کھڑنےکے قابل نہ رہے اورروزی روٹی سے بھی گئے ۔ پرچم شرفااٹھاکرنعرہ خدمت لگانےکی پاداش میں شریفوں کے ان نئےجھولی چکوں نےبندہ ناچیز کیخلاف ایسی فنی بے غیرتیاں برتیں کہ ٹرک کے ٹائر نیچے آئی بکری جیسی حالت ہوگئی۔آسمان لال ہوانہ دھرتی پھٹی اور نہ ہی سورج سوا نیزے پر آیالیکن قیامت برپا ہوچکی تھی۔
باپ دادا کی جائیداد تو ایکطرف آبائی سازوسامان کی سوئی,اپنے ہاتھوں لکھیں اکتالیس کتابیں،اسناد معہ ضروری کاغذات وغیرہ اور لگائی کے جہیز کی چمچی تک اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا گیا۔کہہ لیں کہ گنے کا رس نکال کر پھوگھ کو دوبارہ مشین میں ٹھونس کے آخری قطرہ بھی نکال لیا گیا۔
اسوقت کےقاف بدل نونی ایم پی اے نے میرے پچاس لاکھ کے چاول اٹھوا کر مجھ پر اور میرے بوڑھے باپ پر پہلا پرچہ یہ کٹوایا کہ ہم نے اپنے ہی چوکیداروں کو خود باندھ کراپنی رائس مل سے اپنے ہی مال کی خودڈکیتی کی ہےجسکی برآمدگی بھی مجھ پر ڈالی گئی اور اسکی سپرداری کا حقداربھی کورٹ نے مجھے ہی ٹھہرایا،مال مقدمہ مانگا تو وہ خرد بردہوگیااور میں عدالت سے بری ہوکر خالی ہاتھ گھر لوٹا۔
وہ نقصان میں بھول گیا لیکن مجھے اور میرے باپ کے ہاتھوں کوجس ایک ہی تنگ ہتھکڑی میں جکڑا گیا اسکی تکلیف سے نکلی ابا جی کی چیخ اور اپنی اسوقت کی بے بسی مجھے آج بھی روز یاد آتی ہے۔ پھر میری زمین ہتھیانے کیلئے سول سےسپریم کورٹ تک جھوٹے کیس دائر کرکے ان سب کی ایک ہی دن تواریخ ڈلوا کر سبھی جگہ میری حاضری لازمی قرار دی جاتی۔ایک وقت پانچ شہروں میں موجودگی ممکن بنانے کے چکرمیں ایک بد دماغ جج کی کورٹ میں تیز رفتاری سے جاتے ہوئے شدیدایکسیڈنٹ سے میں ہمیشہ کیلئے معذور ہوگیا۔ہڈیاں چکناچور ہوئیں دو میجر آپریٹس سے پلیٹس پڑیں مگر سبھی رپورٹس کے باوجود ان دیوانی عدالتوں میں ایمبولینس پر بلوایا جاتا اور جج اس لال بتی والی گاڑی میں آکراس لیٹے ہوئے مریض کے بیان لیتے مگر ان سول کیسز میں بھی حاضری معافی کی سہولت نہ دی جاتی۔ایک بار تو مجھے گرفتار کرکے جیل کی جس چکی میں رکھا گیا،صبح اٹھا تو وہ کوٹھڑی ان جرائم پیشہ،ڈاکووں،قاتلوں اشتہاریوں سے کچھاکچھ بھری ہوئی تھی کہ جنکے خلاف میں آواز اٹھا کر چی گویرا بنا پھرتاتھا،آگے کیا ہواہوگا۔۔؟ آپ خود سمجھدار ہیں۔
جبکہ چناو کے فوری بعدچار بار راقم کی بھینسیں،دو موٹر سائیکلیں ایک ٹرک اور سترہ موٹریں چوری ہوئیں لیکن یہ حسرت ہی رہی کہ خادم کی کوئی رپورٹ درج ہوجائےہربار، ،،انوکھا لاڈلہ کھیلن کو مانگے چاند،، کا فقرہ سن کر کان لپیٹ کر واپس آجاتا۔
غرضیکہ پتاشری نوازشریف،المعروف باوجی کی سرداری میں ایسی کئی دلچسپ باتوں کو جھیلا،وقت ملا تو کبھی مزیدبیان کروں گا۔
پھربندہ نے کنبے سمیت پچیس سالہ بے سرو سامانی والی علاقہ بدری ذلت سہی، جیسے چھپڑ سے باہر ڈڈو۔دل کرے پاکستانی مینار پرچڑھ کرسبھی شریف زادوں کو بآواز بلند غلیظ گالیاں بکیں کہ درد بھری آوازدورتک سنی جاسکےلیکن حیاءآڑے آجاتی۔گھڑیاں صدیوں ماندبیتیں۔
اب دوبارہ اسی گارڈ فادر کی سپوتری اور سب کی ماں کے راج والی اسی حافظ آبادی نکڑ پر ٹکے ٹکے کے خبیث فراڈی لوگ، راج ماتاکے گھوس خورپیادوں کوشرعام ٹکے ٹنڈ خریدتے ملے۔
جبکہ راجہیہ کے پاسدار ہرکارے کان کی بجائے ہتھیلی آگے کرتے ہیں اور ماں حاجن کے وفادارسینیک تو ہلکے کتوں کیطرح کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔
