Mughal Scissors Works And Engineering Services

Mughal Scissors Works And Engineering Services Sharpening Expert of all types of scissors �, � knives and � blades.

01/05/2024

بادشاہ عبدالملک بن مروان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا- اس کی نظر ایک نوجوان پر پڑی- جس کا چہرہ بہت پُر وقار تھا- مگر وہ لباس سے مسکین لگ رہا تھا- عبدالملک نے پوچھا، یہ نوجوان کون ہے۔ تو اسے بتایا گیا کہ اس نوجوان کا نام سالم ہے اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا پوتا ہے۔
خلیفہ عبدالملک کو دھچکا لگا۔ اور اُس نے اِس نوجوان کو بلا بھیجا-
عبدالملک نے پوچھا کہ بیٹا میں تمہارے دادا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بڑا مداح ہوں۔ مجھے تمہاری یہ حالت دیکھ کر بڑا دکھ ہوا ہے۔ مجھے خوشی ہو گی اگر میں تمھارے کچھ کام آ سکوں۔ تم اپنی ضرورت بیان کرو۔ جو مانگو گے تمہیں دیا جائے گا-
نوجوان نےجواب دیا، اے عبدالملک بادشاہ! میں اس وقت اللہ کے گھر بیتُ اللّٰہ میں ہوں اور مجھے شرم آتی ہے کہ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر کسی اور سے کچھ مانگوں۔

عبدالملک نے اس کے پُرمتانت چہرے پر نظر دوڑائی اور خاموش ہو گیا۔
بادشاہ نے اپنے غلام سے کہا- کہ یہ نوجوان جیسے ہی عبادت سے فارغ ہو کر بیتُ اللّٰہ سے باہر آئے، اسے میرے پاس لے کر آنا-
سالم بن عبداللہؓ بن عمرؓ جیسے ہی فارغ ہو کر حرمِ کعبہ سے باہر نکلے تو غلام نے اُن سے کہا کہ بادشاہ نے آپکو یاد کیا ہے۔
سالم بن عبداللہؓ خلیفہ کے پاس پہنچے۔
عبدالملک نےکہا،
نوجوان! اب تو تم بیتُ اللّٰہ میں نہیں ہو، اب اپنی حاجت بیان کرو۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں تمہاری کچھ مدد کروں۔
سالم بن عبداللہؓ نےکہا،
اے بادشاہ! آپ میری کونسی ضرورت پوری کر سکتے ہیں، دنیاوی یا آخرت کی؟
بادشاہ نےجواب دیا،
کہ میری دسترس میں تو دنیاوی مال و متاع ہی ہے۔ سالم بن عبداللہؓ نے جواب دیا- امیر المؤمنین! دنیا تو میں نے کبھی اللّٰہ سے بھی نہیں مانگی۔ جو اس دنیا کا مالکِ کُل ہے۔ آپ سے کیا مانگوں گا۔ میری ضرورت اور پریشانی تو صرف آخرت کے حوالے سے ہے۔ اگر اس سلسلے میں آپ میری کچھ مدد کر سکتے ہیں تو میں بیان کرتا ہوں۔
خلیفہ حیران و ششدر ہو کر رہ گیا-
اور کہنے لگا- کہ نوجوان یہ تُو نہیں، تیرا خون بول رہا ہے۔
بادشاہ عبدالملک کو حیران اور ششدر چھوڑ کر سالم بن عبداللہؓ رحمہ اللّٰہ وہاں سے نکلے اور حرم سے ملحقہ گلی میں داخل ہوئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

یوں ایک نوجوان حاکمِ وقت کو آخرت کی تیاری کا بہت اچھا سبق دے گیا۔

کیا آپ نے بھی آخرت کے بارے میں کچھ سوچا؟ نہیں سوچا تو اللہ کے واسطے ابھی اسی لمحہ سے سوچیں, کیا پتہ اگلا لمحہ ہمیں نصیب ہو یا نہ ہو

نوٹ اس پیغام کو اپنے ساتھیوں تک پہنچائیے ہوسکتاہے اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے۔۔۔۔

