24/04/2026
مقالا
کارکردگی موازنہ۔بیٹی بمقابلہ باپ
تحریر۔علی اصغر چوہدری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے تین بھائی کم وقفے سے بھری جوانی میں اچانک میرے ہاتھوں میں دم توڑگئے۔چاند چھپ گیا،تارے غائب ہوگئے، نیلا آسمان یکدم سیاہ لگنے لگا۔چوبیس اوربتیس سالہ دوتومیری گود میں سر رکھے مجھ سے باتیں کرتے گئے۔جیسے میرا نصف بدن بھی ساتھ لے گئے۔ قصبے کی دیواریں بھی بین کر رہی تھیں۔انکے غم میں ماں جی نڈھال ہوئیں۔انکوعلاج کیلئے لاہور لایاتووہ بھی میری جھولی میں پڑی گزرگئیں،تب میں بیس کا تھا۔سوگوار فضاؤں کے سانس بھی رک گئے،درختوں کے ساکت پتے دکھ میں برابرشریک دکھائی دیئے۔خنک ہواتھم گئی،ماحول میں تپش کا عنصر نمایاں ہوگیا۔اس مصیبت میں ساراپریوار ذہنی مریض ہوگیا،تین باہوں کے عروس اور خاندان کی قبیل داری کا بوجھ مجھ اکیلے کے سرتھا۔میں نے اپنے باپ کوایساکوئی دکھ نہیں دیا،نہ ہی انکی زندگی میں فوت ہوااور نہ پاگل،البتہ انہیں ضرور پاگل کردیا۔پھر ابا جی بھی میری آغوش میں سر رکھکر دم دینے والی روائیت برقرار رکھتے ہوئےلاہوری ہسپتال میں چل بسے۔گھنے شجر کے سائے سے نکل کر کڑی دھوپ کا سامنا کرنا پڑا۔سکول دور میں بلا کا تیزاور کئی رفاہی تنظیموں کا سربراہ رہنے والا پھرتیلا لڑکا حالات کی چکی میں گیہوں کی طرح پسنے کیلئے تیار تھا۔ایک دو سال میں تابڑ توڑ فوتگیوں سے سبھی گھر والوں کی دماغی حالت کافی نازک اور مالی حالت ڈھیر پتلی ہوگئی تھی۔ لہذاچوراسی بھانجے بھتیجوں کی سر براہی مجھ اکیلے پر تھی انہی میں سے کچھ پلوں کی آنکھیں کھلیں توبعدمیں وہ باولے کتوں کیطرح ناچیز پر بھونکنے لگے۔
میں آزاد ہوں،سلسلہ،نائک اور مٹھی بھر چاول جیسی کافی فلموں اورکئی مشہور ناولوں کی کہانیاں میری زندگی جیسی ہیں۔یہ ٹھہرا راقم کا تعارف۔
اب شاہی خاندان کے ساتھ سٹوری پر آتے ہیں ۔
شرفاءٹبرکی جلاءوطنی دوران، بوجہ،خوف ء مشرف جب ،،نون،، کوپنجاب میں امید وار نہیں ملتا تھا،بازارسیاست کی گہماگہمی دھیمی پڑچکی تھی اورسیاسی مجرے انتہائی ہلکی آنچ پر ہورہے تھے۔ ان دنوں وقت جیسے کسی پرانے دریچے میں ٹھہرا ہواتھا،ایک عجب سی بےقراری تھی جیسے کسی انجانے فیصلے کی آہٹ چوکھٹ پر کھڑی ہو۔ تب افضل تارڑ صاحب نے مجھ نونی جنونی مڈل کلاسیئےکوتڑا کر دریائی پٹی والےبیلے کے چورڈاکو،جرائم پیشہ اشتہاریوں اور رسہ گیروں کےگڑھ کےکوفیوں مافق قافیوں کے میری جندڑی سے ڈبل تجربہ والےکھونگ سیاسی بابوں کے اس گروپ کے مقابل الیکشن میں کھڑا کردیاکہ جو پچاس سال سے بلا مقابلہ منتخب ہوتےآرہےتھے۔