پھر بھی ماتاشری، ،،سب کشل منگل ہے۔،،کاراگ الاپتی پھر رہی ہیں۔جے ہو۔۔!
پدری دورمیں علاقائی روایت اور شرفاء سٹائل مطابق اوپرنیچے کئی جھوٹے اورعجیب و غریب مقدمات،قاتلانہ حملے اور جھگے چوڑ کرکےراقم کا دھندہ چوپٹ کیا گیااور اب لاڈلی کی سرکار میں جبکہ پراپرٹیز کیلئے انصاف کا فیک ڈنڈھورابھی پیٹا جا رہا ہے تب اسی سال بندہ دل ناتواں کے مخالفین عجب ہتھکنڈے استعمال کرکےبندہ کو اس وراثتی جائیداد کے حق سے محروم کرتے پھر رہے ہیں کہ جسے بندہ نے فلاحی استعمال میں لانے کا سوچ رکھا تھا یعنی صوبے کا قانون واقعی اندھا ہوگیاہےمطلب، ،،کٹوی پے کٹوری نکلی اوردھی پیو توں وی گوری نکلی۔،،
محکمانہ حرامزدگیاں واضع ہیں مگر کچی عمرے ابن شریف اور خلق خدا سے محبت جتانے کی بھیانک سزا خادم کواب پچھلی عمرے بھی بھگتنا پڑ رہی ہے۔یوں کہہ لیں کہ عوامی ہیرو شپ چیچڑ کی مانند چمٹ کر ابھی تک خون چوس رہی ہے۔ راقم کےمخالف گنڈویا بھی آئےتوپرانےحریف اور انکےبگی داڑھی بردارمعزز ٹاوٹ،گپت سپورٹ کے ذریعے ایسے حقیر کیڑے کوبھی پھنیر ناگ بنانےکی کوشش کرتےہیں۔انکےسابقہ آلہ کارمر کھپ گئےتومیرے باپ کی غلطی کی پوچھل پر پاوں رکھکر ہووش ہووش کردیا گیا۔
راقم نے زندگی بھر جھوٹ نہیں بولا،نہ کسی سےدھوکہ دہی کی اور نہ ہی کبھی کسی کا حق کھایاپھر بھی کوئی دعوٰی کرے توتیسرے بندے کی ثالثی کا آپشن دیاجو کبھی نہ مانا گیامگریہاں کی پراپیگنڈہ انڈسٹری کا کمال دیکھیں کہ کوئی راقم بارے استفسار کرے تو پیڈے منہ،غلیظ ذہنیت کیساتھ ایسی تصویر کشی ہوتی ہے کہ خدا پناہ۔
سوچیں۔۔! شرفاءکی ملک بدری ٹائم،ناچیز نےاپنی کولی عمرے،بحثیث نونیا،ھب ءآل شریف میں اسوقت کے ان تگڑے قافیوں کیساتھ ایسا کیاکیا،کیاہوگا،جو انہیں آج تک نہیں بھولا لیکن ،،ن،، کو پھر بھی شرم نہیں آئی کہ کچھ یاد رکھا جاتا۔ سمجھیں رضیعہ غنڈوں میں اکیلی چھوڑ دی گئی۔
خان،زرداری پارٹی کسی نونی جنونی کیساتھ ایسا کرتے تو عام بات تھی لیکن لوٹا طرز نئے نونیوں نے مخلص پرانے نواز لورکابھرتہ بنادیا اور قیادت کوعلم تک نہیں یہ خاص خبر ہے۔جیسے کتے نے انسان کو نہیں بلکہ انسان نے کتے کو کاٹ لیاہو۔
امسال ہماراتین دہائیوں پرانابزنس ایک بارپھر ان چوت چالاکیوں بابت دوبارہ ڈسٹرب ہوااورہم بھرپور سیزن میں روزگار کی بجائےقانون قانون کھیلتے پھر رہے ہیں۔
رائس ایکسپورٹی جدید اصطلاحی(بقول انکے) ڈسٹرکٹ میں بھی ماں جی کی کارکردگی بہتر نہیں تو دور افتادہ پسماندہ علاقوں میں بیبے لازمن انھہی ہوکر پیس رہی ہوگی اور کتے یقینن آٹاچاٹ رہے ہونگے۔
پہلےمیرا ڈیڑھ دو ارب روپےکا نقصان دونوں میاں برادران اور انکے ٹکٹ خوروں کی نگرانی میں کیا گیاجبکہ اب مریم ماتا کی صوبےداری ویلے چار ملین نقداور چالیس پچاس کروڑ کی جائیداد فراڈ کیساتھ ہتھیائی جا رہی ہے۔
تھانے جاتے ہیں تو وہ کرتا پھاڑنے کو آتے ہیں،خبر ملی یہاں دس لاکھ کی شیرینی بٹی ہے۔عدالت کا رخ کیا تو وہاں بھی دگڑ دلےٹکرے۔سنا منصف بیس لاکھ میں بکا۔پتہ چلاکہ لالچی خریداروں سےمیری زمین کے عوض پکڑےگئے اونے پونےپیسےمیرے ہی خلاف صرف ہورہے ہیں۔یعنی ساڈے لتر ساڈے سر۔
