Sehar Marriage Bureau

Call Website

Sehar Marriage Bureau Whatsapp
0327-7770361
0305-7770361
0300-0966994
(1)

26/09/2026

ایک بندہ تھا، وہ کافی عرصے (تقریباً 5 سال) سے شادی کے لیے میرے پیچھے پڑا ہوا تھا۔ خیر، پھر میں نے ہاں کر دی اور بات فیملی تک آ گئی۔
اب میری فیملی نے کہا کہ حقِ مہر «غیر معجل» (مؤجل) 3 تولہ سونا رکھوانا ہے۔ اس پر اس لڑکے نے کہا کہ اسلام میں حقِ مہر فوری ادا ہوتا ہے، اور اگر 3 تولہ ہو گا تو میں یہ افورڈ نہیں کر سکتا، اور ہماری فیملی میں یہ رسم بھی نہیں ہے۔
اب میرا دل اس کی طرف سے بہت خراب ہو گیا ہے کہ اتنے بڑے بڑے دعوے تھے اور پہلے ہی مرحلے پر مجبوری کی داستانیں شروع ہو گئیں۔ اس نے مجھ سے ریکویسٹ کی کہ یہ نہ لکھوائیں۔
اب فیملی میں بات چلی گئی ہے اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ پیچھے کیسے ہٹوں۔ اس مسئلے کے علاوہ فی الحال کوئی اور مسئلہ محسوس نہیں ہوا، بس ایک یہی ریڈ فلیگ (Red Flag) شو ہوا ہے۔ اس کا بیہیویئر بھی اچھا ہے، بہت امیر نہیں ہے، ایوریج انکم (تقریباً 70 ہزار ماہانہ) ہے۔
اب منگنی ہو گئی ہے، آئندہ نكاح ہونا تھا اور ایک سال بعد رخصتی کا سوچا تھا۔ لیکن اب میرا دل خراب ہو گیا ہے اور جان بھی نہیں چھوٹ رہی، کیونکہ انکار کے لیے کوئی اور برائی بھی نہیں مل رہی۔
کیا واقعی سب کے ہاں حقِ مہر کم ہی ہوتا ہے اور غیر معجل نہیں ہوتا؟ میں نے تو اس سے بس اتنا کہا تھا کہ غیر معجل 3 تولہ سونا رکھوا لو، بعد میں زندگی میں کبھی ہوا تو پے کر دینا ورنہ میں معاف کر دوں گی۔ اس پر اس نے کہا کہ نہیں، پے کرنا ہی ہوتا ہے، کہیں معاف کرنے کا ذکر نہیں ہے۔
اس نے اسلام اسلام کی اتنی باتیں کیں کہ میں خود شرمندہ ہو گئی، حالانکہ میں نے حدیثیں پڑھیں لیکن مجھے غیر معجل حقِ مہر کے خلاف کوئی سچی منطق نہیں ملی۔
آپ شادی شدہ لوگ بتائیں کہ آپ کی شادی کے وقت حقِ مہر کتنا طے ہوا تھا؟ اور کن کن کی شادی پر حقِ مہر کو لے کر اس طرح کے مسائل یا بحث ہوئی تھی؟ اس کے علاوہ اگر اس ساری صورتِ حال میں کوئی اہم بات یا پہلو مجھ سے رہ گیا ہو تو وہ بھی ضرور شیئر کریں۔

26/09/2026

آج کی عورت مرد بڑا ظالم ہے
ہسپتال میں ڈلیوری کے وقت عورت کی دعا:- یا اللہ پاک بیٹا (مرد) عطا کرنا۔ میں فلاں چیزیں تیری رضا کے لیے بانٹوں گی۔۔۔

🚨 وفاداری ہو تو ایسی ثانیہ مرزا نے شعیب ملک کی بڑی خواہش پوری کر دی 🚨ثانیہ مرزا نے ثابت کر دیا ہے کہ اختلافات کے باوجود ...
25/09/2026