نکی جئی جان تے جندڑی ملوک۔میں نے بھی چھبیس کے آنکڑے والی اتھری جوانی کیساتھ ایسی گھمبرڈالی کہ یارلوگ منیچنے کی بجائے الٹاروٹھ گئے اور گھنگھرو ٹوٹ کردور جا گرے،پھروہی ہوا جو سانگلے،گوہ کیساتھ ہواتھا۔ان دنوں سافٹ ویئر اپ ڈیٹنگ کے رواج کی بجائے ڈھبری ٹائٹ کی جاتی تھی جو میری وڈھے رینچ کیساتھ ایسی کی گئی کہ آنے باھر آگئے۔
تارڑبکل اوڑھناچاہی تو جواب ملا کہ، ،،اجے نکہڑ کےلترکھاو ویلا آیاتے رل کے تتر کھاواں گے۔،، مگرتتر کھانے کا وقت آیا توتارڑ ہوری خود تتر ہوگئے۔
تیزآندھی چلی،درختوں کے پتے ہلے جیسے فضا ء بھی اس عمل کی گواہ بن رہی ہو۔
لفظ افق پرپھیلے،وقت ایک لمحے کو رک گیا۔چاروں اور،خاموشی چھا گئی مگر اس خاموشی میں شکست نہیں تھی بلکہ یہ سماں کا نرم تبسم تھا۔میری اس انقلابی حرکت سے علاقے کا گھٹن زدہ ذہنی غلامی والا پسماندہ ماحول تو ہمیشہ کیلئے یکسرتبدیل ہوگیا لیکن میری جھلی توت پر آگئی۔
اقتداری کھیر دوبارہ بٹی تومرکزی گاڈفادر نےانہیں کو سینے لگالیاجنہوں نےنون کو لون لگایاتھا،پھرانہوں نے اتفاق مارکہ چھتری تلے ہم جیسوں کوایسارگڑا لگایاکہ ہم ووٹوں میں تو کیالوٹوں اور نوٹوں میں بھی کھڑنےکے قابل نہ رہے اورروزی روٹی سے بھی گئے ۔ پرچم شرفااٹھاکرنعرہ خدمت لگانےکی پاداش میں شریفوں کے ان نئےجھولی چکوں نےبندہ ناچیز کیخلاف ایسی فنی بے غیرتیاں برتیں کہ ٹرک کے ٹائر نیچے آئی بکری جیسی حالت ہوگئی۔آسمان لال ہوانہ دھرتی پھٹی اور نہ ہی سورج سوا نیزے پر آیالیکن قیامت برپا ہوچکی تھی۔
باپ دادا کی جائیداد تو ایکطرف آبائی سازوسامان کی سوئی,اپنے ہاتھوں لکھیں اکتالیس کتابیں،اسناد معہ ضروری کاغذات وغیرہ اور لگائی کے جہیز کی چمچی تک اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا گیا۔کہہ لیں کہ گنے کا رس نکال کر پھوگھ کو دوبارہ مشین میں ٹھونس کے آخری قطرہ بھی نکال لیا گیا۔
اسوقت کےقاف بدل نونی ایم پی اے نے میرے پچاس لاکھ کے چاول اٹھوا کر مجھ پر اور میرے بوڑھے باپ پر پہلا پرچہ یہ کٹوایا کہ ہم نے اپنے ہی چوکیداروں کو خود باندھ کراپنی رائس مل سے اپنے ہی مال کی خودڈکیتی کی ہےجسکی برآمدگی بھی مجھ پر ڈالی گئی اور اسکی سپرداری کا حقداربھی کورٹ نے مجھے ہی ٹھہرایا،مال مقدمہ مانگا تو وہ خرد بردہوگیااور میں عدالت سے بری ہوکر خالی ہاتھ گھر لوٹا۔