میں نے بتی سالہ بزنس کیرئیر انتہائی اذیت سے گزارااپنی دردناک کہانی سناؤں تو آپکی آنکھوں میں ساون بھادوں کی جھڑی پھوٹ پڑے اورآپ سینے پر دوہتڑ مار مار کر زارو قطار رونے لگیں لیکن راقم نے ہمیشہ چپ سادھے رکھی مگر اب مریم امی کی اجارہ داری میں صبر کا پیالہ کانوں تک بھر دیا گیا ہےلہذا خود کشی کا اردہ کیا سو اسوقت کر رہا ہوں یعنی ان سبھی خبیث صفت انسانوں کے متعلق لکھنا آتما ہتھیا کے مترادف ٹھہرا۔
بدبختی کی انتہا،کہ اسوقت مرکزی قانونی وزیر سمیت کئی کلیدی سرکاری عہدوں پر سبھی حافظ آبادی چمٹے بیٹھے ہیں اور سب سے زیادہ بے غیرتی اور حرامخوری کاچورن بھی اسی ضلع میں بک رہاہے۔
مریم نواز ،،دیس سدھارو،، منڈلی کی روح رواں تارڑ آپاں المعروف دخترنیک اخترحافظ آباد سمیت ان سبھی کرسی برداروں کی ناک تلے پلس پیاری۔راج دلاری نے رشوت و شفارش بدلے بدتمیزی برتی،بے غیرت جج نےتوکھلے عام سورکھاکےجسطرح اسے حلال قراردیتےہوئےحقائق مسخ کیئے،محکمہ مال و مال کاحرامی پٹواری جو گانڈ دھونے سے بھی نابلدتھااورکرپٹ تحصیلدار جس نے حرام کھانے کی قسم کھائی ہوئی تھی اوراسکے چہیتےعملے نے میرے شدیدقلبی مرض تحت لاہور میں منجی ریسٹ اور میری چائلڈ میرج مصروفیات کے دوران تیس لاکھ رشوت لیکر جعلی نوٹسز بنا کرمیری لاعلمی اور غیر موجودگی میں باہر و باہرمیری بچی کچھی سات کنال وراثتی جائیداد جوکہ بروئے خانگی تقسیمی ثالثی،وصیت والدم اور باوجوداندراج روز نامہ پٹوار، بوجہ بینک ماڑگیج امانتن کسی اور کے نام تھی اور عرصہ پچیس سال سے راقم کے قبضہ میں تھی،جسے راقم نے بلیک میل ہوتے ہوئےدوبارہ خریدا تھا اسکاامانتی معاہدہ بیع،دوران کیس، بغیراطلاع،بلا وجہ پھاڑتے ہوئے اور سرکاری ریکارڈ میں چھیڑ خانی کرکےشراتی قبضہ گروپ کے نام بذریعہ جعلسازی، یہ بینک پلج رقبہ باوجود سول مقدمہ،بوگس رجسٹر کرکے راقم کا ملین پلس بذریعہ بینک ادا شدہ واضح بیعانہ خرد برد کرکے انکی بے مالکی والےنمبران میں انکا جعلی ونڈا بنا کر بدعنوانی کی طویل فہرست مرتب کرکے سنگین جرائم کے مرتکب ہوکر یہاں اپنی غلیظ خواہشات پوری کرنے کی کوشش میں جن کرپشن زدہ مضحکہ خیزیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے نقص امن کی اگنی کو ہوا دیکر میرے وراثتی اسحقاق کو جس بری طرح مجروح کیا، اسکی فوری ریکوری اور اس دغاباز ٹولے کے فراڈیئے ملزمان اور انکےسہولت کاروں کے خلاف تگڑامقدمہ بنتا ہےکیونکہ یہ کوئی پرانا معاملہ نہیں بلکہ اسی ششماہی میں پنجابی سرکارکی پراپرٹی کیسز بارے شفافیت کے بھرپور حالیہ پبلسٹی ڈھونگ کے دوران کی گئیں متعدد جعلسازیوں کے ذریعے وزیر آعلٰن کے مظبوط موقف اورفرسودہ نظام کے سوہنے بوتھے پر نوسربازوں کا زوردار تازہ تھپڑ ہے جسکی گونج یقینن جاتی عمرہ میں گور شریف تک گئی ہوگی۔
دھی دھیانی کے خلاف خودکسی عمل بارے راقم سوچ بھی نہیں سکتا،البتہ بوا فاطمہ جناح جیسی کوئی زنانہ شخصیت آج زندہ ہوتی تو،ان بے ضابطگیوں کے بدلے، ان سے ترلہ کرکے،بی اماں کے منہ پر ایک لچھے دار چپیڑ ضرور رسید کرواتا جسکی بازگشت انڈیا میں موجود انکے لوہے والے پردادا،اور لکڑ دادوں کے مدافون تک شرطیہ جاتی۔