🚨 وفاداری ہو تو ایسی ثانیہ مرزا نے شعیب ملک کی بڑی خواہش پوری کر دی 🚨
ثانیہ مرزا نے ثابت کر دیا ہے کہ اختلافات کے باوجود وہ ایک بہت بڑا دل رکھنے والی خاتون ہیں۔ چند روز قبل شعیب ملک نے خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اپنے بیٹے اذہان کو حافظِ قرآن دیکھنا چاہتے ہیں۔ اپنے سابق شوہر کی اس خوبصورت خواہش کا دل سے احترام کرتے ہوئے، ثانیہ مرزا نے دبئی میں 7 سالہ اذہان کے لیے گھر پر ہی قاری صاحب کا انتظام کر دیا ہے۔ اس مبارک موقع پر دبئی میں ان کی رہائش گاہ پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا، جہاں استاد نے بچے کو ابتدائی کلمات پڑھا کر اس نیک سفر کا باقاعدہ آغاز کروایا۔ رشتے ٹوٹنے کے بعد بھی بچے کی بہترین تربیت اور باپ کی خواہش کے لیے ثانیہ مرزا کا یہ قدم واقعی قابلِ ستائش ہے۔ اللہ اذہان کو اس مبارک سفر میں کامیابی عطا فرمائے۔ (آمین)

اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ انسان سے غلطیاں ہو سکتی ہیں، لیکن سچی توبہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع انسا...
25/09/2026

اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ انسان سے غلطیاں ہو سکتی ہیں، لیکن سچی توبہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع انسان کے لیے نئی شروعات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ آئیے اس بابرکت دن اپنے اعمال پر غور کریں، اپنی کوتاہیوں پر نادم ہوں اور خلوصِ دل سے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچی توبہ کرنے، نیک راستے پر چلنے اور اپنی رحمت سے نوازنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

📍 آفس ایڈریس: 2، ایچ بلاک، سیکٹر 2، ڈی ایچ اے رہبر، لاہور
📞 0327-7770361 | 0327-7770363
🌐 Seharmarriage.com
📱 Seher Marriage Bureau

24/09/2026

میں نے چار سال پہلے ایک ایسے شخص سے شادی کی جو بچپن ہی سے گھر سے بھاگا ہوا تھا، لیکن اس نے مختلف ہوٹلوں میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ اچھے کالجز اور یونیورسٹی سے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی۔ وہ شکل و صورت میں کوئی خاص اچھا نہیں تھا اور نہ ہی اس کا قد لمبا تھا، لیکن وہ ایک سادہ سے کرائے کے گھر میں اکیلا رہتا تھا اور ماہانہ ستر ہزار روپے کماتا تھا۔ ہماری ملاقات فیس بک کے ذریعے ہوئی تھی۔

میں خود ایک تعلیم یافتہ اور خوبصورت لڑکی ہوں، اور میرا تعلق لاہور کے پوش علاقوں اور ایک کھاتے پیتے گھرانے سے ہے۔ میرے لیے ایک ڈاکٹر اور ایک سی ایس ایس (CSS) پاس لڑکے کا رشتہ بھی آیا تھا۔ شروع میں میرے گھر والوں اور کزنز نے مجھے اس شادی سے نہ صرف منع کیا، بلکہ میں نے اپنے ابو سے مار بھی کھائی کہ میں اس لڑکے سے شادی نہ کروں، لیکن ان سب کے باوجود میں نے اس سے سادگی کے ساتھ نکاح کر لیا۔

شادی کے بعد وہ جیسا بولتا یا دکھتا تھا، حقیقت میں اس سے بھی کہیں زیادہ اچھا نکلا۔ وہ میرے لیے ایک چلتا پھرتا فرشتہ ہے۔ مجھے تھوڑا سا بھی سر درد ہو یا پیریڈز (ایام) ہوں، تو وہ میرے جسم کا مساج کرتا ہے اور اکثر میرے لیے خود کھانا بناتا ہے۔ وہ اتنا لذیذ کھانا بناتا ہے کہ اس کا کوئی ثانی نہیں، اور میرے کزنز بھی جب کبھی گھر آتے ہیں تو بڑے شوق سے اس کے ہاتھ کا کھانا کھاتے ہیں۔