وہ نقصان میں بھول گیا لیکن مجھے اور میرے باپ کے ہاتھوں کوجس ایک ہی تنگ ہتھکڑی میں جکڑا گیا اسکی تکلیف سے نکلی ابا جی کی چیخ اور اپنی اسوقت کی بے بسی مجھے آج بھی روز یاد آتی ہے۔ پھر میری زمین ہتھیانے کیلئے سول سےسپریم کورٹ تک جھوٹے کیس دائر کرکے ان سب کی ایک ہی دن تواریخ ڈلوا کر سبھی جگہ میری حاضری لازمی قرار دی جاتی۔ایک وقت پانچ شہروں میں موجودگی ممکن بنانے کے چکرمیں ایک بد دماغ جج کی کورٹ میں تیز رفتاری سے جاتے ہوئے شدیدایکسیڈنٹ سے میں ہمیشہ کیلئے معذور ہوگیا۔ہڈیاں چکناچور ہوئیں دو میجر آپریٹس سے پلیٹس پڑیں مگر سبھی رپورٹس کے باوجود ان دیوانی عدالتوں میں ایمبولینس پر بلوایا جاتا اور جج اس لال بتی والی گاڑی میں آکراس لیٹے ہوئے مریض کے بیان لیتے مگر ان سول کیسز میں بھی حاضری معافی کی سہولت نہ دی جاتی۔ایک بار تو مجھے گرفتار کرکے جیل کی جس چکی میں رکھا گیا،صبح اٹھا تو وہ کوٹھڑی ان جرائم پیشہ،ڈاکووں،قاتلوں اشتہاریوں سے کچھاکچھ بھری ہوئی تھی کہ جنکے خلاف میں آواز اٹھا کر چی گویرا بنا پھرتاتھا،آگے کیا ہواہوگا۔۔؟ آپ خود سمجھدار ہیں۔
جبکہ چناو کے فوری بعدچار بار راقم کی بھینسیں،دو موٹر سائیکلیں ایک ٹرک اور سترہ موٹریں چوری ہوئیں لیکن یہ حسرت ہی رہی کہ خادم کی کوئی رپورٹ درج ہوجائےہربار، ،،انوکھا لاڈلہ کھیلن کو مانگے چاند،، کا فقرہ سن کر کان لپیٹ کر واپس آجاتا۔
غرضیکہ پتاشری نوازشریف،المعروف باوجی کی سرداری میں ایسی کئی دلچسپ باتوں کو جھیلا،وقت ملا تو کبھی مزیدبیان کروں گا۔
پھربندہ نے کنبے سمیت پچیس سالہ بے سرو سامانی والی علاقہ بدری ذلت سہی، جیسے چھپڑ سے باہر ڈڈو۔دل کرے پاکستانی مینار پرچڑھ کرسبھی شریف زادوں کو بآواز بلند غلیظ گالیاں بکیں کہ درد بھری آوازدورتک سنی جاسکےلیکن حیاءآڑے آجاتی۔گھڑیاں صدیوں ماندبیتیں۔
اب دوبارہ اسی گارڈ فادر کی سپوتری اور سب کی ماں کے راج والی اسی حافظ آبادی نکڑ پر ٹکے ٹکے کے خبیث فراڈی لوگ، راج ماتاکے گھوس خورپیادوں کوشرعام ٹکے ٹنڈ خریدتے ملے۔
جبکہ راجہیہ کے پاسدار ہرکارے کان کی بجائے ہتھیلی آگے کرتے ہیں اور ماں حاجن کے وفادارسینیک تو ہلکے کتوں کیطرح کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔
پھر بھی ماتاشری، ،،سب کشل منگل ہے۔،،کاراگ الاپتی پھر رہی ہیں۔جے ہو۔۔!