مگرراج ماتا کوٹریفک کےبیلٹ چالانوں کی نگرانی سے فرصت ملے تو ادھر توجہ دیں۔حالانکہ مجھ مسکین کا دعوٰی ہے کہ احقر کے بیان کا ایک نقطہ بھی غلط ثابت ہواتو پوری جائیداد سے دستبردار ہوجاوں گا۔کوئی محکمہ نہیں تو کسی بھی ثالث کو فیصلہ کے اختیارکا اشٹام لکھکر دینے کو تیار ہوں مگر حسب سابق مجھے بات سنانے کا موقعہ ہی نہیں دیا جارہااورجہاں کہیں شنوائی ہوتی بھی ہے تو راقم کے سالڈ دلائل کے جواب میں بچگانہ طریقے سے غیرمتعلقہ بکواس،کہ ہماری شادی کی روٹی بیچ دی ،دادے کی فوٹو نہیں دی،میریاں ریوڑیاں جھین کر کھا گیا،ساڈا مرونڈاکھو کے پھج گیا،ہماری قلفی چوس گیا اوراسی طرح کی دیگر چول چول کرکے جان بوجھ کر پانی میں مدھانی ڈال دی جاتی ہے اور سامنے والامنصف سر پکڑ کر بیٹھ جاتاہےیا یوں کہہ لیں کہ سختی سے ٹو دی پوائنٹ بات سننے والا کوئی مائی کا لال ٹکرا ہی نہیں یاپھر جانبداری برتنے کیلیئے آگے والا خود ڈھیل دیتا ہے کہ لگے رہو منا ۔
لہذااب امید نشتہ کیوں کہ رانی ماں سکون سے راج کر رہی ہے،راجے راجے آرام سےکھا رہے ہیں جبکہ ہم جیسے بلےجھانکتے ہی رہ جائینگے،ایک دن وہ لندن اورہم شاما شاہ قبرستان پہنچ جائینگے ۔
چور بازاری کی اخیر دیکھیں کہ دستی اپیل وصولی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے سائل ایک مہینے سے درخواست گزاری کی کوشش کر رہا ہے پر شائدٹھگوں کی ہوتھل بازی کیوجہ سے کمپیوٹر کا پورٹل میرے نام کو قبول ہی نہیں کررہا۔
اب تودل چاہتا ہےکہ،
،،جےشری ماتا،جےنہ ہو،، نام کی ایک علامتی سماج سیوک پارٹی بنا کے، بازوپر بندھی کالی پٹی کیساتھ ملنگوں کیطرح ننگے پاوں نگری نگری پیدل گھوم کر پرامن احتجاجی مجمے لگاکےماں وڈی کی خوب مدع سرائی کیساتھ کیساتھ اپنے ساتھ ہوئی زیادتیوں کا احوال بیان کریں اور جن جن حرام خورآفیسران نے اس کار خوار میں حصہ کھایا انکی اپنی مدد آپ کے تحت بیچ چوراہے ماں بہن ایک کرتے ہوئے ڈھول پیٹ کر عوام کو حقائق سے بقلم خود آگاہ کریں اور کرپٹ محکموں کے ان خنزیرخوراہلکاروں اور انہیں بندر کیطرح نچانےوالےذلیل مصاحبین کوچاچے انور کیطرح مزاحیہ مزاحیہ بد دعائیں سنائیں کہ،
،،تہاڈی کھکھڑی پھکی نکلےتےکھیرا نکلے کوڑا،رب کرے تہانوں کھانا پے جائے ڈاہڈا گرم پکوڑا، تہاڈے پنڈے آتے ٹہلھے ہو جان کپڑے،تہانوں کھرک وی اوتھےہوے،جتھے ہتھ نہ اپڑے،وغیرہ وغیرہ ،جس سے اور کچھ، ہونہ ہو،ہاں ۔۔! ٹینشن زدہ اس ملکی ماحول میں چند قہقہے ضرور بکھرجائینگے اور ہم بھی گل گھوٹو سے مرنے کی بجائے دل کاغبار ہلکا کر سکیں گے۔
سلیبس میں پڑھا تھا کہ دریا کے دوسرے کنارے مرے کتے کا بھی حاکم جوابدہ ہوگاجبکہ یہاں حکمران عوام کو کتوں کیطرح خودمار کر الٹا لٹکا رہے ہیں اور کوئی پچھ پردید نہیں۔
مگر اب میں سارے پنجاب کی اس ماں جی کو،انکے بگ باس پاپا جانی،مہا منتری چاچو پیارے،دخول منسٹر،سربراہ دھرتی بورڈ،کم شنر،اتم ڈھول سپاہی آئی جی وغیرہ اور انکے رشوت خور چیلوں سمیت فرائض کی کوتاہی برتنے پرانصاف کٹہرے ضرور کھڑاکرونگا۔
ہتھ پیا تے وطن دے ناسوراں دے خلاف اپنی فریاد عالمی عدالت تک لے کے جاواں گے، نئیں تے عالم بالا دی ڈاہڈی پیشی تے کیتے نئیں جاندی اوتھے گلاویں پھڑ کے ضرور گھسیٹاں گا۔
میرے وچ پہلے ای چڑی جنی جاں تے پہاڑ جنے دکھ نیں،ظلماں دے چار ککھ ہور وی ود گئے تے خیر اے ۔ہن کوئی فائدہ ہوے یا نہ ہوے،بھانویں کلی دے راکھ زدہ بچے کھچے ککھ وی نہ رہن،مدر پنجاب نوں اوہدی ڈرامے بازٹولی سمیت کووڑے بیانیہ تے چوہدر کرن دا عذاب ضرور جھلاواں گے۔ایتھے بھاویں اوتے۔انشاءاللہ
نوٹ۔اس تحریر کو بطور قانونی نوٹس پڑھا اورسمجھاجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریرکنندہ۔چڑھتے( ابھرتے)پنجاب کے پیدائشی باپ کا
لہندے (ڈوبتے)پنجاب والا بیٹا۔
0300,6523817