شادی کے ایک سال بعد اللہ نے ہمیں ایک بیٹے سے نوازا۔ بیٹے کی پیدائش کے دنوں میں اس نے میری جو خدمت کی، اسے میں زندگی بھر یاد رکھوں گی۔ بیٹے کی پیدائش کے بعد اس نے مجھے بچے پر توجہ دینے کا کہا اور ٹیچنگ (تدریس) کی جاب کرنے سے اس لیے منع کر دیا کیونکہ میں طبیعت کے لحاظ سے ذرا سست لڑکی ہوں اور زیادہ کام نہیں کر سکتی۔ میری اسی سستی کی وجہ سے آج تک میں نے خود ناشتہ نہیں بنایا، بلکہ جب بھی وہ گھر پر ہوتا ہے، خود ناشتہ بنا کر مجھے کھلاتا ہے۔

دو سال پہلے، جب گھر کے کرائے اور مہنگائی کی وجہ سے اخراجات بڑھ گئے، تو اس نے سعودی عرب جانے کا پلان بنایا۔ چونکہ اس کے پاس پیسے نہیں تھے، اس لیے میں نے اپنے جہیز کا سونا بیچ دیا۔ چند مہینوں کے بعد ہی اس نے مجھے سرپرائز دیا اور میرا سارا سونا واپس خرید کر مجھے دے دیا۔ ٹھیک 14 مہینے بعد جب وہ واپس آیا، تو اس نے میرے نام پر دس مرلے کا ایک مناسب گھر بھی خریدا۔ اب جب بھی اس کی جاب شہر میں ہوتی ہے، وہ مجھے سعودی عرب بلا لیتا ہے، جہاں وہ مجھے عمرہ بھی کرواتا ہے اور ہم دو تین مہینے ساتھ رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ اس کے پیار میں کمی کے بجائے ہمیشہ اضافہ ہی ہوتا ہے۔ وہ میرے لیے واقعی ایک فرشتہ ہے۔

آج میرے گھر والے اور اکثر کزنز اپنی شادی شدہ زندگی میں مسائل سے دوچار ہیں۔ وہ کزنز اور دوستیں جو مجھے اس شادی سے منع کرتی تھیں، آج مجھ پر رشک کرتی ہیں؛ کیونکہ ان کے پاس بڑے بڑے محلات، گاڑیاں اور پیسہ تو ہے لیکن زندگی میں آرام و سکون نہیں ہے، بلکہ الٹا ان کے شوہر کسی نہ کسی اور چکر میں رہتے ہیں۔

اس لیے میرا ان تمام لڑکیوں کو پیغام ہے جو پڑھی لکھی ہیں اور کسی 'ویل سیٹلڈ' (Well-settled) لڑکے کے انتظار میں گھر بیٹھے اپنے بال سفید کر رہی ہیں: خدا کے لیے! آج کل آپ کے پاس موبائل ہیں، فیس بک پر آسانی سے اچھے اور مخلص غریب لڑکے مل سکتے ہیں۔ اللہ پر توکل، بھروسہ اور نیت صاف رکھ کر سادگی سے نکاح کرنے کی کوشش کریں اور اپنی زندگی کو (انتظار کی نظر کر کے) تباہ نہ کریں۔"

میری امّی ستر  برس کی ہیں۔اور لاہور کے اُس گھر میں اکیلی رہتی ہیں جہاں کبھی ہم تین  ایک دوسرے کی آوازوں میں جیا کرتے تھے...
24/09/2026

میری امّی ستر برس کی ہیں۔
اور لاہور کے اُس گھر میں اکیلی رہتی ہیں جہاں کبھی ہم تین ایک دوسرے کی آوازوں میں جیا کرتے تھے ابا ، امی اور میں ۔
میں سترہ سال پہلے امریکہ گیا تھا۔
پہلے تعلیم کے لیے۔
پھر نوکری مل گئی۔
پھر گرین کارڈ۔
پھر شادی۔
پھر بچے۔

اور پھر زندگی اتنی تیز ہو گئی کہ وقت صرف کلینڈر کی تاریخوں میں رہ گیا۔
شروع شروع میں امّی روز فون کرتی تھیں۔
“کھانا وقت پر کھا لینا…”
“اتنی برف میں باہر نہ نکلا کرو…”
“اپنی بیوی کو میرے لیے سلام کہنا…”