پدری دورمیں علاقائی روایت اور شرفاء سٹائل مطابق اوپرنیچے کئی جھوٹے اورعجیب و غریب مقدمات،قاتلانہ حملے اور جھگے چوڑ کرکےراقم کا دھندہ چوپٹ کیا گیااور اب لاڈلی کی سرکار میں جبکہ پراپرٹیز کیلئے انصاف کا فیک ڈنڈھورابھی پیٹا جا رہا ہے تب اسی سال بندہ دل ناتواں کے مخالفین عجب ہتھکنڈے استعمال کرکےبندہ کو اس وراثتی جائیداد کے حق سے محروم کرتے پھر رہے ہیں کہ جسے بندہ نے فلاحی استعمال میں لانے کا سوچ رکھا تھا یعنی صوبے کا قانون واقعی اندھا ہوگیاہےمطلب، ،،کٹوی پے کٹوری نکلی اوردھی پیو توں وی گوری نکلی۔،،
محکمانہ حرامزدگیاں واضع ہیں مگر کچی عمرے ابن شریف اور خلق خدا سے محبت جتانے کی بھیانک سزا خادم کواب پچھلی عمرے بھی بھگتنا پڑ رہی ہے۔یوں کہہ لیں کہ عوامی ہیرو شپ چیچڑ کی مانند چمٹ کر ابھی تک خون چوس رہی ہے۔ راقم کےمخالف گنڈویا بھی آئےتوپرانےحریف اور انکےبگی داڑھی بردارمعزز ٹاوٹ،گپت سپورٹ کے ذریعے ایسے حقیر کیڑے کوبھی پھنیر ناگ بنانےکی کوشش کرتےہیں۔انکےسابقہ آلہ کارمر کھپ گئےتومیرے باپ کی غلطی کی پوچھل پر پاوں رکھکر ہووش ہووش کردیا گیا۔
راقم نے زندگی بھر جھوٹ نہیں بولا،نہ کسی سےدھوکہ دہی کی اور نہ ہی کبھی کسی کا حق کھایاپھر بھی کوئی دعوٰی کرے توتیسرے بندے کی ثالثی کا آپشن دیاجو کبھی نہ مانا گیامگریہاں کی پراپیگنڈہ انڈسٹری کا کمال دیکھیں کہ کوئی راقم بارے استفسار کرے تو پیڈے منہ،غلیظ ذہنیت کیساتھ ایسی تصویر کشی ہوتی ہے کہ خدا پناہ۔
سوچیں۔۔! شرفاءکی ملک بدری ٹائم،ناچیز نےاپنی کولی عمرے،بحثیث نونیا،ھب ءآل شریف میں اسوقت کے ان تگڑے قافیوں کیساتھ ایسا کیاکیا،کیاہوگا،جو انہیں آج تک نہیں بھولا لیکن ،،ن،، کو پھر بھی شرم نہیں آئی کہ کچھ یاد رکھا جاتا۔ سمجھیں رضیعہ غنڈوں میں اکیلی چھوڑ دی گئی۔
خان،زرداری پارٹی کسی نونی جنونی کیساتھ ایسا کرتے تو عام بات تھی لیکن لوٹا طرز نئے نونیوں نے مخلص پرانے نواز لورکابھرتہ بنادیا اور قیادت کوعلم تک نہیں یہ خاص خبر ہے۔جیسے کتے نے انسان کو نہیں بلکہ انسان نے کتے کو کاٹ لیاہو۔
امسال ہماراتین دہائیوں پرانابزنس ایک بارپھر ان چوت چالاکیوں بابت دوبارہ ڈسٹرب ہوااورہم بھرپور سیزن میں روزگار کی بجائےقانون قانون کھیلتے پھر رہے ہیں۔
رائس ایکسپورٹی جدید اصطلاحی(بقول انکے) ڈسٹرکٹ میں بھی ماں جی کی کارکردگی بہتر نہیں تو دور افتادہ پسماندہ علاقوں میں بیبے لازمن انھہی ہوکر پیس رہی ہوگی اور کتے یقینن آٹاچاٹ رہے ہونگے۔
