Sehar Marriage Bureau

Sehar Marriage Bureau Whatsapp
0327-7770361
0305-7770361
0300-0966994
(1)

پاکستانی معاشرے میں یہ سوچ عام ہونی چاہیے کہ سسرالیوں کے ایسے خوبصورت اور مثبت رویوں کو بھی سوشل میڈیا کی زینت بنایا جائ...
24/08/2026

پاکستانی معاشرے میں یہ سوچ عام ہونی چاہیے کہ سسرالیوں کے ایسے خوبصورت اور مثبت رویوں کو بھی سوشل میڈیا کی زینت بنایا جائے، تاکہ اچھائی بھی مثال بنے۔ ❤️

24/08/2026
میں 32 سال کی ہوں، طلاق یافتہ ہوں، مالی طور پر خود مختار ہوں اور فری لانسنگ کرتی ہوں۔ ای کامرس اور اے آئی آٹومیشن کے شعب...
24/08/2026

میں 32 سال کی ہوں، طلاق یافتہ ہوں، مالی طور پر خود مختار ہوں اور فری لانسنگ کرتی ہوں۔ ای کامرس اور اے آئی آٹومیشن کے شعبے میں کام کرتی ہوں اور الحمدللہ اچھی آمدنی ہے۔ لیکن میری زندگی ہمیشہ ایسی نہیں تھی۔

بی ایس آنرز کے بعد میری شادی ہو گئی تھی۔ اس وقت سچ کہوں تو میرا فوکس کیریئر بنانے پر نہیں تھا۔ میری سادہ سی سوچ تھی کہ شادی کرنی ہے، گھر بسانا ہے، شوہر کے ساتھ زندگی بنانی ہے اور جو بھی مسائل آئیں گے، مل کر حل کر لیں گے۔ لیکن شادی کے بعد حالات بالکل مختلف نکلے۔
میرے شوہر نے شادی کے صرف ایک ماہ بعد اپنی نوکری چھوڑ دی۔ آہستہ آہستہ مجھے احساس ہوا کہ وہ مالی طور پر اپنی اکیلی والدہ پر منحصر ہیں اور جذباتی طور پر بھی انہی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ ان کی والدہ ہماری بہت سی ذاتی باتوں میں بھی شامل رہتی تھیں۔

میں نے پھر بھی تقریباً ایک سال تک پوری کوشش کی کہ ہمارا گھر بس جائے۔ میں اپنے گھر والوں میں سب سے چھوٹی ہوں اور میری شادی بھی بہت دھوم دھام سے ہوئی تھی۔ میں نے گھر کو پوری طرح سنبھالا، ہر بات میں ایڈجسٹ کیا اور حالات بہتر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
میری ساس جیسا کہتی تھیں، میں ویسا ہی کرتی تھی۔ ان کی پسند کے کپڑے، ان کی مرضی سے آنا جانا، تقریباً ہر چیز میں ان کی مرضی کا خیال رکھتی تھی۔

مجھے دل سے لگتا تھا کہ اگر میں اپنی طرف سے کوشش کرتی رہوں تو شاید ہمارا گھر بچ جائے گا۔ لیکن دوسری طرف سے مجھے طعنے، بے عزتی اور چیخنے چلانے کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔ میرے شوہر خاموش رہتے تھے۔ نہ میری طرف سے بات کرتے، نہ حالات کو روکنے کی کوشش کرتے۔
میں پھر بھی خاموش رہی کیونکہ میں اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہتی تھی۔

پھر ایک دن میری ساس نے غصے میں مجھے تھپڑ مار دیا۔ اس دن میری فیملی میرے لیے کھڑی ہوئی۔ شاید اسی دن مجھے پہلی بار صحیح طرح احساس ہوا کہ میں کس صورتحال میں رہ رہی ہوں۔ جس شخص کے ساتھ مجھے پوری زندگی گزارنی تھی، وہ خود بے روزگار تھا، مالی اور جذباتی طور پر اپنی والدہ پر منحصر تھا اور جب مجھے اپنے شوہر کے ساتھ اور تحفظ کی ضرورت تھی، تب بھی وہ میرے لیے کھڑا نہیں ہو سکا۔