21/04/2026

وڈی عیدوڈامنافع
محفوظ اوربہترین سرمایہ کاری،جانوروں کے کاروبارسے منسلک شاندار نفع
گزشتہ8عید الضحیٰ پر ہمار ے صارفین نے مسلسل خاطرخواہ منافع پایا۔شدید مہنگائی کے باوجودہم نے ہر سال انتہائی سستے جانورفراہم کیے۔ 2018میں کمیٹی نہیں قربانی،2019میں سستی ترین قربانی ،2020 میں قربانی میں آسانی،2021میں گوشت کے بھاؤ قربانی ،2022میں کیٹل کلب ،2023میں وڈی عید نکی انویسٹمنٹ،2024میں قربانی بزنس میں پارٹنر بنیں اور2025 میں محفوظ بہترین قربانی سرمایہ کاری کاٹرینڈ متعارف کرواکر ہم نے لائیو سٹاک مارکیٹ کو نیا رواج دیا جو اس شعبے پر مثبت نتائج مرتب کرتا رہا۔ہماری 8سالہ محنت سے قربانی جانور فی کلوزندہ بکنے کے ٹرینڈ نے زور پکڑاجس سے اس شعبے میں زبردست تبدیلی آئی۔ہمارے سلوگن اوراندازکاپی کرکے سینکڑوں کیٹل کمپنیز نے قربانی بزنس میں لوٹ مچائی لیکن ہمارے ریٹ ان سے آدھے ہی رہے۔ اس دوران بعض سخت گیر صارفین نے مطلوبہ وزن کی کمی بیشی کی صورت کافی ٹف ٹائم دیا۔کئی کسٹمرزایک بکنگ کے بدلے چارچار جانورلےکرمطمئن ہوتے۔ اکثرکی پسندناپسند آڑے آئی ،فراڈی اوربلیک میلروں سے بھی سامناہوا۔جو مدرسے والے منڈیوں میں ’’کھجل‘‘ ہو کربغیر تول،مختلف اوزان کے جانور لاتے،اۡن کو سینکڑوں ہم وزن وچھوں کی سپلائی کی سہولت دی اور پھر چند کلو کے فرق پرانکا واویلا بھی برداشت کیالیکن ادارہ نے اپنے منافع کی بجائے ہمیشہ صارف کی رائے مقدم رکھی جبکہ کئی گولڈن کسٹمرزنے بھرپور تعاون کیا اور ہماری ہرپالیسی کو معتبرسمجھاجو ہماری ترقی کا باعث بنے۔
کرونا،شدیدمہنگائی، لمپی وائرس اور متعدد سرکاری اداروں نے ہمیں نقصان پہنچانے کی بھر پور کوشش کی۔ دلچسپ یہ کہ انسانی سمگلنگ اوروائلڈ لائف جیسے ادارے کہ جن سے ہمارا دور کاواسطہ تک نہیں اۡنہوں نے بھی ہمیں تنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی حالانکہ ہم وچھوں کی ڈنکی لگواتے تھے نہ باندر بیچتے تھے۔شکر ہے فیملی پلاننگ والوں کی نظر نہیں پڑی ورنہ سچ میں گنہگار ٹھہرتے کیونکہ ہماری بکریاں تین تین بچے پیدا کرتیں اورہرچھ ماہ بعد چہلے میں ہوتیں تھیں جبکہ حسب منشاءبَلّی کیلئے جانور نہ ملنے پر کئی ایس پیوں،کاظمیوں اور جاوید لطیفوں جیسے مداریوں کی شعبدہ بازیاں ہم نے الگ دیکھیں۔