21/04/2026
آنکھوں کا نور بحال کرنے والی عجیب و غریب بوٹی
📗کتاب "ہند و پاک کی جڑی بوٹیاں" سے اقتباس!
لالہ پیارے لال کھتری منجاری فروش نانک کی لڑکی کو ککروں کی سخت تکلیف تھی اور علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا۔ بدقسمتی سے کمپاؤنڈر نا تجربہ کار تھا اس نے کوئی ایسی تیز دوائی آنکھوں میں ڈال دی جس سے آنکھوں کی پتلیاں بالکل سفید ہو گئیں اور بینائی جاتی رہی۔ چھ سات سال کی معصوم بچی جس کے ابھی کھیلنے کودنے کے دن تھے، ہمیشہ کے لیے گھر کی چار دیواری کے اندر بیٹھنے پر مجبور ہو گئی۔ اور اپنی مرضی سے ادھر ادھر چلنا پھرنا تو کیا، ٹٹی پیشاب جانے کے لیے بھی دوسروں کی محتاج ہو گئی۔ اگرچہ لڑکی کے والد نے کئی مشہور ماہرینِ چشم سے علاج کرایا مگر آنکھیں درست نہ ہوئیں۔ آخر وہ مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔ اس بات کو تین سال کا عرصہ گزر گیا۔
اتفاقاً ایک سیاح میرے پاس تشریف لائے۔ نسخہ جات کا ذکر چھیڑا تو انہوں نے ایک بوٹی کے متعلق فرمایا کہ یہ جملہ امراضِ چشم کے لیے اکسیر ہے۔ شام کے وقت جب ہم شہر سے باہر گھومنے گئے تو انہوں نے وہ بوٹی مجھے دکھائی۔ اس وقت مجھے اس نابینا لڑکی کا خیال آیا۔ میرے واپس آنے پر ہی لالہ پیارے لال کے پاس گیا اور دوسری صبح لڑکی کو لانے کے لیے کہا۔ چنانچہ دوسرے دن وہ اسے میرے مکان پر لے آئے۔ سیاح صاحب نے بوٹی لا کر اس کا رس نکالا اور ڈراپر سے دو دو قطرے لڑکی کی آنکھوں میں ڈالے۔ وہ چند سیکنڈ کے بعد درد سے کراہنے لگی۔ لحظہ بہ لحظہ یہ درد بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ شدتِ درد سے بیتاب ہو گئی۔ ہم سب لڑکی کی بے چینی اور کرب کو دیکھ کر گھبرائے کہ کہیں کوئی اور مصیبت بیچاری پر نہ آ جائے، لیکن سیاح مذکور اطمینان سے نتیجہ کا انتظار کرنے لگے۔
تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے فرمایا کہ اب اس لڑکی کو گھر لے جا کر بستر پر آرام سے لٹا دو۔ چنانچہ لڑکی کا والد اسے گھر لے گیا۔
گرمی کا موسم تھا اور چاندنی رات تھی۔ تمام گھر والے حسبِ معمول مکان کی چھت پر سوئے ہوئے تھے۔ معالج کی نے چاند کی طرف انگلی سے اشارہ کر کے کہا: "لالہ جی وہ چاند ہے"۔ لڑکی کے منہ سے یہ انوکھا فقرہ سن کر سب چونک پڑے۔ اور حیرانی سے دریافت کیا: "کیا تمہیں چاند نظر آتا ہے؟" لڑکی نے سر ہلاتے ہوئے دوبارہ چاند کی طرف انگلی اٹھائی۔ اس وقت جو خوشی گھر والوں کو ہوئی اس کا بیان کرنا قلم کی طاقت سے باہر ہے۔ قصہ مختصر دوسرے دن لڑکی خود چل کر ہمارے مکان پر آئی اور بدستور دوائی اس کی آنکھوں میں ڈالی گئی۔ اس دن دوائی کی تیزی چنداں محسوس نہ ہوئی۔ چند روز متواتر دوا کے استعمال سے لڑکی کی آنکھیں بالکل تندرست ہو گئیں اور وہ اللّٰہ کی بنائی ہوئی اس کائنات کی خوبصورتی کو پھر سے دیکھنے لگی۔
وہ حیرت انگیز بوٹی🌿 جس نے تین سال کی اندھی لڑکی کو پھر سے نور بخشا، بسکھپرا ہے۔
سیاح مذکور نے اس بوٹی کے چند اور خواص بھی بیان کیے۔ مثلاً بسکھپرا سالم بوٹی کو کوٹ کر رس نکالیں۔ اور اس میں سرمہ سیاہ کھرل کریں۔ دو چار روز کھرل کرنے کے بعد جب سرمہ خشک ہو جائے تو شیشی🫙 میں ڈال رکھیں۔ روزانہ استعمال کرنے سے آنکھوں کی بینائی از حد تیز ہو جاتی ہے۔ اور بڑھاپے میں بھی مثلِ نوجوانوں کے بینائی قائم رہتی ہے۔
اس کی جڑ چھاچھ میں گھس کر سلائی سے آنکھوں میں لگائیں۔ ابتدائی موتیا بند کے لیے اکسیر ہے۔
اس کی جڑ گائے کے مکھن میں گھس کر سلائی سے لگانا شب کوری کے لیے مفید ہے۔
اس کی جڑ کو گھی میں گھس کر آنکھوں 👁️ میں لگائیں۔ تو چند روز میں پھولا کٹ جاتا ہے۔
ملاحظہ ہو:
یہ بہت مشہور اور معروف بوٹی ہے۔ برسات کے موسم میں عام ہوتی ہے۔ زمین پر بچھی ہوئی ہوتی ہے۔ شکل اٹ سٹ سے ملتی جلتی، پتے بیضاوی بغیر دندانوں اور نوک کے۔ پھولوں کی رنگت کے لحاظ سے دو قسم کی ہوتی ہے۔
#بسکھپرا