میں کسی کی ماں سے مقابلہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مجھے صرف ایسا شوہر چاہیے تھا جو اپنی شادی کی ذمہ داری سمجھے۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ میری پوری زندگی اس امید میں گزر جائے کہ شاید ایک دن حالات بدل جائیں گے۔
اسی لیے میں نے خلع لینے کا فیصلہ کیا۔
یہ فیصلہ میرے لیے بالکل آسان نہیں تھا۔ شادی کا ختم ہونا مجھے ایک ناکامی جیسا محسوس ہوا۔ لیکن پھر میں نے فیصلہ کیا کہ اب مجھے اپنی زندگی خود بنانی ہے۔ اور اس کے بعد میری زندگی کی دوسری جدوجہد شروع ہوئی۔

میں نے فری لانسنگ شروع کی۔ دن رات محنت کی۔ کبھی کبھی 16 گھنٹے تک کام کرتی تھی۔ میرے زیادہ تر کلائنٹس امریکہ اور برطانیہ سے تھے، اس لیے ان کے وقت کے مطابق بھی کام کرنا پڑتا تھا۔ آہستہ آہستہ کلائنٹس بڑھتے گئے۔ میری نیٹ ورکنگ اچھی تھی، کافی رابطے بن چکے تھے اور کام اتنا بڑھ گیا کہ اکیلے سنبھالنا مشکل ہونے لگا۔ تب مجھے لگا کہ مجھے اپنی ایجنسی بنانی چاہیے۔

میں نے اپنی سیونگ کی اور ایک پارٹنر کے ساتھ ایجنسی شروع کی۔ میں بہت خوش تھی کہ اب اپنے کام کو اگلے لیول پر لے جاؤں گی۔ میں نے اپنی زندگی کے تقریباً چار سال اپنے کیریئر کو بنانے میں لگا دیے۔
لیکن پھر زندگی نے ایک اور غیر متوقع موڑ لے لیا۔

میرے پارٹنر نے میرے ساتھ بہت بڑا دھوکا کیا اور مجھے تقریباً 50 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ جس کاروبار کو میں نے دن رات کی محنت سے بنایا تھا، اسے اس طرح کھو دینا میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔

اور اسی دوران ستمبر 2025 میں میرے والد کو فالج کا حملہ ہوا۔

میں کاروبار اور والد کی صحت، دونوں چیزیں ایک ساتھ سنبھال نہیں سکی۔ میرا سارا فوکس کمپنی سے ختم ہو گیا اور آخرکار کاروبار بند کرنا پڑا۔ کچھ کلائنٹس میرے ساتھ رہے اور کچھ نے کام چھوڑ دیا، کیونکہ میں ذہنی طور پر اتنی تھک چکی تھی کہ میرا فوکس بالکل ختم ہو گیا تھا۔

ہر وقت صرف ایک ہی ڈر رہتا تھا کہ بابا کو کچھ نہ ہو، وہ ٹھیک ہو جائیں۔ پھر فروری 2026 میں میرے بابا کا انتقال ہو گیا۔ اس صدمے نے مجھے اندر سے توڑ دیا۔ میں نے کام بالکل چھوڑ دیا۔ میرے پاس اپنے درد کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ میری زندگی کا سب سے بڑا سہارا اتنی اچانک مجھ سے چھن گیا۔

ایک طرف میرا کاروبار ختم ہو چکا تھا اور دوسری طرف میری سب سے بڑی جذباتی طاقت بھی مجھ سے دور ہو گئی تھی۔ آج بھی کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں میں دل سے قبول نہیں کر پاتی۔ اس پورے مرحلے نے مجھے زندگی کو بہت مختلف انداز سے دیکھنا سکھایا۔