پھر آہستہ آہستہ اُنہوں نے کالز کم کر دیں۔
کیونکہ بوڑھے والدین ایک وقت کے بعد اپنی محبت بھی دھیمی کر دیتے ہیں… تاکہ اولاد کو بوجھ محسوس نہ ہو۔
ہم ہر ہفتے ویڈیو کال کر لیتے تھے۔
امّی ہمیشہ ٹھیک لگتیں۔
بالوں میں سفیدی بڑھتی جا رہی تھی۔
آواز پہلے سے ہلکی ہو گئی تھی۔
مگر وہ ہمیشہ یہی کہتیں:
“میں بالکل ٹھیک ہوں بیٹا۔
بس خوش رہا کرو۔”
اور ہم یقین کر لیتے۔

پچھلے مہینے دفتر کے کام سے اچانک گلف جانا پڑا تو پاکستان چکر لگانے کا فیصلہ بھی کر لیا۔
میں نے امّی کو نہیں بتایا۔
سوچا امّی کو حیران کردوں گا۔
رات تقریباً گیارہ بجے میں گلی میں داخل ہوا تو پورا محلہ ویسا ہی تھا۔
وہی پکوڑوں والے کی خوشبو۔
وہی دور کسی گھر سے آتی نیوز کی آواز۔
صرف ایک چیز بدلی تھی۔
میرا اپنا گھر اب پہلے سے بہت چھوٹا لگ رہا تھا۔
میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
کافی دیر بعد اندر سے چپل گھسیٹنے کی آواز آئی۔
پھر کنڈی کھلی۔
اور امّی سامنے کھڑی تھیں۔
چند سیکنڈ تک وہ صرف مجھے دیکھتی رہیں۔
جیسے آنکھیں یقین اور خواب کے درمیان پھنس گئی ہوں۔
پھر اُنہوں نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے میرا چہرہ چھوا۔
“سچ میں تم ہو…؟”
بس اتنا کہا۔
اور میری ساری کامیابیاں اُس ایک جملے کے سامنے چھوٹی پڑ گئیں۔

گھر میں داخل ہوا تو عجیب خاموشی تھی۔
وہی فرنیچر۔
وہی پردے۔
وہی ابو کی پرانی کرسی۔
مگر گھر میں “رہنا” ختم ہو چکا تھا۔
اب وہاں صرف “وقت گزر” رہا تھا۔

امّی فوراً کچن میں چلی گئیں۔
میں نے کہا:
“امّی رہنے دیں، میں باہر سے کچھ منگوا لیتا ہوں۔”
وہ ہنس پڑیں۔
“سترہ سال امریکہ رہ کر بھی تمہیں یہ نہیں سمجھ آئی کہ ماں کے گھر میں کھانا منگوایا نہیں جاتا؟”

چند منٹ بعد وہ چائے لے آئیں۔
دو کپ۔
بالکل ویسے ہی جیسے ابو کے زندہ ہونے کے زمانے میں بنایا کرتی تھیں۔
ہم دونوں اُس پرانی میز کے پاس بیٹھ گئے… جس کے ایک کونے کی لکڑی اب بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔

میں نے پہلی بار غور سے گھر کو دیکھا۔
دیوار پر ہمارا پرانا اسکول گروپ فوٹو اب بھی لگا تھا۔
میرے کمرے کے دروازے پر آج بھی میرا نام اسٹیکر سے چپکا ہوا تھا۔
اور کچن کے کیلنڈر پر امریکہ اور پاکستان کے وقت لکھے ہوئے تھے۔
نیویارک۔
لاہور۔
فرق: دس گھنٹے۔

مجھے عجیب سا احساس ہوا۔
امّی نے اپنی زندگی دو Time Zone میں تقسیم کر رکھی تھی۔
ایک اپنے لیے۔
اور ایک ہمارے لیے۔

چائے پیتے ہوئے وہ چھوٹی چھوٹی باتیں کرتی رہیں۔
محلے کے اشفاق انکل فوت ہو گئے۔
سامنے والے گھر میں نئی فیملی آ گئی۔
اور اس سال آم بہت میٹھے آئے ہیں۔
پھر اچانک وہ خاموش ہو گئیں۔
کافی دیر تک کپ کے کنارے پر انگلی پھیرتی رہیں۔
پھر بولیں:
“تمہیں پتا ہے…
میں اب بھی رات کو تمہارے کمرے کی لائٹ جلا دیتی ہوں کبھی کبھی۔”
میں چونکا۔
“کیوں؟”
وہ ہلکا سا مسکرائیں۔
“عادت ہے نا۔
پہلے تم دیر تک پڑھتے رہتے تھے۔
اب کبھی کبھی لگتا ہے شاید تم لوگ اچانک واپس آ جاؤ گے۔”