موجودہ ملکی حالات میں ہم جیسے کاروباری مزدوروں کے مسائل کا اندازہ آپ اس بات سے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ 9مئی، جناح ہاؤس والے واقعہ کے دوران اۡس علاقے کے وہ افسران و متعلقہ سٹاف جو بعد میں اس مقدمہ کے مدعی بنے اس اہم ترین وقوعہ کے دنوں میں اپنے حقیقی فرائض کی انجام دہی کی بجائے دوسرے ضلع میں موجود ہمارے ڈنگروں کے کئی سالہ پرانے حساب کتاب کا بہانہ بنا کرانتہائی جانبدارانہ طریقے کیساتھ کسی’’خاکی کی دہاڑی‘‘لگوانے میں مشغول رہے جبکہ’’لائیو سٹاک‘‘جیسے متعلقہ محکموں نے ہمیں کبھی مشورہ بھی مفت نہیں دیا۔مطلب ہر طرح کی قدرتی،ریاستی اور مالی آفات کا مقابلہ کرتے ہوئے ہم اپنی مدد آپ اور صارفین کے تعاون کے تحت کٹھن مراحل طے کرکے یہاں تک پہنچے ہیں۔الحمد اللہ ہم ثابت قدم رہے جس کیلئے ہم اپنے چند معاون انویسٹرز کے مستقل تعاون کے شکر گزار ہیں۔
گزشتہ سالوں ہر پراڈکٹ کئی گنا مہنگی ہوئی لیکن ہم بنا کسی ریاستی سرپرستی کے اپنے شعبے کی بہتری کیلئے ملک کے ہر کونے تک پہنچے۔پکے لیٹروں سے مسلسل لۡٹنے کے باوجود اندرون سندھ جا کر کچے کے ڈاکوؤں سے متعدد بارلۡکم مٹی کھیل کے نہ صرف سستے مال کی ترسیل ممکن بنائی بلکہ کچے پکے کا فرق بھی واضح ہوااور فارمنگ پروڈکشن کے مشکل ترین مسائل سے بھی دو چار ہوئے۔بعض دفعہ ایک ایک دن میں پندرہ بیس شیں جوان وچھے راہی ملک عدم ہوئے اس وقت عالم لوہار کی طرح’’واجاں ماریاں بلایا کئی وار وے کسے ادارے ساڈی گل نئیں سنی‘‘کی مثال بھی بنے۔تھک ہار کر زندہ رہ جانےوالے جانوروں سے ہی دۡکھ بیان کیا غرضیکہ’’ڈنگروں کے ساتھ ڈنگر ہوئے‘‘لیکن جب کبھی کسی ’’سرکاری‘‘کے بہنوئی کو کھجلی ہوتی تو دۡنیا جہان کے قانون فارمنگ کے شعبے پر لاگو ہوجاتے۔ہماری اس جانفشاں محنت کے نتیجے میں قربانی اور لائیو سٹاک کی قیمتیں کنٹرول میں رہیں جو استحکام اسٹیٹ کے لیے دیگر سوچنے والوں کی کوشش کی طرح ہماری ادنی کاوش ٹھہری۔ہماری کۡلّی کے ککّھ چاہے سو بار بکھرے لیکن ہم نے ہمیشہ ذاتی مفاداور ڈھیروں منافع کی بجائے رفاہ عامہ طرز کے اُصول اپنائے۔ہمارا سوشل میڈیا پر پڑا گرانقدرعلیحدہ نوعیت کا متعلقہ ریسرچ ورک پیدائشی اندھوں کو بھی سنائی دے سکتا ہے۔ مہوش حیات جیسوں کو ایوارڈ ملتے ہیں ہم جیسوں کو شاباش بھی نہیں ملتی۔اچھے صارفین کا پیار ہی ہمارا انعام ٹھہرتا ہے۔30سالہ انتہائی کٹھن بزنس کیرئیرمیں ہم نے سوتیلی ماں جیسی ریاست سے کچھ لینے کی بجائے ہمیشہ اسے کچھ دیا یعنی حکومت ہمیشہ لیپو کی رہی دیپو کی نہ بنی اس دوران اچھے کسٹمرز ہی ہمارے لیے ہمیشہ آکسیجن ثابت ہوئے۔