بابا کے انتقال کے بعد میری فیملی میری دوسری شادی کے حوالے سے مزید فکر مند ہو گئی۔ پچھلے چار سالوں میں اور اب تک میری فیملی نے بہت سے خاندانوں سے بات کی ہے۔

میں نے موز بھی استعمال کیا۔
مجھے لگا شاید وہاں کوئی ایسا شخص مل جائے جو اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتا ہو اور صرف خاندان کی مرضی کے بجائے ایک دوسرے کی سمجھ اور مطابقت کو بھی اہمیت دیتا ہو۔ لیکن سچ کہوں تو موز کا تجربہ بھی زیادہ اچھا نہیں رہا۔ وہاں کچھ اچھے اور سنجیدہ لوگ ضرور ہیں، لیکن وقت گزارنے والے لوگ بہت ہیں اور پیسوں کے فراڈ بھی کافی ہیں۔ کسی کو حقیقت میں سمجھنا اور اس پر اعتماد کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

خاندانوں کے ذریعے جو رشتے آئے، ان میں بھی مجھے زیادہ تر ایک ہی چیز نظر آئی۔ سب کو ایک ایسی لڑکی چاہیے جو کیریئر بنانا چاہتی ہو، خوبصورت ہو، پردہ کرتی ہو، گھر کے سارے کام جانتی ہو، خیال رکھنے والی ہو، خاندان کے ساتھ ایڈجسٹ کر سکے اور شوہر کو ہر مشکل وقت میں سپورٹ کرے۔

لیکن جب میں ان سے کچھ بنیادی سوالات پوچھتی ہوں تو جواب بہت غیر واضح ہوتے ہیں۔
"یہ تو حالات پر منحصر ہے۔"
"ابھی کیا بتا سکتے ہیں۔"
"شادی کے بعد دیکھ لیں گے۔"

اور مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اگر آپ کو خود نہیں معلوم کہ آپ اختلافات کو کیسے حل کرتے ہیں، بیوی کے کیریئر کے بارے میں آپ کی سوچ کیا ہے، خاندان کی حدود کیا ہوں گی، مستقبل کے اہداف کیا ہیں اور شادی سے آپ کی اصل توقعات کیا ہیں، تو پھر شادی کے بعد یہ سب اچانک کیسے حل ہو جائے گا؟

مجھ سے بھی عام طور پر کوئی یہ سوالات نہیں پوچھتا۔
کسی نے حقیقت میں یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ میری اخلاقی اقدار کیا ہیں، میں غصے میں کیسے ردعمل دیتی ہوں، مشکل حالات کو کیسے سنبھالتی ہوں، شوہر سے میری کیا توقعات ہیں، میں گھر اور کیریئر کو کیسے ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہوں یا میرے مستقبل کے اہداف کیا ہیں۔

زیادہ تر توجہ صرف اس بات پر ہوتی ہے کہ لڑکی خوبصورت ہے یا نہیں، کیریئر ہے، گھر سنبھال سکتی ہے اور خاندان کے ساتھ ایڈجسٹ کرے گی یا نہیں۔ اور سچ کہوں تو مجھے یہ طریقہ سمجھ نہیں آتا۔ شاید اسی لیے اب میرے لیے شادی صرف یہ نہیں کہ "بس شادی ہو جائے۔"

میرے خیال میں اگر دو لوگوں نے پوری زندگی ایک ساتھ گزارنی ہے تو ایک دوسرے کی سوچ اور مزاج کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ اصل زندگی میں اختلافات ضرور ہوں گے۔ ہر شادی میں ہوتے ہیں۔ سمجھوتے بھی ہوں گے۔ میں یہ توقع نہیں کرتی کہ میری شادی میں کبھی اختلاف نہیں ہوگا۔