13/07/2023

‏ایک شخص حضرت ابراہیم بن ادھمؒ کے پاس آیا، نوجوان تھا، کہنے لگا
حضرت! گناہ کا مرتکب ہوتا ہوں، چھوڑا بھی نہیں جاسکتا، ڈر بھی لگتا ہے کہ عذاب ہو گا تو کوئی طریقہ بتا دیں کہ میں عذاب سے بچ جاؤں اور گناہ بھی کرتا رہوں۔ اللہ والے بڑے دانا بینا ہوتے ہیں، دھکے نہیں دیتے، وہ محبت و پیار سے بات سمجھاتے ہیں، دل میں اتارتے ہیں، حضرت نے فرمایا، ہاں، میں تجھے طریقہ بتاتا ہوں۔ وہ بڑا خوش ہو گیا۔ بات سننے کے موڈ میں آ گیا، کہنے لگا کہ حضرت! وہ کون سا طریقہ ہے کہ میں گناہ بھی کرتا رہوں اور عذاب و سزا سے بھی بچ جاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ بھئی:
پہلی تجویز: تو یہ ہے کہ اگر گناہ کرنا ہی ہے تو اللہ رب العزت کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر کر لیا کرو۔
اب وہ سوچتا رہ گیا۔ کہنے لگا، حضرت! یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اللہ رب العزت کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر گناہ کروں یہ تو ممکن ہی نہیں۔
دوسری تجویز: حضرت نے فرمایا، پھر دوسری تجویز یہ ہے کہ تم رزق کھانا چھوڑ دو، اللہ سے کہہ دینا کہ نہ تمہارا کھانا کھاتا تھا اور نہ تمہاری بات مانتا تھا، اس نے کہا، حضرت! یہ کیسے ممکن ہے کہ میں کھانا چھوڑ دوں؟ میں پھر زندہ کیسے رہوں گا؟
تیسری تجویز: حضرت نے فرمایا، پھر تیسری تجویز پیش کرتا ہوں اور وہ یہ کہ زمین و آسمان اللہ رب العزت ہی کا ملک ہے، اسی کی حکومت میں ہے اور بادشاہ کی نافرمانی اس کے ملک میں رہ کر کرنا یہ ٹھیک نہیں ہے۔ لہٰذا اس سے باہر نکل کر نافرمانی کرنا، اللہ پاک بھی قرآن پاک میں عجیب انداز سے فرماتے ہیں۔ ’’اگر تمہارے اندر استطاعت ہے کہ زمین و آسمان کے کروں سے باہر نکل سکتے ہوتو نکل کر دکھلاؤ، نکلو گے کس دلیل سےنکلو گے۔‘‘ )سورہ رحمن:33(، جیسے گھڑے کی مچھلی کدھر جائے گی کہا کہ حضرت! یہ بھی نہیں ہو سکتا۔
چوتھی تجویز: فرمانے لگے اچھا پھر ایک طریقہ اور بتاتا ہوں وہ یہ کہ جب ملک الموت آئیں روح قبض کرنے کے لیے تو انہیں کہہ دینا کہ تھوڑا انتظار کر لو تاکہ میں توبہ کر لوں، اس نے کہا: حضرت! وہاں تو انتظار کا تصور ہی نہیں۔ ’’جب موت آتی ہے تو نہ ایک لمحہ آگے ہوتی ہے اور نہ پیچھے۔‘‘
پانچویں تجویز: فرمایا، ایک طریقہ اور بتاتا ہوں، وہ یہ کہ جب قبر میں تم کو دفن کر دیا جائے اور اس وقت منکر نکیر آئیں تم سے سوال پوچھنے کے لیے ، تو تم کہہ دینا کہ بغیر اجازت کیوں آئے؟ اس نے کہا، حضرت! میں ان کو کیسے منع کر سکتا ہوں۔
چھٹی تجویز: فرمانے لگے، اچھا بھئی! ایک اور طریقہ بتاتا ہوں وہ یہ کہ جب قیامت کے دن تمہارے برے عملوں کو کھولا جائے گا، اور پروردگار عالم فرشتوں کو حکم دیں گے کہ اس کو گھسیٹ کر تم جہنم میں ڈال دو تو اس وقت تم ضد کر کے کھڑے ہو جانا کہ میں تو نہیں جاتا۔ اس نے کہا کہ حضرت! میری کیا حیثیت ہے کہ فرشتوں کے سامنے ضد کر کے کھڑا ہو جاؤں، میری تو کوئی حیثیت ہی نہیں۔ اب لوہا گرم تھا اور چوٹ لگانے کا وقت تھا۔ حضرت نے فرمایا کہ اے بھائی، جب تیری حیثیت ہی کوئی نہیں تو اتنے بڑے پروردگار کی نافرمانی کیوں کرتا ہے؟
کہنے لگا، حضرت! آج سے میں گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور آج کے بعد وعدہ کرتا ہوں کہ اپنے اللہ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔
اللہ تعالٰی مجھ گناہ گار سمیت ہم سب مسلمانان عالم کو حیا اور پاکدامنی کا خیال رکھنے اور بے پردگی سے بچنے کی سعادت نصیب فرماتے ہوئے عین صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں ..!!
آمیــن ثمہ آمیـــن یا رب العالمین

29/05/2022

Address

477_2_Bll Civil Defence Road Township
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 10:00 - 22:00
Tuesday 10:00 - 22:00
Wednesday 10:00 - 22:00
Thursday 10:00 - 22:00
Friday 10:00 - 22:00
Saturday 10:00 - 22:00
Sunday 10:00 - 22:00

Telephone

+92 300 4218389

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mughal Scissors Works And Engineering Services posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mughal Scissors Works And Engineering Services:

Share