ہمارا نفع بخش جانوروں والایہ سسٹم دراصل برصغیر میں صدیوں سے رائج ادھیارے یاحصے پردئیے جانےوالے ڈھورڈنگروں کے رواج سے مستعار لیا گیاہے جوسالہا سال سے کامیاب سمجھاجاتارہا جانوروں کی وقت سے پہلے خریداری اور اۡن کی بہتردیکھ بھال سے وزن کے خاطرخواہ اضافے کیوجہ سے دونوں پارٹیزکیلئے یہ عمل کافی سود مند ثابت ہوتا ہے اوراس سے منافع بخش کاروبارکی تکمیل ممکن ہوتی ہے۔ ایکسپائرڈاینمل کسی ایک کسٹمرکے ذمے لگانے کی بجائے مشترکہ خرچ کھاتے میں گنے جاتے ہیں۔اِسی لیے انویسٹرکو کوئی فوٹو یا وڈیو شیئر نہیں کی جاتی۔ 25سالہ عام فارمنگ کے بعدہم نے کروناسیزن میں بکنگ سسٹم اپنایا تو یہ سستا پیداواری طریقہ سا منے آیا۔پہلے چار سال وزیٹرزہمارا شیخوپورہ فارم وزٹ کرتے تھے اب فارم کی بجائے اقبال ٹاؤن لاہور آفس تشریف لاتے ہیں۔
جانوروں کے مطلوبہ وزن،ڈیلیوری ٹائم،لیٹ سویراورپسندناپسند پر اختلاف ممکن ہے لیکن الحمد اللہ ہماری ایمانداری پرنہیں۔ گزشتہ8عیدین پرجمع شدہ ایڈوانس رقوم تقریباًانتہائی پۡرکشش منافع کےساتھ واپس ہوتی رہیں اورایک پائی کا ہیر پھیربھی ثابت نہیں۔یہی وجہ ہے کہ صارفین گزشتہ7سال سے اعتمادکےساتھ کروڑوں کی ایڈوانس بکنگ کرواتے رہے ہیں۔ 2018سے شروع ہوایہ سلسلہ اب2026میں ایک منظم بزنس بن چکاہے جس میں قربانی بکنگ والوں کے ہمراہ اب ہم اۡن انویسٹرز کو بھی دعوت دینے کے قابل ہو گئے ہیں کہ جو مناسب انویسٹمنٹ کی بعدخاطر خواہ حلال منافع کمانے کے خواہاں ہیں۔ہم اپنی نویں عید الضحی 2026کیلئے نئے عزم کیساتھ ایک جامع سسٹم متعارف کروانے جارہے ہیں .امید ہے اس مرتبہ ہم اس قربانی پروگرام کوپہلے سے بہتر بنا سکیں گے۔جس کیلئے آپ کے تعاون کے طلبگارہیں تاکہ ہم اپنی کوتاہیوں کا ازالہ کرکے مزیدبہترسروس فراہم کرسکیں۔
بزنس بحران زدہ اس دور میں اب قربانی بکنگ کی بجائے پیش خدمت ہے محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری کا بہترین موقع، اب صارفین ہمارے پارٹنربن کے جانوروں اور قربانی کے کاروبار سے منسلک ہوکرپا سکیں گے شاندارنفع جس کیلئے ہم متعارف کروا رہے ہیں سالانہ انویسٹمنٹ اینڈٹریڈنگ پلان جس کے تحت پرکشش سوفیصد حلال پرافٹ یقینی ہوگا۔
چونکہ شارٹ ٹرم ( چندماہ کی عیدبکنگ) میں سینکڑوں صارفین کی تمام ضروریات و جملہ شکایات کاازالہ ذوالحج کے پہلے دس دنوں میں کسی صورت ممکن نہ تھا اسلئے اب سالانہ انویسٹمنٹ پلان کے ذریعے خدمت کے بہتر انداز اپنائے جائیں گے،آئیں اورہمارے ساتھ ملکرپائیں زیادہ سے زیادہ قطعی حلال منافع ہر سال۔آئیں اور سبھی کھوکھلے سیاسی نعروں سے بالا تر ہوکر اس اہم منافع بخش ملکی کاروبار کو اپنی مدد آپ کے تحت مل جل کربہترسے بہتر بنائیں اور اپنے نفع کو 100%یقینی بنائیں۔
معلومات کیلئے اس نمبر پر واٹس ایپ کریں۔:
:۔03004708083