میرے لیے اہم بات یہ ہے کہ سمجھوتا دونوں طرف سے ہو۔
اگر دو لوگوں کی بنیادی سوچ ملتی جلتی ہو، دونوں جذباتی طور پر سمجھدار ہوں اور دونوں ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں تو تھوڑی سی باہمی کوشش بھی بہت کچھ بہتر کر سکتی ہے۔
لیکن اگر ہر بار صرف ایک ہی شخص ایڈجسٹ کرے، خاموش رہے، سمجھوتا کرے اور دوسرا صرف توقعات رکھتا رہے تو رشتہ باہر سے چاہے کتنا ہی اچھا نظر آئے، اندر سے آہستہ آہستہ ٹوٹنے لگتا ہے۔

میرے خیال میں آج کل لوگ سمجھ، جذباتی پختگی، عدم تحفظ، اختلافات کو حل کرنے کا طریقہ، خاندان کی حدود اور مستقبل کے اہداف جیسی بنیادی چیزوں پر بات ہی نہیں کرتے۔ اور ایک چیز جو مجھے سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر چھوٹی سی بات میں خاندان کو شامل کر لیا جاتا ہے۔

اختلاف ہوا، فوراً گھر والوں کو بتا دیا۔
کیوں؟ کیا میاں بیوی اپنے مسائل آپس میں بیٹھ کر حل نہیں کر سکتے؟

میں خاندان سے جڑی ہوئی لڑکی ہوں۔ میں خیال رکھنے والی اور وفادار ہوں۔ مجھے گھر سنبھالنا آتا ہے اور میں اپنے ساتھی کا مشکل وقت میں ساتھ دینا چاہتی ہوں۔
لیکن میں یہ بھی چاہتی ہوں کہ میری اپنی ایک شناخت ہو، میری رائے کی عزت کی جائے اور میرے کیریئر کو میری شادی کے خلاف نہ سمجھا جائے۔

میں پرفیکٹ نہیں ہوں۔ مجھ میں بھی خامیاں ہیں۔ میں جذباتی ہو سکتی ہوں، کبھی غصہ بھی آ سکتا ہے اور کبھی زیادہ سوچنے لگتی ہوں۔ لیکن میں بات چیت پر یقین رکھتی ہوں۔ شاید میں بہت زیادہ توقع کر رہی ہوں۔

یا شاید آج کے وقت میں ایسا شخص ملنا واقعی مشکل ہے جو جذباتی طور پر سمجھدار ہو اور جس کی سوچ بھی ملتی جلتی ہو۔

اگر کوئی مرد یہ سب پڑھ کر واقعی خود کو اس بات سے جوڑتا ہے، شادی کے لیے سنجیدہ ہے، اپنی زندگی میں کچھ بنانا چاہتا ہے اور بیوی کو صرف ایک ذمہ داری یا کردار نہیں بلکہ ایک حقیقی ساتھی سمجھتا ہے،

تو شاید ہم بات کر سکتے ہیں۔
کوئی وقت گزاری نہیں۔
کوئی غیر ضروری یا نامناسب پیغام نہیں۔
صرف وہ شخص جو واقعی شادی کے لیے سنجیدہ ہو۔
شاید اتنی بڑی کمیونٹی میں کوئی ایک ایسا شخص ہو جو بالکل یہی چیزیں محسوس کرتا ہو۔

اور شاید، بس شاید، ہم دونوں ایک دوسرے کو تلاش کر رہے ہوں۔

24/08/2026

دعا ہے کہ اللہ آپ کو کبھی کسی کے آگے مجبور نہ کرے اور آپ کی محنت سے آپ کی شخصیت میں وہ عزت پیدا کرے کہ دنیا آپ کا احترام کرے۔
انشاءاللہ

23/08/2026

✨ **Premium Marriage Proposal** ✨
👩 Female | 33 | 5’4” | Never Married
🎓 McMaster University | Doctor in USA | Fellowship in NY
🏡 Owns a Detached House in Hamilton, Ontario
🕌 Muslim | Sunni | Arain
💼 Looking for a practicing Muslim male, **32–37**, working in USA/Canada, preferably advanced degree holder. Non-smoker & non-drinker.

