lawyer.com.pk

lawyer.com.pk basic plateform for lawyer's and student of law

14/04/2023

آج سے 23 سال قبل پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے انگلش کی ایک طالبہ، وجیہہ عروج، نے یونیورسٹی پر ایک بہت دلچسپ کیس کیا۔ انہیں ایک پرچے میں غیر حاضر قرار دیا گیا تھا جبکہ وہ اس دن پرچہ دے کر آئیں تھیں۔ یہ صاف صاف ایک کلرک کی غلطی تھی۔
وجیہہ اپنے والد کے ہمراہ ڈپارٹمنٹ پہنچیں تاکہ معاملہ حل کر سکیں۔ وہاں موجود ایک کلرک نے ان کے والد سے کہا "آپ کو کیا پتہ آپ کی بیٹی پیپر کے بہانے کہاں جاتی ہے۔" یہ جملہ وجیہہ پر پہاڑ بن کر گرا۔ وہ کبھی کلرک کی شکل دیکھتیں تو کبھی اپنے والد کی۔ انہیں سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کریں۔ وہ اپنے ہی گھر والوں کے سامنے چور بن گئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی والدہ بھی انہیں عجیب نظروں سے دیکھنا شروع ہو گئیں تھیں۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ کلرک صرف اپنے کام سے کام رکھتا۔ وجیہہ کے بارے میں اپنی رائے دینے کی بجائے وہ حاضری رجسٹر چیک کرتا یا اس دن کے پرچوں میں ان کا پرچہ ڈھونڈتا۔ لیکن اس نے اپنے کام کی بجائے وجیہہ کے بارے میں رائے دینا زیادہ ضروری سمجھا، یہ سوچے بغیر کہ اس کا یہ جملہ وجیہہ کی زندگی کس قدر متاثر کر سکتا ہے۔
وجیہہ نے یونیورسٹی پر کیس کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کیس میں ان کا ساتھ ان کے والد نے دیا۔ جو کہ خود ایک جج رہ چکے ہیں۔ کیس درج ہونے کے چار ماہ بعد یونیورسٹی نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے عدالت میں ان کا حل شدہ پرچہ پیش کر دیا۔ اور انہیں پاس بھی کردیا۔ لیکن معاملہ اب ایک ڈگری سے کہیں بڑھ کر تھا۔ وجیہہ نے یونیورسٹی سے اپنے کردار پر لگے دھبے کا جواب مانگا۔ لہذا سن 2000 میں پنجاب یونیورسٹی کے خلاف 25 لاکھ روپے کا ھرجانے کا دعویٰ کردیا۔ پاکستان میں نظام عدل سے انصاف کے حصول میں وجیہہ عروج کو سترہ سال کا عرصہ لگ گیا۔ سن 2017 میں عدالت نے وجیہہ کے حق میں فیصلہ سنایا اور یونیورسٹی کو 25 لاکھ سے کم کرکے آٹھ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
برطانوی ریڈیو سے بات کرتے ہوۓ وجیہہ عروج نے کہا تھا کہ ”یونیورسٹی نے میرے خواب چکنا چور کردیٸے۔ اور کبھی معافی نہیں مانگی۔ ان کے اس عمل سے میری عزت اور وقار کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی پیسہ نہیں کرسکتا۔ میں اتنا زیادہ ڈیپریشن میں گئی کہ رو رو کے میری حالت بری ہو گئی۔ابتداٸی دنوں میں اسقدر ذہنی اذیت کا شکار ہوٸی کہ ذہن میں خودکشی کا خیال بھی آیا۔ اپنے تعلیمی کیریٸر میں کبھی فیل نہیں ہوٸی۔ مجھے پتہ تھا میں نے کیسا پرچہ دیا ھے۔ بہت زیادہ اچھا نہیں تو اتنا ضرور تھا کہ میں باآسانی پاس ہو جاٶں۔“
وجیہہ نے اس ایک جملے کا بوجھ 17 سال تک اٹھایا۔ وہ تو جی دار تھیں، معاملہ عدالت تک لے گئیں۔ ہر لڑکی ایسا نہیں کر سکتی۔ خاندان کی عزت ان کے بڑھتے قدم تھام لیتی ہے ورنہ یقین مانیں جو لوگ بغیر سوچے سمجھے بات کر دینے کے عادی ہیں وہ عدالت کے چکر کاٹتے پھریں اور اپنے منہ سے کسی لڑکی کے بارے میں نکلے ایک ایک جملے کی وضاحتیں دیتے پھریں۔ وجیہہ کے والدین نے ان کی ڈگری مکمل ہوتے ہی ان کی شادی کردی۔ انہیں ڈر تھا کہ بات مزید پھیلی تو کہیں وجیہہ کے رشتے آنا ہی بند نہ ہو جاٸیں۔ وہ بہت کچھ کرنا چاہتی تھیں مگر اس ایک جملے کی وجہ سے انہیں وہ سب نہیں کرنے دیا گیا۔

PPSC BPSC AJKPSC CSS fpsc G*T NTS FPSC PCS PPSC BPSC AJKPSC CSS NTS

12/12/2011

If you are lawyer of Pakistan then you may consult the said web site for new revised Acts and Laws in simple format .
http://www.lawyer.com.pk

18/11/2011

other act

18/11/2011

act of health care

18/11/2011

another act

18/11/2011

look this one too

18/11/2011

new act

18/10/2011

This entry was posted on October 16, 2011 at 8:12 am. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. You can leave a response, or trackback from your own site.

11/10/2011

new act

Lawyer - Lawyer.com.pk is the Webs leading legal news and information network for attorneys and other legal professionals.

20/09/2011

Lawyer - Lawyer.com.pk is the Webs leading legal news and information network for attorneys and other legal professionals.

Address

13 Fane Road
Lahore
75000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when lawyer.com.pk posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share