پہلےمیرا ڈیڑھ دو ارب روپےکا نقصان دونوں میاں برادران اور انکے ٹکٹ خوروں کی نگرانی میں کیا گیاجبکہ اب مریم ماتا کی صوبےداری ویلے چار ملین نقداور چالیس پچاس کروڑ کی جائیداد فراڈ کیساتھ ہتھیائی جا رہی ہے۔
تھانے جاتے ہیں تو وہ کرتا پھاڑنے کو آتے ہیں،خبر ملی یہاں دس لاکھ کی شیرینی بٹی ہے۔عدالت کا رخ کیا تو وہاں بھی دگڑ دلےٹکرے۔سنا منصف بیس لاکھ میں بکا۔پتہ چلاکہ لالچی خریداروں سےمیری زمین کے عوض پکڑےگئے اونے پونےپیسےمیرے ہی خلاف صرف ہورہے ہیں۔یعنی ساڈے لتر ساڈے سر۔
میں نے بتی سالہ بزنس کیرئیر انتہائی اذیت سے گزارااپنی دردناک کہانی سناؤں تو آپکی آنکھوں میں ساون بھادوں کی جھڑی پھوٹ پڑے اورآپ سینے پر دوہتڑ مار مار کر زارو قطار رونے لگیں لیکن راقم نے ہمیشہ چپ سادھے رکھی مگر اب مریم امی کی اجارہ داری میں صبر کا پیالہ کانوں تک بھر دیا گیا ہےلہذا خود کشی کا اردہ کیا سو اسوقت کر رہا ہوں یعنی ان سبھی خبیث صفت انسانوں کے متعلق لکھنا آتما ہتھیا کے مترادف ٹھہرا۔
بدبختی کی انتہا،کہ اسوقت مرکزی قانونی وزیر سمیت کئی کلیدی سرکاری عہدوں پر سبھی حافظ آبادی چمٹے بیٹھے ہیں اور سب سے زیادہ بے غیرتی اور حرامخوری کاچورن بھی اسی ضلع میں بک رہاہے۔
مریم نواز ،،دیس سدھارو،، منڈلی کی روح رواں تارڑ آپاں المعروف دخترنیک اخترحافظ آباد سمیت ان سبھی کرسی برداروں کی ناک تلے پلس پیاری۔راج دلاری نے رشوت و شفارش بدلے بدتمیزی برتی،بے غیرت جج نےتوکھلے عام سورکھاکےجسطرح اسے حلال قراردیتےہوئےحقائق مسخ کیئے،محکمہ مال و مال کاحرامی پٹواری جو گانڈ دھونے سے بھی نابلدتھااورکرپٹ تحصیلدار جس نے حرام کھانے کی قسم کھائی ہوئی تھی اوراسکے چہیتےعملے نے میرے شدیدقلبی مرض تحت لاہور میں منجی ریسٹ اور میری چائلڈ میرج مصروفیات کے دوران تیس لاکھ رشوت لیکر جعلی نوٹسز بنا کرمیری لاعلمی اور غیر موجودگی میں باہر و باہرمیری بچی کچھی سات کنال وراثتی جائیداد جوکہ بروئے خانگی تقسیمی ثالثی،وصیت والدم اور باوجوداندراج روز نامہ پٹوار، بوجہ بینک ماڑگیج امانتن کسی اور کے نام تھی اور عرصہ پچیس سال سے راقم کے قبضہ میں تھی،جسے راقم نے بلیک میل ہوتے ہوئےدوبارہ خریدا تھا اسکاامانتی معاہدہ بیع،دوران کیس، بغیراطلاع،بلا وجہ پھاڑتے ہوئے اور سرکاری ریکارڈ میں چھیڑ خانی کرکےشراتی قبضہ گروپ کے نام بذریعہ جعلسازی، یہ بینک پلج رقبہ باوجود سول مقدمہ،بوگس رجسٹر کرکے راقم کا ملین پلس بذریعہ بینک ادا شدہ واضح بیعانہ خرد برد کرکے انکی بے