"کیا اچھی بہو بننے کے لیے اپنی حدود ختم کرنا ضروری ہے؟"میری شادی کو 3 سال ہوئے ہیں۔ میرے سسرال میں joint family system ہ...
23/08/2026

"کیا اچھی بہو بننے کے لیے اپنی حدود ختم کرنا ضروری ہے؟"

میری شادی کو 3 سال ہوئے ہیں۔ میرے سسرال میں joint family system ہے۔

شادی کے شروع سے میں نے بہت کوشش کی کہ سب کو خوش رکھوں۔ صبح جلدی اٹھنا، ناشتہ بنانا، گھر کے کام کرنا، ساس کی دوائیاں یاد رکھنا، مہمانوں کی خدمت—میں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ یہ میری ذمہ داری ہے یا نہیں۔

لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ سب کو میری خدمت کی عادت ہو گئی ہے۔

اگر کسی دن میری طبیعت خراب ہو یا جاب کی وجہ سے میں تھک جاؤں تو فوراً کہا جاتا ہے کہ "شادی کے بعد لڑکیوں کو اتنا تو کرنا ہی پڑتا ہے۔"

میرے شوہر بھی کہتے ہیں کہ "تم تھوڑا سا adjust کر لو، گھر میں سکون رہے گا۔"

میں نے کبھی ساس یا سسر کی بےعزتی نہیں کی۔ میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ میری capacity کو بھی سمجھا جائے۔

کیا ہر بار گھر کا سکون برقرار رکھنے کے لیے بہو ہی compromise کرے؟

کیا ایک عورت اپنی ساس سسر کی عزت کرتے ہوئے بھی اپنی boundaries رکھ سکتی ہے؟

اور کیا boundaries بنانا بدتمیزی سمجھا جاتا ہے؟

اگر آپ میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟

23/08/2026

🌸 VSP-1091 | Premium Marriage Proposal 🌸

👩 Gender: Female
🎂 Age: 26 Years
🩺 Qualification: MBBS Doctor – Fatima Jinnah Medical University, Lahore
🏥 Profession: Currently doing House Job in Pakistan
🧬 Caste: Hashmi
🏡 Residence: 2 Kanal House in a Posh Area of Lahore

✨ Looking for: A well-educated, respectable and well-settled family.

📍 Address: Plaza , Street 20, Sector 2, DHA Rahbar Phase 11, Lahore
📞 Contact: 0300-0966994 | 0305-7770361

22/08/2026

میں 23 سال کی لڑکی ہوں۔ مجھے ایک بات بتانی ہے۔ میں ایک لڑکے کے ساتھ آن لائن رشتے میں تھی۔ میں نے اپنے والدین کو اس کے بارے میں بتایا، لیکن بات اچھی نہیں ہوئی۔ انہوں نے اسے پسند نہیں کیا اور رشتہ قبول نہیں کیا۔ میرے لیے یہ بہت مشکل وقت تھا، لیکن وقت کے ساتھ میں نے والدین کا فیصلہ قبول کر لیا۔ میں نے سوچا کہ والدین ہمارے لیے بہتر ہی سوچتے ہیں اور وہ ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔

لیکن اس پچھلے رشتے کی وجہ سے گھر میں میری عزت اور ساکھ کافی خراب ہو گئی ہے۔ مثال کے طور پر پچھلے ہفتے میری اپنے بہن بھائیوں سے لڑائی ہوئی تو میرے والدین نے سارا قصور مجھ پر ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب سے ہم نے تمہیں اس لڑکے سے شادی کرنے سے منع کیا ہے، تم بہت بدتمیز اور چڑچڑی ہو گئی ہو۔

میری اپنی امی نے تو غصے میں یہ بھی کہہ دیا کہ "میں نے تمہارے ابو سے کہا تھا کہ اس کی جلدی شادی کر دیں، جہاں یہ چاہے وہاں کر دیں۔ شاید امی نے غصے میں کہا ہو، لیکن ان کی یہ بات مجھے بہت زیادہ تکلیف دے گئی۔ آج بھی جب مجھے وہ بات یاد آتی ہے تو میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔

اب میں اس لڑکے کے بارے میں بالکل نہیں سوچتی اور میں نے اس سے ہر طرح کا رابطہ ختم کر دیا ہے۔ اب میرے والدین عام طور پر رشتہ کروانے والی آنٹیوں کے ذریعے رشتے دیکھ رہے ہیں، اور مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ میں بھی چاہتی ہوں کہ رشتہ اسی طریقے سے آئے۔
لیکن ایک بات مجھے اچھی نہیں لگتی کہ وہ کبھی بھی کسی رشتے کے بارے میں مجھ سے بات نہیں کرتے۔ میرے والدین اور بڑے بہن بھائی آپس میں چھپ کر لڑکوں کے پروفائل دیکھتے اور ان پر بات کرتے ہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ مجھ سے بھی تو کچھ پوچھ لیں، آخر شادی تو میری ہی ہونی ہے۔

سارے لڑکوں کے پروفائل میری امی کے فون پر آتے ہیں۔ اس لیے میں چپکے سے ان کے پروفائل انسٹاگرام اور دوسری سوشل میڈیا ایپس پر دیکھ لیتی ہوں۔
ایک لڑکا ایسا تھا جو مجھے کافی نیک اور دین دار لگا اور مجھے وہ اچھا بھی لگا۔ لیکن میرے والدین اس رشتے پر توجہ نہیں دے رہے، صرف اس لیے کہ اس کے پروفائل میں لکھا تھا کہ اس نے صرف اے لیولز تک تعلیم حاصل کی ہے۔

میں مانتی ہوں کہ تعلیم اہم ہے، لیکن میں نے اس کا پروفائل کافی دیکھا ہے اور مجھے وہ ایک اچھا اور شریف لڑکا لگا۔ الحمدللہ ہماری مالی حالت بھی تقریباً ایک جیسی لگتی ہے، یعنی ہم دونوں اپر مڈل کلاس فیملیز سے ہیں۔
میں جانتی ہوں کہ کسی کو اس طرح بار بار پروفائل دیکھنا شاید اچھی بات نہیں، لیکن اس کا پروفائل پبلک تھا۔ وہ لڑکیوں کو فالو بھی نہیں کرتا۔ اس نے سنت کے مطابق داڑھی بھی رکھی ہوئی ہے اور اپنے پیج پر دین کے بارے میں کھل کر بات کرتا ہے۔

میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ مجھے ایسا شوہر ملے جس کے ساتھ میں دین پر عمل کرنے میں خود کو آرام دہ محسوس کروں۔ اور مجھے اس لڑکے میں یہی چیز نظر آتی ہے۔
میں اپنے والدین سے کہنا چاہتی ہوں کہ براہِ کرم اس لڑکے کے رشتے پر بھی غور کر لیں، لیکن مجھے بہت ڈر لگتا ہے، خاص طور پر پچھلے واقعے کی وجہ سے۔

ہو سکتا ہے کہ میرے والدین اس کے خاندان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد اسے میرے لیے مناسب نہ سمجھیں، اور یہ بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن میں چاہتی ہوں کہ وہ کم از کم اس رشتے کو ایک موقع تو دیں۔مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے اپنے والدین کو اس لڑکے کے بارے میں نہیں بتایا تو بعد میں مجھے افسوس ہوگا۔

قرآن میں بھی ایک واقعہ آتا ہے کہ دو لڑکیاں کنویں سے پانی لینے گئیں، وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا۔ ان میں سے ایک لڑکی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پسند کیا اور اپنے والد کو اس بارے میں بتایا، بعد میں اس کی شادی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہوئی۔