خدا گواہ ہے…
اُس لمحے مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ ہجرت صرف اُن لوگوں کی نہیں ہوتی جو ملک چھوڑتے ہیں۔
اصل ہجرت اُن ماں باپ کی ہوتی ہے…
جو اپنی اولاد کے بعد اُسی گھر میں رہ جاتے ہیں۔

اگلی صبح جب میں اٹھا تو امّی پہلے ہی جاگ رہی تھیں۔
فجر کے بعد کا وقت تھا۔
وہ صحن میں پودوں کو پانی دے رہی تھیں۔
میں دروازے کے ساتھ کھڑا اُنہیں دیکھتا رہا۔
پہلے کبھی غور نہیں کیا تھا…
بوڑھے لوگ چلتے نہیں، اپنی یادوں کو آہستہ آہستہ اٹھائے پھرتے ہیں۔

میں نے کہا:
“امّی، اتنی صبح کیوں اٹھ گئی ہیں؟”
وہ مسکرائیں۔
“بڑھاپے میں نیند بھی انسان سے پہلے بوڑھی ہو جاتی ہے۔”
پھر میرے پاس بیٹھ گئیں۔
کافی دیر خاموش رہیں۔
پھر آہستہ سے بولیں:
“تمہیں پتا ہے…
میں اب بھی شام کو دو کپ چائے بنا لیتی ہوں کبھی کبھی۔”
“دو کپ؟”
وہ ہنسیں۔
“پھر یاد آتا ہے تم لوگ تو یہاں نہیں ہوتے۔”

اُن کی ہنسی ختم ہوتے ہوتے آواز بھیگ گئی۔
اور اُس لمحے مجھے محسوس ہوا…
تنہائی شور نہیں کرتی۔

وہ انسان کی عادتوں میں آ کر رہنے لگتی ہے۔
میں نے وہیں فیصلہ کر لیا۔
میں اگلے دن واپس نہیں گیا۔
دفتر میں چھٹی بڑھا دی۔
ٹکٹ آگے کر دی۔
اور کئی برسوں بعد پہلی بار گھڑی دیکھنا چھوڑ دیا۔

اگلے چند دنوں میں میں نے ایک عجیب تبدیلی دیکھی۔
امّی بدلنے لگیں۔
آہستہ آہستہ۔
جیسے کسی سوکھے پودے کو دوبارہ پانی مل جائے۔
وہ صبح ناشتہ بناتے ہوئے گنگنانے لگتیں۔
پرانے صندوق کھول کر ہماری بچپن کی چیزیں نکالتیں۔
محلے والی خالہ کو فخر سے بتاتیں:
“میرا بیٹا آیا ہوا ہے امریکہ سے…”
اور ہر رات سونے سے پہلے پوچھتیں:
“کل کہیں باہر چلیں؟”

ایک دن میں اُنہیں انارکلی لے گیا۔
وہی بازار جہاں بچپن میں وہ میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتی تھیں کہ کہیں رش میں کھو نہ جاؤں۔
اُس دن وہ میرا بازو پکڑ کر چل رہی تھیں۔
وقت شاید اسی کو کہتے ہیں۔
راستے میں انہوں نے ایک چھوٹی سی دکان سے میرے لیے کھسہ خریدنے کی ضد کی۔
میں ہنس پڑا۔
“امّی، میں امریکہ میں یہ کہاں پہنوں گا؟”
وہ چند لمحے خاموش رہیں۔
پھر بولیں:
“پتہ نہیں بیٹا…
ماں کو بس یہ لگتا ہے کہ بچہ کچھ لے کر جائے۔”

اُس رات میں بہت دیر تک سو نہیں سکا۔
میں سوچتا رہا…
ہم امریکہ جا کر بڑے گھر خرید لیتے ہیں۔
بڑی گاڑیاں۔
بڑی تنخواہیں۔
بڑی مصروفیات۔
مگر ہمارے ماں باپ اُسی پرانے گھر میں ہماری چھوٹی چھوٹی عادتوں کے ساتھ رہ جاتے ہیں۔