مالکی والےنمبران میں انکا جعلی ونڈا بنا کر بدعنوانی کی طویل فہرست مرتب کرکے سنگین جرائم کے مرتکب ہوکر یہاں اپنی غلیظ خواہشات پوری کرنے کی کوشش میں جن کرپشن زدہ مضحکہ خیزیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے نقص امن کی اگنی کو ہوا دیکر میرے وراثتی اسحقاق کو جس بری طرح مجروح کیا، اسکی فوری ریکوری اور اس دغاباز ٹولے کے فراڈیئے ملزمان اور انکےسہولت کاروں کے خلاف تگڑامقدمہ بنتا ہےکیونکہ یہ کوئی پرانا معاملہ نہیں بلکہ اسی ششماہی میں پنجابی سرکارکی پراپرٹی کیسز بارے شفافیت کے بھرپور حالیہ پبلسٹی ڈھونگ کے دوران کی گئیں متعدد جعلسازیوں کے ذریعے وزیر آعلٰن کے مظبوط موقف اورفرسودہ نظام کے سوہنے بوتھے پر نوسربازوں کا زوردار تازہ تھپڑ ہے جسکی گونج یقینن جاتی عمرہ میں گور شریف تک گئی ہوگی۔
دھی دھیانی کے خلاف خودکسی عمل بارے راقم سوچ بھی نہیں سکتا،البتہ بوا فاطمہ جناح جیسی کوئی زنانہ شخصیت آج زندہ ہوتی تو،ان بے ضابطگیوں کے بدلے، ان سے ترلہ کرکے،بی اماں کے منہ پر ایک لچھے دار چپیڑ ضرور رسید کرواتا جسکی بازگشت انڈیا میں موجود انکے لوہے والے پردادا،اور لکڑ دادوں کے مدافون تک شرطیہ جاتی۔
مگرراج ماتا کوٹریفک کےبیلٹ چالانوں کی نگرانی سے فرصت ملے تو ادھر توجہ دیں۔حالانکہ مجھ مسکین کا دعوٰی ہے کہ احقر کے بیان کا ایک نقطہ بھی غلط ثابت ہواتو پوری جائیداد سے دستبردار ہوجاوں گا۔کوئی محکمہ نہیں تو کسی بھی ثالث کو فیصلہ کے اختیارکا اشٹام لکھکر دینے کو تیار ہوں مگر حسب سابق مجھے بات سنانے کا موقعہ ہی نہیں دیا جارہااورجہاں کہیں شنوائی ہوتی بھی ہے تو راقم کے سالڈ دلائل کے جواب میں بچگانہ طریقے سے غیرمتعلقہ بکواس،کہ ہماری شادی کی روٹی بیچ دی ،دادے کی فوٹو نہیں دی،میریاں ریوڑیاں جھین کر کھا گیا،ساڈا مرونڈاکھو کے پھج گیا،ہماری قلفی چوس گیا اوراسی طرح کی دیگر چول چول کرکے جان بوجھ کر پانی میں مدھانی ڈال دی جاتی ہے اور سامنے والامنصف سر پکڑ کر بیٹھ جاتاہےیا یوں کہہ لیں کہ سختی سے ٹو دی پوائنٹ بات سننے والا کوئی مائی کا لال ٹکرا ہی نہیں یاپھر جانبداری برتنے کیلیئے آگے والا خود ڈھیل دیتا ہے کہ لگے رہو منا ۔
لہذااب امید نشتہ کیوں کہ رانی ماں سکون سے راج کر رہی ہے،راجے راجے آرام سےکھا رہے ہیں جبکہ ہم جیسے بلےجھانکتے ہی رہ جائینگے،ایک دن وہ لندن اورہم شاما شاہ قبرستان پہنچ جائینگے ۔
