28/04/2025
کبھی کبھی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب انسان کے دل میں خوف اور وسوسے گھر کر لیتے ہیں۔
دل دھڑک رہا ہوتا ہے کہ پتہ نہیں آگے کیا ہوگا؟ کامیابی ملے گی یا ناکامی؟ کچھ ایسا ہی میرا اور میرے ہسبینڈ کا بھی حال تھا جب انہوں نے ٹیپ کا کاروبار شروع کیا۔
دل ہر لمحہ یہی کہتا تھا کہ فراڈ نہ ہو جائے، نقصان نہ اٹھانا پڑ جائے۔ انویسٹمنٹ کی ہمت بھی نہ تھی، بس اللہ کا نام لے کر چھوٹے پیمانے سے آغاز کیا۔
مسلسل دو سال تک یہی معمول رہا۔ نہ کوئی بڑی کمائی، نہ بڑا فائدہ۔
لیکن ہمت نہ چھوڑی۔
پھر ایک دن ایسا صدمہ ملا کہ دل ٹوٹ سا گیا۔
کسی اور کاروبار میں بڑی انویسٹمنٹ کی اور فراڈ ہو گیا۔ وہ رقم جو بڑی محنت سے سنبھالی تھی، ایک پل میں ضائع ہو گئی۔
دل نے کہا "اب بس!" لیکن پھر اللہ نے صبر دیا، حوصلہ دیا، اور میرے ہسبینڈ نے خود کو سنبھالا۔
کچھ دن بعد دوبارہ ہمت کی، اور نئے سرے سے اسی پرانے ٹیپ کے کاروبار کو پکڑا۔
اب کے بار عزم اور توکل پہلے سے زیادہ تھا۔ اللہ نے برکت ڈال دی۔ دو سال میں وہ سارا نقصان پورا ہو گیا، اور کاروبار اپنی رفتار پکڑنے لگا۔
آج ماشاءاللہ سے یہ حال ہے کہ جس کا دل چاہے وہ آئے، مشورہ لے، راہنمائی لے۔ میرے ہسبینڈ نے کئی لوگوں کو کاروبار شروع کروایا۔ خود اپنے ایک دوست کو ٹیپ کا ہول سیل کا کام دلوایا، جس نے آج اچھا خاصا سیٹ اپ کھڑا کر لیا ہے۔
یہی نہیں، مدرسے کے طلبہ کو بھی فارغ وقت میں کام سکھایا۔
ان کے بچوں نے چھٹیوں میں محنت کی اور دو تین مہینے میں اچھا خاصا کما لیا۔ کسی نے 50 ہزار، کسی نے 60 ہزار مہینے کا پروفٹ کمایا۔
میرے شوہر آج بھی مدرسے میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں اور باقی وقت میں اپنے پرانے کسٹمرز کو سپلائی دیتے ہیں۔
اللہ کا شکر ہے، وہ چھوٹا سا ڈرتے ڈرتے اٹھایا گیا قدم، آج کئی گھروں کا ذریعہ روزگار بن چکا ہے۔
بس سبق یہی ہے کہ کبھی حالات سے ڈرنا نہیں چاہیے، تھوڑا تھوڑا کر کے سہی، لیکن سفر شروع ضرور کرنا چاہیے۔ اللہ برکت ڈالنے والا ہے۔♥️✨