میرے واپس آنے سے ایک رات پہلے امّی میرے کمرے میں آئیں۔
میں کپڑے پیک کر رہا تھا۔
وہ دروازے پر کافی دیر کھڑی رہیں۔
پھر بولیں:
“ایک بات پوچھوں؟”
“جی امّی۔”
“تم خوش ہو وہاں؟”
میں جواب نہ دے سکا۔
کیونکہ پہلی بار مجھے لگا…
سکون اور کامیابی ایک چیز نہیں ہوتے۔

میں نے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا۔
وہ بہت ہلکا ہو چکا تھا۔
جیسے وقت آہستہ آہستہ اُنہیں دنیا سے کم کرتا جا رہا ہو۔

پھر وہ مسکرائیں اور بولیں:
“فکر نہ کرو۔
میں ٹھیک ہوں۔
یہ دنیا کا سب سے جھوٹا جملہ ہے۔

اگلی صبح جب میں ایئرپورٹ کے لیے نکلا تو امّی ہمیشہ کی طرح دروازے تک آئیں۔
میں گاڑی میں بیٹھا تو وہ کافی دیر تک دروازے کے پاس کھڑی رہیں۔
بالکل ویسے ہی… جیسے بچپن میں اسکول جاتے وقت کھڑی رہا کرتی تھیں۔

میں ایئر پورٹ کے آدھے راستے تک پہنچا تو محسوس ہوا کہ چہرہ آنسووں سے بھیگ چکا ہے میں نے ڈرائیور سے کہا گاڑی واپس موڑ لو گھر چلنا ہے ۔
گھر پہنچا ڈرائیور کو پیسے دے کر رخصت کیا ، بیگ سائیڈ پر رکھے خاموشی سے دبے پاؤں امی کے کمرے میں آیا ، امی کروٹ سے بستر پر لیٹی تھیں جسم ہل رہا تھا وہ ہچکیوں سے رو رہی تھیں میں نے آہستگی سے انکے پیروں پر ہاتھ رکھا ، ایک دم ڈر کر اٹھ بیٹھیں ۔

چہرے جپر حیرت " تم گۓ نہیں ، فلائٹ نکل جاۓ گی ۔
میں نے کہا ، کہیں نہیں جا رہا نکل جانے دیں فلائٹ ۔

میں فیصلہ کر چکا تھا جب تک امی ہیں میں اب یہیں ہوں چلا گیا تو اس بوجھ تلے امی سے پہلے مر جاؤں گا کہ جب امی کو میری ضرورت تھی میں نہیں تھا پیسہ اور سکون اکثر دونوں ساتھ نہیں ملتے ، میں نے سکون کو چن لیا تھا ۔

اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے...

والدین پر اُن کی زندگی میں خرچ کیجیے، اُن کے ساتھ وقت گزاریے، اُن کی ضروریات پوری کیجیے، اُن کے دل کو خوش کیجیے۔ کیونکہ اُن کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اُن کے نام پر کی جانے والی خیرات، صدقات اور بڑے بڑے ایصالِ ثواب بھی اُس مسکراہٹ کا بدل نہیں بن سکتے جو اُن کے چہرے پر آپ کی محبت، خدمت اور قربت سے آتی ہے۔❣️❣️

Malik Bashir Awan کی وال سے

اکیلے رہنے سے ہزار گنا بہترین عمل ❤️
23/09/2026

اکیلے رہنے سے ہزار گنا بہترین عمل ❤️

23/09/2026

بیلجیم سےشیخ فیملی کی41سالہ طلاق یافتہ BS کوالیفائیڈخاتون کےلیۓکوالیفائیڈرشتہ درکار
2بچوں والےکوبھی consider کرلیں گی
0305-7770361

23/09/2026

خان فیملی کی24سالہ سٹائلش،
فیشن ڈیزائینربیٹی،مشہوربرانڈمیں جاب کررہی ہیں1کنال گھرDHAلاہور کےلیۓپڑھالکھارشتہ درکار
0305-7770361

ایک میاں بیوی کے درمیان اختلافات بڑھتے بڑھتے طلاق کی نوبت تک پہنچ گئے۔ بہت سے مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ بیوی ...
23/09/2026