تو پھر ہمارے معاشرے میں والدین سے شادی جیسے موضوعات پر کھل کر بات کرنا اتنا مشکل کیوں ہے؟ میں حرام تعلقات کی حمایت نہیں کر رہی۔ میرا صرف یہ خیال ہے کہ جب والدین اپنے بچوں کے لیے رشتہ تلاش کر رہے ہوں تو بیٹے یا بیٹی کی رائے بھی ضرور پوچھنی چاہیے۔

ایک چھوٹی سی بات مجھے یہ بھی سمجھ آتی ہے کہ والدین ہم سے زیادہ تجربہ رکھتے ہیں اور خاندان کے بارے میں تحقیق کرنا بہت ضروری ہے۔ لیکن آج کے دور میں کچھ اور چیزیں بھی دیکھنا ضروری ہیں۔ مثلاً کوئی لڑکا رشتہ کروانے والی آنٹی کے سامنے بہت شریف نظر آ سکتا ہے، لیکن اس کے انسٹاگرام پر 100 لڑکیاں فالو ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح ہمارے والدین شاید یہ نہیں سمجھتے کہ آج کی نسل میں کسی لڑکے یا لڑکی کا بہت زیادہ اسنیپ چیٹ اسکور ہونا بھی ایک خطرے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

میرا صرف یہ کہنا ہے کہ والدین اور خاندان کی طرف سے تحقیق اور سوالات کے ساتھ ساتھ بچوں سے بھی ان کی رائے پوچھنی چاہیے۔ دنیا بدل رہی ہے اور آج کل نئی نئی آزمائشیں اور مسائل سامنے آ رہے ہیں جن کے بارے میں ہمارے والدین شاید اتنا نہیں جانتے۔

آخر میں مجھے صرف یہ مشورہ چاہیے کہ میں اپنے والدین سے اس ممکنہ رشتے کے بارے میں کیسے بات کروں؟ میں نے اس لڑکے سے کبھی بات نہیں کی۔ میں نے صرف اپنی امی کے فون پر اس کا پروفائل دیکھا اور پھر انسٹاگرام پر اس کے بارے میں معلومات دیکھیں۔ مجھے واقعی لگتا ہے کہ میرے والدین بھی اسے پسند کر سکتے ہیں۔

براہِ کرم کوئی مشورہ دیں۔ میرے والدین بہت سخت ہیں اور اب وہ یہ نہیں سمجھتے کہ مجھے اپنے ہونے والے شوہر کے بارے میں بات کرنے کا بھی حق ہے۔ مجھے گفتگو شروع کرنے سے بہت ڈر لگتا ہے کیونکہ پہلے ہی وہ میرے بارے میں برا خیال رکھتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ میں ہمیشہ لڑکوں سے بات کرتی یا ان کے پروفائل دیکھتی رہتی ہوں، حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔

اب میں کیا کروں؟ خاموش رہوں اور نصیب پر چھوڑ دوں یا اپنے والدین سے اس رشتے کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کروں؟ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ان سے بات کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

22/08/2026

VSP-1089 ✨

👩 Gender: Male
🎂 Age: 27 Years
📏 Height: 5'10
🎓 Qualification: BS Software Engineer
🌿 Caste: Arain
📍 City: Faisalabad

💍 Requirements:open cast
Well-educated, respectable family.

📞 For Details & Registration:
0300-0966994 | 0305-7770361

Proposals #

22/08/2026

✨ PREMIUM MARRIAGE PROPOSAL | VSP-1088 ✨

👩 Gender: Female
🎂 Age: 24 Years
📏 Height: 5'4"
🎓 Qualification: BS Economics – IBA
🌿 Caste: Rajpoot
📍 City: Lahore & Bahrain
🏡 Residence: Eden Cottages, Opposite Aadil Hospital

💍 Requirements:
Well-educated, well-settled and respectable family.

📞 For Details & Registration:
0300-0966994 | 0305-7770361

Address

H2 Plaza, H Block, Street 20, Sector 2, Gate No 4, DHA Rahbar Lahore
Lahore
53700

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sehar Marriage Bureau posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share