چور بازاری کی اخیر دیکھیں کہ دستی اپیل وصولی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے سائل ایک مہینے سے درخواست گزاری کی کوشش کر رہا ہے پر شائدٹھگوں کی ہوتھل بازی کیوجہ سے کمپیوٹر کا پورٹل میرے نام کو قبول ہی نہیں کررہا۔
اب تودل چاہتا ہےکہ،
،،جےشری ماتا،جےنہ ہو،، نام کی ایک علامتی سماج سیوک پارٹی بنا کے، بازوپر بندھی کالی پٹی کیساتھ ملنگوں کیطرح ننگے پاوں نگری نگری پیدل گھوم کر پرامن احتجاجی مجمے لگاکےماں وڈی کی خوب مدع سرائی کیساتھ کیساتھ اپنے ساتھ ہوئی زیادتیوں کا احوال بیان کریں اور جن جن حرام خورآفیسران نے اس کار خوار میں حصہ کھایا انکی اپنی مدد آپ کے تحت بیچ چوراہے ماں بہن ایک کرتے ہوئے ڈھول پیٹ کر عوام کو حقائق سے بقلم خود آگاہ کریں اور کرپٹ محکموں کے ان خنزیرخوراہلکاروں اور انہیں بندر کیطرح نچانےوالےذلیل مصاحبین کوچاچے انور کیطرح مزاحیہ مزاحیہ بد دعائیں سنائیں کہ،
،،تہاڈی کھکھڑی پھکی نکلےتےکھیرا نکلے کوڑا،رب کرے تہانوں کھانا پے جائے ڈاہڈا گرم پکوڑا، تہاڈے پنڈے آتے ٹہلھے ہو جان کپڑے،تہانوں کھرک وی اوتھےہوے،جتھے ہتھ نہ اپڑے،وغیرہ وغیرہ ،جس سے اور کچھ، ہونہ ہو،ہاں ۔۔! ٹینشن زدہ اس ملکی ماحول میں چند قہقہے ضرور بکھرجائینگے اور ہم بھی گل گھوٹو سے مرنے کی بجائے دل کاغبار ہلکا کر سکیں گے۔
سلیبس میں پڑھا تھا کہ دریا کے دوسرے کنارے مرے کتے کا بھی حاکم جوابدہ ہوگاجبکہ یہاں حکمران عوام کو کتوں کیطرح خودمار کر الٹا لٹکا رہے ہیں اور کوئی پچھ پردید نہیں۔
مگر اب میں سارے پنجاب کی اس ماں جی کو،انکے بگ باس پاپا جانی،مہا منتری چاچو پیارے،دخول منسٹر،سربراہ دھرتی بورڈ،کم شنر،اتم ڈھول سپاہی آئی جی وغیرہ اور انکے رشوت خور چیلوں سمیت فرائض کی کوتاہی برتنے پرانصاف کٹہرے ضرور کھڑاکرونگا۔
ہتھ پیا تے وطن دے ناسوراں دے خلاف اپنی فریاد عالمی عدالت تک لے کے جاواں گے، نئیں تے عالم بالا دی ڈاہڈی پیشی تے کیتے نئیں جاندی اوتھے گلاویں پھڑ کے ضرور گھسیٹاں گا۔
میرے وچ پہلے ای چڑی جنی جاں تے پہاڑ جنے دکھ نیں،ظلماں دے چار ککھ ہور وی ود گئے تے خیر اے ۔ہن کوئی فائدہ ہوے یا نہ ہوے،بھانویں کلی دے راکھ زدہ بچے کھچے ککھ وی نہ رہن،مدر پنجاب نوں اوہدی ڈرامے بازٹولی سمیت کووڑے بیانیہ تے چوہدر کرن دا عذاب ضرور جھلاواں گے۔ایتھے بھاویں اوتے۔انشاءاللہ
نوٹ۔اس تحریر کو بطور قانونی نوٹس پڑھا اورسمجھاجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریرکنندہ۔چڑھتے( ابھرتے)پنجاب کے پیدائشی باپ کا
لہندے (ڈوبتے)پنجاب والا بیٹا۔
0300,6523817