ایک میاں بیوی کے درمیان اختلافات بڑھتے بڑھتے طلاق کی نوبت تک پہنچ گئے۔ بہت سے مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ بیوی کا بڑا بہنوئی کبھی کبھار دن کے وقت اس کے گھر آ جاتا، سلام دعا کرتا، خیریت پوچھتا اور چائے پی کر چلا جاتا۔ شوہر کی غیر موجودگی میں بھی اس کی آمد ہوتی تھی۔

گھر کے سب لوگ اسے شریف، سلجھا ہوا اور عمر میں بڑا شخص سمجھتے تھے، اور اس کا رویہ بھی بڑے بھائی جیسا تھا۔ مگر شوہر کو اس بات پر اعتراض تھا۔ اس کا مؤقف تھا کہ میری غیر موجودگی میں بہنوئی کا گھر آنا مناسب نہیں۔

یہ معمولی دکھائی دینے والی بات میاں بیوی کے درمیان بڑے اختلاف کا سبب بن گئی۔ کچھ لوگ شوہر کے مؤقف کو درست سمجھتے تھے، جبکہ کچھ اسے شک، تنگ نظری یا غیر ضروری پابندی قرار دیتے تھے۔

کچھ عرصہ پہلے ایک اور ایسا ہی واقعہ سننے میں آیا۔ شوہر کی غیر موجودگی میں بیوی کے دو تین بڑے کزن گھر آتے جاتے تھے۔ خاندان کے نزدیک وہ بھی بڑے بھائیوں جیسے تھے۔ جب شوہر نے اس پر اعتراض کیا تو اسے دقیانوسی اور تنگ نظر جیسے القابات دیے گئے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کسی رشتے کو "بھائی جیسا" کہہ دینے سے کیا وہ شرعی طور پر بھائی بن جاتا ہے؟

ہمارے لیے ہر معاملے میں اصل کسوٹی شریعت ہونی چاہیے، چاہے کبھی ہماری خواہش یا معاشرتی سوچ اس کے مطابق نہ ہو۔

اسلام نے محرم اور نامحرم کے رشتوں کی واضح حدود مقرر کی ہیں۔ بہنوئی، جیٹھ، کزن یا خاندان کا کوئی دوسرا مرد خواہ کتنا ہی شریف، نیک اور قابلِ احترام کیوں نہ ہو، اگر وہ شرعی محرم نہیں تو محرم نہیں بن جاتا۔

"بھائی جیسا ہے" ایک جذباتی تعبیر ہو سکتی ہے، شرعی رشتہ نہیں۔
ایک اور کامن سوچ یہ بھی ہے کہ ہمارا دل صاف ہے،
صحابہ اکرام اور صحابیات سے بڑھ کر تو کسی کا دل صاف نہیں ہو سکتا،پھ بھی ان کےلیۓ یہی احکامات تھے۔۔۔۔

اور یہ اصول صرف خواتین کے لیے نہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی یکساں ہے۔ جس طرح عورت کو نامحرم مرد کے معاملے میں حدود کا خیال رکھنا چاہیے، اسی طرح مرد کو بھی نامحرم عورت کے معاملے میں شرعی حدود کی پابندی کرنی چاہیے۔

اسی طرح گھر کی حفاظت کے حوالے سے بھی معمولی سی غفلت بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ گھر سے نکلتے یا داخل ہوتے وقت دروازہ کھلا چھوڑ دینا، کنڈی نہ لگانا یا یہ سمجھنا کہ "اپنے ہی لوگ ہیں، ضرورت نہیں"

یہ حدود صرف چوری سے بچانے کے لیے نہیں ہوتیں؛ یہ گھر کے افراد کی عزت، privacy اور حفاظت کے لیے بھی ہوتی ہیں۔
رشتوں کو بچانے کےلیۓ ہوتی ہیں۔۔۔

اس لیے بہتر ہے کہ ہم رشتوں کو جذبات کی بجائے واضح حدود کے ساتھ سمجھیں تاکہ رشتوں کو خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔۔

کیونکہ یہ بدگمانی نہیں،
حدود کی پابندی ہے اور حدود کی پابندی کسی کی توہین نہیں۔۔۔
منقول
#پردہ #رشتے #بہنوئی #کزن #جیٹھ

Address

H2 Plaza, H Block, Street 20, Sector 2, Gate No 4, DHA Rahbar Lahore
Lahore
53700

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sehar Marriage Bureau posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share