20/02/2026

قربانی بزنس 2026
میں محفوظ انویسٹمنٹ کرکے پچھلےدس سال کیطرح سستے جانورپائیں اورپرکشش حلال منافع کمائیں 0300.4708083

04/02/2026
18/12/2025

قربانی بزنس 2026
میں بھی محفوظ انویسٹمنٹ کرکے پچھلےدس سال کیطرح سستے جانورپائیں اورپرکشش حلال منافع کمائیں۔ 0300.4708083

17/12/2025

سابقہ دس سال کیطرح2026قربانی بزنس میں محفوظ انویسٹمنٹ پرپرکشش حلال منافع کیلئےرابطہ کریں0300.4708083

Malik + Ahmad Corporation by Ali Asghar & Companyاسلام علیکم۔۔!سابقہ 9 سال ہم نے ایک ایک فرد کے سینکڑوں جانور بک کرکے ان...
24/08/2025

Malik + Ahmad Corporation by Ali Asghar & Company
اسلام علیکم۔۔!
سابقہ 9 سال ہم نے ایک ایک فرد کے سینکڑوں جانور بک کرکے انہیں انتہائی سستے داموں یہ قربانی اینیمل فراہم کرتے رہے ہیں،جس سلسلے میں لاکھوں روپے روزانہ ہمارے پاس ڈپوزٹ ہوا کرتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیوپاری اور قصائی ٹائپ افراد نے بکنگ کرا کےادارے کوبلا وجہ تنگ کرنا شروع کردیا۔کئی مدرسے والوں نےہم وزن وچھوں کے چکروں میں علیحدہ زچ کیا۔
بعض گھریلو صارفین بھی ہمارے اس سسٹم سے مسلسل استفادہ حاصل کرنے کی بجائے زیادہ لالچ میں آکر چھوٹی چھوٹی باتوں پرخواہ مخواہ پریشان کرنے لگے تھے۔
ایک آدھ گھریلو صارف مخلص ہوتابھی تو ہم،انہیں چکروں میں اسے بھی بہتر سروس نہ دے پاتے۔
اسلئیے اب منفرد آفرز کیساتھ نئی آزادی سکیم اورسو روپے
روزانہ والا یہ سسٹم جاری کیا گیاہے جس سے صرف اینڈ یوزر ہی بھرپور فائدہ اٹھا سکے گا۔
جس میں شرعی تقاضوں اورباری کے مطابق عید کے تین روز قربانی کا انتظام ہوگا۔جس میں صارفین کو نہ قصائی کے خرچے اور نہ ہی آلائشوں کی تلفی کا جھنجھٹ ہوگا۔اسکے علاوہ بیرون ملک سے پیسے بھیج کراپنا حصہ غربامیں تقسیم کروانے والے اوور سیز پاکستانیوں کیلئے ایک علیحدہ نظام ہوگا۔
جبکہ یکمشت ادائیگی پر%5ڈسکائونٹ ہوگی۔
لہذا100روپے روزانہ قربانی آفرکے
خواہشمنداپنانام،پتہ،
موبائل نمبراور ہمیں بھیجی گئی پہلی رقم کی رسید،ہمارےاسی نمبر پر میسج کریں۔
جسکے بعد آپکو پرسنل کوڈ الاٹ کیاجائیگا۔
اسکے بعدآپ نے 27 مئی2026عیدالاضحٰی
تک،100روپیہ روزانہ کے حساب سے کل 300 دن(یعنی یکم اگست 2025 کہ جس روز سے اس آزادی آفر سکیم کا آغاز کیا گیاتھا،سے لیکر27 مئی 2026 عید تک) کا سو روپیہ روزانہ پورا کرنا ہے۔
اگر آپ یکم اگست 2025 کے بعد کسی اور مہینے میں شروع کرتے ہیں تو یکم اگست سے آج کے دن تک کے ایام کے برابر رقم آپکی پہلی ادائیگی ہوگی اسکے بعد سو روپیہ کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
مثلا اگرآپ 3ستمبر کو شروع کرتے ہیں تو سب سے پہلے آپ گزرے ہوئے 33 ایام کے 3300 روپیہ ہمیں سینڈ کرکے ادارہ سے اپنا کوڈ حاصل کریں گےاور پھر 27 مئی 2026 یعنی عید قرباں تک سو روپیہ روزانہ بھجوائیں گے۔
جسکی ویکلی وصولی آپکوادارہ کیطرف سے آتی رہے گی۔
آخر میں آپکے مخصوص کوڈ نمبر کیساتھ تمام رسیدات یا ادائیگی کا ریکارڈ چیک کر کے آپکو ڈلیوری میسج بھیج دیا جائیگاجسکے بعد آپکے حصےکاگوشت آپکو فری ہوم ڈلیوری کے تحت آپکے گھر پہچانا ادارہ کی ذمہ داری ہوگی۔
ان تین سو دن کے سو روپے روزانہ کے علاوہ ہمارےکوئی بھی دیگر چارجز ہرگزنہیں ہونگے۔
فی حصہ گوشت کم و بیش 16۔20 کلو تک ہوگا۔
ہمارے اسی نمبر 0300،4708083 پر بذریعہ ،،ایزی پیسہ،، 100روپے روزانہ اور پہلی رقم جو بھی بنے،سینڈ کی جاسکتی ہے۔کوشش کریں کہ آپ ہر دفعہ اپنا وہی فون نمبر استعمال کریں جو نام،پتہ و فسٹ پیمنٹ کے میسج کیساتھ پہلی بارلکھ کر بھیجا گیا ہوکیونکہ آپکا یہی فون نمبر آپکے کسٹمر کوڈ کے ساتھ محفوظ کیا جائیگااور آپکے اسی نمبر کے ذریعے آپکے حصے کے گوشت کی ڈلیوری ممکن ہوگی۔

Address

Office#1, Second Floor, Abbas Plaza, Moon Market
Lahore
54000

Telephone

+923004708083

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malik + Ahmad Cattle Farm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Malik + Ahmad Cattle Farm:

Share